Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
102 - 120
کتاب الحجر

(حجر کا بیان)
مسئلہ۲۳۲: از مارہرہ مطہرہ    مرسلہ مولٰنا مولوی محب احمد صاحب ۱۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ

ایک عورت عرصہ چالیس سال سے اس مرض میں مبتلا ہے کہ کبھی کبھی اس کی عقل میں اختلال آجاتاہے اور خیال پردہ وستر پوشی کانہیں رہتا حتی کہ مکان کی چھت سے جو بازار میں واقع ہے سربازار کھڑی ہوجاتی ہے۔ ایک مرتبہ چھت سے نیچے گر پڑی اور اکثر ی حالت یہ ہے کہ ہر قسم کا خیال سترپوشی وحجاب رہتاہے۔ سب قرابت دار ان مادری وپدری وصہری کو بتخصیص قرابت جانتی پہچانتی ہے کام متعلق عورات جوخانہ داری کو چاہئیں کرتی ہے۔ ایسی حالت میں اس کا اپنی جائداد کسی کو بطور ہبہ دے دینا یا معاف کرنا یاکسی بارہ میں اس کی شہادت مثل رضاعت وغیرہ مقبول وجائز ہے یانہیں؟ اور یہ عورت مجنونہ ومعتوہہ ہے یا کیا۔ بینوا توجروا
الجواب: ایام دورہ میں زن مذکورہ کا آفت معترضہ علی العقل میں مبتلا ہونا واضح وبدیہی ہے قلت فہم وفساد تدبیر توظاہر، اور اختلاط کلام اختلاط عقل کو لازم، تو اسی قدر سے معتوہہ ہونا تو صراحۃً ثابت، اور اس کے ساتھ لوگوں کو مارناگالیاں دینا بھی ہو تو مجنونہ ہے۔ بہر حال تبرعات مثل ہبہ مال وبخشش مہر وغیرہ کی اہلیت ہر گز نہیں، اگر ایسے تصرفات کرے گی محض باطل ہوں گے، اوررضاعت وغیرہ کسی امر میں اس کی شہادت اصلا قابل قبول نہیں پر اگر اس کے افاقہ کا کوئی وقت معلوم ومعروف نہیں تو یہ احکام حجر تصرفات وابطال تبرعات والغائے شہادت دائمی ہیں کہ جب افاقہ معہود نہیں تو کسی وقت اطمینان نہیں ہوسکتا، ہر وقت محتمل کہ حالت اختلال میں ہو صرف عاقلانہ باتیں کرنی موجب اطمینان نہیں کہ معتوہ بلکہ مجنون بسا اوقات ٹھیک ٹھک عقل کی باتیں کرتے ہیں یہاں تک کہ ناواقف سنے تو ہر گز احتمال اختلال نہ کرے۔ ہاں اگر وقت افاقہ معلوم ہے تو اس وقت اس کاحکم مثل حکم عقلاء ہے۔ اس کے تبرعات بھی نافذ ہوں گے اور شہادت بھی مسموع ہے،
درمختار میں ہے:
المعتوہ من العتہ وہو اختلال فی العقل ۱؎۔
المعتوہ، عتہ سے ماخوذ ہے۔ اورعقل میں خلل واقع ہوجانے کانام ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الطلاق    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۱۸)
ردالمحتارمیں ہے:
ہذا ذکرہ فی البحر تعریفا للجنون وقال ویدخل فیہ المعتوہ واحسن الاقوال فی الفرق بینہما ان المعتوہ ہوالقلیل الفہم المختلط الکلام الفاسد التدبیر لکن لایضرب ولایشتم بخلاف المجنون اھ وصرح الاصولیون بان حکمہ کالصبی ۲؎۔
بحر میں یہ تعریف جنو ن کی لکھی ہے اور کہا کہ معتوہ بھی اس تعریف میں داخل ہے۔ اور دونوں میں فرق کے لئے یوں کہنا بہترہے کہ معتوہ وہ ہے جو قلیل فہم، خلط ملط کلام اورفاسد تدبیر والا جو لوگوں کوضرب وشتم نہ کرے اورمجنون وہ ہے جو ضرب وشتم کرے اھ اور اصول والوں نے تصریح کی ہے کہ اس کاحکم بچوں والا ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الطلاق   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۴۲۶)
درمختارمیں ہے:
تصرف المعتوہ ان کان نافعا محضا کالاسلام والاتہاب صح بلا اذن، وان کان ضارا کالطلاق والعتاق والصدقۃ والقرض (والہبۃ ش) لاو ان اذن بہ ولیہما، وماتردد من العقود بین نفع وضرر کالبیع و الشراء توقف علی الاذن ۱؎.
معتوہ کا تصرف اگر فاندہ مند ہو جیسے اسلام اور ہبہ قبول کرنا تو یہ نافذ العمل ہوگا ولی کی اجازت ضروری نہ ہوگی اور اگر وہ عمل مضر ہو تو ولی کی اجازت کے باوجود نافذ نہ ہوگا جیسے طلاق، عتاق، صدقہ اور قرض، اس پر شامی نے ہبہ دینے کا اضافہ کیا،اور اس کاایسا عمل جو نفع اور نقصان والے دونوں پہلو رکھتا ہو وہ ولی کی اجازت پر موقوف ہونگے جیسے بیع وشراء۔ (ت)
 (۱؎ درمختار        کتاب الماذون         مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۲۰۳)

