Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
104 - 120
مسئلہ ۲۳۶: ۲۶ ربیع الآخر ۱۳۰۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ احمد حسن نے انتقال کیا، ایک لڑکا وزارت حسن نابالغ اورایک زوجہ اور ایک دختر اورایک برادر خالہ زاد اور ایک حقیقی ماموں زاد بھائی چھوڑا تو اس صورت میں شرعا لڑکے نابالغ اورنیز جائداد غیر منقولہ کا کون ولی مقرر ہوسکتاہے۔ بینوا توجروا
الجواب : صورت مستفسرہ میں جب کوئی عصبہ نہیں تو صرف ولایت نکاح ماں کو ہے۔ نابالغ پر ولایت مال اور جائداد پر اختیار ،ماں بہن خواہ ان رشتہ کے چچاؤں کسی کونہیں۔ جب تک مورث نے ان میں کسی کو وصی نہ کیا ہو کہ باپ کے بعد ولایت مال اس کے وصی کو ہے۔ یعنی جسے اس نے وصیت کی ہو کہ تومیرے بعد میری جائداد یا  اولاد کی غور پر داخت کرنا، وہ نہ ہو تو اس کا وصی ، وہ نہ ہو تو دادا، وہ نہ ہو تو اس کا وصی، وہ نہ ہو تو اس کے وصی کا وصی، وہ نہ ہو تو پر دادا، وہ نہ ہو تو اس کا وصی، پھر وصی الوصی، وعلی ہذالقیاس، پھر ان میں کوئی نہ ہو تو حاکم اسلام یا اس کا وصی ، ان کے سوا کوئی ولی مال نہیں۔
فی الدرالمختار ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ، ثم جدہ الصحیح وان علا، ثم وصیہ ثم وصی وصیہ، ثم القاضی او وصیہ ایہما تصرف صح دون الام اووصیہا، ہذا فی المال بخلاف النکاح ۱؎ اھ ملخصا واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے۔، اس کا ولی ترتیب وار، باپ پھر وصی پھر وصی کاوصی، پھر حقیقی دادا اوپر تک ، پھر اس کا وصی پھر اسکے وصی کا وصی، پھر قاضی یا اس کا وصی دونوں میں کوئی بھی تصرف کرے، صحیح ہوگا، ماں یا اس کا وصی ولی نہیں ہیں، یہ مال کے معاملہ میں ہے بخلاف نکاح کے اھ ملخصا واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الماذون    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۰۳)
مسئلہ ۲۳۷: (نوٹ) اصل میں سوال نہیں ہے، لیکن جواب سے یہ مفہوم ہوتاہے کہ کسی فاترالعقل کے تصرفات نکاح وعقد بیع سے متعلق تھا جس کو بعد میں ایسے ولی نے جائز کردیا تھا ، جو باپ اور دادا کے علاوہ تھا۔ (عبدالمنان)
الجواب: اللہم ہدایۃ الحق والصواب۔ مدارصحت ونفاذ تصرفات وترتیب احکام میں تو یہ عقل ہے، یہ جو محض بے عقل ہے اس کے تصرفات رأسا باطل ، کہ اجازت اولیاء کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے، اور جو نفع وضررمیں قدرے تمیز حاصل، اور عقل سے کچھ بہرہ ہے، مثلا بیع وشراء کو سالب وجالب ملک اورغبن قلیل وکثیر میں تفرقہ اور مقصود تجارت حصول منفعت جانتاہے یا مسلوب الحواسی اس کی دائمی نہیں، نہ ہوش میں آنے کاوقت معین، گاہے عقل سے بیگانہ گاہے بالکل ہوشیار وفرزانہ، تو اس صورت میں امثال نکاح وبیع وشراء وغیرہا تصرف اس کے نفع وضرر دونوں کو محتمل، اس ولی کی اجازت پر موقوف رہیں گے، جسے ان تصرفات کا اس کے نفس ومال میں خود اختیار حاصل ہو، اگرولی نہیں یا ولی کو ایسے تصرفات کی خود پروانگی نہیں، یاہے مگر وہ جائز نہ رکھے، تو یہ باطل ہوجائیں گے۔
