Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
111 - 120
مسئلہ ۲۵۹: چہ فرمایند علمائے ومفتیان شرع متین درحق کسیکہ بحیلہ ومکر از دوست خود زرگرفت، و گفت کہ اگر نہ دہی ایں مضرت بتورسانم، یا برائے رنجا نیدن خلق اﷲ واظہار غلبہ، وصولت خود باشخصے بزرگ ومعززدوستی کرد، تاکہ خلائق ازیں کس بہ تعلق آں شخص بزرگ بہ تر سند۔ بینوا توجروا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ایسے شخص کے متعلق جو حیلہ اور مکر کے ساتھ دوست سے مال وصول کرتا ہے اور کہتاہے کہ اگر نہ دے گا تو تجھے فلاں پریشانی میں مبتلا کروں گا۔ یا وہ شخص اللہ تعالٰی کی مخلوق کو تنگ کرتاہے اپنا غلبہ اور دبدبہ قائم کرنے کے لئے کسی معزز اور بڑے آدمی سے دوستی بتاتا ہے تاکہ اس کے تعلق سے لوگ اس سے مرعوب رہیں۔ بینوا توجروا (ت)
الجواب : بمکر وحیلہ ووعید وتہدید بناحق زر از کسے گرفتن حرام قطعی ست، باز اگر ایں بزور ستاند غصب باشد، واگراں بترس مضرت خویش دہد رشوت بود ہر دوحرام وفی النار، ومستوجب غضب جبار قہار ست، والعیاذباﷲ تعالٰی، قال تعالٰی
لا تاکلو اموالکم بینکم بالباطل ۱؎ الآیۃ۔
مکر وفریب اور ڈرادھمکا کر کسی سے مال لینا قطعی حرام ہے۔ پھر اگر طاقت کے ذریعہ لیتا ہے تو یہ غصب ہے، اوراگر اپنے شر سے ڈراکر لیتا ہے تو رشوت ہوگی جبکہ دونوں طریقے حرام جہنم اور اللہ تعالٰی کے غضب کے مستوجب ہیں، والعیاذ باللہ تعالٰی، اللہ تعالٰی نے فرمایا: آپس کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ، الآیہ،
(۱؎ القرآن الکریم  ۲/ ۱۸۸)
ورنجانیدن وترسانیدن خلق اﷲ تجبر و تکبر ہمہ محرمات قطعیہ است، درحدیث ست حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمایند شَرُّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِٰیمَۃِ مَنْ یّخَافُ لِسَانہ، اَوْیخَافُ شَرّہ، بدترین مردم درمنزلت روز قیامت کسے باشد کہ بندگان خدا از زبان وزیان اوخائف وترساں باشند، اخرجہ ابن ابی الدنیا فی کتاب ذم الغیبۃ ۱؎ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی تعالٰی عنہ وخود فرمودہ سیدالانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلٰوۃ والسلام لاینبغی علی الناس ولد بغی والامن فیہ عرق منہ ستم وتعدی برمردماں نکند مگر زنازاندہ یاکسیکہ دروے رگے از زناست رواہ الطبرانی ۲؎ فی الکبیر عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن، واﷲ تعالٰی الہادی۔
اور اللہ تعالٰی کی مخلوق کو تکلیف دینا، ڈرانا اور ان پر اپنا جبر اور تکبر ظاہر کرنا قطعی محرمات میں سے ہے حدیث شریف میں حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا: بدترین مرتبے کا وہ آدمی ہے کہ لوگ اس کی زبان سے اور اس کے زیان سے خوف زدہ ہوں، اس کو ابن ابی الدنیا نے کتاب ذم الغیبۃ میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہوئے تخریج کیا، اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے خود فرمایا کہ لوگوں پر ظلم وتعدی نہ کرے گا مگر وہ شخص جو زنا زادہ ہے یا ا س میں زنا کا دخل ہے۔ اس کو طبرانی نے کبیر میں حضرت موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ واللہ تعالٰی الہادی (ت)
 (۱؎ موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا ذم الغیبۃ والنمیمۃ  حدیث ۸۳  کتاب الصمت ۲۲۰    موسسۃ الکتب الثقافیہ بیروت  ۲/ ۸۷ و ۵/ ۱۵۱)

(۲؎ مجمع الزاوائد بحوالہ المعجم الکبیر         کتاب الخلافۃ باب فی عمال السوء    دارالکتب بیروت        ۵/ ۲۳۳)

(مجمع الزاوائد بحوالہ المعجم الکبیر        کتا ب لحدود والدیات   باب فی اولاد الزنا    دارالکتب بیروت          ۶/ ۲۵۸)