(ردالمحتار        کتاب الماذون        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۱۰)
عالمگیری میں ہے:
لاتقبل شہادۃ الصبیان والمجانین والمعتوہ بمنزلۃ المجنون ۲؎۔
بچوں اور مجنون کی شہادت مقبول نہیں اور معتوہ بچوں کا حکم رکھتاہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الشہادات الباب الرابع     نورانی کتب خانہ پشاور        ۳/ ۴۶۵)
اسی میں ہے:
(کذا شہادۃ الصبیان بعضہم علی بعض فیما یقع فی الملا عب، وشہادۃ النساء فیما یقع فی الحمامات لاتقبل، وان مست الحاجۃ الیہا کذا فی الذخیرۃ ۳؎۔
یونہی بچوں کی کھیل کے متعلق اورعورتوں کے حمام کے متعلق شہادت مقبول نہیں اگرچہ یہاں ضرورت بھی ہے۔ ذخیرہ میں یوں ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الشہادات الباب الرابع     نورانی کتب خانہ پشاور   ۳/ ۴۶۵)
طحطاوی میں ہے:
قال الشلبی فی حاشیۃ الزیلعی الحق التفصیل فان کان لافاقتہ معلوم فعقد فی ذٰلک الوقت فالحکم فیہ کالعاقل، وان لم یکن لافاقتہ وقت معلوم فعقد فی حال الافاقۃ فالحکم فیہ کالصبی اھ والفرق بین الافاقۃ المعلومۃ و غیرہا انہ فی المعلوم تحقق صحوہ بحسب عادتہ، اماغیر فیحتمل انہ حال جنونہ تکلم بکلام العقلاء ۱؎ اھ مختصرا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
زیلعی کے حاشیہ میں شلبی نے کہا حق یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے اگر معتوہ کے افاقہ کا وقت معلوم ہے اور اس وقت اس سے عقد صادرہو ا تو اس وقت میں عاقل والاحکم ہوگا، اوراگراس کے افاقہ کا وقت معلوم نہ ہو تو افاقہ کی حالت میں کیا ہوا عقد بچوں والا حکم رکھتاہے اھ اور افاقہ معلوم ہونے نہ ہونے کا فرق یہ ہے کہ معلوم کی صورت میں اس کی صحت حسب معمول ہوتی ہے اور غیر معلوم ہے ہوسکتاہے کہ وہ جنون کی حالت میں عقلمندوں جیسی گفتگو کررہا ہو، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الحجر        دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۸۲)
مسئلہ ۲۳۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فالج کہ مرض دماغی ہے۔ اسے اختلال عقل وعدم ثبات حواس لازم ہے یانہیں؟ اور اگر کسی عالم کو چند سال مرض رہے طول مرض کے سبب گھبرائے تو دل بہلانے کو شطرنج یا اسی قسم کے کھیل میں کبھی مشغول ہو تو آیا اس سے لازم آتاہے کہ وہ عالم مجنون یامسلوب الحواس قرار دیا جائے اور اس کے تصرفات بیع وہبہ وغیرہ باطل کردے جائیں۔ بینوا توجروا
الجواب: فالج اگر چہ مرض دماغی ہے مگر اس سے اختلال عقل وعدم ثبات حواس ہر گز لازم  نہیں آتا، آخر عامہ کتب فقہ میں تصریح ہے کہ جب یہ مرض سال بھر سے متجاوز ومزمن ہوجائے تو مریض شرعاً صحیح گنا جائے گا، اور اس کے سب تصرفات نافذ قرار پائیں گے، اگر اس مرض کو بدحواسی لازم ہوتی تو یہ حکم فقہاء کا کیونکر صحیح ہوتا، نہ شطرنج، گنجفہ، چوسر، یا اور اسی قسم کے ہزاروں کھیلوں سے مسلوب الحواسی ثابت ہو، بلکہ خیال کیجئے تو یہ سب کام عقل وحواس چاہتے ہیں، اوریہ بات جدا رہی کہ ایسے افعال عالم کے شان سے بعید ہوں، اول عالم کے لئے معصوم ہونا شرط نہیں، ثانیا بالفرض شطرنج مطلقا گناہ ہوتو کسی گنا ہ سے شرع شریف  بطلان تصرفات کاحکم نہیں دیتی اور امام عامر شعبی کہ اکابر ائمہ محدثین سے ہیں شطرنج کھیلا کرتے اب کیا اس بنا پر معاذاللہ کوئی انھیں مسلوب الحواس کہہ سکتاہے، اور بعض جاہل جو کہنے لگتے ہیں کہ یہ کیسے عالم ہیں جو ایسے افعال کرتے ہیں یا ان کی عقل کدھر گئی کہ عالم ہوکر ایسی باتوں میں مشغول ہیں قطعا نظر اس سے کہ جہلاء کو کسی کے افعال سے تعرض اور ان پر طعن وتشنیع روانہیں، 

