Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
107 - 120
مسئلہ ۲۴۴ تا ۲۵۱: مسئولہ عبدالوحید محلہ سسرارا باغ الہ آباد بروز سہ شنبہ     ۱۰ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ

(۱) شریعت میں مجنون کی کیا تعریف ہے؟

(۲) مجنون کی ولایت کا حق کن لوگوں کو حاصل ہے؟

(۳) مجنون کا حق شرعی جو اس کے مورث کے مال سے ا س کو پہنچا ہو مجنون کی حالت جنون میں اس کے

حصہ کی ولایت کاحق کن لوگوں کو حاصل ہے؟

(۴) شرعا مجنون وصبی ایک حکم میں ہیں یا علیحدہ علیحدہ؟

(۵) مجنون کی حالت جنون میں اپنی زوجہ کو طلاق دے دے تو طلاق واقع ہوگی یانہیں؟

(۶) ہندہ کے ورثاء زید سے ایسی حالت میں کہ زید مجنون ہے ڈر کر لفظ طلاق کہلوائیں تو طلاق واقع ہوجائیگی یا نہیں؟ اور ایسی حالت میں اس کا کوئی ولی اس موقع پر موجود نہ ہو۔

(۷) مسلوب العقل ہونے کی حیثیت سے صبی اور مجنون کا ایک حکم ہے یاعلیحدہ؟

(۸) صبی کی طلاق حالت صبا میں واقع ہے یانہیں؟ فقط
الجواب الملفوظ

(۱) جس کی عقل زائل ہوگئی ہو بلا وجہ لوگوں کو مارے ، گالیاں دے، شریعت نے اس میں کوئی اپنی اصطلاح جدید مقرر نہیں فرمائی، وہی ہے جسے فارسی میں دیوانہ، اردومیں پاگل کہتے ہیں، واللہ تعالی اعلم۔

(۲) مجنون کی ولایت عصبہ کوہے۔ سب میں مقدم اس کا بیٹا عاقل بالغ، وہ نہ ہو تو باپ، پھر دادا، پھر بھائی، پھر بھتیجا، پھر چچا، پھر چچا کا بیٹا الی آخر العصبات، واللہ تعالٰی اعلم۔

(۳) ولایت مال صرف سات کو ہے۔ بیٹا، پھر اس کا وصی، پھر باپ، پھر اس کا وصی، پھر دادا ، پھر اس کا وصی، یا ان وصیوں کا وصی علی الترتیب، اور ان میں کوئی نہ ہو تو حاکم اسلام، واللہ تعالٰی اعلم۔

(۴) شرعا مجنون وصبی غیر عاقل ایک حکم میں ہیں، اور صبی عاقل کا حکم اس سے جدا ہے۔ وہ خرید وفروخت باجازت ولی کرسکتا ہے اور مجنون نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم،

(۵) مجنون کی طلاق نہیں واقع ہوسکتی۔ واللہ تعالٰی اعلم

(۶) ڈرائیں یا نہیں۔ ولی موجود ہو یانہیں۔ مجنون کے دئے طلاق نہیں ہوسکتی جبکہ اس کا جنون ثابت ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔

(۷) اس کا جواب گزرا کہ صبی لایعقل اورمجنون کا ایک حکم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۸) نہیں واقع ہوگی۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۲:     ۱۲ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک بیعنامہ بنام بکر تصدیق کرادیا، نقل شامل سوال ہے۔ مگر زر ثمن کالین دین نہیں ہوا صرف اقرار ہواہے۔ مگر اس کے بعد ایک دعوٰی تنسیخ دستاویز مذکورکا زید نے کچہری میں کیا، دعوٰی اورجواب دعوٰی بھی شامل سوال ہے۔ تو دریافت طلب یہ ہے کہ کیا جبکہ حواس صحیح نہ ہوں  اس کی بیع مذکور بغبن فاحش ہے۔ا وراس کو ایسی بیع کااختیار ہے یانہیں؟ اگرکرے تو کیاحکم ہے؟
الجواب: جو شخص کم سمجھ ہو، تدبیر ٹھیک نہ ہو، کبھی عاقلوں کی سی باتیں کرے، کبھی مدہوش کی سی، اگر جنون کی حد تک نہ پہنچاہو، لوگوں کو بے سبب مارتا گالیاں دیتا نہ ہو، وہ معتوہ کہلاتا ہے۔ شرعا اس کا حکم سمجھ وال بچے کی مثل ہے، اگر برابر بلکہ دونی قیمت کو بیچے وہ بھی بے اجازت ولی مال نافذ نہیں۔ اگر یہ ولی رد کردے گا باطل ہوجائے گی۔ او رغبن فاحش کے ساتھ جس طرح حسب بیان سائل صورت سوال میں ہے کہ پچاس ہزار کی جائداد بیس ہزار کو بیع کی، ایسی بیع تو باطل محض ہے کہ ولی کی اجازت سے بھی نافذ نہیں ہوسکتی حتی کہ اگر خود معتو ہ بعد صحت اسے جائز کرے تو جائز نہ ہوگی۔
فان الاجازۃ انما تلحق الموقوف وھذا باطل لصدورہ ولا مجیز۔
کیونکہ اجازت تو موقوف کو ملتی ہے۔ جبکہ یہ باطل ہے کیونکہ جب اس کا صدور ہو ا تو کوئی اجازت دینے والا نہ تھا۔ (ت)

درمختار میں ہے:
المعتوہ حکمہ کممیز ۱؎
 (معتوہ کا حکم تمیز رکھنے والے کی طرح ہے۔ ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الحجر        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۹۸)
ردالمحتارمیں ہے:
احسن ماقیل فیہ من کان قلیل الفہم مختلط الکلام فاسد التدبیر الا انہ لایضرب ولایشتم کما یفعل المجنون درر ۲؎۔
معتوہ کی تعریف بہتر قول یہ ہے کہ وہ قلیل الفہم، خلط ملط کلام اور فاسد تدبیر والا ہے صرف یہ کہ وہ ضرب وشتم نہیں کرتا جیسے مجنون کرتاہے۔ درر(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الحجر     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۹۰)
درمختارمیں ہے:
تصرف الصبی والمعتوہ الذی یعقل البیع والشراء ان کان نافعا محضا کالاسلام و الاتہاب صح بلااذن وان ضار اکالطلاق والقرض لا، وان اذن بہ ولیہما  وما تردد من العقود بین نفع وضرر کالبیع والشراء توقف علی الاذن ۱؎ (باختصار)
بچے اور معتوہ جو بیع وشراء کی سمجھ رکھتاہے ان کا وہ تصرف جو محض نافع ہو تو ولی کی اجازت کے بغیر صحیح ہے مثلا اسلام قبول کرنا اور ہبہ قبول کرنا اور وہ تصرف جو نفع وضرر دونوں پہلورکھتا ہو تو ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا جیسے بیع وشراء (باختصار) (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الماذون    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۰۳)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ کالبیع ای لوبضعف القیمۃ ۲؎۔
اس کا قول ''بیع ''یعنی اگر وہ دگنی قیمت پر بھی ہو۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الماذون     داراحیاء الترا ث العربی بیروت    ۵/ ۱۱۰)
جامع الصغارمیں ہے:
لوان الصبی طلق او وہب اوتصدق اوباع بمحاباۃ فاحشۃ اواشتری باکثر من قیمتہ قدر مالا یتغابن الناس فی مثلہ او غیر ذٰلک من العقود فما لو فعلہ ولیہ فی صغرہ لایجوز علیہ فہذہ العقود کلہا باطلۃ لاتتوقف وان اجازہا الصبی بعد البلوغ لاتجوز ۳؎۔
اگر بچے نے طلاق دی یاہبہ کیا یا صدقہ کیا یا سستا فروخت کیا یا زیادہ قیمت پر خریدا جو بازار کی کمی بیشی سے زائد ہو وغیرہ، تو یہ امور بچے کے لئے ولی اس کی نابالغی میں کرے تو جائز نہ ہوں گے، لہذا خود بچے نے کئے توباطل ہوں گے اور ولی کی اجازت پر موقوف نہ رہیں گے اور اگر خودبھی بالغ ہونے کے بعد جائز کرنا چاہے تو جائز نہ ہونگے۔ (ت)
(۳؎ جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین     فی مسائل البیوع اسلامی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۸۵)
ہاں اگر معتوہ یانابالغ کو اس کے ولی مال یعنی باپ نے اور وہ نہ ہو تو باپ کے وصی ،اوروہ نہ ہو تو دادا، اور وہ نہ ہو تو اس کے وصی، اور وہ نہ ہو تو حاکم وقاضی نے تجارت کا اذن دے دیا ہے۔ تو ا س کی بیع جائز ہے اگر چہ غبن فاحش سے ہو۔
Flag Counter