| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
واذن اقول: وباﷲ التوفیق لایخفی علیک ان اشتراط العینیۃ من الجانبین فی الربویات وھی المکیلات والموزونات دون المعدودات کما نص علیہ فی سلم الفتح وغیرہ حیث قال انما یمنع ذٰلک فی اموال الربا اذا قوبلت بجنسھا والمعدودلیس منھا اھ ۱؎ کما قال فی البحر تحت قول الکنز ''وحلا بعد مھما'' ای الفضل والنسأ عند انعدام القدر و الجنس فیجوز بیع ثوب ھروی بمر وییین نسیئۃً والجوز بالبیض نسیئۃ ۱؎، و قال تحت قولہ ''یعتبر التعیین دون التقابض فی غیر الصرف من الربویات'' بیانہ ماذکرہ الاسبیجابی بقولہ واذا تبایعا کیلیا بکیلی او وزنیا بوزنی کلاھما من جنس واحد او من جنسین مختلفین فان البیع لایجوز حتی یکون کلاھما عینا اضیف الیہ العقد وھو حاضر او غائب بعد ان یکون موجودا فی ملکہ ۱؎ الخ وانما عللوا وجوبھا فی فلس بفلسین بان لو باع فلسا بعینہ بفلسین بغیر عینھما امسک البائع الفلس المعین وطالبہ بفلس اٰخر او سلم الفلس المعین وقبضہ بعینہ منہ مع فلس اٰخر لاستحقاقہ فلسین فی ذمتہ فیرجع الیہ عین مالہ و یبقی الفلس الاٰخر خالیا عن العوض وکذا لوباع فلسین باعیانھما بفلس بغیر عینہ قبض المشتری الفلسین و دفع الیہ احدھما مکان ما استوجب علیہ فیبقی الاٰخر فضلا بلا عوض استحق بعقد البیع کما فی الفتح ۱؎ ونحوہ فی العنایۃ وغیرہا وھذہ العلۃ لا جریان لھا فی الدراھم بالفلوس نسیئۃ کمالایخفی فضلا من النوط بالدراہم فعبارۃ قارئ الھدایۃ احسن محمل لھا ماذکر فی النھر ویکون اذن مبنیا علی روایۃ نادرۃ عن محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کما سیأتی و ان لم یسلم فھی فتوی من دون سند ولاتعلم (عہ)لہ سلفا فیہا وھو لم یستند لنقل وما تجشم لہ الشامی فقد علمت حالہ فکیف یعارض بہ ماتطابقت علیہ کلمات اولٰئک الاجلۃ الکرام الذین قصصتھم علیک وامامھم فیہا نص محمد فی الاصل فہو القول۔
اور اب میں کہتا ہوں اور اﷲ ہی سے توفیق ہے تم پرظاہر ہے کہ دونوں طرف سے تعین کی شرط اموال ربامیں ہے اور وہ وہ چیزیں ہیں جو ناپ یا تول سے بکتی ہیں نہ وہ کہ گنتی سے جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ کی باب السلم میں تصریح ہے جہاں آیا کہ صرف اموال ربا میں منع ہے جبکہ اپنی جنس کے ساتھ بیچے جائیں اور گن کر بکنے کی چیزیں اموال ربا میں سے نہیں انتہی، جیسا کہ کنز کے اس قول کی شرح میں جب دونوں نہ ہوں تو دونوں حلال ہیں بحرالرائق میں فرمایا یعنی جب قدر و جنس دونوں نہ ہوں تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں تو ہرات کے بنے ہوئے ایک کپڑے کو مرو کے بنے ہوئے دو کپڑوں کے عوض ادھار بیچنا جائز ہے اور انڈوں کے عوض اخروٹ ادھار بیچنا اور کنز نے جو فرمایا کہ سوا صورت صرف کے اموال ربا میں تعین معتبر ہے نہ کہ قبضہ طرفین اس کے نیچے بحر نے فرمایا بیان اس کاوہ ہے جوامام اسبیجابی نے اپنے اس قول میں ذکر کیا کہ جب ناپ کی چیز ناپ کی چیز سے یا تول کی چیز تول کی چیز سے بیچی خواہ دونوں ایک جنس کی ہوں یا دو جنس مختلف تو بیع جائز نہ ہوگی مگر اس شرط سے کہ وہ دونوں ایک معین چیز ہوں جس پر عقد وارد کیا گیا خواہ وہیں حاضر ہوں یا غائب، ہاں اس کی ملک میں موجود ہونا چاہئے الخ پیسوں کی باہم بیع میں جو عینیت کو واجب کیا اس کی یہی دلیل بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایک پیسہ معین دو پیسے غیر معین کے عوض بیچے گا تو بائع کو اختیا ہوگا کہ وہ معین پیسہ رکھ چھوڑے اور مشتری سے ایک پیسہ اور مانگے یا وہ معین پیسہ مشتری کو دےکر پھر وہی پیسہ مع ایک اور پیسےکے اس سے واپس لےکیونکہ مشتری کے ذمہ پر اس کے دو پیسے آتے ہیں تو بائع کا اپنا مال تو اس کی طرف بعینہ لوٹ آیا اور دوسرا پیسہ بلا معاوضہ رہ گیا اور یونہی اگر دو معین پیسے ایک غیر معین پیسہ کو بیچے تو مشتری دونوں پیسے لے لے گا اور اس کے ذمہ جو ایک پیسہ لازم ہوا ہےاس کی ادا کو انہیں میں سے ایک پیسہ بائع کو پھیردے گا تو دوسرا پیسہ زائد رہ گیا بے ایسے معاوضہ کے جس کا استحقاق عقد بیع سے ہوا ہو جیسا کہ فتح القدیر میں ہے اور اس کے مثل عنایہ وغیرہ میں ہے اور ادھار پیسوں کے بدلے روپیہ بیچنے میں یہ علت جاری نہیں ہوسکتی جیسا کہ پوشیدہ نہیں، نہ کہ روپوں کے بدلے نوٹ بیچنے میں، تو عبارت قاری الہدایہ کا سب سے بہتر محمل وہ ہے جو نہر میں ذکر کیا اور اس وقت وہ ایک روایت نادرہ پر مبنی ہوگی جو امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے آئی اگر یہ نہ مانیں تو وہ علامہ کا ایک فتوٰی ہے جس کے ساتھ کوئی سند نہیں اور نہ اس میں ان سے پہلے ان کا کوئی مستند معلوم نہ وہ اس پر کسی نقل سے سند لائے اور وہ جو انکے لئے علامہ شامی نے تکلف کیا اس کا حال معلوم ہوچکا تو اس سے کیونکر معارضہ ہوسکتا ہے اس حکم کا جس پر ان اکابر کرام کے کلمات متفق ہیں جن کے اسماء گرامی اوپر مذکور ہوئے اور اس میں ان کا امام مبسوط میں امام محمد کا نص ہے تووہی قول فیصل ہے ۔
عہ: ای بالوجہ الذی ذکر وان صرف الی الصرف فقد علمت مالہ من الضعف الصرف اھ منہ۔
یعنی اس طریقے سے جو انہوں نے ذکر کیا اور اگر صرف کی طرف پھیر وتو تمہیں معلوم ہوچکا جو اس میں نرا ضعف ہے ۱۲ منہ۔
( ۱؎ فتح القدیر باب البیع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۰۸) (۱؎ بحرا لرائق کتاب البیوع باب الربوٰ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۲۹) (۱؎ بحرالرائق کتاب البیوع باب الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۳۰) (۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۶۲)