Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
105 - 120
مسئلہ ۲۳۸: از گلشن آباد عرف جاورہ ملک مالوہ محلہ نظر باغ متصل مکان عالمگیرخان مرسلہ سید ذوالفقار احمد صاحب ۲۳ شوال ۱۳۲۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ فوت ہوئی، اس کا ایک لڑکا نو سال کاا ورایک زوج ، اور ایک پدر، اور دو برادر وارث رہے ،عرصہ ہوا کہ مسماۃ ہندہ کا پدر فوت ہوگیا، اب ان وارثوں میں پسر کے رکھنے اور تعلیم کرانے کا اس وقت کون مستحق ہے۔ اور جو ترکہ ہندہ کا زیور وغیرہ رہا ہے اس میں تصرف کاواسطے تربیت پسر متوفیہ کے کون مستحق ہے، اور کس کے پاس رہے گا بینوا توجروا

مرشد دین، ہادی راہ متین جناب مولانا محمد احمد رضاخاں صاحب دام فیضکم، بعد تسلیم بصد تعظیم و

تکریم عرض پر داز خدمت سامی ہے۔ استفتاء ارسال خدمت سامی ہے۔ یہاں کے بعض علماء ایسا فرماتے ہیں کہ زوج ہندہ کل ترکہ ہندہ کا مالک نہیں ہوسکتا، نہ اس میں تصرف واسطے تعلیم وتربیت پسرکرسکتاہے۔ صرف اپنے حصہ چہارم وحصہ پسر ہندہ میں اس کوحق تصرف کا ہے۔ ترکہ ہندہ سے چہارم اس کے پدر متوفی کا ہے وچہارم ہندہ کے برادران کو ملنا چاہئے، اندریں باب جیساحکم شرع ہو اس سے نیاز مند کو آگاہی بخشیں۔ فقط۔
الجواب : لڑکا جبکہ سات سال سے زیادہ علم کا ہے اپنے باپ کے پاس رہے گا، اور متروکہ ہندہ سے جو حصہ پسر کوملا یعنی بارہ سہام سے سات سہم، اس میں تصرف شرعی کا اختیار بھی پسرکے باپ ہی کوہوگا۔ مامووں کو کوئی تعلق نہیں ، جس طرح چھٹا حصہ کہ ترکہ ہندہ سے پدر ہندہ کو پہنچا وہ وارثان پدر ہندہ کا ہے۔ اس سے شوہر کو کچھ علاقہ نہیں۔
فی الشامیۃ عن الفتح یجبر الاب علی اخذ الولد بعد استغنائہ عن الام، لان نفقتہ وصیانتہ علیہ بالاجماع اھ ۱؎ ، وفی الدرالمختار ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ، ثم القاضی اووصیہ، دون الام اووصیہا، ھذا فی المال ۲؎ اھ مختصرا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
فتاوٰی شامی میں فتح سے ہے جب بچہ ماں کی پرورش سے مستغنی ہوجائے تو باپ کو بیٹا واپس لینے پرمجبور کیا جائے گا کیونکہ بچے کا خرچہ اور تربیت والد کے ذمہ بالاجماع ہے اھ، اور درمختارمیں ہے بچے کا ولی اس کا باپ پھر اس کا وصی، پھر دادا پھر اس کا وصی، پھر قاضی یا اس کا وصی ہے۔ ماں یا اس کا وصی ولی نہیں ہے۔ یہ ترتیب مالی ولایت میں ہے اھ مختصرا۔ واللہ سبحنہ و تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطلاق باب الحضانۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۶۴۰)

(۲؎ درمختار    کتاب الماذون         مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۲۰۳)
مسئلہ ۲۳۹: از لشکر گوالیار نیابازار مکان حکیم شریف حسین خان مرسلہ علی حسین خاں ۴ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ

تسلیمات نیازمندی معروض خدمت، عرض حال یہ ہے کہ یہاں بکچہری صاحب جج یک مقدمہ سرپرستی دائر ہے اس کی کیفیت خلاصہ تحریر کرتاہوں : میرے دادا حکیم ولایت علی خاں مرحوم نے تین شادیاں کریں، اول زوجہ سے دوپسر اورایک دختر تولدہوئے، اول بی بی کی اولاد سے جو کہ دو پسر تھے ان میں سے ایک پسرکلاں لاولد فوت ہوا۔ دوسرا پسر خورد بعارضہ جسمانی ہاتھ پاؤں سے معذور ہنوز بحیات موجود ہے۔ دوسری بی بی کی اولاد سے والد حکیم شریف حسین خاں مرحوم، تیسری بی بی کی اولاد سے ایک پسر مفلوج الاعضا مخبوط الحواس ہنوز موجود ہے۔ داد ا صاحب نے قبل از وفات ایک درخواست عرضی بایں مضمون سرکار میں پیش کی کہ بعد وفات میری تنخواہ (ساللعہ ۳۴۰) وجاگیر جو سرکار سے مقررہے بجائے  اس میرے نام شریف حسین خاں معہ تنخواہ وجاگیر کے مقرر فرمایا جائے، بعداز چندے دادا صاحب کا انتقال ہوگیا، ایک عرصہ بعد ۲۷ نومبر ۱۸۹۴ء کو تقرری اسم والد سرکار مقرر فرمایا گیا۔ بعد تقرری اس میں والدم  تنخواہ خود سے بطورپرورش برادر خورد مفلوج مخبوط الحواس کو (عہ عہ) ۱۲ روپے ماہوار، اور والدہ مخبوط الحواس کو (عہ ۱۲) جملہ( عہ ۳۲؎) روپیہ ماہوار تادم مرگ دئے گئے، اورمکان سکونتی دادا صاحب میں مقیم رکھا، اثنائے حال میں والدم حکیم شریف حسین خاں کا بتاریخ ۱۳ محرم ۱۳۱۵ھ مطابق ماہ جون تاریخ ۱۵ ۱۸۹۷ء کو انتقال ہوگیا، اور ۱۷ جون ۱۸۹۷ء کو والدہ مخبوط الحواس بھی بعارضہ ہیضہ علیل ہوئیں۔ اس وقت مکان سکونتی سے والدہ مخبوط الحواس یعنی میری دادی صاحبہ کو دونوں برادرحقیقی مولوی عبدالغفار وعبدالستار آکر اپنے مکان پرلے گئے ، ۲۲ جون ۱۸۹۷ء کو بخانہ برادران مذکور میری دادی صاحبہ فوت ہوگئیں، بعد فوت ہوجانے میری دادی صاحبہ کے ہر دو برداران دادی صاحبہ نے مکان سکونتی ودکانات پر آکر میرے قفل لگائے ہوئے توڑ کر اپنے قفل ازراہ مداخلت بیجا کے لگادئے، جب میں نے فوجداری میں استغاثہ کیا تومولوی عبدالغفار ملزمان نے اپنی سرپرستی بہ نسبت اس مخبوط الحواس یعنی ہمشیرہ زادہ خود ظاہر کیا چنانچہ یہ مقدمہ درجہ بدرجہ کچہری صاحب جج تک پہنچ گیا ہے صاحب جج نے فتوٰی شرع شریف بہ نسبت سرپرستی ملزمان مذکور طلب کیا ہے۔ لہذا خدمت عالی میں عرض کرکے طلبگارفتوٰی کا ہوں۔

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حق پرستی مخبوط الحواس کی میری جائداد یا بمقابلہ  میرے ہر دوماموں مخبوط الحواس کی سرپرستی درست ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:  مخبوط ناعاقل یا صغیر نابالغ کی سرپرستی دوامر میں ہے، ایک نکاح، دوسرے مال، اس مخبوط کی ولایت نکاح تو اس کے بھائی کو ہے جوحکیم ولایت علی خاں کی زوجہ اولی سے ہے اوراس کا ہاتھ پاؤں سے معذور ہونا مانع ولایت نہیں بشرطیکہ عاقل بالغ ہو، ورنہ سائل کہ اس مخبوط کا بھتیجا ہے اس کا ولی ہے اس کے ہوتے ماموں کوئی چیز نہیں۔ 

درمختارمیں ہے:
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب بشرط حریۃ وتکلیف ، فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام، ثم الاخت، ثم ولد الام، ثم ذوی الارحام العمات، ثم الاخوال ۱؎ الخ، باختصار۔
نکاح میں ولی،عصبہ بنفسہ وراثت اور وراثت سے مانع بننے (حجب) کی ترتیب پر بشرطیکہ وہ آزاد اورمکلف ہوں اور اگر عصبات نہ ہوں تو ماں کو ولایت ہوگی پھر بہن پھر ماں کی اولاد پھر ذوالارحام پھر پھوپھیوں کو، پھر ماموں کو الخ، باختصار۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الولی         مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۹۳)
اور ولایت مال صرف اس شخص کو ہے جسے حکیم ولایت علی خاں اپنے بعد اپنی اولاد و جائداد کی غور پرداخت سپرد کرگئے اپناو صی بناگئے ہوں وہ نہ رہا ہو تو وہ شخص جسے وصی مذکور اسی طرح اپنا وصی کر گیا ہو۔ وہ بھی نہ ہو تو وہ جسے مخبوط کے دادا نے اپنا وصی کیا ہو۔ وہ بھی نہ ہو تو وہ جسے دادا کا وصی اپنا وصی کرگیا۔ ان کے سوا کسی کو اس مخبوط کی ولایت مال نہیں پہنچتی، 