حدیث میں ہے: ''عالم بے عمل مثل شمع کے ہے کہ خود جلتا ہے اور تمھیں روشنی پہنچاتاہے۔ ''۲؎۔

یہ محاورہ ایسا ہے جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
اتامرون الناس بالبرو تنسون انفسکم وانتم تتلون الکتب افلا تعقلون ۱؎۔
کیا تم لوگوں کو بھلائی کاحکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو تو کیا سمجھتے نہیں۔ (ت)
 (۲؎ الفردوس بماثور الخطاب        حدیث ۴۲۰۶    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۳/ ۷۳)

(۱؎ القرآن الکریم        ۲/ ۴۴)
یا اس سے بڑھ کر ارشاد ہوا:
اولوکان اٰبائہم لایعقلون شیئا ولا یہتدون ۲؎۔
کیااگر ان کے آباء واجداد کسی چیز کی عقل نہ رکھتے ہوں اورنہ ہی راہ یافتہ ہوں۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم        ۲/ ۱۷۰)
اب کیا قرآن عظیم نے ان لوگوں کو بے عقل کہہ کر ان کی بیع وشراء واجارہ وغیرہا تصرف کو باطل ٹھہرایاہے۔ حاشا وکلا کوئی عاقل ایسا گمان نہیں کرسکتا
ومن ادعٰی فعلیہ البیان
(جو یہ دعوٰی کرے تو اس پر بیان لازم ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter