| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مسئلہ ۲۶۴: ۲۲ شوال ۱۳۱۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اراضی مسجد کی جو اس کے پیچھے تھی اپنے مکان میں ڈال لی ہے اور دیوار بنوالی، اور تاج محراب مسجد ومینار مسجد دباکر اپنی دیوار بلند کرلی، ایسے شخص کے واسطے کیاحکم شرع شریف ہے ؟ فقط
الجواب: فاسق، فاجر، ظالم، جابر، مرتکب کبائر، مستحق عذاب النا ر وغضب الجبار ہے۔ والعیاذبا للہ تعالٰی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : لایأخذ احد شبرا من الارض بغیر حقہ الاطوقہ اﷲ الی سبع ارضین الی یوم القیٰمۃ۔ رواہ مسلم۱؎ عن ابی ھریرۃ والشیخان عن ام المؤمنین وعن سعید بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
جو شخص ایک بالشت بھر زمین ناحق لے گا اللہ تعالٰی وہ زمین زمین کے ساتوں طبقوں تک اس کے گلے میں قیامت کے دن تک طوق بناکر ڈالے گا۔ (اس کو مسلم نے ابوہریرہ اور شیخین نے ام المومنین عائشہ اور سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیاہے۔ ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب تحریم الظلم وغصب الارض قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
من اخذ من الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیٰمۃ الی سبع ارضین ۲؎۔ رواہ البخاری عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
در زمین ناحق دبالے گا قیامت کے دن زمین کے ساتویں طبق تک دھنسا دیا جائے گا۔ (اس کو بخاری نے ابن عمر رضی اللہ تعلٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
(۲؎ صحیح البخاری ابواب المظالم والقصاص باب اثم من ظلم شیئا من الارض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۳۲)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
ایما رجل ظلم شبرا من الارض کلفہ اﷲ عزوجل ان یحفرہ حتی یبلغ اٰخر سبع ارضین ، ثم یطوقہ یوم القیمۃ حتی یقضی بین الناس ۳؎۔ رواہ احمد والطبرانی وابن حبان فی صحیحہ بسند جید عن یعلی بن مرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو شخص ایک بالشت زمین ناحق لے لے اللہ تعالٰی اسے تکلیف دے کہ اس زمین کو کھودے یہاں تک کہ ساتویں طبقے کے ختم تک پہنچے پھر قیامت کے دن اس کا طوق بناکر اس کے گلے میں ڈالے یہاں تک کہ تمام مخلوق کا حساب کتاب ختم ہوکر فیصلہ فرمادیا جائے (اس کو طبرانی، احمد اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں جید سند کے ساتھ یعلی بن مرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۳؎ مسند احمد بن حنبل حدیث یعلی بن مرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۱۸۳)
ایک حدیث میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ شیئا من الارض بغیر حلہ طوقہ اﷲ من سبع ارضین لایقبل اﷲ منہ صرف ولاعدل ۱؎۔ رواہ احمد والطبرانی عن سعد بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو کسی قدر زمین ناجائز طور پرلے اللہ تعالٰی ساتویں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق ڈالے، نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل(اس کو احمد وطبرانی نے سعد بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ الترغیب والترہیب بحوالہ احمد والطبرانی الترھیب من اخذ الارض حدیث ۴ مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۶)
حدیثیں اس باب میں متواتر ہیں، اس شخص پر فرض ہے کہ مسجد کی زمین وعمارت فورا فورا خالی کردے، اوراپنی ناپاک تعمیر جوان پر کرلی ہے ڈھاکر دور کردے، اللہ قہار وجبار کے غضب سے ڈرے، ذرا من دو من نہیں بیس پچیس ہی سیرمٹی کے ڈھیلے گلے میں باندھ کر گھڑی دو گھڑی لئے پھرلے۔ اس وقت قیاس کرے کہ اس ظلم شدید سے بازآنا آسان ہے یازمین کے ساتویں طبقوں تک کھود کر قیامت کے دن تمام جہاں کا حساب پورا ہونے تک گلے میں، معاذا للہ یہ کروڑوں من کا طوق پڑنا اور ساتویں زمین تک دھنسا دیا جانا، والعیاذباللہ تعالٰی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۵: رجب ۱۳۱۵ھ از شہر کہنہ بریلی کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے خالد کی زوجہ سے بلا طلاق دئے خالد کے نکاح کرلیا، اور خالد بعد معلوم ہوجانے نکاح اپنی زوجہ کے زوجہ کے ساتھ سرکارمیں جاکرکے عرضی دی،اور زوجہ خالد نے بھی اپنے نان ونفقہ اورمہر کی عرضی خالد پردی، اورہنوز دونوں کا مقدمہ دائر ہے۔ لیکن اس عرصہ میں پنچوں نے جمع ہو کر دونوں کوراضی اپنے فیصلہ پر کرلیا، اور فیصلہ پنچوں کا اس طورپر زید پر ہوا کہ زید کو بوجہ مرتکب ہونے اس امر ناجائز کے مبلغ پچاس روپیہ جرمانہ اور مبلغ دس روپیہ صرفہ خالد ادا کئے، اور خالد نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور مبلغ مذکور بھی پنچوں نے زید سے اداکئے، اور اب روپیہ موصو ف پنچوں کے تحت میں ہے۔ جب زید نے دیکھا کہ یہ وپیہ بیکار ہاتھ سے جاتا ہے کہ یہ لوگ شیرینی وغیرہ میں صرف کریں گے۔ تو اس نے مجبور ہوکرکے کہا کہ تم لوگ اس روپیہ سے ایک مسجد تعمیر یا مرمت کرو، تو پنچوں نے راضی ہوکر خالد سے بھی روپیہ صرفہ کالے لیا، یعنی اس کو بھی تعمیر مسجد یا مرمت میں صرف کریں گے۔ بعد اس کے پنچوں میں سے ایک شخص نے پنچوں سے روپیہ لے کر زید کو دے دیا اور کہا کہ ایسا جائز نہیں ہے۔ پھر بعد تھوڑی دیر کے زید سے روپیہ مذکورواپس لے لیا، آیا اس روپیہ کو مرمت مسجد یا تعمیر مسجد میں خرچ کرناجائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: اول یہ مال حرام تھا کہ جرمانہ جو پنچ لیتے ہیں ناجائز ہے۔
قال المصادرۃ بالمال منسوخۃ عند ناوان کانت فالی الامام دون العوام۔
کیونکہ مالی جرمانہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے۔ اگر ہو بھی تو صرف امام تک جواز ہے عوام کو جائز نہیں۔ (ت) اور جو صرف خالد کو زید سے دلایا وہ بھی ناجائز تھا فانہ تضمین باطل
لم یرد بمثلہ الشرع
(کیونکہ یہ ضمان لگانا باطل ہے شرع میں اس کی مثال نہیں ہے۔ ت) مگر جب زیدنے اپنی رضا او ر خوشی سے اس مسجد میں صرف کی اجازت دے دی، اور اس کی تکمیل یوں کرلی گئی کہ وہ روپیہ اس کو واپس کردیا اور پھر اس سے تعمیر مسجد کے لئے مانگا اور اس نے بخوشی دیا جیسا کہ بیان سائل سے معلوم ہوا، توا ب اس کے جواز میں شبہ نہیں
کمالا یخفی فان الباطل قد زال بالرد
(جیساکہ مخفی نہیں کہ باطل کا زوال واپس کردینے سے ہوگیا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