| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مسئلہ ۲۴۱: ۲۶ شعبان ۱۳۳۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مجنون ہوگیا، اور اس کے ورثاء میں اس کی ایک بیوی (ہندہ) اور اس کے چند لڑکی لڑکا اور اس کا ایک برادر حقیقی خورد عمرو موجود ہے۔ زید نے بزمانہ صحت وثبات عقل اپنے مکان مسکونہ کے علاوہ اپنی مملوکہ ایک دوسرے مکان میں عمرو کو بودوباش کی اجازت دے دی تھی، چنانچہ عمرو تخمینا د س سال سے مکان مذکورمیں سکونت پذیر ہے، عمرو کا چونکہ اب یہ ارادہ ظاہر ہواکہ ڈیڑھ دو سال کے بعد بارہ سال گزرنے پر وہ زید کے مکان پر حق موروثیت قائم کرے گا۔ اس واسطے ہندہ عمرو سے کہتی ہے کہ اگرمیری تم کفالت نہ کرو۔ اور مکان کاکرایہ بھی مطلق نہ دو، تو زید کے مکان کا کرایہ نامہ ہی لکھ دو، مگر عمرو اس سے قطعا انکار کرتاہے۔ شرعا اس میں کیا حکم ہے۔ آیا ہندہ کا عمرو سے کرایہ نامہ مکان کے تحریر کردینے کے واسطے کہنا شرعا بجا ہے یانہیں؟ اور عمرو کا کرایہ نامہ لکھنے سے انکار کرنا شرعا رواہے یا نہیں؟ دوسرے یہ کہ ہندہ مذکور کی ایک لڑکی قریب بلوغ ہے اور ہندہ اس کا عقد کرکے اپنا وارث بنانا چاہتی ہے مگر عمرو مذکور اس امر سے سخت مانع ہے تاکہ ہندہ اپنا کسی کو وراث بنا کرمملوکہ مکان سے بے دخل نہ کرادے، لہذا شرعا ایسے شخص کے واسطے کیا حکم ہے؟ اورہندہ کو شرعا کیا کرنا چاہئے؟ بینوا بالدلیل وتوجروا الجزیل۔
الجواب : جبکہ زید اس دوسرے مکان کا بھی مالک تھا اور اس نے عمرو کو احساناً سکونت کے لئے دیا تھا تو زید کے مجنون ہوتے ہی وہ عاریت جاتی رہی، اور عمرو کو کوئی اختیار اس میں مفت سکونت کا نہ رہا لان المجنون لاتصرف لہ ولاعلیہ لاحد ولایۃ التبرع من مالہ (کیونکہ مجنون کا کوئی تصرف معتبر نہیں اور اس کے مال کو تبرع میں دینے کا کسی کو اختیارنہیں ہے۔ ت) عمرو پر لازم ہے کہ وہ مکان کو خالی کردے ورنہ کرایہ نامہ باضابطہ لکھ کر معقول کرایہ جو ایسے مکان کے لئے ہوتا ہے اداکرے۔ ورنہ سخت گنہ گار ہوگا۔ خالی کرایہ نامہ لکھ دینا کافی نہ ہوگا۔ لڑکی کا عقد کسی کفو سے خود کردے، اور وہ نہ مانے تو ا س کی ماں کہیں معقول جگہ کردے، ولی اگرچہ عمرو ہے۔ مگر جب وہ بدنیتی سے انکار کرے تو ماں باختیار خود اس کا نکاح کرسکتی ہے۔ حسب بیان سائل او رکوئی لڑکی کا ولی نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۲: از پیلی بھیت سلخ جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایک شخص نے منجملہ چند ورثاء کے صرف ایک وراث کے نام جائداد بذریعہ بیعنامہ جس کا زرثمن مشتری نے اد انہیں کیا لکھ دی، اس کے چوتھے روز یعنی تحریر بیعنامہ سے بائع فوت ہوگیا بائع کے مرض کی طرف سے غالب گمان اس کے فوت ہونے کا تھا، اور بہت ضعیف گمان اس کے صحت یاب ہونے کا تھا۔ اب اس صورت میں یہ تحریر مرض الموت میں تصور کی جاسکتی ہے۔ اور مرض الموت کتنی مدت تک مانا جاسکتاہے؟
الجواب : ہاں یہ تحریر مرض الموت میں ہوئی جب تک مرض سے خوف ہلاک غالب ہو مرض الموت ہے۔ جب مرض مزمن ہوجائے خوف ہلاک غالب نہ رہے اس وقت وہ مرض الموت نہیں رہتا۔ جب تک اس میں نئی ترقی ہو کر پھر خوف ہلاک کا غلبہ نہ ہوجائے ۔
درمختارمیں ہے:
المختار انہ ماکان الغالب منہ الموت وان لم یکن صاحب فراش ۱؎۔
مختار قول یہ ہے کہ اتنی مدت جس میں موت عادتا واقع ہوتی ہے اگر وہ صاحب فراش نہ ہو۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۰)
ردالمحتارمیں نورالعین سے اس میں محیط سے ہے:
ذکر محمد فی الاصل مسائل تدل علی ان الشرط خوف الہلاک غالبا لاکونہ صاحب فراش ۲؎۔
امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے مبسوط میں فرمایا بہت سے مسائل اس پر دال ہیں کہ غالب طور پر موت واقع ہوسکتی ہو۔ صاحب فراش ہونا شرط نہیں۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق باب طلاق المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۵۲۰)
اسی میں زیلعی سے ہے:
لانہ فی ابتدائہ یخاف منہ الموت ۔ ولہذا یتداوی فیکون مرض الموت، وان صارصاحب فراش بعد التطاول فہو کمرض حادث حتی تعتبر تصر فاتہ من الثلث ۳؎۔
کیونکہ اس کے ابتداء میں ہی موت کا خطرہ ہوتاہے ا س کا علاج بھی ہو تو اس کو مرض موت کہا جائے گا اور لمبی مدت کے بعد وہ صاحب فراش بنے تو نیا مریض قرار پائے گا حتی کہ صاحب فراش ہونے سے قبل کے تصرفات ثلث میں معتبرہوں گے (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۳)
اور مرض الموت میں ایک وارث کے ہاتھ بیع اگرچہ مناسب قیمت کو بھی ہو بے اجازت دیگرورثہ باطل ہے ہاں اگر وہ جائز کردیں تو جائز ہوجائے گی،
درمختارمیں ہے:
وقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی ۴؎۔
مریض کااپنے وارث کو مال فروخت کرنا دوسرے ورثاء کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ (ت)
(۴؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲)
ردالمحتارمیں ہے:
فان مات منہ ولم تجز الورثۃ بطل ، فتح ۵؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر اس مرض میں فوت ہوگیا اور باقی ورثاء نے جائز نہ کیا ہو تو بیع باطل ہوجائے گی، فتح واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۵؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۹)
مسئلہ ۲۴۳: مستفسرہ مولوی عبداللہ صاحب طالب علم بہاری بروز چہارشنبہ ۲شعبان ۱۳۳۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زید نے اور زید کے لڑکے دونوں نے مل کر ایک بقال سے اپنے مکان ذاتی پر روپیہ قرض لیا، بعد چند عرصہ کے اس بقال نے کہ جس کا قرض ہے نالش عدالت میں دائر کردی، اب وہ نیلام ہونے لگا۔ اور اس بقال کی ڈگری ہوگئی، تو زید کے پوتے حقیقی نے کہ جو زید اور زید کے لڑکے سے ہمیشہ علیحدہ رہتا تھا، اپنی بذات خاص سے وہ روپیہ قرضدار کا ادا کردیا، اور نیلام اپنے نام سے چھڑا لیا، اس وقت میں جب یہ قرض ادا کیا گیا تھا اورنیلام چھڑا یا گیا تو زید زندہ تھا اور زید کا لڑکا بھی زندہ تھا، اب زید فوت ہوگیا اور زید کالڑکا حیات ہے مگر مثل پیشتر کے اب بھی اپنے باپ سے علیحدہ ہے۔ اب اس وقت میں زید کا لڑکا یعنی اس نیلام چھڑانے والے کا باپ اپنے اس لڑکے کو اس مکان سے نکالتاہے کہ جس نے قرض ادا کیا تھا اور نیلام چھڑایا تھا اور بوجہ نیلام چھڑانے کے وہ مکان زید کے پوتے کے نام ہے۔ زید کے پوتے کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور زید کے لڑکے نے اپنی دوسری شادی کرلی، زید کے پوتے کو اس والدہ دوسری سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ لہذا زید کا پوتا اپنا روپیہ جو نیلام میں دیا ہے پاسکتاہے یا اس مکان کو پاسکتا ہے ؟ مطابق شرع شریف کے جواب تحریر فرمایا جائے۔ بینو ا توجروا
الجواب : اگر زر ڈگری کم تھا او رنیلام زیادہ کو ہوا، اور قرض دے کر باقی روپیہ مالکان مکان کو دیا گیا، اگرچہ ایک ہی روپیہ یا اس سے بھی کم ہو اور مالکان نے وہ بقیہ لے لیا، تو زید کا پوتا اس مکان کا مالک ہوگیا، زید کا بیٹا اسے نہیں نکال سکتا، اور اگر مالکان مکان نے زر نیلام کچھ نہ پایا تو شریعت میں زید کا پوتا اس مکان کا مالک نہ ہوا۔ نہ وہ شرعا مکان کا مستحق ہے۔ نہ پسر زید سے زرنیلام کا دعوٰی کرسکتاہے مکان پسر زید و وارثان زید کا ہے۔ زید کا پوتا اپنے روپے کا مطالبہ عندالشرع اس بنئے سے کرسکتاہے ۔ اور ظاہر ہے کہ دنیامیں اس سے نہیں لے سکتا، لہذا صبر کرے اس نے خود اپنا مال ضائع کیا ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