فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
103 - 120
مسئلہ ۲۳۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اختلال عقل کا شرعا موجب منع نفاذ تصرف کا ہوتا ہے اس کے کیا معنی ہیں اور کیا کیا باتیں اس کے واسطے درکار ہیں، اور اگر کوئی چار سال سے زیادہ مرض فالج میں مبتلا ہے، ابتداء میں مرض شائد کہ دست وپا وزبان سب پر آفت ہو، پھر تھوڑے عرصہ بعد ہاتھ پاؤں بخوبی تمام کھل جائیں، اورزبان بھی اتنی صاف ہو جائے کہ ادائے مطلب میں عاجز نہو اگرچہ تکلم میں قدرے تکلف رہے۔ یہاں تک کہ ایسی حالت میں حج کرے، اوروہاں طواف وسعی صفاومروہ ووقوف وعمرہ وزیارت مدینہ طیبہ وحاضری مشاہدہ متبرکہ میں اپنے پاؤں سے مثل اصحانہایت سرگرم رہے۔ا ورا س کے اور افعال بھی مثل عقلاء کے ہوں، دیہات کی تحصیل وتشخیص کرے، بات سنے سمجھے جواب دینے میں فرق نہ ہو۔ اور بالفرض اس زمانہ ممتدمیں دو تین باتیں اس سے ایسی بھی صادر ہوجائیں جو غفلت وبیخودی پر دلالت کریں، تو آیا انھیں باتوں پر مدار کا ر رکھ کر اسے مجنون یا معتوہ ٹھہرادیں گے، یا شاذونادر کااعتبار کریں گے، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ باربار بتکرار اکثر افعال وحرکات اس سے اس قسم کے ہوتے اور ہوش کی باتیں کم کرتا۔ بینوا توجروا
الجواب: مسلوب الحواسی کی اعلی قسم تو جنون ہے والعیاذباللہ منہ، اورادنٰی قسم عتہ، جس کے صاحب کو معتوہ کہتے ہیں۔ اس میں بھی اسی قدر ضرورت ہے کہ تدبیریں اس کی ٹھیک نہ رہیں ، سمجھ اس کی درست نہ ہو، باتوں کاکوئی ٹھکانہ نہ رہے۔ ابھی بیٹھاہے خوب ہوش وحواس کی باتیں کررہاہے، ابھی خرافات وہذیانات بکنے لگا ، سودائیوں کی طرح مہمل وبے معنی بہکنے لگا یہاں تک کہ شریعت مطہرہ اس کے اوپر سے اپنی تکلیفیں اٹھالیتی ہے اور نماز وروزہ تک اس کے اوپر فرض نہیں رہتا۔
۲؎۔ فتاوی خیریہ میں ہے، عتہ__ قلت فہم، کلام کا اختلاط اور فساد تدبیر ہے۔ اور یہ عقل میں خلل کی وجہ سے ہوتاہے تو کبھی اس کا کلام عقلاء کے کلام اورکبھی مجانین کے کلام کے مشابہ ہوتاہے۔ اور ردالمحتارمیں ہے کہ معتوہ کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے تصرفات اور غیر مکلف ہونے میں نابالغ عاقل جیسا ہوتاہے ۔ زیلعی۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۰)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۹۰)
اب چاہے زوال عقل اپنی اعلی درجہ کی حد کو پہنچ جائے، یعنی مثلا اتنی بات کی بھی خبر نہ رہے کہ چیز بیچتے ہیں تو اپنی ملک سے نکل جاتی ہے خریدتے ہیں تو اپنے پاس آجاتی ہے، خریدو فروخت میں نفع کاارادہ چاہے۔ خواہ اس حد کونہ پہنچا ہو، اور ان باتوں کی ہنوز گونہ تمیز باقی ہو، مگر وہ امور جو ہم نے اوپر ذکر کئے اس میں پائے جانے ضرور ہوں کہ وہ تو معتوہ کی نفس تفسیر میں واقع ہیں، پھر جب تک اس کیفیت کا ثبوت نہ ہو، ہرگز مسلوب الحواسی شرعا ثابت نہیں ہوسکتی نہ یہاں شاذونادر کا اعتبار کریں، بلکہ اکثر افعال وحرکات فساد عقل واختلال ہوش کے ہونے چاہئیں۔
ردالمحتار میں ہے ہماری بات کی بعض کے اس قول سے تائید ہوتی ہے کہ عاقل وہ ہے جس کی کلام اور افعال درست ہوتے ہیں ماسوائے نادر موقع کے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۷)
دیکھو تصریح کرتے ہیں کہ اگر نادرا بعض کلمات وحرکات قانون عقل سے خارج بھی صادر ہوں، تو عاقل ہی کہا جائے گا۔ آگے چل کر فرماتے ہیں:
فالذی ینبغی التعویل علیہ فی المدہوش ونحوہ اناطۃ الحکم بغلبۃ الخلل فی اقوالہ وافعالہ الخارجۃ عن عادتہ ۱؎ الخ۔
قابل اعتماد بات یہ ہے کہ مدہوش اور اس جیسوں کاحکم اس کے اقوال وافعال میں خلل کا غلبہ اور عادت سے خارج ہونے پر لگے لگا۔ الخ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۷)
