Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
109 - 120
کتاب الغصب

(غصب کا بیان)
مسئلہ ۲۵۵:      یکم ذیقعدہ ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید غنی نے اپنے جوان پسر کی آمدنی یہ کہہ کر لینی شروع کی کہ ہم جمع رکھیں گے تاکہ تمھاری شادی پر خرچ کریں، او ر واقع مٰیں اس کے خلاف کیا۔ بلکہ وہ مال اپنے مصارف میں اٹھالیا، تو اس صور ت میں زید پر اس کا تاوان آئے گا۔ یا مال پسر کامالک سمجھا جائے گا بینوا توجروا
الجواب

بیشک تاوان دے گا اور ہر گز رضائے پسر نہ تھی تو گناہ علاوہ،
قال تعالٰی ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: آپس کامال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم            ۲/ ۱۸۸)
باپ بیٹے کے مال کا اس کی زندگی میں ہر گز مالک نہیں۔
وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انت و مالک لابیک ۱؎من باب البر۔
اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کا ارشاد ہے کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے تو یہ بھلائی کے باب میں ہے قانون نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ کنز العمال     حدیث ۴۵۴۷۱و ۴۵۹۲۷و ۴۵۹۲۸ و ۴۵۹۳۲ و ۴۵۹۳۸    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۶/ ۸۰، ۵۷۹۔ ۴۶۶۔ ۵۷۷)

(سنن الکبرٰی للبیہقی     کتاب النفقات            دارالفکر بیروت    ۷/ ۴۸۰، ۴۸۱)

(سنن ابن ماجہ         ابواب التجارات     باب ماللرجل من مال ولدۃ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۶۷)
فتح القدیر کے باب الوطی الذی یوجب الحد میں ہے:
لم تکن لہ ولایۃ تملک مال ابنہ حال قیام ابنہ ۲؎۔
اس کو ولایت نہیں ہے جو بیٹے کی زندگی میں اس کے مال کاباپ کو مالک بنادے۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر        کتاب الحدود باب الوطی الذی یوجب الحد        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۳۷)
نہ باپ کو بے رضا واجازت پسر اس کے مال سے ایک حبہ لینے کا اختیار ۔
قال اﷲ الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: بغیر اس کے کہ تمھاری رضامندی سے تجارت ہو۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم  ۴/ ۲۹)
مگر جبکہ باپ فقیر محتاج ہو او ربیٹا غنی، تو صرف بقدر نفقہ کے بلا اطلاع  پسر بھی لے سکتاہے اگر چہ بیٹا راضی نہ ہو۔
وھو محمل قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اطیب ما اکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ ۴؎۔ قال فی الفتح اخرجہ اصحاب السنن الاربعۃ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا صح قلت والدارمی والبخاری فی التاریخ قال حسنہ الترمذی قلت وصححہ ابوحاتم قال قدس سرہ فان قیل ہذا یقتضی ان لہ ملکا ناجزا فی مالہ، قلنا نعم لولم یقیدہ حدیث رواہ الحاکم وصححہ البیہقی عنہا مرفوعا ان اولادکم ہبۃ لکم یہب لمن یشاء انا ثا ویہب لمن یشاء الذکور، واموالہم لکم اذا احتجتم الیہا، ومما یقطع بانہ مؤول انہ تعالی ورث الاب من ابنہ السدس مع ولد ولدہ، فلو کان الکل ملکہ لم یکن لغیرہ شیئ مع وجودہ ۱؎ اھ ۔
اوریہی محمل ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کاکہ آدمی کااپنے کسب سے کھانا نہایت پسندیدہ ہے اور بیٹا ا س کا کسب ہے فتح میں فرمایا اس کو سنن اربعہ (ابوداؤد ، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ) کے اصحاب نے تخرج کیا ہے، اور حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے یہ روایت صحیح ہے، میں کہتاہوں اور دارمی اوربخاری نے اپنی تاریخ میں بھی اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے میں کہتاہوں اور اس کو ابوحاتم نے صحیح قراردیا ہے او رابن ہمام قدس سرہ نے بیان کیا کہ اگراعتراض کیاجائے کہ اس حدیث کا مقتضی یہ ہے کہ بیٹے کا مال باپ کی قطعی ملکیت بن جائے، ہم جواب میں کہتے ہیں ہاں اگرحاکم کی روایت کردہ اور بیہقی کی صحیح کردہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرفوع حدیث نے کہ تمھاری اولاد تمھارے لئے ہبہ ہے اللہ تعالٰی جس کو چاہے لڑکے ہبہ کرتاہے اور جس کو چاہے لـڑکیاں ہبہ کرتا ہے اور ان کا مال تمھارا ہے جب تمھیں اس کی احتیاج ہو ۔ پہلی حدیث کو مقید نہ کیا ہو (حالانکہ وہ اس سے مقید ہے) اور اس کے مؤول ہونے کی قطعی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے باپ کو بیٹے کے مال میں اس کی اولاد کی موجود گی میں چھٹے حصے کا وارث بنایا ہے اگر بیٹے کے کل مال کا مالک باپ ہو تو پھر باپ کی موجودگی کے باوجود غیر کو کچھ نہ ملے۔ اھ (ت)
 (۴؎ سنن ابن ماجہ     ابواب التجارات باب الحث علی المکاسب        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۵۵)

(سنن الکبرٰی للبیہقی    کتاب النفقات باب نفقہ الابوین        دارصادر بیروت    ۷/ ۴۸۰)

(۱؎ فتح القدیر    باب النفقۃ فصل وعلی الرجل ان ینفق علی ابویہ الخ    مکتبہ نوریہ ضویہ سکھر    ۴/ ۲۲۳)
درمختارمیں ہے:
فی المبتغی للفقیران یسرق من ابنہ الموسر مایکفیہ ان ابی ولاقاضی ثمہ والا اثم ۲؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
متبغی میں ہے۔فقیر باپ کو اپنے امیر بیٹے کے مال سے کفایت کے مطابق چرالینے کا حق ہے جب بیٹا دینے سے انکار کردے اور وہاں قاضی نہ ہو ورنہ باپ گنہ گارہوگا اھ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب الطلاق باب النفقۃ            مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۷۴)
مسئلہ ۲۵۶:         ۲۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کایہ قول کہ سود کا روپیہ او رچوری کا روپیہ اور جوئے کا روپیہ اور غصب کا روپیہ اور جو تجارت سودی روپیہ سے ہو اور وکالت یا مختار کاری کا پیسہ اور منصفی اور صدر صدوری اور فوج کی تنخواہ کا روپیہ، یہ سب حرام ہیں، اگر اس روپیہ سے کھانا تیار کیا جائے یاکپڑا بنایا جائے تو حرام ہے کھانا، ایسا کھانا حرام ہے۔ اور اس کھانا پر تسمیہ کرنا کفرہے۔ اور عمرو کا یہ قول ہے کہ یہ پیسہ حرام نہیں ہے بلکہ مالک مال چور کو بعد چرالے جانے مال کے بخش دے اگر چہ چورکو اس کے بخشنے کی خبر ہی نہ ہو، یعنی مالک مال یہ کہہ دے کہ جو میرا مال چورلے گیاہے میں نے بخشا اور معاف کیا، توہ مال چو رکی ملک ہوگیا۔ وہ حرام نہیں ہے۔ اسی طرح جوئے وغیرہ اور وکالت اورسود کا بھی یہ حکم ہے۔ اب زیدکو جستجو  مال کی ہے جو ازروئے شرع حرام ہے کہ ا سے بچنا اور احترا ز کرنا بہترہے مسلمانوں کوا مید ہے کہ جو پیسہ حرام ہے اس سے آگاہی فرمائی جائے تاکہ اس پیسہ سے بچنا موجب خیرات وبرکات کا ہو، اور حرام کے مال سے صدقہ اور خیرات کرکے امید ثواب کی رکھنا یہ درست ہے یانہیں؟ بینوا توجروا من اللہ تعالٰی
الجواب: سود اور چوری اورغصب او رجوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔ اور اسی طرح وکالت ومختار کاری جس طرح اس زمانہ میں رائج قطعا حرام ہے اور اس کی اجرت بھی قطعا حرام، اورہر وہ نوکری جس میں خلاف حکم خدا اور سول فیصلہ یا حکم کرنا پڑے خواہ ریاست اسلامی ہو یا غیر کی، قطعا حرام اور اس کی اجرت بھی قطعاحرام، یونہی ہر معصیت کی اجرت حرام ہے
کل ذٰلک ثابت بالقراٰن العظیم والحدیث، والفقہ، ومعروف معلوم عند اہل العلم وکل من رزق صحبتہم
یہ سب قرآن وحدیث اور فقہ سے ثابت ہے اوراہل علم اور ان کی مجلس میں رہنے والے حضرات کے ہاں معرو ف ہے (ت)

اور بے ضرورت سوددینا بھی اگرچہ حرام ہے
کما فصلناہ فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ت) مگر وہ روپیہ کہ اس نے قرض لیا، اس سے تجارت میں جوکچھ حاصل ہوحلال ہے۔
فان الخبث فیما اعطی لافیما اخذ وھذا ظاہر جدا۔
کیونکہ خبث دئے ہوئے مال میں ہے جو نفع میں لیا اس میں نہیں ہے اور نہایت ظاہر ہے۔ (ت)

اورحرام مال مثل زرغصب ورشوت وسرقہ واجرت معاصی وغیرہ سے جو چیز خریدی جائے اس کی چند صورتیں ہیں:

ایک مثلا غلا فروش کے سامنے روپیہ ڈال دیا کہ اس کے گیہوں دے دے، اس نے دے دئے یا بزاز کو روپیہ پہلے دے دیا کہ اس کا کپڑا دے دے، یہ گیہوں اورکپڑا حرام ہے۔

دوسرے یہ کہ روپیہ پہلے تو نہ دیا مگرعقد ونقد دونوں اس روپیہ پر جمع کئے، یعنی خاص اس حرام روپیہ کی تعیین سے اس کے عوض خریدا، اوریہی روپیہ قیمت میں ادا کیا، مثلا غلا فروش کو یہ حرام روپیہ دکھا کر کہا اس روپیہ کے گیہوں  دے دے، اس نے دے دئے اس نے یہی روپیہ اسے دے دیا، اس صورت میں یہ گیہوں حرام ہے۔

تیسرے یہ کہ نہ روپیہ پہلے سے دیا نہ اس پر عقدونقد جمع کئے، اس کی پھر تین شکلیں ہیں: 

اول یہ کہ اس سے کہا ایک روپیہ کے گیہوں دے دے، کچھ اس روپیہ کی تخصیص نہ کی کہ اس کے بدلے دے، جب اس نے تول دئے اس نے زرثمن میں جو بعوض گندم اس کے ذمہ واجب ہوا تھا، یہ حرام روپیہ دے دیا، اس صورت میں نقد تو زر حرام کا ہوا، مگر عقد کسی خاص روپیہ پر نہ ہوا، 

دوم یہ کہ پہلے اسے حلال روپیہ دکھاکر اس کے بدلے گیہوں لئے، جب اس نے دے دئے اس نے وہ حلال روپیہ اٹھالیا اور قیمت میں زرحرام دے دیا، اس صورت میں عقد زرحلال پر ہوا، اور نقد حرام کا۔

سوم یہ کہ اس کا عکس یعنی پہلے اسے حرام روپیہ دکھا کر کہا، اس کے گیہوں دے، پھر دیتے وقت حلال روپیہ دیا، اس صور ت میں عقد زرحرام پرہوا اور نقد حلال کا۔

