| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
اور حرام مال کو صدقہ کرکے امید ثواب رکھنی بھی مطلقا کفر نہیں، اگر وہ چیز عین حرام نہ ہو بلکہ زرحرام کے معاوضہ میں خریدی جب تو ظاہر کہ اس کی حرمت مجمع علیہ بھی نہیں، اور اگر عین حرام ہے اور اسے مالک تک نہیں پہنچا سکتا خواہ اس وجہ سے کہ اسے مالک یادنہ رہا یا سرے سے مالک کو جانتاہی نہیں۔ مثلا اس کے مورث نے مال غصب کیا تھا، یہ عین مغصوب کو جانتا ہے۔ اور مغصوب منہ سے محض ناواقف ، یایوں کہ مالک مرگیا او رکوئی وارث نہ رہا، تو ان سب صورتوں میں شرع مطہر اسے تصدق کا حکم دیتی ہے۔ جب اس نے صدقہ کیا تو حکم بجالایا، اور فرمانبرداری پر امید ثواب رکھنا محذور نہیں،
شرح فقہ اکبر میں ہے:
فی المحیط من تصدق علی فقیر بشیئ من الحرام یرجو الثواب کفر، وفیہ بحث لان من کان عندہ مال حرام فہو مامور بالتصدق بہ علی الفقراء فینبغی ان یکون ماجورا بفعلہ حیث قام بطاعۃ اﷲ وامرہ، فلعل المسئلۃ موضوعۃ فی مال حرام یعرف صاحبہ، ویعدل عنہ الی غیرہ فی عطائہ لاجل سمعتہ وریائہ کما کثر ہذا فی ظلمۃ الزمان وامرائہ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
محیط میں ہے جس نے حرام کا صدقہ کرکے ثواب کی امید کی وہ کافر ہوا، اور اس میں بحث یہ ہے کہ جس کے پاس حرام مال ہو اس کو صدقہ کرنے کا حکم ہے فقراء کو صدقہ کرے تو اللہ تعالٰی کے حکم اطاعت کرنے پر ثواب کی امید جائز ہے۔ ہوسکتاہے یہ مسئلہ اس صورت میں ہو جس میں حرام مال کو جانتے ہوئے دوسرے کو محض ریاکاری اور شہرت کے لیے دے جیسا کہ آج کل جابر بادشاہ اور امراء حضرات میں کثیر الوقوع ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۹)
مسئلہ ۲۵۷: ۲۸ ذیقعدہ ۱۳۰۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اگر کَسبی یا وہ شخص کہ جس کا مال حرام کا ہو مثل سود خوار وغیرہ کے، اگر وہ کوئی شے مثل لوٹا یا چٹائی یا دری وغیرہ مسجدمیں ڈال دے تاکہ نمازی اس سے وضو کریں یا اس پر نماز پڑھیں، جائز ہے یانہیں؟ اور اس سے اس کے مال کی حرمت آتی ہے یا نہیں اور اس کی خرید بھی دست بدست اور تعین ثمن کے ساتھ نہیں بلکہ چیز کو خرید کر ثمن بعد کو ادا کرتے ہیں۔
الجواب: اگر رنڈی نے کچھ روپیہ کسی سے قرض لیا اور کسی وجہ سے کوئی حلال مال حاصل کیا اور ان چیزوں کی قیمت میں یہی حلال مال دیا، اور خریدتے وقت بھی مال حرام کی طرف اشارہ نہ کیا تھا، یعنی حرام روپیہ دکھاکر یہ نہ کہا تھا کہ اس کے عوض دے دے، جب تو یہ چیزیں بالاجماع اس رنڈی کی ملک طیب و حلال ہیں جن میں کوئی شبہ حرمت نہیں کہ اس صورت میں مال حرام کو ان اشیاء کی خریداری سے اصلا تعلق نہ ہوا، اور اگر مال حرام دکھاکر خریدیں اور قیمت دیتے وقت مال حلال دیا، یا مال حلال دکھا کر خریدیں اور قیمت دیتے وقت مال حرام دیا، یا خریدتے وقت کوئی مال نہ دکھایا تھا صرف مطلقا خریداری کرلی، مثلا یوں کہا کہ ایک روپیہ کی یہ چیز دے دے، جب اس نے دے دی، تو اس کی قیمت مال حرام سے ادا کردی، ان تینوں صورتوں میں اگر چہ علماء کا اختلاف ہے۔ مگر فتوٰی امام کرخی رحمہ اﷲ تعالٰی کے قول پر دیا گیا کہ ان صورتوں میں بھی وہ اشیاء اس رنڈی کے لئے حلال ہوں گی، ان وجوہ پر خرید کر مسجد میں لوٹے، چٹائی وغیرہ رکھے گی تو ان لوٹوں سے وضو اور اس چٹائی پر نماز کے جواز کاحکم دیں گے، اگرچہ رنڈی پر اس کے حرام فعلوں کا وبال الگ، ان کے بدلے اجرت لینے کا عذاب جدا۔ اور اس حرام مال کو خرچ میں لانے کا مواخذہ علاوہ، ہاں اگر عقد ونقد دونوں مال حرام میں جمع ہوں، یعنی حرام ہی روپیہ دکھا کر کہے کہ اس کے عوض دے دے، اور قیمت میں دے بھی وہی حرام روپیہ ، تو اس قول مفتٰی بہ پر بھی وہ شے حرام و خبیث رہے گی، اور اس میں تصرف ناجائز ہوگا۔ مگر آج کل بیع وشراء میں غالبا یہ صورت واقع نہیں ہوتی ۔
تنویر الابصارمیں ہے:
تصدق اذاکان متعینا اوشری بدراہم الودیعۃ اوالغصب ونقدہا وان اشار الیہا ونقد غیرہا اواطلق ونقدہا لاوبہ یفتی اھ تلخیص واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب خاص متعین حرام ہو یا امانت کے مال سے یا غصب کے مال سے کوئی چیز خریدی اور وہی نقد دیا ہو تو صدقہ کرے، اور اگر سودے کے وقت حرام دکھایا اور ادائیگی میں دوسرا دیا، یا مطلق سودا کیا اورا دائیگی حرام سے کی تو صدقہ لازم نہ ہوگا۔ اسی پرفتوٰی ہے اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۔۲۰۵)
مسئلہ ۲۵۸: از پیلی بھیت مرسلہ عبدالرحمن خاں صاحب مدرس تحصیل اسکول ۲ جمادی الآخرہ ۱۳۱۰ھ زید نے جوئے میں روپیہ کمایا، اور اسی روپیہ سے اس نے اپنے گھر کا اثاثہ اور اسباب درست کیا ہے۔ اب زید تائب ہوتا ہے اور چاہتاہے کہ اپناذمہ بری کرے۔ اور جو مال حرام کا اس کے پاس ہے اس کو جدا ، تو کیا کرے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے۔
فی الدرمن السحت مایأخذ مقامر ۱؎. (باختصار)
درمختار میں ہے: جوئے میں حاصل کیا ہوا مال حرام ہے۔ (باختصار) (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳)
اور اس سے برائت کی یہی صورت ہے کہ جس جس سے جتنا مال جیتا ہے اسے واپس دے، یا جیسے بنے اسے راضی کرکے معاف کرالے۔ وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو واپس دے، یا ان میں جو عاقل بالغ ہوں ان کا حصہ ان کی رضامندی سے معاف کرالے۔ باقیوں کا حصہ ضرور انھیں دے کہ اس کی معافی ممکن نہیں، اورجن لوگوں کا پتہ کسی طرح نہ چلے نہ ان کا، نہ ان کے ورثہ کا ، ان سے جس قدر جیتا تھا ان کی نیت سے خیرات کردے، اگرچہ اپنے محتاج بہن، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں کو دے دے، اس کے بعد جو بچ رہے گا وہ اس کے لئے حلال ہے،
عالمگیری میں ہے:
کان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردہا، وذٰلک ھہنا بردالماخوذان تمکن من ردہ، بان عرف صاحبہ، وبالتصدق بہ ان لم یعرفہ ۲؎۔
لینا گناہ ہے اور گناہ کے ازالہ کی صورت اس کو واپس کرنا ہے اور یہاں لئے ہوئے کو ردکرنا ہوگا۔ جب واپس کرناممکن ہو کہ اس کے مالک کو جانتا ہو یا پھر معلوم نہ ہو تو صدقہ کرنا ہوگا۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۹)
ردالمحتارمیں ہے:
ان علمت اصحابہ او ورثتہم وجب ردہ علیہم، والاوجب التصدق بہ ۳؎۔
اگر اس کے مالک یا مالک کے ورثاء کو جانتا ہے تو واپس کرناواجب ہے۔ ورنہ صدقہ کرنا واجب ہے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۶)
غرض جہاں جہاں جس قدر یاد ہو سکے کہ اتنامال فلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑاتھا اتنا تو انھیں یا ان کے وارثوں کو دے، یہ نہ ہو تو ان کی نیت سے تصدق کرے، اورزیادہ پڑنے کے یہ معنی کہ مثلا ایک شخص سے دس بار جوا کھیلا کبھی یہ جیتا کبھی یہ، اس کے جیتنے کی مقدار مثلا سو روپے کو پہنچی، اور یہ سب دفعہ کے ملا کر سوا سو جیتا، تو سو سو برابر ہوگئے، پچیس اس کے دینے رہے۔ اتنے ہی اسے واپس دے، وعلی ہذا القیاس ، اورجہاں یاد نہ آئے کہ کون کون لوگ تھےاور کتنا لیا، وہاں زیادہ سے زیادہ تخمینہ لگائے کہ اس تمام مدت میں کس قدر مال جوئے سے کمایا ہوگا اتنا مالکوں کی نیت سے خیرات کردے، عاقبت یونہی پاک ہوگی، واللہ تعالٰی اعلم۔