فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
100 - 120
اشباہ میں ہے :
انما العرف غیر معتبر فی المنصوص علیہ ۲؎۔
منصوص علیہ معاملہ میں عرف معتبر نہیں ہے۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۸)
پھر فتاوٰی ظہیریہ سے نقل کیا:
محمد بن الفضل یقول السرۃ الی موضع نبات الشعر من العانۃ لیست بعورۃ تعامل العمال فی الابداء عن ذٰلک الموضع عند الاتزار وفی النزع عن العادۃ الظاھرۃ نوع حرج ھذا ضعیف وبعید لان التعامل خلاف النص لایعتبر انتہی بلفظہ ۳؎ اھ۔
محمد بن فضل فرماتے ہیں کہ ناف سے نیچے بالوں کی جگہ تک عورت نہیں ہے کیونکہ تہبند باندھنے کے وقت اس حصہ کو برہنہ کرنا لوگوں کا تعامل ہے اور لوگوں کی غالب عادت سے ان کو روکنا حرج کی بات ہے۔ اور یہ قول ضعیف اور بعید ہے کیونکہ نص کے خلاف تعامل معتبر نہیں ہے۔ اس کے الفاظ ختم ہوئے اھ (ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۸)
اسی میں فتاوی بزازیہ سے ہے :
فی اجارۃ الاصل استاجرہ لیحمل طعامہ بقفیز منہ فالاجارۃ فاسدۃ۔ و کذا اذا ادفع الی حائک غزلاعلی ان ینسجہ بالثلث ومشائخ بلخ وخوارزم افتوا بجوار اجارۃ الحائک للعرف وبہ افتی ابوعلی النسفی ایضا والفتوٰی علی جواب الکتاب لانہ منصوس علیہ فلیزم ابطال النص ۱؎ اھ باختصار۔
مبسوط کی بحث اجارہ میں ہے کہ کسی غلہ اٹھانے کی مزدوری میں اس غلہ میں سے قفیز دینا ٹھہرایا تو اجارہ فاسدہوگا۔ اویوں ہی جولاہے کو بنائی کےلئے دئے ہوئے سوت کا تہائی حصہ بنائی سے دینا، او بلخ اور خوارزم کے مشائخ نے جولاہے کی مذکورہ اجرت کے جواز کا فتوٰی دیا ہےکہ یہ عرف ہے اور ابوعلی نسفی نے بھی یہ فتوٰی دیا،جبکہ صحیح فتوٰی وہی ہے جو کتاب میں ہے کیونکہ ایسی اجرت کا عدم جواز منصوس ہے تو اس کے جواز سے نص کا ابطال لازم آئے گا اھ مختصرا (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۳۵)
قدوری وغیرہ متون باب الرباء میں ہے :
مالم ینص علیہ فہو محمول علی عادات الناس ۲؎ اھ قلت فدل بمفہومہ ان مانص علیہ لم یحمل علیہا۔
جس میں نص موجود نہ ہو تو وہ لوگوں کی عادت پر محمول ہوگا اھ میں کہتاہوں تو اس کے مفہوم کی دلالت یہ ہے کہ جس میں نص وارہو وہ عادات پر محمول نہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎المختصر للقدوری باب الربوٰ مطبع مجیدی کانپور ص۹۴)
ہدایہ کتاب الاجارہ میں ہے:
ھوا لمعتبرفیما لم ینص علیہ ۳؎۔
وہ عرف معتبرہے جہاں نص نہ ہو۔ (ت)
(۳؎الہدایۃ کتاب الاجارات باب الاجرمتی بستحق مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۹۳)
کفایۃ شرح ہدایہ باب الرباء میں ہے:
تقریر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاہم علی ماتعارفوا فی ذٰلک بمنزلۃ النص منہ فلایتغیر بالعرف لانہ لایعارض النص ۴؎۔
لوگوں کے تعارف پر جہاں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تقریر ہو تو وہ تقریر نص کی طرح ہے تو وہ عرف سے تبدیل نہ ہوگی کیونکہ عرف نص کا مقابلہ نہیں بن سکتا۔ (ت)
(۴؎ الکفایۃ مع فتح القدیر با ب الربٰو مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۵۸۔ ۱۵۷)
غایۃ البیان کتاب الاجارہ میں فتاوٰی صغرٰی کتاب المزارعۃ سے ہے :
فرع الحاکم عبدالرحمن فی الجامع الصغیر بین ھذا(عہ) وبین قفیز الطحان بان قفیز الطحان منصوص علیہ فلا یمکن تغیرہ بالتعامل اما ھذا فلیس منصوصا علیہ فیعتبر فیہ التعامل ۱؎۔
حاکم عبدالرحمن نے جامع الصغیر میں زمین کی نصف بٹائی اور آٹا پسائی کے عوض آٹے کے قفیز میں فرق بیان کیا ہے اور کہ پسائی میں آٹا دینے کی ممانعت پر نص ہے اس لئے اس میں تبدیلی تعامل کی وجہ سے ممکن نہیں لیکن حصہ بٹائی پر زمین دینے کی ممانعت پر نص نہیں ہے اس لئے اس میں تعامل معتبرہے۔ (ت)
عہ: ای المزارعۃ بالنصف والربع ۱۲ الفقیر المجیب
(۱؎غایۃ البیان )