بہرحال تینوں صورتوں میں عقد ونقد دونوں زرحرام پر جمع نہ ہوئے نہ پہلے سے زرحرام دے کر چیز خریدی کہ حقیقۃً یہ بھی اجتماع عقد ونقد کی صورت تھی، ان تینوں صورتوں میں بھی بڑا قوی مذہب ہمارے ائمہ کا یہ ہے کہ وہ گیہوں حرام ہوں گے، مگر زمانہ کاحال دیکھ کر ائمہ متاخرین نے امام کرخی رحمہ اللہ تعالٰی کا قول اختیار کیا کہ ان شکلوں میں وہ چیز حرام نہ ہوگی اور اس کا کھانا کھلانا، پہننا پہنانا، تصرف میں لانا جائز ہوگا، ا س آسان فتوے کی بناء پر ان حرام روپیہ والوں کے یہاں کاکھانا یا پان وغیرہ کھانا پینا مسلمانوں کو روا ہے کہ وجہ حرام سے ان لوگوں کو بعینہٖ یہ کھانا نہیں آتا۔ بلکہ روپیہ آتا ہے۔ یہ اس کے عوض اشیاء خرید کر کھانا تیار کراتے ہیں اور خریداری میں عام طریقہ شائعہ کے طورپر عقد ونقد کا اجتماع نہیں ہوتا۔ بلکہ غالب بیع وشراء صورت ثالثہ کی شکل اول پر واقع ہوتی ہیں
کمالایخفی
(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی التتارخانیۃ رجل اکتسب مالامن حرام، ثم اشتری، فہذا علی خمسۃ اوجہ اما ان دفع تلک الدراہم الی البائع اولا ثم اشترٰی منہ بہا، اواشتری قبل الدفع بہا ودفعھا۔ اواشتری قبل الدفع بہا ودفع غیرہا، اواشتری مطلقا ودفع تلک الدراہم، اواشتری بدراہم اخر ودفع تلک الدراہم، قال ابونصر یطیب لہ ولا یجب علیہ ان یتصدق الا فی الوجہ الاول، والیہ ذہب الفقیہ ابواللیث لکن ہذا خلاف ظاہرالروایۃ فانہ نص فی الجامع الصغیر، اذا غصب الفا فاشتری بہا جاریۃ، وباعہا بالفین تصدق بالربح، وقال الکرخی فی الوجہ الاول والثانی لایطیب، وفی الثلاث الاخیرۃ یطیب، وقال ابوبکر لایطیب فی الکل، لکن الفتوٰی الاٰن علی قول الکرخی دفعا للحرج عن الناس اھ، وفی الولوالجیۃ وقال بعضہم لایطیب فی الوجوہ کلہا وہو المختار ، ولکن الفتوٰی الیوم علی قول الکرخی دفعا للحرج لکثرۃ الحرام اھ، و علی ہذا مثی المصنف فی کتاب الغصب تبعا للدروغیرہ ۱؎۔
تاتارخانیہ میں ہے کہ کسی نے حرام مال حاصل کیا، اور پھر اس کو خریداری میں صرف کیا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ یہ حرام دراہم بائع کو دے کر پھر اس کے عوض خریدا، دوم یہ کہ دینے سے قبل خریدا اور عوض میں دے دیا، سوم یہ کہ دینے سے قبل خریدا اور عوض اور مال دیا، چہارم یہ کہ مطلق خریداری کی ادائیگی میں یہ مال دیا، پنجم یہ کہ دوسرے دراہم سے خریدا اور ادائیگی میں یہ دراہم دئے۔ ابونصرنے فرمایا پہلی صورت کے بغیر باقی تمام صورتوں میں خریدا ہوا مال طیب ہے اور صدقہ کرنا بھی واجب نہیں ، اور اسی کو فقیہ ابواللیث نے اختیار کیا ہے۔ لیکن یہ ظاہر روایت کے خلاف ہے کیونکہ جامع الصغیر میں نص ہے کہ اگر کسی نے ہزار غصب کیا ہواور اس کے عوض لونڈی خریدی اور دو ہزار میں فروخت کی تو نفع کو صدقہ کرے، اور امام کرخی نے فرمایا کہ اول اور ثانی صورت میں طیب نہ ہوگا اور آخری تین صورتوں میں طیب ہے، اورا بوبکر نے فرمایا تمام صورتوں میں طیب نہیں ہے لیکن آج کل فتوٰی امام کرخی کے قول پر ہے تاکہ لوگوں سے حرج کا ازالہ ہوسکے اھ، اور ولوالجیہ میں ہے کہ بعض نے فرمایا سب صورتوں میں طیب نہیں وہ مختار ہے لیکن فتوٰی آج کل امام کرخی کے قول پر ہے حرام کی کثرت کی وجہ سے حرج کو ختم کیا جاسکے اھ، اور مصنف نے درمختاروغیرہ کی اتباع کرتے ہوئے اسی کو اپنایا ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع باب المتفرقات    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۱۹)
پھر جن صورتوں میں وہ کھانا ان دونوں مذہب پر حرام ہے یعنی دو صورت پیشیں، ان میں اگر بسم اللہ کہہ کر کھایا برا کیا، مگر کافر ہر گز نہ کہا جائے گا، اس کی حرمت ضروریات دین سے ہونا درکنار اجماعی بھی نہیں۔
فان من العلماء من قال یحل ابدال مالایتعین مطلقا، لعدم تعلق العقد بعینہ بل بالذمۃ، فلایسوی الخبث وھو القیاس، وعلیہ یبتنی علی مافی فتاوی العلامۃ الطوری عن المحیط، اشتری بالدراہم المغصوبۃ طعاماحل التناول۔
علمائے کرام میں سے بعض نے فرمایا کہ غیر متعین طورپر بدلنا حلال ہے کیونکہ عقد حرام متعین پر نہ ہوا بلکہ عقد کا تعلق ذمہ داری سے ہے لہذا خبث دوسرے مال میں سرایت نہ کرے گا یہی قیاس ہے۔ اور اسی پر علامہ طوری کے فتوٰی کی بنا ہے، محیط سے منقول ہے کہ غصب کردہ دراہم کے عوض طعام خریدا تو کھانا حلال ہے۔ (ت)

شرح فقہ اکبرمیں ہے:
فی التتمۃ من قال عند ابتداء شرب الخمر والزنا واکل الحرام ببسم اﷲ کفر وفیہ، انہ ینبغی ان یکون محمولا علی الحرام المحض المتفق علیہ وان یکون عالما بنسبۃ التحریم الیہ، بان تکون حرمتہ مما علم من الدین بالضرورۃ کشرب الخمر ۲؎۔
تتمہ میں ہے کہ جس نے شراب پینے، زنا اور حرام کھانے کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھی تو اس میں اس نے کفر کیا تو اس قول کو خالص متفق علیہ حرام پر محمول کرنا چاہئے اور یہ جانتے ہوئے کہ بسم اللہ سے حرام کی ابتداء کررہا ہے اور وہ حرمت بھی ایسی ہو جس کا علم ضروریات دین میں سے ہو جیسے شراب پینے کی ۔ (ت)
 (۲؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر     فصل فی القراءۃ والصلوٰۃ    مصطفی البابی مصر    ص۱۶۹)
Flag Counter