درمختارمیں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ بعد موتہ، ثم وصی وصیہ، ثم بعد ہم جدہ الصحیح ، وان علا ثم وصیہ، ثم وصی وصیہ، ثم القاضی اووصیہ ہذا فی المال بخلاف النکاح، کما مرفی بابہ ۲؎۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اس کا ولی باپ، اس کی موت کے بعد اس کا وصی، پھر وصی کا وصی، پھر ان کے بعد حقیقی دادا اوپر تک، پھر اس کا وصی، پھر اس کے وصی کا وصی، پھر قاضی یا اس کا وصی، یہ مالی ولایت ہے اور نکاح کی ولایت اس کے خلاف ہے۔ جیسا کہ نکاح کے باپ میں گزرا، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتا ب الماذون مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳)
مسئلہ ۲۴۰: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ قاضی محمد عبدالوحید صاحب     ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغوں کے لئے حد بلوغ کیا ہے؟ مرد ہوں یا عورت۔
الجواب : لڑکا بارہ سال اورلڑکی نوبرس سے کم عمرتک ہرگز بالغ وبالغہ نہ ہوں گے۔ اور لڑکا لڑکی دونوں پندرہ برس کامل کی عمرمیں ضرور شرعا بالغ وبالغہ ہیں، اگر چہ آثار بلوغ کچھ ظاہر نہ ہوں، ان عمروں کے اندر اگر آثار پائے جائیں، یعنی خواہ لڑکے خواہ لڑکی (عہ۱) سوتے خواہ جاگتے میں انزال ہو یالڑکی کو حیض آئے یا جماع سے لڑکا حاملہ کردے یا لڑکی کو حمل رہ جائے تو یقینا بالغ وبالغہ ہیں، اور اگر آثار نہ ہوں مگر وہ خود کہیں کہ ہم بالغ وبالغہ ہیں، اور ظاہر حال ان کے قول کی تکذیب نہ کرتاہو تو بھی بالغ وبالغہ سمجھے جائیں گے اور تمام احکام بلوغ کے نفاذ پائیں گے، اور اگر داڑھی(عہ۲) مونچھ نکلنا یا لڑکی کے پستان میں ابھار پیدا ہونا کچھ معتبر نہیں۔
عہ۱:  لفظ لڑکی کے بعد ''کو'' ہونا چاہئے۔    عہ۲:  یہاں ''اگر'' زلہ قلم ناسخ سے ہے۔ عبدالمنان الاعظمی
درمختارمیں ہے:
بلوغ الغلام بالاحتلام والاحمال والانزال والجاریۃ بالاحتمال والحیض والحبل۔ فان لم یوجد فیہماحتی یتم لکل منہما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ۔ ولہا تسع سنین ۱؎۔
لڑکے کے بلوغ احتلام یابیوی کو حاملہ کرنا یا انزال سے معلوم ہوگا اور لڑکی کا بلوغ حاملہ ہونے حیض اور احتلام سے ظاہر ہوگا۔ اگر دونوں میں کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو مفتی بہ قول کے مطابق دونوں کی عمر پندرہ سال ہوجانے پر،اورکم از کم مدت بلوغ لڑکے میں بارہ سال اور لڑکی کی نو سال عمر ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الحجر        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۹۹)
اسی میں ہے:
فان راہقا فقالا بلغنا صدقا، ان لم یکذبہا الظاہر، فیشترط لصحۃ اقرارہ ان یکون یحتلم مثلہ والا لا یقبل قولہ شرح وہبانیۃ، وھما حینئذ کبالغ حکما فلا یقبل جحودہ البلوغ بعد اقرارہ مع احتمال حالہ ۱؎ اھ باختصار۔
دونوں مراہق تھے تو انھوں نے کہہ دیا کہ ہم بالغ ہیں تو تسلیم کیا جائے گاکہ بشرطیکہ ان کا ظاہر حال ان کو جھوٹا نہ بنائیے تو اس کے اقرار کی صحت کے لئے اس جیسوں کا بالغ ہونا ممکن ہو ورنہ اس کی بات قبول نہ ہوگی وہبانیہ، تو اقرار کے بعد وہ بالغ کے حکم میں ہوں گے لہذا اب ان کا انکار قابل قبول نہ ہوگا۔ بشرطیکہ حال موافق ہو اھ مختصرا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار        کتاب الحجر     مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۱۹۹)
عالمگیریہ میں ہے:
ولایحکم بالبلوغ ان ادعی وھو مادون اثنتا عشرۃ سنۃ فی الغلام وتسع سنین فی الجاریۃ کذا فی المعدن ۲؎۔
بلوغ کاحکم لڑکے میں بارہ سال سے کم اور لڑکی میں نوسال سے کم پردیا جائے ۔ معدن میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الحجر الفصل الثانی        نورانی کتب خانہ پشاور        ۵/ ۶۱)
ردالمحتارمیں ہے:
لااعتبار لنبات العانۃ ولااللحی، واما نہود الثدی ففی الحموی انہ لایحکم بہ فی ظاہر الروایۃ، وکذا ثقل الصوت کما فی شرح النظم الہاملی، ابوالسعود، وکذ اشعر الساق والابط والشارب ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم.
زیر ناف بالوں اور داڑھی کا اعتبار نہیں ہے۔ اور لڑکی کے پستانوں کا ابھرنا، توحموی میں کہا ظاہر روایت میں بلوغ کاحکم نہ ہوگا ، اور یوں ہی آواز بھاری ہونا بھی معتبر نہیں، جیساکہ ہاملی کی نظم کی شرح میں ہے، ابوالسعود، اور یونہی پنڈلی، بغل او رمونچھوں کے بال بھی معتبرنہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار       کتاب الحجر     فصل فی بلوغ الغلام      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۹۷)
Flag Counter