Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
114 - 120
مسئلہ ۲۶۶: از مولوی مرزاخاں پیشاوری     ۱۵ محرم ۱۳۱۶ھ

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک چیز رکھی ہوئی تھی، وہ چیز لاٹھی فرض کیجئے، دوسرے شخص نے آکر اٹھالی اور اس سے کھیل شرو ع کیا اور اس کو حرکت جوالہ دی،وہ اس کے ہاتھ سے گرپڑی او رٹوٹ گئی، اب اس شخص پر ضمان ہے یانہیں؟ اگر ہے تو حوالہ کتاب دیجئے اور اگرنہیں ہے تو حوالہ کتاب دیجئے۔ بینو توجرووا
الجواب: جبکہ بے اذن مالک اس نے وہ چیز اٹھالی اور اس کے کھیلنے میں گر کر ٹوٹ گئی، تو اس پر بلاشبہہ ضمان واجب ہے۔ 

فتاوٰی خانیہ پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے :
اذا دخل الرجل دار انسان واخذ متاعاو جحد فہو ضامن وان لم یحولہ ولم یجحدہ فلاضمان علیہ الاان یہلک بفعلہ اویخرجہ من الدار ۱؎۔
جب کوئی کسی شخص کے گھر داخل ہوا اور سامان لیا اور بعدمیں انکار کردیا تو ضامن ہوگا اگرچہ سامان کو جگہ سے تبدیل نہ کیا اور انکار نہ کیا تو اس پر ضمان نہ ہوگا مگر جبکہ اپنے عمل سے ضائع کرے یا سامان گھر سے باہر لے جائے تو ضامن ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ      بحوالہ فتاوٰی قاضیخاں کتاب الغصب الباب الرابع عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۱۵۸)

(فتاوٰی قاضیخاں     کتاب الغصب  فصل فیما یصیر بہ المرء غاصبا    نولکشور لکھنؤ    ۴/ ۷۹۔ ۴۷۸)
فتاوٰی کبری پھر فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
دخل رجل علی صاحب الدکان باذنہ فتعلق بثوبہ شیئ مما فی دکانہ فسقط لایضمن لکن تاویلہ اذالم یکن السقوط بفعلہ ویدہ وکذٰلک اذا اخذشیئا بغیر اذنہ مما فی دکانہ لینظر الیہ فسقط لایضمن، ویجب ان یضمن الا اذا اخذ باذنہ اما صریحا او دلالۃ ۱؎ الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایک شخص دکاندار کی دکان میں اجازت سے داخل ہواا ور اس کے کپڑے سے لٹک کر کوئی چیز گر کر ضائع ہوگئی توضامن نہ  ہوگا، اس صور ت میں کہ وہ چیز ا س کے عمل اور ہاتھ سے نہ گری ہو، اور یونہی جبکہ دیکھنے کے لئے دکان سے کوئی چیز بغیر اجازت اٹھائی اور گرکر ٹوٹ گئی تو ضامن نہ ہوگا مگر صراحۃ یا دلالۃ اجازت کے بغیر اٹھائے تو ضمان واجب ہوگا الخ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ  بحوالہ الفتاوٰی الکبرٰی کتاب الغصب الباب ا لرابع عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۱۵۹)
مسئلہ ۲۶۷: ا زپیلی بھیت قاضی محلہ مرسلہ قاضی ممتاز حسین صاحب ممتاز    ۲۰ رمضان ۱۳۱۷ھ