وفی حاشیۃ الدرالمختار للعلامۃ احمد الطحطاوی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ، واما ذاہب العقل اصلا فان تصرفہ لاتلحقہ الاجازۃ ۱؎ اھ وفی الدر (ومن عقد) عقد یدور بین نفع وضرر کما سیجی فی الماذون (منہم) من ھؤلاء المحجورین (ویعقلہ) یعرف ان البیع سالب للملک والشراء جالب (اجازولیہ او رد) وان لم یعقلہ فباطل نہایۃ ۲؎ اھ
علامہ سید احمدطحطاوی رحمہ اللہ تعالٰی کے حاشیہ درمختارمیں ہے لیکن وہ جس کی عقل بالکل زائل ہوگئی ہو تو اس کے کسی تصرف کو اجازت نہیں مل سکتی اھ اوردرمختارمیں ہے ان محجور لوگوں میں سے اگر کوئی ایسا تصرف جسمیں اس کے لئے نفع ونقصان کے دونوں پہلو ہوں جیساکہ عنقریب ان میں سے ماذون حضرات کے لئے بیان ہوگا وہ عقد بیع میں یہ جانتا ہے کہ اس سے اس کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے اورشراء میں ملکیت حاصل ہوتی ہے ایسے میں اس کے ولی کو اختیار ہے کہ عقد کو جائز کرے یا رد کردے، اور اگر وہ یہ نہیں سمجھتا تو عقد باطل ہوگا اھ
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار         کتاب الحجر        دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۸۲)

(۲؎ درمختار                 کتاب الحجر      مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۹۸)
فی الطحطاویۃ قولہ یعرف ان البیع سالب الخ ویعرف الغبن الیسیر من الفاحش، ویقصد تحصیل الربع والزیادۃ اھ زیلعی، قولہ اجاز ولیہ جعل فی الدرایہ الولی شاملا للعصبات وخصہ ابن فرشتہ فی شرح المجمع بالقاضی ومن لہ ولایۃ التجارۃ فی مال الصغیر کالاب والجد الوصی، فلایجوز باذن الاخ والعم والام واجاب المقدسی یحمل ہذا التعمیم علی مال الولی فعلہ کالنکاح فتصح اجازتہ من الاخ والعم حموی ۱؎ اھ۔
اور طحطاوی میں ہے کہ ماتن کا قول کہ بیع سے ملکیت کا زوال ہوناجانتاہے الخ۔ اور یہ بھی جانتاہوکہ تھوڑا غبن اور زیادہ کیا ہوتاہے۔ اور نفع اور مال کو زائد  بنانے کا ارادہ بھی رکھتاہو اھ زیلعی، ماتن کا قول کہ ''ولی اجازت دے'' درایہ میں ولی میں عصبات بھی شامل کئے ہیں اور ابن فرشتہ نے مجمع کی شرح میں صرف قاضی کو ولی قرار دیا اورساتھ ہی اس کو جو نابالغ کے مال میں تجارت کا ولی بنتاہے جیسے باپ ، دادا، اور وصی، تو بھائی ، چچا اور ماں کی اجازت صحیح نہ ہوگی، اور مقدسی نے اس کے جواب میں ولایت کو عام کرکے ولی کے اختیار ی فعل مثلا نکاح کو شامل کیا تو بھائی اور چچا کی اجازت صحیح ہوگی۔ حموی اھ (ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الحجر        دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۸۲)
ہاں اگر اس کے افاقہ کا کوئی وقت معین ہو کہ اس وقت خاص بالکل ہوش میں آجانے کا عادی ہے، تو اس حالت افاقہ میں جو تصرف اس سے صادرہوگا وہ اس میں مثل سائر عقلاء کے ہے
