فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
115 - 120
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:ـ
من اٰذی مسلما فقد اذنی ومن اٰذانی فقد اذٰی اﷲ ۲؎ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسندحسن ۔
جس نے کسی مسلمان کو ایذادی ا س نے مجھے ایذادی ، جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی، (اس کوطبرانی نے اوسط میںحضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
تیسری حدیث میں ہے۔ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم ان ظالم فقد خرج من الاسلام ۳؎۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جوکسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد دینے کو چلا اور اسے معلوم ہوکہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا (اسے طبرانی نے کبیر میں حضرت او س بن شرحبیل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
زید پر فرض ہے کہ بکر کی زمین اسے واپس دے، اور زید وعمرو اور اس کے سب معاون پر فرض ہے کہ بکر کوراضی کریں اور اس سے اپنا قصو رمعاف کرائیں، ورنہ روز قیامت اس کے مستحق ہوں گے کہ ان کی نیکیاں بکرکودی جائیں، بکر کے گناہ ان کے سرپر رکھے جائیں اوریہ جہنم میں ڈال دئے جائیں۔ والعیاذ باللہ ۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۹: از مراد آباد ۳ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیا، خالد، ولید، عمرو پسران، عابدہ، ساجدہ دختران۔ حامدہ زوجہ چھوڑے، ترکہ زید پر صرف خالد قابض رہا، اس نے ترکہ کو بموجب شرع تقسیم کیا، مگر عابدہ کو زرنقد سے اس کے حصے کانصف ادا کیا اور نصف دینے کا وعدہ کیا، بعدہ، عابدہ نے انتقال کیا ایک پسر، ایک دختر اورشوہر چھوڑا، وارثان متوفاہ نے خالد سے باقی نصف جو زرنقد تھا طلب کیا، تب خالدنے نے ایک ہفتہ میں ادا کرنے کا وعدہ کیا، اسی طرح خالد پر تقاضے ہوتے رہے، اور وہ ہفتہ وعشرہ میں ادا کا وعدہ کرتارہا۔ آخر کار خالد نے کہہ دیاکہ میرے یہاں چوری ہوگئی اور میرے مال کے ساتھ نصف حصہ عابدہ جومیرے پاس باقی تھا چوری ہوگیا، بعدہ، خالد نے اپنے لئے جائداد خریدی، اب یہ دریافت طلب ہے کہ نصف حصہ عابدہ جو خالد کے پاس رہ گیا ہے ازروئے شرع شریف کے خالد کے ذمہ واجب الادا ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: صور ت مستفسرہ میں بقیہ زرنقد حصہ عابدہ کہ خالدکے پاس رہا تھا خالد پر وارثان عابدہ کے لئے واجب الادا ہے۔ اور چوری ہوجانے کا عذر نامسموع ، ترکہ مورث میں ورثاء کی شرکت شرکت ملک ہوتی ہے۔ اور شرکت ملک میں ہر شریک دوسرے کے حصے سے اجنبی ہوتاہے۔ بے وجہ شرعی مثل وصایت وولایت وغیرہما ایک کو دوسرے کے حصہ پر قبضہ کرنے کا کوئی اختیارنہیں ہوتا۔
تنویر الابصار میں ہے:
شرکۃ ملک ان یملک متعدد عینا اودینا بارث اوبیع اوغیرھما وکل اجنبی فی مال صاحبہ ۱؎۔ (ملتقطا)
شرکت ملک یہ ہے کہ متعدد حضرات کسی عین چیز یا دین میں وراثت، بیع وغیرہ کے ذریعہ مالک بنیں، اور یہ تمام حضرات ایک دوسرے کے مال میں اجنبی متصور ہوں گے۔ (ملتقطا)۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشرکۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۰)
خالد نے اگر بے اذن عابدہ قبضہ کیا جب تو ظاہر ہے کہ وہ قبضہ ناجائز تھا، اور بعد تقاضا ہر بار اس سے روکے رہنا ظلم برظلم، اور اگر ابتداء قبضہ باذن بھی تھا، تو طلب ٹالے بالے حیلے حوالے نے اسے قبضہ ظلم وتعدی کردیا، بہر حال اب چوری ہوجانا یا خود خرچ کرلینا ، دونوں کاحکم یکساں ہوگیا کہ تاوان لازم ہے۔
ہدایہ میں ہے :
الودیعۃ امانۃ فی یدالمودع اذا ھلکت لم یضمنہ فان طلبہا صاحبہا فمنعہا وھو یقدر علی تسلیمہا، ضمنہا، لانہ متعد بالمنع، وھذا لانہ لما طالبہ لم یکن راضیا بامساکہ بعدہ فیضمنھا بحبسہ عنہ ۱؎ اھ ملتقطا۔
ودیعت مودع کے پاس امانت ہوئی جب ہلاک ہوجائے تو ضمان نہ ہوگا ، ہاں اگر مالک نے واپس لینے کا مطالبہ کیااور مودع نے دینے سے انکار کیاحالانکہ دینے پر قادر تھا تو ہلاک ہونے پر ضامن ہوگا کیونکہ انکار پر وہ ذمہ دار ٹھہرا یہ اس لئے کہ جب مالک نے واپسی کا مطالبہ کیا تو اس کے بعدوہ اس کے پاس رکھنے پر راضی نہ تھا تو وہ روکنے پر ضامن ہوجائے گا اھ ملتقطا۔ (ت)