(کنز العمال بحوالہ طب  حدیث ۱۳۰۹۳،   ۵/ ۳۳۳ و  حدیث ۳۰۴۵،    ۱۱/ ۱۹   موسستہ الرسالۃ بیروت)
مسئلہ ۲۶۰: ا زبلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب ۱۸ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ پارچہ گاذر کے یہاں گیا، اور اس کے یہاں سے دوسرے شخص کا بمعاوضہ اس کے آیا، وہ کپڑا استعمال میں لانا درست ہے یانہیں؟ اور اگر پھر گم شدہ پارچہ اس کے بدلے نہ ملے تو وہ کپڑا جو غیر کا اس کے پاس آیا ہے وہ گاذر کودے دے یا کسی محتاج کو؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر لینے سے پہلے معلوم ہو کہ یہ کپڑا غیر کا ہے تو سرے سے لینا ہی درست نہیں ، اور دھوکے میں لے لیا پھر معلوم ہوا تو استعمال میں لانا حلال نہیں۔
کما نصوا علیہ فی مسئلۃ تبدیل الملاۃ والمکعب بملاۃ غیرہ اومکعبہ کما فی الخانیۃ والہندیۃ وغیرہما وقد قال اﷲ تعالٰی الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۱؎. وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایحل لمسلم ان یاخذ عصا اخیہ بغیر طیب نفس منہ، قال ذٰلک لشدۃ ماحرم اﷲ من مال المسلم علی المسلم، رواہ ابن حبان ۲؎ فی صحیحہ عن ابی حمیدی الساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ،
جیساکہ فقہاء نے کپڑا اور جوتے کے مسئلہ میں نص فرمائی کہ اگر ایک کے دوسرے کپڑوں اور جوتوں میں تبدیل ہوجائیں، جیساکہ خانیہ او ہندیہ وغیرہ میں ہے، اور بیشک اللہ تعالٰی نے فرمایا تجارت صرف رضامندی سے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ دوسرے مسلمان کی چھڑی اس کی رضامند ی کے بغیر لے لے۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کسی مسلمان کا مال مسلمان پر شدید حرام ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوحمیدساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۴/ ۲۹)