زید کا مال عمرو نے چُرایا، چوری کے بعد زید مرگیا، اس نے لڑکا بکر وارث چھوڑا، اب بکر بھی مرگیا، کوئی اس کی نسل میں نہ رہا جو ترکہ ان دونوں کا پائے۔ اب عقبٰی میں اس مسروق کے معاف کرنے کا مجاز زید ہے یا بکر؟ بینو اتوجروا
الجواب : جو شخص کسی کا مال چرائے یا جبرا چھین لے یا دباکر رشوت میں لے۔ یا ظلما تلف کردے، تو ان صورتوں میں علاوہ جرم شرعی کے جس میں خود سرکاری مدعی ہے، (یعنی حقیقی سرکار ابد قرار شریعت نبی مختار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) اس ظالم پر مظلوم کے دو مطالبے عائد ہوتے ہیں، ایک مطالبہ ظلم کہ اسے ستایا آزار پہنچایا، دوسرا مطالبہ مال، مطالبہ ظلم تر مطلقا اسی مظلوم کے لئے ہے تو اس کی معافی کا اختیار بھی اسی کو ہے۔ رہا مطالبہ مال، اس میں دو صورتیں ہیں: اگر حیات مظلوم میں وہ مطالبہ مردہ ہوگیا جس کے وصول کی اصلا توقع نہ رہی،مثلا ظالم مرگیا اور مال کچھ نہ چھوڑا، جب تو یہ مطالبہ بھی اسی مظلوم کے لئے ہے اور اسی کے معاف کئے معاف ہوگا دین جب مردہ ہوجائے اس میں توریث جاری نہیں ہوتی، تو مظلوم کے بعد اس کا بیٹا اس مطالبے کا مالک نہ ہوا، اور اگر اس کی زندگی میں مطالبہ مردہ نہ ہو توبعد انتقال مظلوم پسر مظلوم کی طرف منتقل ہوگا ، اور صورت مسئولہ میں مطالبہ مال کے معاف کرنے کا اختیار بکر کوہوگا۔اور مطالبہ ظلم سے درگزر کامجاز زید ۔
ہندیہ میں ہے :
لومات وترک عینا ودینا وغصبا فی ایدی الناس ولم یصل شیئ من ذٰلک الی الورثۃ،فالقیاس ان یکون الثواب بذٰلک فی الاٰخرۃ للورثۃ لانہم ورثوامنہ وفی الاستحسان ان توی الدین وتمت التوی قبل الموت فالثواب لہ لان التاوی لایجری فیہ الارث، فان توی بعدہ فالثواب للوارث لانہ لا یجری الارث فیہ لیقامہ وقت الموت، کذا فی الفتاوٰی العتابیۃ ۱؎۔
اگر کسی نے فوت ہونے کے بعد لوگون کے ذمہ قرض، عین چیزیا غصب چھوڑا اور ترکہ میں ورثاء کو وصول نہ ہوئی ہوں تو قیاس یہ ہے کہ ظلم برداشت کرنےکا ثواب ورثاء کو ملے کیونکہ یہ اس میت کے بعد ان اموال کے وارث بنے اورجبکہ استحسان یہ ہے اگر ان اموال کا نقصان مرنے والے کی میت سے پہلے مکمل طور پر واضح ہوگیا توثواب میت کوملے گا کیونکہ نقصان میں وراثت نہیں ہے۔ اگریہ نقصان موت کے بعد تام ہوا تو پھر ثواب ورثاء کو ملے گا کیونکہ ان میں وراثت جاری ہوئی ہے اس لئے کہ موت کے وقت یہ اموال میت کی ملکیت تھے۔ فتاوٰی عتابیۃ میں یوں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ   کتاب الغصب الباب الرابع عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۱۵۷)
اسی میں ہے :
سرق شیئا من ابیہ ثم مات ابوہ لم یؤاخذ بہ فی الاخرۃ لان الدین وھو ضمان المسروق انتقل الیہ واثم بالسرقۃ لان حتی علی المسروق منہ کذا فی الفتاوٰی العتابیۃ، رجل لہ علی رجل دین فتقاضاہ فمنعہ ظلما حتی مات صاحب الدین وانتقل الی الوارث، تکلموا فیہ، قال اکثر المشائخ لایکون حق الخصومۃ للاول۔ لکن المختار ان الدین للوارث، والخصومۃ فی الظلم بالمنع للاول، لافی الدین اذ الدین انتقل الی الوارث، کذا فی الظہیریۃ ۱؎۔
