Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
101 - 120
کتاب الاکراہ

(اکراہ کا بیان)
مسئلہ ۲۲۹ تا ۲۳۱: ا زبریلی ساہوکارہ مرسلہ شیام سندرلال چیئرمین ۲ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ زید نے ایک بیعنامہ بنام بکر تصدیق کرادیا نقل شامل سوال ہے مگر زر ثمن کالین دین نہیں ہوا صرف اقرار ہوا ہے۔ مگر اس کے بعد ایک دعوٰی تنسیخ ودستاویز مذکورہ کا زید نےکچہری میں کیا، دعوی اور جواب دعوی بھی شامل سوال ہے تو :

(۱) کیا حسب بیان مدعی مندرجہ دعوٰی بصور ت بیع مکرہ کی ہے، اگر ہے تو کیا حکم ہے؟

(۲) مکرہ ہونے کے واسطے بالفعل رجسٹری کے وقت داب ناجائز کا موجود ہونا ضرور ہے یا پیشتر سے تخویف اور آئندہ کے لئے ضرر شدید کا اندیشہ صحیح کافی ہے؟

(۳) ایسی صورت میں جبکہ رجسٹری میں زرثمن نہیں دیا گیا تو مشتری کے ذمہ حوالگی زر ثمن کا بار ثبوت ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

(۱) عرضی دعوٰی میں مدعا علیہ کا مدعی کو مدت طویل تک اپنے مکان میں محبوس رکھنا اور کسی سے نہ ملنے دینا اور ناجائز داب کا ذکر ہے داب کا بیان نہیں اور زبانی بیان سائلان یہ ہوا کہ قتل کی تخویف کی اور مدعی اسے باور کرتا تھا، یہ بیانات اگر واقعی ہیں تو وہ بلا شبہ بیع مکرہ اورفاسد ہے۔ اور بائع کو اس کے فسخ کا اختیار ہے۔ تخویف قتل تو اعلٰی درجہ کا اکراہ ہے بیع میں مجرد حبس مدید بھی ثبوت اکراہ کو بس ہے۔
درمختارمیں ہے:
لواکرہ بحبس اوقید مدیدین حتی باع اواشترٰی اواقر او اٰجر فسخ اوامضی لان اکراہ الملجی وغیر الملجی یعدمان الرضاء والرضأ شرط صحۃ ہذہ العقود والاقرار فلذا صار لہ حق الفسخ اوالامضاء ۱؎۔ باختصار۔
اگر کوئی لمبی قید اور یرغمالی کے ذریعہ بیع یا شراء یا اقرار یا اجارہ پر مجبور کرے اور اس نے کردی تو بعدمیں اسے اختیار ہے کہ فسخ کردے یا اس پر قائم رہے کیونکہ جان کے خطرے اور اس سے کم ہر طرح جبر رضا کو ختم کرتا ہے جبکہ ان عقوداور اقرار میں رضا شرط صحت ہے اس لئے اس کو فسخ کا اختیار ہے۔ باختصار۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الاکراہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۹۵)
اسی میں ہے:
فی مجمع الفتاوٰی منع امراتہ المریضۃ عن المسیر الی ابویہا الاان تہبہ مہرھا فو ھبتہ بعض المہر فالہبۃ باطلۃ لانہا کالمکرھۃ ویوخذ منہ جواب حادثۃ الفتوی زوج بنتہ فلما ارادت الزفاف منعہا الاب الا ان یشہد علیہا انہا استوفت منہ میراث امہا فاقرت لایصح اقرارھا لکونہا فی معنی المکرھۃ وبہ افتی ابوالسعود مفتی الروم قالہ المصنف فی شرح منظومتہ تحفۃ الاقران ۲؎۔
مجمع الفتاوٰی میں ہے کسی نے اپنی بیو ی مریضہ کو اپنے والدین کے ہاں جانے سے روکا اور کہا تو مجھے مہر ہبہ کرے تو جانے دوں گا تو بیوی نے مہر ہبہ کردیا تو یہ ہبہ باطل ہے کیونکہ یہ مجبور کی طرح ہے اور اس سے ایک درپیش مسئلہ کا جواب معلوم ہوگیا کہ بیٹی کا نکاح کردیا جب بیٹی رخصتی کے لئے تیار ہوئی تو باپ نے روک لیا اور کہا تویہ گواہی بنادے کہ میں نے والد سے اپنی والدہ کی وراثت کا حصہ وصول کرلیا ہے۔ بیٹی نے مجبوراً اپنے اقرار پر گواہ بنادئے تو بیٹی کایہ اقرار صحیح نہ ہوگا کیونکہ وہ مجبور کی طرح تھی، اور مفتی روم ابوسعود نے یہی فتوٰی دیا مصنف نے شرح منظومہ تحفۃ الاقران میں اس کو ذکر کیاہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار کتاب الاکراہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۷)
ردالمحتار میں ہے:
وبہ افتی الرملی وغیرہ ونظمہ فی فتاواہ بقولہ:
خیرالدین رملی وغیرہ نے یہی فتوٰی دیا ہے اور انھوں نے اپنے فتوٰی میں اس کو نظم کے طور پر یوں ذکر کیا ہے :
ومانع زوجتہ عن اھلہا	تہب المہریکون مکرھا