ہر عاقل جانتاہے کہ بعض اوقات کسی خیال کے استغراق یا تکلیف کی شدت یا فرحت کی کثرت یا اور کسی صورت سے وہ بات بیخودی کی اس سے صادرہوجاتی ہے کہ جب خیال کرتاہے تو خود ہی اسے تعجب ہوتاہے، پھر کیا ا سے یہ لازم آسکتاہے کہ اسے مسلوب الحواس ٹھہرادیں، اور اس کے تصرفات کا نفاذ نہ مانیں، اور یہاں طول عہد مرض ایک قرینہ قویہ بھی ہے کہ اس کی پریشانی میں اگر نادرا کسی ایسے فعل کا وقوع ہوجائے تو کچھ جائے تعجب نہیں۔
فی ردالمحتار عن ہشام ابن کلبی قال حفظت مالم یحفظ احد ونسیت مالم ینسہ احد حفظت القراٰن فی ثلثۃ ایام واردت ان اقطع من لحیتی مازاد علی القبضۃ فنسیت فقطعت من اعلاھا ۲؎۔
ردالمحتارمیں ہشام بن کلبی سے منقول ہے اس نے کہا میں نے حفظ کیا جو کسی نے نہ کیا اور میں بھولا اس طرح کوئی نہ بھولا میں نے قرآن پاک تین دن میں حفظ کرلیا اور میں قبضہ سے زائد اپنی داڑھی سے کاٹنا چاہتا تھا توبھول کر میں نے قبضہ کے اوپر سے کاٹ دی۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃفصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱)
دیکھو ایسا صحیح الضبط قوی الدماغ آدمی جس نے روزانہ د س دس پارہ قرآن مجید کے یاد کرکے تین روز میں کلام اللہ شریف پورا حفظ کرلیا، اس سے ایسی خطاء عظیم واقع ہوئی کہ جس پر وہ خود کہتے ہیں مجھ سے وہ بھول ہوئی جوکسی سے نہ ہوئی، اب کیا اس نادر بات پر ان کی قوت بالکل زائل اور مسلوب الحواسی حاصل پائی جائے گی، بالجملہ جب تک غالب افعال واقوال ایسے ہی نہ ثابت کئے جائیں۔ ہر گز بکارآمد نہیں کہ فقہائے کرام عدم اعتبار نادر کی تصریح فرماچکے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۵: یکم ذیقعدہ ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنے دو نکاح کئے، دونوں کا مہراسی پر واجب ہے اور اپنی کل جائداد کو بطور ہبہ یا دین مہر ایک زوجہ کے نام یا کسی غیر کوہبہ دینا چاہتاہے تاکہ دوسری زوجہ محروم رہ جائے، اس صورت میں یہ زوجہ قاضی ومفتی کے یہاں استغاثہ کرسکتی ہے یانہیں؟ اور زوج کو ان امور سے روک سکتی ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: اگرچہ ایک زوجہ کی محرومی چاہنا خلاف عدل اور دیانۃً بُراہے۔ مگر جبکہ جائداد اس عورت کے مہر میں مرہون نہیں، تو یہ اسے کسی طرح کے تصرفات وانتقال سے نہیں روک سکتی چاہے وہ دوسری زوجہ کے مہرمیں دے دے، خواہ اسے کسی راہ چلتے کو ہبہ کردے، یا جو چاہے کرے۔
فان امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ لایقول بالحجر بالدین اصلا، وصاحباہ وان قالا بہ فبعد قضاء القاضی بالحجر فحیث لاقضاء لاحجر اجماعا۔ قال فی الہندیۃ من باب الحجر للفساد لاخلاف عندھما ان الحجر بسبب الدین لایثبت الابقضاء القاضی ۱؎ اھ وقال فی الحجر بسبب الدین عند ابی حنیفۃ لایحجر علیہ ولایعمل حجرہ حتی تصح منہ ہذہ التصرفات کذا فی المحیط ۲؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ قرض کی بناء پر کسی کو محجور ہر گز نہ کرتے، اورآپ کے صاحبین رحمہما اللہ تعالٰی اگرچہ تصرفات سے منع (حجر) کا قول کرتے ہیں لیکن قاضی کے اس فیصلہ کے بعد تو جہاں قاضی کا فیصلہ نہ ہو وہاں وہ حجر کا حکم نہیں کرتے، ہندیہ نے ''باب الحجر للفساد'' میں کہا کہ صاحبین رحمہمااللہ تعالٰی کے نزدیک بلاخلاف قضاء قاضی سے ہی قرض کی وجہ سے حجر نافذ ہوتاہے اھ اور ''الحجر بسبب الدین'' کے باب میں فرمایا امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک اس پر حجر کا حکم نہ کیا جائے گا۔ اورنہ حجر مؤثر ہوگا حتی کہ اس کے یہ تصرفات صحیح قرار پائیں گے محیط میں یوں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵۵)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱)