Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
98 - 180
عہ۱:  لانہ سلمہ سلما وانتم للصرف تصرفون اھ منہ۔
کہ وہ تو اسے سلم مان رہے ہیں اور تم صرف کی طرف پھیرتے ہو ۱۲ منہ۔
عہ۲: لان السلم لا یجوز فی الثمن سواء کان فیما یشرط فیہ التقابض کثمن فی ثمن اولا کمبیع فی ثمن اھ منہ۔
کہ ثمن میں سلم اصلاً جائز نہیں چاہے اس چیز میں ہو جس میں دونوں طرف کا قبضہ شرط ہے جیسے ثمن میں ثمن کی بدلی یا ایسا نہ ہوجیسے ثمن میں مبیع کی بدلی ۱۲منہ۔
عہ۱:  وانما کانت توجب لو کان انتفاء النسئۃ مستلزما لوجود العینین ولیس کذلک بل قد ینتفیان معا کما فی المثال المذکور اھ منہ۔
  واجب تو جب کرتی کہ ادھار نہ ہونے کو دونوں طرف معین ہونا لازم ہوتا اور ایسا نہیں بلکہ کبھی دونوں باتیں معدوم ہوتی ہیں کہ نہ ادھار ہو نہ دونوں جانب عین جیسے مثال مذکور میں ۱۲منہ۔
عہ۲: لکونہ دلیلا علی الحکم الذی افتی بہ وھو عدم الجواز وان جاء من قبل الصرفیۃ دون السلمیہ و من ھذاالباب مافی الھندیۃ عن المحیط حیث ذکر مسائل شراء المستقرض الکرالقرض من المقرض بمائۃ وانہ یجوز اذا شری مافی ذمتہ و نقد الثمن فی المجلس والا لا  لافترا قھما عن دین بدین ثم قال کذٰلک الجواب فی کل مکیل و موزون غیر الدراہم والفلوس اذاکان قرضا۲؎اھ۔ فجعل الفلوس ما لا یجوز شراؤہ دینا فی الذمۃ بثمن مفقود کما فی الحجرین والصحیح ماقدمنا عن الھندیۃ عن الذخیرۃ ان المنع فی غیر الصرف مختص بما اذا لم یقبض شیئ من البدلین قبضًا حقیقیا وان قبض حکما اما اذا قبض احدھما حقیقۃً جاز و مثلہ فی ردالمحتار عن الوجیز و بالجملۃ جعلہ صرفا صرف لہ عما نص علیہ عامۃ الاصحاب فی غیرما کتاب، واﷲ تعالٰی اعلم۔
کہ وہ اس حکم پر دلیل ہوتا جس کا انہوں نے فتوٰی دیا یعنی ناجائز ہونا اگرچہ یہاں صرف کے سبب ہوا نہ کہ سلم کی جہت سے، اور اسی باب سے ہے جو ہندیہ میں محیط سے ہے ولہٰذا جہاں انہوں نے اس کے مسائل ذکر کئے ہیں کہ غلہ قرض لینے والا اس قرض غلہ کو قرض دینے والے سے سوروپے کو مول لے اور یہ وہ جائز ہے جبکہ وہ غلہ خرید لے جو اس کے ذمہ پر لازم ہوا ہے (نہ بعینہ وہ غلہ جو غلہ قرض آیا ہے) اور قیمت اسی جلسے میں اداکردی ہو ورنہ حرام ہوگا کہ دونوں طرف ادھار چھوڑکر جداہوگئے پھر فرمایا ہر ناپ تول کی چیز میں یہ حکم ہے سوائے روپے اشرفی پیسوں کے جب وہ قرض ہوں انتہی،تو پیسوں کو بھی روپوں، اشرفیوں کی طرف انہیں چیزوں میں سے قرار دیا کہ جب وہ ذمہ پر قرض ہوں تو ان کا خریدنا ناجائز ہے۔ اگرچہ قیمت اسی جلسے میں ادا ہوجائے اور صحیح وہ ہے جو ہم بحوالہ ہندیہ ذخیرہ سے نقل کرچکے کہ ماسوا صرف میں  منع صرف یہ ہے کہ دونوں طرف میں سے کسی پر حقیقۃً قبضہ نہ کریں اگرچہ ایک پر قبضہ حکمی ہو (جیسے ذمہ پر کا قرض کہ حکماً مقبوض ہے) مگر جب ایک پر قبضہ ہوجائے تو جائز ہے اور ایسا ہی ردالمحتار میں وجیز سے ہے غرض یہ کہ اسے صرف ٹھہرانا اس سے پھیرنا ہے جس پر ہمارے عام علماء نے متعدد کتابوں میں نص فرمایا واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع عشر فی القرض الخ   نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۰۵)
Flag Counter