کسی نے اپنے والد کی کوئی چیز چرائی پھر والد فوت ہوگیا تو آخرت میں اس پر ضمان کا مؤاخذہ نہ ہوگا کیونکہ چیز مسروقہ جس کا ضمان تھا وہ وراثت میں بیٹے کو منتقل ہوچکی ہے اور چوری پر گنہگار ہوگا اس لئے کہ اس نے وقت کے مالک کا جرم کیا ہے۔ یہ فتاوی عتابیہ میں ہے ایک شخص کا دوسرے پر قرض تھا تو مالک نے کسی کو قرض وصول کرنے کے لئے بھیجا تو مقروض نے ادائیگی سے انکار کردیا پھر وہ مالک فوت ہوگیا اور وہ قرض ورثاء کو منتقل ہوگیا تو اس مسئلہ میں فقہاء کا کلام ہے۔ اکثر مشائخ نے فرمایا ہے کہ مالک کے مقررکردہ پہلےشخص کو قرض میں فریق بننے کا حق نہیں ہے۔ لیکن مختار یہ ہے کہ قرض وارثوں کا ہے اور قرض کی ادائیگی سے انکار کے ظلم کا دفاع پہلے مقرر شدہ کے ذمہ ہوگا۔ نہ قرض میں اس لئے کہ قرض وارث کو منقل ہوچکاہے، ظہیریہ میں یوں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الغصب الباب الرابع عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۱۵۷)
اسی طرح فتاوٰی خانیہ وغیرہ میں ہے۔ نیز فتاوٰی خانیہ میں ہے:
رجل مات ولد علی رجل حق، ولم یخلف وارثا، قالوا یتصدق المدیون بما علیہ من المیت، لیکون ذٰلک ودیعۃ عنداﷲ تعالٰی، فیوصلہ الی خصمہ یوم القیمۃ ۲؎ قلت فافادان من مات لاعن وارث فان الخصومۃ تنتہی الیہ، ولاینتقل عنہ الی بیت المال وکان الفقہ فی ذٰلک ان الوضع فی بیت المال لیس علی جہۃ الارث، بل لان الضوائع تصیر فیأللمسلمین کما نص علیہ فی الدرالمختار واوضحۃ فی ردالمحتار ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایک شخص فوت ہوا اس کا دوسرے پر دین ہو اور کوئی وارث نہ ہو تواس صورت میں فقہاء نے فرمایاکہ مقروض اس میت کی طرف سے مال کو صدقہ کرے تاکہ عنداللہ قیامت میں یہ صدقہ امانت بن کر مستحق تک پہنچ جائے قلت (میں کہتاہوں کہ) ا س کایہ فائدہ ہوا کہ جو وارث چھوڑے بغیر فوت ہوجائے تو اس کے حق میں مطالبہ ختم ہوجاتاہے او وہ مطالبہ بیت المال کو منتقل نہیں ہوگا، اس میں نکتہ فہم یہ ہے کہ بیت المال کو لاوارث کا مال بطریقہ وراثت منتقل نہیں ہوتا بلکہ لاوارث  باقی ماندہ اشیاء مسلمانوں کے لئے ترکہ بنتی ہےی جیسا کہ درمختارمیں اس پر نص ہے اور اس کی وضاحت ردالمحتار میںہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضیخان  کتاب الغصب فصل فی برأۃ الغاصب والمدیون     نولکشور لکھنؤ         ۴/ ۶۹۳)
مسئلہ ۲۶۸: ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا مکان خام کو پختہ بنوایا، او رکچھ اراضی بکر کے اپنے مکان میں ڈال لی، اس پر بکر نے منع کیا، اس کے منع کرنے پر زید کا بھائی عمرو نے مل کرمارپیٹ کی، اس پر بکر نے اپنا سرجھکا یا تاہم وہ بازنہ آئے، او رعمرو اپنے آپ کو متقی تصور کرتاہے۔ اوراہل محلہ کے لوگ بھی ایسا ہی قرار دیتے ہیں، اس وجہ سے سے یہ سوال قائم کرکے علمائے کی خدمت میں یہ التماس ہے کہ شاید حکم شریعت کو سن کر عمرو اپنے کئے ہوئے فعل پر نادم ہو،ا وربکر کے ساتھ آئندہ کچھ زیادتی نہ کرے، او رحکم شرعی زید وعمرو ہمراہیان کے مع تفصیل علیحدہ علیحدہ تحریر فرمائے۔ بینوا توجروا
الجواب: صور ت مستفسہر میں عمروا ور اس کے ساتھی سب ظالم اور مرتکب کبیرہ ومستحق عذاب شدید ہیں،

 رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین۔ رواہ البخاری۱؎ عن ابن عمرر ضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
جوشخص زمین میں سے کچھ ٹکڑا ناحق دبالے قیامت کے دن وہ ساتویں زمین تک دھنسایا جائے گا۔ (اسے بخاری نے ابن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ صحیح البخاری    کتاب بدئ الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۴۵۳)
Flag Counter