(۱الہدایہ کتاب الودیعۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۷۱)
فقیر کہتا ہے غفراللہ تعالی لہ:
فانقلت ھذا ظاہر فیما اذا کان قبض خالد باذن عابدۃ، فانہ حینئذ تکون یدہ یدہا، فاذا منعہا فقد ازال یدامحقۃ واثبت مبطلۃ ولوحکما، فکان غاصبا والغصب یضمن ہالکا اومستہلکا امااذ قبض ابتداء بعد موت المورث من دون اذن الورثۃ ولا سبق قبض لہم فلم یوجد ازالۃ یدمحققہ، وان ثبت اثبات مبطلۃ ولاغصب الابعد اجتماعہما ففیم یضمن قلت یضمن ضمان التعدی وان لم یعد غاصبا، قال السید العلامۃ الازھری فی فتح اﷲ المعین، فان قیل وجدالضمان فی مواضع ولم تتحق العلۃ المذکورۃ کغاصب الغاصب فانہ یضمن، وان لم یزل یدالمالک بل ازال یدالغاصب، والملتقط اذالم یشہد مع القدرۃ علی الاشہاد مع انہ لم یزل یدا، وتضمن الاموال بالاتلاف تسبیبا کحفر البیرفی غیر الملک ولیس ثمۃ اذالۃ یداحد ولااثباتہا فالجواب ان الضمان فی ھذہ المسائل لامن حیث تحقق الغصب بل من حیث وجود التعدی کما فی العنایۃ ۱؎ الخ۔
اگر تیرا یہ اعتراض ہوکہ یہ اس وقت ظاہر ہے جب خالدنے عابدہ کی اجازت سے قبضہ کیا تو خالد کا قبضہ عابدہ کا قبضہ قرار پایا توجب خالد نے عابدہ کو دینے سے انکار کردیا تو اب یہ قبضہ حق نہ رہا بلکہ ناحق ہوگیا اگرچہ ناحق ہونا حکما ہے تو یوں وہ غاصب بن گیا جبکہ غاصب خودہلاک کرے یاا س سے ہلاک ہوجائے دوونوں صور توں میں ضمان واجب ہوتاہے لیکن موت کے بعد قبضہ کو ورثاء کی اجازت حاصل نہیں ۔اور نہ ہی ان کو پہلے قبضہ حاصل تھا، تو اب موت کے بعدقبضہ سے رہنا برحق قبضہ زائل نہ ہوا، اگر چہ یہ ناحق قبضہ ہےتو ضمان تب واجب ہوتاہے جب حق کا زوال او رناحق کا اثبات دونوں جمع ہوں، تو صرف ناحق قبضہ پر ضمان کیونکر لازم ہوگا، جواب میں میں کہتاہوں کہ یہاں ادائیگی سے منع پر ضمان ہے اگر چہ یہ غصب نہیں ہے سید علامہ ازہری نے فتح اللہ المعین میں فرمایا ہے اگر اعتراض کیا جائے کہ کئی مقامات پر ضمان واجب ہوتاہے حالانکہ وہاں مذکورہ علت نہیں پائی جاتی، مثلاغاصب ضامن ہوتاہے، اگرچہ اس نے مالک کا قبضہ زائل نہ کیا بلکہ اس نے غاصب کا قبضہ توڑاہے اور یونہی گری ہوئی چیز اٹھانے والا جب اس پر گواہ بناسکتا تھا او رگواہ نہ بنائے حالانکہ اس نے بھی مالک کا قبضہ نہ توڑا اور یوں ہی ہلاکت کا سبب بنانے پر بھی مال کی ہلاکت کا ضامن بنایا جاتاہے مثلا غیر کی ملک میں کنواں کھودنا، اس میں بھی مالک کا قبضہ نہ توڑا، اورنہ ہی باطل قبضہ ثابت ہوا، تو جواب یہ ہے کہ ان مسائل میں اگرچہ غصب متحقق نہ ہوا اس کے باوجود ضمان اس لئے ہے کہ یہاں تعدی پائی گئی ہے، جیساکہ عنایہ میں ہے الخ۔ (ت)
(۱؎ فتح المعین کتاب الغصب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۳۱۰)
ہندیہ میں تاتارخانیہ سے ہے:
سئل ابو حامد عن مسافر حمل امتعتہ علی سفینۃ لیذھب الی بلدۃ، ثم مات ومعہ ابنہ فاخرج الابن تلک الامتعۃ من تلک السفینۃ الی سفینۃ اخری لیذھب لیسلمہا الی سائر الورثۃ واخذ طریقا یسلکہ الناس غیر الطریق الذی کان المیت علی عزم ان یذھب فیہ، ثم غرقت السفینۃ ومات الابن وضاعت الامتعۃ، ھل یضمن الابن نصیب سائرا لورثۃ ، فقال لاوسئل عنہا مرۃ اخری فقال ان کان اخرجہا الی سفینۃ اخری ومضی بہا الی مکان اٰخر سوی وطن الورثۃ ضمن ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ابوحامد سے سوال ہواکہ مسافر نے سامان ایک کشتی میں رکھا وہ کشتی والا مسافر فوت ہوگیا اس کے بیٹے نے جو ہمراہ تھا دوسری کشتی میں سامان لادا تاکہ باقی وارثوں کو سامان پہنچائےھ لیکن ا س نے اپنے والد کو طے کردہ راستہ کو چھوڑ کرلوگوں کے عام معروف راستے پر کشی کو چلایا اور کشتی بمعہ سامان اور لڑکے غرق ہوگئی،تو کیا اس صور ت میں بیٹے پر ضمان عائد ہوگا؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا ضمان نہ ہوگا۔ پھر ان سے ایک مرتبہ یہی سوال ہوا تو انھوں نے جواب دیا کہ اگر بیٹا وہ سامان دوسری کشتی میں لاد کر سامان کے مالکوں کے وطن کی بجائے دوسرے مقام کی طرف لے گیا تو ضامن ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الغصب الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵۷۔ ۱۵۶)