کما ذکر ہ الزیلعی وفسرہ الشلبی نقلہ الطحطاوی
 (جیسا کہ زیلعی نے اسے ذکر کیا اور شلبی نے تفصیل کے ساتھ اسے بیان کیا طحطاوی نے اسے نقل کیا۔ ت) لیکن یہ صورت یہاں معدوم ،کہ سائل کہتاہے مسلوب الحواسی اس کی دائمی تھی جس سے کبھی افاقہ نہ ہوتا۔ اور اس کے اظہار سے یہ بھی ثابت ہے کہ یہ مہر جو زن مذکورہ کا باندھا گیا اس کے مہر مثل سے کہیں زائد ہے پس صورت مستفسرہ میں یہ نکاح وبیع بہرتقدیر راسا باطل محض ہیں جن کی صحت ونفاذ کی کوئی سبیل نہیں، خواہ زید بالکل ذاہب العقل ہو اور کسی طرح کی تمیز نہ رکھتاہو، جیسا کہ تقریر سوال سے بھی ظاہر ہوتاہے یا محجوروں کی دوسری قسم میں داخل ہو جن کے تصرفات کذائیہ اجازت اولیاء پر موقوف رہتے ہیں۔تقدیر اول پر بطلان نہایت واضح کہ لایعقل محض کے تصرفات کواجازت اولیاء بھی کام نہیں آتی، کماذکرنا، اوردوسری شق پر جب تقرر مہر میں غبن فاحش ہو، اور مہر مثل سے بہت زیادہ بندھا تو ایسا نکاح خود اب وجد کے سوا اور اولیاء کے ہاتھ کا کیا ہوا اصلا صحیح نہیں ہوتا۔ پھرا نھیں اجازت کا کیا اختیار ہوگا اور قاعدہ مقررہ فقہیہ ہے کہ: کل تصرف صدر ومالہ مجیز حالۃ العقد لاینعقد اصلا۔ ایسا تصرف جس کے انعقاد کے وقت اس کو جائز کرنے والا نہ ہو تو وہ عقد منعقد نہ ہوگا۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
وان کان المزوج غیر ہما ای غیر الاب وابیہ ولو الام اوالقاضی لایصح النکاح من غیر کفوءٍ اوبغبن فاحش اصلا ۱؎ اھ ملخصا۔
اگرنکاح کرکے دینے والا باپ اور دادا کا غیر خواہ ماں یا قاضی ہو تو غیر کفومیں نکاح صحیح نہ ہوگا ، یا بہت زیادہ گراں مہر پر ہو تو بھی اصلا جائز نہ ہوگا اھ ملخصا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب النکاح باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۹۲)
اسی طرح بیع کہ جب قیمت میں کمی فاحش ہوگی ، اجازت ولی سے بھی اصلاح ناممکن ، تویہ وہی تصرف ہوا جس کا حال صدور کوئی مجیزنہیں، اور ایسا تصرف باطل ہوتاہے۔
فی ردالمحتار علی الدرالمختار للعلامۃ السید ابن عابدین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ قولہ اجازو لیہ ای ان لم یکن فیہ غبن فاحش فان کان لایصح وان اجازہ الولی بخلاف الیسیر جوہرۃ ۲؎۔ (عہ)
درمختارکے حاشیہ ردالمحتار علامہ ابن عابدین میں ہے، ماتن کا قول کہ''ولی جائز کردے'' یعنی جب غبن فاحش مہر میں نہ ہو اور غبن فاحش ہو تو ولی کے جائز کرنے پربھی جائز نہ ہوگا بخلاف غبن یسیر کے۔ جوہرہ (ت)
عہ: لیس فی ہذا لجواب علامۃ الاختتام وظنی انہ کامل۔ (عبدالمنان الاعظمی)
اس جواب کے اختتام پر علامت نہیں ہے تاہم میرے گمان میں یہ تام ہے۔ (ت) (عبدالمنان الاعظمی)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الحجر        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۹۱)
Flag Counter