فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
108 - 120
درمختارمیں ہے:
فان اذن لہما الولی فہما فی شراء وبیع کعبد ماذون فی کل احکامہ ۱؎۔
اور بچہ او رمعتوہ کو بیع وشراء میں ولی کی اجازت ہو تو ماذون غلام کی طرح اس کے تمام احکام ہوں گے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الماذون مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳)
ردالمحتار میں ہے:
فیجوز بیعہ بالغبن الفاحش عندہ خلافا لہما ۲؎۔
تو غبن فاحش کے ساتھ اس کی بیع امام صاحب کے نزدیک جائزہوگی، صاحبین اس کے خلاف ہیں۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الماذون داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۱۰)
عالمگیریہ میں ہے:
المعتوہ الذی یعقل البیع والشراء بمنزلۃ الصبی یصیر ماذونا باذن الاب والوصی والجد دون غیرہم خزانۃ المفتین ولو اذن للمعتوہ ابنہ کان باطلا، وعلی ہذا لواذن لہ اخوہ اوعمہ او واحد من اقربائہ سوی الاب والجد فاذنہ باطل ۳؎ مبسوط (باختصار) واﷲ تعالٰی اعلم۔
معتوہ جو بیع وشراء کی سمجھ رکھتاہے وہ بچے کی طرح ہے باپ دادا اور ان کی اجازت سے ماذون ہوسکے گا غیر کی اجازت نہیں، خزانۃ المفتین اور اگر معتوہ کو بیٹا اجازت دے تو باطل ہوگا، اس بنا پر اگربھائی یا چچا یا کوئی اور قریبی اجازت دے جو باپ دادا کاغیر ہو تو یہ اجازت باطل ہوگی، مبسوط (باختصار) واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الماذون الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۱۲)
مسئلہ ۲۵۳: از پروچڑان موضع کوٹلہ مدھو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خان پور مرسلہ ابوالمنظور محمد غوث بخش صاحب ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ طلاق صبی کے متعلق جو اصول فقہ میں لکھتے ہیں کہ عندالحاجۃ واقع ہوجاتی ہے، حاجت کی کون کون صورتیں ہیں۔ آیا یہ صورت ذیل عندالحاجۃ میں داخل ہوسکتی ہے کہ ایک ناکح بعمر ۱۲ سال ہے اور منکوحہ اس کی بعمر ۲۸ سال ، مگر اعمال اس عورت کے فاحشہ ہیں، حاملہ من الزنا ہوجاتی ہے او ر اسقاط کرادیتی ہے۔ اور ایسا معاملہ اس سے باربار ہواہے اور بوجہ غیر بلوغ ناکح وعدم بیتوتت کے نان ونفقہ سے ازحدتنگ ہے۔ تو ایک گونہ فعل حرام مذکور اس کا باخذ اجرت حرام اضطراری تصور ہوتاہے، برآں التماس ہے کہ بندہ گرداور قاضی علاقہ کاہے۔ ایسی صورتیں واقع ہوتی ہیں بڑی تفصیل وکافی جواب سے ممتاز فرمائیں۔
الجواب: صبی ہر گز اہل طلاق نہیں، نہ اس کے دئے طلاق واقع ہو، نہ اس کی طرف سے اس کا ولی خواہ کوئی طلاق دے سکے اگر دے ہر گز نہ ہوگی، اصول میں کہ ذکر حاجت ہے صرف دو صورتوں میں منحصرہےـ:
اول یہ کہ صبی عاقل کافر کی زوجہ اسلام لائی، حاکم شرع نے صبی پراسلام پیش کیا۔ اس نے انکار کردیا تفریق ہوگی اور یہ مذہب صحیح میں طلاق قرار پائے گی،
دوم یہ کہ صبی آلہ بریدہ تھا، عورت نے دعوٰی کیا قاضی نے تفریق کردی، یہ بھی علی الصحیح طلاق ہے وبس۔
تیسری صورت ایک قول ضعیف پر ہے کہ صبی عاقل معاذاللہ مرتد ہوگیا جو اسے طلاق جانتے ہیں طلاق کہیں گے، اور صحیح یہ کہ ردت سے نکاح فسخ ہوتاہے اگر چہ شوہر ارتداد کرے۔ تو یہ طلاق نہیں، اس مسئلہ کی اعلی تحقیق مع ازالہ جملہ اوہام فتاوٰی فقیر کتاب الطلاق میں ہے۔
اشباہ احکام الصبیان میں ہے:
لایقع طلاقہ ولا عتقہ الاحکام فی مسائل ذکرناہا فی النوع الثانی من الفوائد ۱؎۔
اس کی طلاق وعتاق واقع نہ ہوں گی، مگر چند وہ مسائل جن کو ہم نے فوائد نوع ثانی میں بیان کیا ہے حکما صحت ہوگی۔ (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الصبیان ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۱۴۶)
قواعد میں فرمایا:
الصبی لایقع طلاقہ الااذا اسلمت فعرض علیہ ممیزا فابی وقع الطلاق علی الصحیح وفیما اذا مجبوبا وفرق بینہما فہو طلاق علی الصحیح۔ ۲؎۔
بچے کی طلاق واقع نہ ہوگی مگر جب بیوی مسلمان ہوجائے اور قابل تمیز بچہ ہوتوقاضی اس پر اسلام پیش کرے اور وہ انکار کردے تو صحیح قول کے مطابق اس کی طلاق صحیح ہوجائیگی۔ اور ذکر کٹا ہو اورقاضی تفریق کردے تو صحیح قول کے مطابق وہ طلاق ہوجائے گی۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۵۵۔ ۲۵۴)
ظاہر ہے کہ صورت سوال ان صورتوں میں نہیں، تو اس میں وہی حکم ہے کہ
لایصح طلاقہ
(اس کی طلاق صحیح نہ ہوگی۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۴: بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، وصل علی سیدنا ونبینا واٰلہ وصحبہ وسلم، الی جناب الفاضل العالم مفتی بلد بانس بریلی السید احمد رضا القادری سلمہ اٰمین، سیدنا، ماقولکم دام فضلکم فی رجل کان مرتب سبیل لہ بمکۃ علی یدنا فی کل عام ثلاثین روبیۃ واعطانا فی حیاتہ مدۃ اعوام، ثم توفی الی رحمۃ اﷲ، ولنافی ذمتہ باقی کم سنۃ حق السبیل، ثم اتینا الی وارثہ واطلعناہ علی مابیدنا فاجاب المذکور بانی سأودی عن المیت ماہو محرر بموجب الدفتر وما رضی بربیۃ عشرۃ، وحررفیہ سندا بارسال المبلغ فی وقت معلوم، ثم لم یرسل فاتینا الیہ ثانیا وطلبنا منہ فاجاب ، ان کان شرعا یجب علینا فانا اعطی افتونا ہل یجب علیہ اداء المبلغ الذی علی المیت بموجب اقرار نامۃ سندہ ام لا ولکم الاجر والثواب۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، وصلی اللہ علی سیدنا ونبینا والہ وصحبہ وسلم، بریلی کے فاضل عالم مفتی الشاہ احمد رضا قادری سلمہ آمین کے نام استفتاء، ہمارے آقا آپ کی فضیلت دائم ہو، آپ کا کیاا رشاد ہے ایسے شخص کے متعلق کہ وہ ہماری جگہ میں سالانہ تیس روپے کرایہ پر سبیل لگاتارہا وہ اپنی زندگی میں کچھ سال ہمیں تیس روپے دیتا رہا۔ پھر فوت ہوگیا، رحمۃ اللہ علیہ، جبکہ کئی سال کی رقم ہماراحق اس کے ذمہ باقی ہے۔ پھر ہم اس کے ورثاء کے پاس آئے اور ان کو اطلاع دی کہ ہمارا حق مرحوم کے ذمہ ہے۔ تو اس کے وارث نے جواب دیا کہ مرحوم کے نام رجسٹر میں تحریر شدہ جورقم ہوگی میں ادا کردوں گا۔ اور وہ صرف دس روپے دینے پر راضی ہواور ادائیگی کے لئے یادداشت لکھ دی کہ فلاں وقت یہ مبلغ تمھیں ارسال کردوں گا۔ مگر اس نے ارسال نہ کئے، تو ہم دوبارہ اس کے پاس آئے اور مطالبہ کیا تو اس نے جواب دیا کہ اگر شرعا یہ ادائیگی ہمارے ذمہ ہو تو اداکروں گا۔ لہذا آپ فتوٰی جاری فرمادیں کہ کیا میت کے ذمہ ا س کے اقرار نامہ کی مطابق جو رقم ہے وہ اس کے وارث پر اداکرنا واجب ہے یا نہیں؟ آپ کو اجروثواب ہوگا۔ (ت)
الجواب: نعم یجب علی وارثہ القابض بعدہ علی اموالہ ان یؤدی ماعلیہ قال تعالٰی ''من بعدوصیۃ یوصی بہا اودین ۱؎ '' وان کان قد ابقاہ ہذا جاریا فیجب علیہ ایضااداء ماعلی نفسہ الی الاٰن قال تعالٰی ''یایھاالذین اٰمنوا افوا بالعقود ۲؎'' وہذا اوقع العقد بحسب الشرع و وفی بہ صاحبہ کما ہو المرجو، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہاں میت کا وارث جس نے میت کے مال کو قبضہ میں لیا ہے، اس پر میت کے ذمہ قرض کو اداکرنا واجب ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا وصیت شدہ یاقرضہ کو اداکرنے کے بعد، اوراگر وہ معاہدہ پر تاحال عمل پیرا ہوں اور وارث نے اسے باقی رکھاہے تو وارث پر اپنی طرف سے بھی اس مدت کی یہ ادائیگی واجب ہے اللہ تعالٰی نے فرمایا 'ـ' اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو'' تو اس نے شریعت کی رو سے یہ عقد واقع کیا ہے اور دوسرے فریق کے لئے اپنے ذمہ کو پورا کردے جیسا کہ امید ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)