(۲؎ مواد الظمان الی زوائد ابن حبان     حدیث ۱۱۶۶ کتا ب البیوع        المطبعۃ السلفیہ مدینۃ المنورۃ    ص۲۸۴)
وفی الخانیۃ والہندیۃ والبزازیۃ، واللفظ لہذہ، اذا قال القصار ھذا ثوبک وقال المالک لیس ھذا ثوبی لایحل لبسہ ولابیعہ فہذا نص المسئلۃ اما ماذکروا عقیبہ من الاستثناء بقولہم الا ان یقول ربہ اخذتہ عوضا عنہ ویقول القصار نعم ۳؎ اھ، فاقول: یجب حملہ علی مااذا علم اوساغان یکون الثوب اللقصار، و قد ذکر فی الخانیۃ وخزانۃ المفتین فروعا، فصلوا فیہا بین مایکون الثوب للقصار اولغیرہ، اما اذا علم۔ ان الثوب لغیرہ فکیف یحل لک لبسہ و تملکہ بمعاوضۃ جرت بینک وبین من لایملک من دون اجازۃ من الملک ھذ امما لایتصور، فلیتأمل ولیحرر
اور خانیہ، ہندیہ اور بزازیہ میں بزازیہ کے الفاظ میں، جب دھوبی نے کہا یہ تیرا کپڑا ہے اور مالک کہے یہ میرا نہیں ہے پھر مالک اپنے کپڑے کے عوض اس کپڑے کو لے تو اس کا استعمال اور فروخت کرنا اس کو جائز نہ ہوگا۔ اور یہ مسئلہ میں نص ہے لیکن فقہاء کرام نے اس کے بعد یہ جو فرمایا کہ اگر مالک کپڑے لیتے وقت دھوبی سے پوچھے کہ یہ کپڑا میرے کپڑ ے کے عوض میں ہے اور وہ جوب میں ہاں کہے تو جائز ہوگا اہ، تومیں کہتاہوں ، یہ ان کی بات اس صور ت پر محمول ہے جب مالک کو یقین ہو یا دھوبی یقین  دلائے کہ دھوبی کا کپڑا ہے،خانیہ اور خزانۃ المفتین  میں مذکور تفصیل ہے تو انھوں نے دھوبی او رغیر کے کپڑے میں فرق کیا ہے لیکن معلوم ہوکہ یہ غیرکاکپڑا ہے تو پھر تجھے کیسا پہننا اور فروخت کرنا جائز ہوسکتاہے جبکہ تیرے اور غیر مالک کے درمیان جو معاوضہ طے ہوا ہے وہ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ہوا ہے۔ یہ غیر متصور معاملہ ہے غورکرواور واضح کرو۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاجارات الفصل الحادی عشر  نورانی کتب خانہ پشاور   ۵/ ۱۲۹)
اور جبکہ اس نے دھوبی سے لیا اور دھوبی باذن مالک ہوتاہے، تو اس کے لئے گری پڑی بے وارث چیز کا حکم نہیں ہوسکتا کہ محتاج کو دے سکے، بلکہ گاذر ہی کو واپس دے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۱ : از اوجین مکان میرخادم علی اسسٹنت مرسلہ ملاحاجی یعقوب علی خاں ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کے نزدیک تمام و کمال روپیہ از قسم سود ورشوت ہے۔ تو اس قسم کے اموال پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے یانہیں؟ اور ایسے مال وزر سے اقسام نیاز بزرگان وادائے حج درست ہے یاممنوع؟ اور اس روپیہ کی تبدیل کی صورت ہوسکتی ہے یانہیں؟ بیان فرمائیں بعبارت کتب، رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
الجواب : سود ورشوت او راسی قسم کے حرام وخبیث مال پر زکوٰۃ نہیں کہ جن جن سے لیا ہے اگر وہ لوگ معلوم ہیں تو انھیں واپس دینا واجب ہے۔ اور اگر معلوم نہ رہے تو کل کا تصدق کرنا واجب ہے۔ چالیسواں حصہ دینے سے وہ مال کیا پاک ہوسکتاہے جس کے باقی انتالیس حصے بھی ناپاک ہیں،
درمختارمیں ہے :
لازکوٰۃ لوکان خیبثاکما فی النہر من الحواشی السعدیۃ ۱؎۔
اگرتمام مال خبیث ہو تو اس پر زکوٰۃ نہ ہوگی جیسا کہ نہر میں حواشی سعدیہ سے منقول ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار  کتاب الزکوٰۃباب زکوٰۃ الغنم مطبع مجتبائی دہلی  ۱/ ۱۳۴)
ردالمحتارمیں ہے:
مثل فی الشرنبلالیۃ وذکرہ فی شرح الوھبانیۃ بحثا، وفی الفصل العاشر من التاترخانیۃ عن فتاوی الحجۃ، من ملک اموالا غیر طیبہ لازکوٰۃ علیہ فیہا ۱؎ اھ ملخصا۔
ایسا ہی شرنبلالی میں ہے، اس کو شرح وہبانیہ میں بحث کے طور پر ذکر کیا ہے اور تاتارخانیہ کی دسویں فصل میں فتاوی الحجہ سے منقول ہے کہ جوشخص غیر حلال مال کا مالک بنا اس  پر اس مال کی زکوٰۃ نہیں ہے اھ ملخصا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتا ب الزکوٰۃباب زکوٰۃ الغنم    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۲۵)
اسی میں ہے :
فی القنیۃ لوکان الخبیث نصابا لاتلزم الزکوٰۃ لان الکل واجب التصدق علیہ فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ اھ، ومثلہ فی البزازیۃ ۲؎۔
قنیہ میں ہے اگر خبیث مال نصاب زکوٰۃ ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم نہ ہوگی کیونکہ وہ تمام صدقہ کردینے کے قابل ہے لہذااس میں سےبعض کاصدقہ کافی نہ ہو،اھ اور بزازیہ میں بھی ایسا ہے۔ (ت)
 (۲؎ردالمحتار کتا ب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم     داراحیاء التراث العربی بیروت   ۲/ ۲۵)
اسی میں ہے :
لان المغصوب ان علمت اصحابہ اوورثتہم وجب ردہ علیہم والا وجب التصدق بہ ۳؎۔
مغصوبہ مال کے مالک یا اس کے وارثوں کو تو جانتاہے تو ان کو واپس دینا واجب ہے ورنہ صدقہ کرنا واجب ہے۔ (ت)

اور ایسے مال سے نیاز بزرگاں کرنا بھی جائز نہیں۔ نہ ہر گز اس سے کچھ حاصل ، کہ نیاز کامطلب ایصال ثواب ہے اور ثواب ثمرہ قبول ہے۔ اور قبول مشروط بپاکی،
(۳؎ردالمحتار    کتا ب الزکوٰۃباب زکوٰۃ الغنم    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۲/ ۲۶)
Flag Counter