کذالک منع والدلبنتہ 	خروجہا لبعلہا من بیتہ
 (ترجمہ)''بیوی کو اپنے والدین سے روکا کہ مہر ہبہ کرے تویہ مکرہ ہوگا یونہی والد نے بیٹی کو اپنے خاوند کے پاس جانے سے روکا''
ثم قال وانت تعلم ان البیع والشراء والاجارۃ کالاقرار والہبۃ وان کل من یقدر علی المنع من الاولیاء کالاب للعلۃ الشاملۃ فلیس قیدا ۱؎۔
پھر فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بیع وشراء اور اجارہ ۔ اقرار اور ہبہ کی طرح ہیں او ربیشک باپ جیسا کوئی ولی جو کسی عام وجہ سے روکنے پر قادرہو وہ قید نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الاکراہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۸۸)
خیریہ میں ہے:
قال علماء نا منع الزوج زوجتہ من اہلہا حتی تہب لہ المہرتکون مکرہۃ والہبۃ باطلۃ قال فی مجمع الفتاوی و فی ملتقط السید الامام عن الفقیہ ابی جعفر من منع امرأتہ عن المسیرالی ابویہا الا ان تہب مہرہا فوھبت فالہبۃ باطلۃ ومثل ذٰلک فی الخلاصۃ والبزازیۃ وکذٰلک ذکر فی التاتارخانیۃ نقلا عن الینا بیع ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ بیوی کو اپنے والدین سے منع کرنا تاکہ مہر ہبہ کرنے پر آمادہ ہو تو یہ مجبوری ہوگی اور بیوی نے ہبہ کردیا تو باطل ہوگا، اور مجمع الفتاوٰی میں ہے کہ سید امام کی ملتقط میں فقیہ ابوجعفر سے منقول ہے کہ جس نے مہر ہبہ کئے بغیر بیوی کو اس کے والدین سے روک رکھا ہو اور اس نے ہبہ کردیا تو یہ ہبہ باطل ہوگا، اور اسی طرح خلاصہ اور بزازیہ میں ہے اور یونہی تاتارخانیہ میں ینا بیع سے نقل کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ فتاوی خیریہ    کتاب الاکراہ    دارالمعرفۃ بیروت        ۲/ ۱۴۴)
 (۲) اکراہ کے لئے یہ ضرور نہیں کہ جس وقت مکرہ وہ فعل کرے گلے پر چھری یا قید وضرب فی الحال موجود ہو بلکہ اکراہ کنندہ کی طرف سے وعید وتہدید سابق اور اس کے وقوع کا صحیح اندیشہ لاحق او ر مکرہ کا مکرہ کے قابو میں ہونا تحقق اکراہ کے لئے بس ہے۔ 

خیریہ میں ہے:
الاکراہ یعدم الاختیار فلاصحۃ للاقرار مع الاکراہ والاکراہ فیہ یکون باشیاء منہااذا قال المتغلب لرجل اما ان تقرلی  بکذا والا اقول للظالم الفلانی لقی مالا و وجد کنزا اونحوذٰلک فاذا کان الرجل لہ جرأۃ وھددہ بمن یسمع کلام الغماز و قال ان لم تقرلی بکذا اسعی بک الی من یاخذک بمجرد کلامی وغلب من ظن المہدد ذٰلک فاقر کاذبا لایلزمہ مااقربہ کما ہو صریح کلام ائمتنا ۱؎۔
جبر، اختیار کو معدوم بنادیتا ہے لہذ اجبر کے ساتھ حاصل کردہ اقرار کی صحت نہ ہوگی اور جبر واکراہ کی کئی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ کوئی غالب آدمی دوسرے شخص کو کہے کہ تومیرے حق میں فلاں اقرار کر ورنہ میں فلاں ظالم کو کہوں گا کہ اس کو مال ملایا خزانہ ملا یا ایسی ہی کوئی بات اگر یہ شخص جری ہے اور ایسے ظالم کی دھمکی دے جو اس کی بات مانتا ہو اور کہا کہ اگر تو میرے حق میں فلاں اقرار نہ کرے گا تومیں تجھے فلاں کے پاس لے جاؤں گا جو صرف میرے کہہ دینے پر تجھے پکڑے گا اور دھمکی سننے والے کو ظن غالب ہے کہ یہ ایسا کردے گا تو اس نے جھوٹا اقرار کردیا تو اس اقرار سے کوئی چیز لازم نہ ہوگی جیساکہ ہمار ے ائمہ کا صریح کلام ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ        کتاب الاکراہ    دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۴۳)
ہاں اگر اس نے تہدید کی اوراب یہ اس کے قابو سے نکل گیا اور اس اندیشہ سے کہ پھر اسے قابو ملے تو ایذا پہنچا ئے گا، کوئی کام کیا تو یہ اکراہ سے نہیں کہ اکراہ سابق زائل ہوچکا اور لاحق معدوم وموہوم ہے۔ 

ردالمحتارمیں ہے:
فی الہندیۃ عن المبسوط ارسلہ لیفعل فخاف ان یقتلہ ان ظفر بہ ان لم یفعل لم یحل ۲؎۔
ہندیہ میں مبسوط سے منقول ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کو کام کرنے کے لئے بھیجا تو اس کو خطرہ ہے کہ اگر میں نے اس کا یہ ناجائز کام نہ کیا تو مجھے قتل کر دے گاتو اس اندیشہ پر اس کو ناجائز کام کرنا حلال نہ ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار        کتاب الاکراہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۸۸)
اسی میں ہے:
لزوال القدرۃ بالبعد لکن یخاف عودہ وبہ لایتحقق الاکراہ ، بزازیۃ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ دونوں میں بعید فیصلہ کی وجہ سے قتل کی قدرت نہیں ہے۔ لیکن واپسی پر خوف ہو تو اس سے اکراہ متحقق نہیں ہوتا۔ بزازیہ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الاکراہ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۸۸)
 (۳) ہاں صور ت مذکورہ میں تسلیم وقبضہ ثمن کا بارثبوت ذمہ مشتری ہے کہ حاکم حکم نہیں کرسکتا مگر حجت شرعیہ اقرار ہے یا بینہ یا نکول، 

فتاوٰی امام قاضی خاں پھر اشباہ میں ہے: القاضی لایقضی الا بالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول ۲؎۔

قاضی صرف حجت قائم ہونے پر فیصلہ دیتاہے او رحجت گواہی اقرار اور قسم سے انکار کا نام ہے۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر     الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات     ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۱۳۸)
اور مکرہ کا اقرار باطل ہے۔ ابھی خیریہ سے گزرا:
لاصحۃ للاقرار مع الاکراہ ۳؎
 (اکراہ سے اقرار کی صحت نہیں ہوتی۔ ت) اشباہ میں ہے:
اقرار المکرہ باطل ۴؎
(مجبورشدہ شخص کا اقرار باطل ہے۔ ت)
(۳؎ فتاوی خیریہ     کتاب الاکراہ    دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۴۳)

(۴؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثانی کتاب الاقرار    ادارۃ القرآن کراچی    ۲/ ۲۱)
یونہی معتوہ غیر ماذون کا اقرار ۔ عقود الدریہ میں ہے: حیث کان معتوھا فاقرارہ غیر صحیح ۵؎۔

پاگل کا اقرار صحیح نہیں ہے۔ (ت)
 (۵؎ العقودالدریۃ     کتاب الحجروالماذون    ارگ بازار قندہار افغانستان    ۲/ ۱۵۹)
اور جبکہ اقرار بامعتوہ ہونا شہادت عادلہ سے ثابت ہو تو دستاویز میں معمولی عبارت (بحالت صحت نفس وثبات عقل بطوع و رغبت بلا جبر واکراہ ) لکھی ہوئی کوئی چیز نہیں۔ 

خیریہ میں ہے:
سئل فی ذی ولایۃ علی قریۃ قادر علی ایقاع ضرب وحبس ملجئین باہلہا طلب من رجل منہا بیع عقارلہ بہا فباع خائفا منہ ایقاع ذٰلک بہ واقر انہ قبض ثمنہ کذٰلک مع ان قیمۃ المبیع اضعاف الثمن ہل ینفذ ہذا البیع علی ہذا الوجہ ام لا وان کتب صک لدی قاض علی صفۃ الطوع والاختیار وعدم المفسد یکون الاعتبار لما فی نفس الامر لا لما کتب اجاب حیث علم بدلالۃ الحال انہ لو لم یبعہ یوقع بہ ضربا شدیدا او حبسا مدیدا فالبیع غیر نافذ والاقرار غیر صحیح فللمکرہ فسخہ والاعتبار لما فی نفس الامر لا لما کتب فی الصک ۱؎۔
ان سے گاؤں کے والی کے متعلق سوال ہواکہ اس نے قریہ میں زمین والے شخص کو ضرب لگانے اورقید کرنے کی دھمکی دے کر کہا کہ اپنی یہ زمین میرے پاس فروخت کردے تو اس نے دھمکی پر عمل کے خوف سے زمین فروخت کردی کیونکہ دھمکی پر عملی قدرت رکھتاہے۔ اور اقرار کیا کہ میں نے زمین کی رقم اس سے وصول کرلی ہے____ حالانکہ وصول کردہ رقم سے اصل قیمت کئی گنا زیادہ ہے۔ تو کیا یہ بیع نافذ ہوگی یا نہیں، اور اگر قاضی کے ہاں اشٹام لکھ دے کہ میں نے خوشی اور اختیار سے فروخت کی اور بیع صحیح کی ہے تو اس تحریر کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ واقعی حال کا اعتبار ہوگا۔ تو جواب دیا کہ جب معلوم ہے دلالت حال سے کہ اگر وہ فروخت نہ کرتا تو اس کو ضرب شدید اور قید مدید کرتا تو بیع نافذ ہوگی اور اقرار بھی صحیح نہ ہوگا تو مجبور زمیندار کو اختیار ہے کہ فسخ کردے اور اشٹام میں لکھے کااعتبار نہیں بلکہ نفس الامر واقع کا اعتبار ہے۔ (ت)
لاجرم بارثبوت مشتری پر ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ        کتاب الاکراہ    دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۴۳)
Flag Counter