نشرالعرف میں امام ابن الہمام سے ہے:
لا اعتبار للعرف المخالف للنص لان العرف قدیکون علی باطل بخلاف النص ۲؎۔
نص کے مخالف عرف کا اعتبارنہیں کیونکہ عرف باطل چیز پر بھی ہوسکتاہے بخلاف نص کے (ت)
(۲؎ نشرالعرف رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۱۱۵)
یہ برخلاف ہے اس عرف کے جس میں علاقہ کے لوگ پسائی میں آٹے کو اجرت بنائیں کیونکہ یہ ناجائز ہے اور ان کا یہ معاملہ معتبر نہ ہوگاکیونکہ اگر ہم ان کا یہ تعامل معتبر مان لیں تو نص کا ترک لازم آئے گا جبکہ تعامل کے ساتھ نص کا ترک ہرگز جائزنہیں ہے۔ (ت)
(۳؎نشرالعرف رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۱۱۶)
ردالمحتار کتاب الوصایا میں ہے :
العرف اذا خالف النص یرد بالاتفاق ۴؎۔
جب عرف نص کے مخالف ہو تو مردود ہوگا بالاتفاق (ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۴۲)
بالجملہ بحمداللہ تعالی بدلائل قاطعہ واضح ہوا کہ علمائے کرام جس عرف عام کو فرماتے ہیں کہ قیاس پر قاضی ہے اور نص اس سے متروک نہ ہوگا مخصوس ہوسکتاہے وہ یہی عرف حادث شائع ہے کہ بلاد کثیرہ میں بکثرت رائج ہو نہ عرف قدیم زمانہ رسالت علیہ افضل الصلٰوۃ والتحیۃ نہ عرف محیط جمیع عباد تمام بلاد نہ عرف اعم سواد اعظم کہ اولین بالاجماع اور ثالث علی التحقیق امکان یا وجوبا مقدم علی النص ہیں نہ زمان مشائخ میں ثانیین کی طرف مقابل، نہ واقع ونفس الامر ان کا گواہ نہ راہ فروع ان پر ملتئم نہ کلام ان پر حاکم، ہاں عرف خاص کہ صرف وہ ایک شہر کے لوگوں کاتعارف ہو مذہب ارجح میں صالح تخصیص نص وترک قیاس نہیں اور عرف نادر کہ معدودین کا عمل ہو، بالاجماع اس کے مقابل نہیں، ہاں صرف صور ت حکم بتانے کے لئے جس میں حکم شرعی یا مقیس کی اصلا مخالفت یاتغییرنہ ہو نہ کلیۃ نہ تخصیصا ہو عفر مطلق مقبول اگرچہ ایک ہی شخص کا عرف فرد ہو۔ اعیان ونذور واوقاف ووصایا وغیرہ میں معانی الفاظ کا عر ف پر ادارہ اسی باب اخیر سے ہے ولہذا فتاوٰی علامہ قاسم میں فرمایا :
التحقیق ان الفظ الواقف والموصی والحالف والناذر وکل عاقدین یحمل علی عادتہ فی خطابہ ولغتہ التی یتکلم بہا وافقت لغۃ العرب ولغۃ الشارع ۱؎ اولا۔
تحقیق یہ ہے کہ وقف کرنے والے، وصیت کرنے والے، قسم اٹھانے والے اور نذر والے اور ہرایسے عقد کو اس کے تخاطب اور لغت جس میں وہ بات کرتاہے اسی عادت پر محمول کیا جائے گا وہ لغت عرب کے موافق یا شرع کی لغت کے موافق ہو یا نہ ہو۔ (ت)
(۱؎ نشرالعرف بحوالہ فتاوی العلامۃ قاسم رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۱۳۳)
یہ ہے بحمداللہ ومنہ وکبیر لطفہ وکرمہ وتحریر مسئلہ جسے تمام کلمات علماء کرام کا عطر ومحصل کہیے اور بفضلہ تعالٰی کسی تقریر وتاصیل وتفریع کو اس کے مخالف نہ دیکھئے۔
وقد کنت اری فی الباب مباحث الاشباہ وکلمات ردالمحتار من مواضع عدیدہ فلا اجد فیہا مایفید الضبط ویزول بہ الاضطراب والخبط وکان العلامۃ الشامی کثیرا مایحیل المسئلۃ علی رسالتہ نشر العرف فکنت تواقا الیہا مثل جمیل الی بثینہ فلما رأیتہا وجدتہا ایضالم یتحرر لہا مایکفی ویشفی ولم یتخلص فیہا ماترتبط بہ الفروع وتاخذ کلمات الائمۃ بعضہا حجز بعض ولکن ببرکۃ مطالعتہا فی تلک الجلسۃ فتح۔
میں اس مسئلہ میں الاشباہ کے مباحث اور ردالمحتار کے متعدد مقامات کو دیکھتاتو ان میں کوئی ضبط والی اور اضطراب وپراگندگی کو دور کرنے والی چیز نہ پائی، اور علامہ شامی مسئلہ کو اپنے رسالہ ''نشرف العرف'' کے حوالے کردیتے ہیں تو میں اس رسالہ کا اس طرح مشتاق ہوا جیسے اونٹنی اپنے بچے کی، تو جب میں نے وہ رسالہ دیکھا تو اس میں بھی کفایت دینے والی کوئی شافی چیز اور صاف نہ ملی اور فروعات میں ربط اور ائمہ کے کلام میں تطبیق والی کوئی چیز نہ ملی جبکہ ائمہ کے کلمات ایک دوسرے کے موافق نہ تھے، لیکن اس مجلس میں اس کے مطالعہ کے برکت سے کھلا۔ (ت)
(رسالہ نامکمل ملا)