Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
112 - 120
حدیث میں ہے :
ان اﷲ طیبٌ لایقبل الا الطیب ۴؎۔
اللہ عزوجل پاک ہے پاک ہی چیزوں کو قبول فرماتاہے۔ (ت)
 (۴؎ السنن الکبرٰی للبہیقی  کتاب الصلٰوۃ صلٰوۃ الاستسفاء     دارصادربیروت    ۳/ ۳۴۶)

(کشف الخفاء   حدیث ۶۸۸   مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱/ ۲۶۰)
خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوا:
ولاتیمموا الخبیث منہ تنفقون ۵؎۔
قصد نہ کرو خبیث کا کہ اس سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ (ت)
 (۵؎ القرآن الکریم        ۲/ ۲۶۷)
علماء فرماتے ہیں۔ جو حر ام مال فقیر کو دے کر ثواب کی امید رکھے اس پر کفر عائد ہو۔ والعیاذباللہ تعالٰی۔

فتاوی ظہیریہ میں ہے :
رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیئا یرجوا بہ الثواب یکفر ۱؎۔
ایک شخص نے فقیر کو حرام مال دیا اور اس پر اس نے ثواب کی امید رکھی توکافر ہوجائے گا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ الظہیریہ     کتاب الزکوٰۃ   باب زکوٰۃ الغنم     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۲۶)
اقول:  وباللہ التوفیق (میں کہتاہوں اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ ت) تحقیق مقام یہ ہے کہ اگر اس نے اس مال حرام کو اپنی ملک خاص جان کر بطور تبرع تصدق کیا جیسے مسلمان اپنے پاکیزہ مال کو بہ نیت نفل وتطوع تقربا الی اﷲ صدقہ کرتا اور اس پر اپنے رب کریم سے امید ثواب رکھتاہے کہ بے ایجاب شرع اس نے اپنی خوشی سے اپنے پاک مال کا حصہ اپنے رب کی رضا کے لئے صرف کیا، جب تویہ تصرف حکم شرع سے جدا،ا ور یہ خیال شرع مطہر کے خلاف ہے۔ اور اس پر ہر گز اس کے لئے ثواب نہیں ، اسی کی بعض صورتوں میں فقہاء نےحکم تکفیر کیا،اور اگریوں نہ تھا بلکہ اس مال کو خبیث وناپاک ہی جانا اور اپنے گناہ پرنادم ہوکر تائب ہوا اور بحکم شرع اپنے تصرف میں لانا ناجائز سمجھا، اور اپنے نفس کو اس میں تصرف سے روکا اور ازاں جاں کہ اس کے ارباب معلوم نہ رہے بجاآوری حکم شرع کے لئے اسے تصدق کیا، اور اسی بجاآوری فرمان پر امید وثواب ہوا،تو بیشک اس میں اصلا حرج نہیں، بلکہ اسی کااسے شرعاحکم تھا، اور اس تصدق پر اگر چہ ثواب صدقہ نہیں، مگر اس امتثال حکم کا ثواب بیشک ہے۔ بلکہ یہ فعل اس کی توبہ کاتتمہ ہے۔ اور توبہ قطعا موجب رضائے الٰہی وثواب اُخروی ہے۔ پھر جس عمل پر آدمی خود ثواب پائے اس ثواب کو دوسرے مسلمانو ں کو بھی پہنچا سکتاہے۔
لعموم قولہم ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ
(ان کے اس قول کے عموم کی وجہ سے کہ انسان کو اپنے عملک کا ثواب غیر کے لئے کرنے کا حق ہے۔ ت) تو اس توبہ وبجاآوری حکم کا ثواب اگر نذر بزرگاں کریں کچھ مضائقہ نہیں۔
ھذا ہو التحقیق واﷲ ولی التوفیق اتفن ھذا افلعلک لاتجدہ فی غیرہ ھذا السطور۔
یہ تحقق ہے اور اللہ تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے۔ اس کو مضبوط کر، ہوسکتاہے تجھے ان سطور کے غیر میں نہ ملے۔ (ت)

اور اس مال سے حج کرنا بھی جائز نہیں کہ اسے حکم تویہ تھا کہ جن سے لیا انھیں واپس دے۔ وہ نہ معلوم ہوں تو تصدق کردے اس کے سوا جس کام میں صرف کیا جائے گا خلاف حکم شرع وموجب گناہ ہوگا۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ حج کرلیا تو فرض ذمہ سے اتر گیا، جیسے چوری اور غصب کے کپڑے سے نماز پڑھنا، فان الخبث انما ھوفی المجاورفلا یمنع الصحۃ (کیونکہ خبث یہاں بعد میں لاحق ہوا جو صحت کو مانع نہیں ہے۔ ت) پھر بھی اس پر امید ثواب کا محل نہیں بلکہ اسے کہا جائے گا لا لبیک ولا سعد یک وحجک مردود علیک حتی ترد مافی یدیک نہ تیرے لبیک قبول نہ خدمت قبول اور تیراحج تیرے منہ پر ماراگیا یہاں تک کہ تو یہ ناپاک مال جو تیرے ہاتھ میں ہے واپس دے۔
نسأل اﷲ العفوو العافیۃ ھذا ماجزمت بہ لظہورہ ظہورا بینا ثم  اتفق مراجعۃ ردالمحتار فرأیت فیہ التصریح بذٰلک کلہ حیث قال فی بیان الحض بمال حرام، الحج نفسہ لیس حراما بل الحرام ھو انفاق المال الحرام ولاتلازم بینہما کما ان الصلٰوۃ فی الارض المغصوبۃ تقع فرضا، وانما الحرام شغل المکان المغصوب، وقال فی البحر یجتہد فی تحصیل نفقۃ حلال فانہ لا یقبل بالنفقۃ الحرام، کما وردفی الحدیث مع انہ یسقط الفرض عنہ معہا ولاتنا فی بین سقوطہ وعدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ولایعاقب عقاب تارک الحج ۱؎ اھ مختصرا۔
ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں اس کے بالکل ظاہر ہونے پر مجھے جزم حاصل ہوا، پھر مجھے اتفاقا ردالمحتار پر مراجعت ہوئی تو میں نے اس میں اس تمام پر تصریح پائی انھوں نے مال حرام سے حج کے متعلق فرمایا حج فی نفسہٖ حرام نہیں بلکہ حرام مال کا اس میں صر ف کرنا حرام ہے جبکہ ان دونوں باتوں میں تلازم نہیں ہے۔ جیسا کہ مغصوبہ زمین پر نماز پڑھنے سےفرض ادا ہوجائے گاحرام صرف مغصوب زمین کو استعمال کرنا ہے۔ ار بحر میں فرمایا حلال نفقہ میں کوشش ضروری ہےکیونکہ حرام نفقہ سےحج قبول نہ ہوگاجیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔ اس کے باوجود فرض ادا ہوجائے گا۔ اور فرض کی ادائیگی اور عدم قبولیت منافات نہیں ہے۔ تو قبول نہ ہونے کی وجہ سے ثواب نہ پائے گا۔ اور فرض اد اہوجانے کی وجہ سے حج کا تارک ہوکر عذاب کا مستحق نہ ہوگا اھ مختصرا (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الحج    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۱۴۰)
اور تبدیل اس طرح سے کہ کسی سے قرض لے کر اپنے خرچ میں لائے، خواہ حج وتصدق ونذر ونیاز و تعمیر مساجد وغیرہا میں اٹھائے، اور قرض اس ناپاک مال سے ادا کردے اگرچہ یہ صورت ان تصرفا ت کے جائز ہونے میں توبکار آمد ہےکہ اب یہ روپیہ جو ان کاموں میں اٹھارہا ہے ناپاک نہیں۔
فی الہندیۃ عن الملتقط اٰکل الربٰو اوکاسب الحرام اھدی الیہ اواضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولایأکل مالم یخبرہ ان ذٰلک المال اصلہ حلال ورثہ اواستقرضہ ۱؎ اھ مثلہ عن الینابیع۔
ہندیہ میں ملتقط سےمنقول ہےکہ حرام کمانے والا یاسودخورہدیہ دے یا دعوت کرے تو قبول نہ کرے جبکہ اس کا غالب مال حرام ہو اور کھائے نہیں جب تک وہ وضاحت نہ کرے کہ یہ اصل مال میں نے وراثت یا قرض میں حلال حاصل کیا ہے۔ اھ اس کی مثل ینابیع میں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ  کتا ب الکراھیۃ الباب الثانی عشر  نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۴۳)
مگر اس حیلہ سے نہ وہ گناہ اس سے زائل ہو نہ اس ناپاک مال کا وبال سرسے اُترے، نہ اس سے فرض ادا کرنا روا، بلکہ یہ دوسرا گناہ ہوا کہ حکم شرع تو اصحاب حقوق کو واپس دینا یاتصدق کرنا تھا، اس نے کچھ نہ کیا بلکہ اپنی ادائے قرض میں لگادیا، تو ثابت ہوا کہ خبیث مال والوں کو یہ حیلہ نافع نہیں بلکہ مضر وموجب گناہ ہے۔
فان قلت الیس قال فی الہندیۃ الحیلۃ فی ھذہ المسائل ان یشتری نسیئۃ ثم ینقد ثمنہ من ای مال شاء، وقال ابویوسف سألت اباحنیفۃ عن الحیلۃ فی مثل ھذا فاجانبی بماذکرنا کذا فی الخلاصۃ ۲؎ اھ، وانما الحیلۃ لتحصیل الجواز۔ قلت انما قال فی اموال الشبھۃ کالجواز السلطانیۃ ای حیث لم یعلم کونہا عین الحرام، فانہ لایجوز اخذہ حتی للفقیر کما نص علیہ فی الہندیۃ ایضا وغیرھا، ونص عبارتہ قبل ھذا فی شرح حیل الخصاف لشمس الائمۃ رحمہ اﷲ تعالٰی ان الشیخ اباالقاسم الحکیم کان یاخذہ جائزۃ السلطان وکان یستقرض لجمیع حوائجہ ومایاخذ من الجائزۃ یقضی بہا دیونہ والحیلۃ فی ھٰذہ المسائل ۱؎ الی اٰخر مامر فہذا انما ھو فی امثال ھذا۔ لافی المال الخبیث الواجب التصدق فان فیہ مناقضۃ لما امربہ الشرع کما علمت فاعلم ذٰلک وتفہم، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم،
اگرتو اعتراض کرے کہ کیا ہندیہ میںیہ بیان نہیں ہے کہ ان مسائل میں حیلہ یہ ہے کہ مال ادھار خریدے اور پھر بعد میں معاوضہ کسی بھی مال سے چاہے دیدے۔ اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ میں نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ان مسائل کے متعلق حیلہ پوچھا تو انھوں نے جواب میں وہی فرمایا جوہم نے ذکر کیا، خلاصہ میں یوں ہے اھ، اور جبکہ حیلہ صرف جواز کو طلب کرنے کے لئے ہوتاہے۔ جواب کے طور پر میں کہتاہوں ، یہ مذکورقول انھوں نے مشتبہ مال میں فرمایا ہے جیسے سرکاری عطیات جن کے متعلق عین حرام ہونے کا علم نہیں ہوتا ۔ لیکن وہ مال جو عین حرام ہونا معلوم ہو  تو اس کولینا فقیر تک کو جائز نہیں ہے جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں بھی اس کی تصریح ہے۔ اور شمس الائمہ خصاف کی حیل کی شرح میں اس سے قبل ان کی عبارت یہ ہے کہ شیخ ابوالقاسم حکیم سرکاری عطیہ لیا کرتے تھے اور آپ اپنی ضروریات کے لئے قرض لیتے اور وہ قرض سرکاری عطیات سے ادا کرتےاور حیلہ ان مسائل کا یہ ہے الٰی آخرہ۔ تو مذکور قول ان مشتبہ اموال میں ہے نہ کہ خبیث مال میں ہے جس کو صدقہ کرنا واجب ہوتاہے کیونکہ خبیث میں حیلہ شرعی حکم کے منافی ہے۔ جیسا کہ تو معلوم کرچکاہے۔اسے جان لو اور سمجھ لو۔ واللہ تعالٰی سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔ (ت)
 (۲؎فتاوٰی ہندیہ    کتا ب الکراھیۃ الباب الثانی عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۴۲)

(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۴۲)
مسئلہ ۲۶۲:     ۲۶ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص زید کی نمبرداری میں عمروکی جزوی حقیت شامل ہے۔ پٹی جدا گانہ زید نے صرف اپنی جائداد کا ٹھیکہ بکر کو دے دیا اور خود ترک وطن کیا، بکر اور عمرو باہم اپنے اپنے حاصلات لیتے رہے۔ آخر سال کا حاصل بوجہ تکرار باہمی عمرو وبکر کے عمرو کو وصول نہیں ہوا، تب عمرو نے نالش زید وبکر دونوں پر دائر کی، بالآخر زید پر ڈگری ہوگئی، بحالت اجراء اس ڈگری کے وہ ڈگری بقابلہ زیدکے تمادی ایام میں خارج ہوگئی، تو اس ڈگری کاروپیہ ذمہ زید کے واجب الادا ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: سائل مظہر کہ زید وعمرو کی پٹیاں جدا جدا ہیں، او ر عمرو نے اپنی پٹی کے پٹے اسامیوں کو خود دئے، اور آپ تحصیل کرتارہا۔چند سال سےبکر ٹھیکہ دار حقیت زید نے اپنے دباؤ کے سبب عمرو کی پٹی بھی تحصیل لی، اس صورت میں عمرو کا مطالبہ حقیقۃ اپنے اسامیوں پر ہے کہ انھوں نے غیر شخص کو اس کا آتا ہوا کیوں دے دیا، اور بکر نے بوجہ اس زیادہ ستانی کے ظلم کیا مگر زید کی طرف سے کوئی تعدی نہیں۔ نہ اس پر عمرو کا مطالبہ تھا، نہ اس نے اسامیوں سے اس کا حق تحصیل لیا، نہ عمرو کے کوئی خاص معین روپے اسامیوں کے پاس رکھے تھے وہ بکر نے اسن سے لے کر زید کو دے دئے۔ تو زید اس مطالبہ سے بالکل بری ہے، اس کی ڈگری محض بیجا ہوئی عمرو کو اس سے کچھ لینا جائز نہیں۔  قال اﷲ تعالٰی لاتزر وازرۃ وزراخری ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ آٹھائے گی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۶/ ۱۶۳)
مسئلہ ۲۶۳: از شہر کہنہ     ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ زید ایک موضع کا مالک ہے۔ اور بکر زید کی رعایا، گاؤں میں زمین جوتتا ہے اور لگان زید کو دیتاہے، اور کچھ زمین اور اس گاؤں میں بے لگانی ہے۔ اس میں بکر نے چند درخت لگائے ہیں اور پھل کھاتاہے۔ اور ان درختوں پر زید اس سے کچھ لگان نہیں لیتاہے۔ اور حاکم وقت نے بھی یہی حکم جاری کررکھا ہے کہ زمین کا مالک جو ہے وہی درختوں کا مالک ہے صرف پھل پھول کھانے کا بکر کو اختیار ہے اور بکر کو اختیار ہے۔ اور بکر نے بلااجازت زید کے مخالفانہ ان درختوں کو خالد کے ہاتھ فروخت کردیا، زید نے بکر او رخالد پر نالش کی کہ بکر کو بیچنے کا منصب نہیں تھا، اور یہ بموجب حکم حاکم فاسد ہے۔ حاکم نے وہ درخت زید کو دلادئے، اور یہ بھی حکم دیا کہ خالد اپنے روپے کا دعوٰی بکر پر کرے، تو اس صورت میں دراصل وہ درخت حق زید کے ہیں یا بکر کے یاخالد کے؟ بینوا توجروا
الجواب : یہاں دو صورتیں ہیں: ایک یہ درخت بکر نے باذن واجازت زید لگائے، خواہ یوں کہ زید نے صراحۃ خاص بکر، سب سکان دیہہ کو عام اذن دیا، خواہ یوں کہ حسب عرف رواج دیہہ ملاک کی طرف سے مزارعین کو اذن عرفی تھا۔

دوسرے یہ کہ محض بلااذن بطور خود بکر نے لگالئے۔

پہلی صور ت میں درخت مطلقا زید کی ملک ہوں گے مگر یہ کہ خود اذن مذکور کا مطلب ہی یہ ہوا کہ لگانے والا مالک ہوں، مثلا اذن عرفی میں عرف ہی یوں تھا یا اذن صریح میں لفظ یہ تھے کہ اپنے لئے لگالو، تو اس صورت میں درخت ملک بکر ہوں گے، اور زمین عاریت، یایہ کہ بکر نے برخلاف مطلب اذن لگاتے وقت یہ کہہ لیا کہ میں خود اپنے اس صورت میں درخت ملک بکر ہوں گے اور وہ بوجہ مخالفت اذن ظالم وغاصب کہ فورا درخت اکھیڑ کر زمین خالی کردینے کا حکم دیا جائے گا۔ اور دوسری صورت میں یعنی جبکہ بے اذن مالک رکھے گئے، درخت مطلقا ملک بکر ہوں گے، اور وہ غاصب قرار پائے گا۔ مگر یہ کہ رکھتے وقت اس نے کہہ دیا ہو کہ زید کے لئے لگاتاہوں، اس صورت میں ملک زید ہوں گے۔ اور بکر کا کوئی دعوی نہیں۔
ھذا جملۃ الحکم فی ذٰلک وتعرف تفاصیل المسألۃ من شتی التنویر، والدر، وحواشیہ، ووقف الاشباہ ۔ وشروحہ۔ وغصب الہندیۃ وغیرھا من الکتب المعتمدۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
   اس کا یہ خلاصہ حکم ہے، اور تنویر الابصارمیں کے مسائل شتٰی، درمختار اور اس کے حواشی، اور الاشباہ کے وقف او راس کی شرح، اور ہندیہ کے باب غصب وغیرہ معتبر کتب میں اس کی تفاصیل تجھے معلوم ہوں گی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
Flag Counter