Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
97 - 180
اقول: وباﷲ التوفیق ماجنح الیہ الشامی تبعا للبحر تبعا للذخیرۃ من دلالۃ کلام الجامع الصغیر علی اشتراط التقابض فللعبد الضعیف فیہ تأمل قوی وانی راجعت الجامع فوجدت نصہ ھکذا محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم رجل باع رطلین من شحم البطن برطل من الیۃ او باع رطلین من لحم برطل من شحم البطن او بیضۃ ببیضتین او جوزۃ بجوزتین او فلسا بفلسین او تمرۃ بتمرتین یدابیدبا عیانھا یجوز وھو قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی وقال محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ لایجوز فلس بفلسین ویجوز تمرۃ بتمرتین ۲؎اھ ، کلامہ الشریف قدس سرہ المنیف فمحل الاستناد انما ھو قولہ رحمہ اﷲ تعالٰی ید ا بید لکن قد علم من مارس الفقہ ان ہذ االلفظ لیس نصا صریحا فی التقابض بالبراجم الاتری علمائنا رحمہم اﷲ تعالٰی فسروہ فی الحدیث المعروف بالعینیۃ کما قال فی الھدایۃ ومعنی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یدابید عینا بعین کذا رواہ عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱؎اھ کیف وقد قال اصحابنا رضی اﷲ تعالٰی عنہم ان التقابض انما یشترط فی الصرف واما ماسواہ ممایجری فیہ الربا فانما یعتبر فیہ التعیین کما فی الھدایۃ ۲؎ وغیرہا۔
اقول: وباﷲ التوفیق ( میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ سے ہے ) وہ جس کی طرف شامی نے باتباع بحر اور بحر نے باتباع ذخیرہ میل کیا کہ جامع صغیر کا کلام قبضہ طرفین شرط ہونے پر دلالت کرتا ہے بندہ ضعیف کو اس میں تأمل قوی ہے اور میں نے جامع کی طرف رجوع کی تو اس کی عبارت یوں پائی امام محمد روایت کرتے ہیں امام ابویوسف سے اور وہ امام اعظم سے رضی اﷲ تعالٰی عنہم ، ایک شخص نے پیٹ کی دو رطل چربی ایک رطل چکتی کو یادو رطل گوشت ایک رطل چربی کو یا ایک انڈا دو انڈے یا ایک اخروٹ دو اخروٹ یا ایک پیسہ دو پیسے یا ایک چھوہارا دو چھوہارے کو دست بدست کہ دونوں معین ہوں تو جائز ہے اور یہی قول ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کا ہے اور امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا ایک پیسہ دو پیسے کو جائز نہیں اور ایک چھوہارا دو چھوہارے کو جائز ہے ختم ہواان کا کلام شریف پاک کیا گیا ان کا سر معظم، تو موضع سند ان کا یہی قول ہے کہ دست بدست مگر جس نے فقہ کی مزاولت کی ہے اسے معلوم ہے کہ یہ لفظ اس میں صاف نص نہیں کہ دونوں جانب کا قبضہ ہاتھوں سے ہوجائے کیا نہیں دیکھتے کہ ہمارے علماء رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے اس لفظ کو ربا کی حدیث مشہور میں تعیین کے ساتھ تفسیر کیا جیسا کہ ہدایہ میں فرمایا کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد میں لفظ دست بدست کے یہ معنی ہیں کہ دونوں جانب تعین ہوجائے (کسی طرف دین نہ رہے ) جیسا کہ عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے روایت کیا انتہی، اور یہ کیونکر نہ ہو حالانکہ ہمارے اصحاب رضی اﷲتعالٰی عنہم نے فرمایا کہ قبضہ طرفین صرف صرف میں شرط ہے اور اس کے سوا اور صورتیں جن میں ربا جاری ہوسکتا ہے ان میں فقط تعین شرط ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے ،
 (۲؎ الجامع الصغیر     کتا ب البیوع    باب البیع فیما یکال او یوزن     مطبع یوسفی لکھنؤ     ص۹۷)

(۱؎ الہدایۃ     کتاب البیوع    باب الربا    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۸۳۔۸۲)

(۲؎الہدایۃ     کتاب البیوع    باب الربا    مطبع یوسفی لکھنؤ     ۳ /۸۲)
وقال فی التنویر المعتبر تعیین الربوی فی غیر الصرف بلا شرط تقابض ۳؎ قال فی الدر حتی لو باع بُرّاببر بعینھما وتفرقا قبل القبض جاز اھ۴؎ فان حمل قولہ ھذ ا فی العبارۃ التی ذکرنا علی التقابض واستجلب منہ اشتراط ذٰلک فی فلس بفلسین کان ایضا مشترطا فی تمرۃ بتمرتین وبیضۃ ببیضتین وجوزۃ بجوزتین عند من یقول ان القید راجع للمسائل جمیعا کالنھر والدر وغیرہما فان المسائل کلھا مسوقۃ سیا قا واحدا لا سیما فی عبارۃ الجامع فان القید مذکور فیہ بعد تمرۃ بتمرتین وانما ذکر فلسا بفلسین قبلہ ، وھذا لم یقل بہ ائمتنا فوجب حملہ علی اشتراط التعیین وکان قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ باعیانھا تفسیرا لقولہ یدا بید والا لکان حشوا مستغنی عنہ لاطائل تحتہ اصلا فان التقابض فیہ التعین وازید فذکرہ بعدہ لغو ولذا لما نقل الامام برھان الدین صاحب الھدایۃ رحمہ اﷲ تعالٰی ھذہ المسئلۃ عن الجامع الصغیراسقط عنہا تلک الکلمۃ واقتصر علی ذکر العینیۃ حیث قال قال (ای محمد کما صرح بہ العلامۃ بدرالعینی فی البنایۃ ) یجوز بیع البیضۃ بالبیضتین والتمرۃ بالتمرتین والجوز بالجوزتین ویجوز بیع الفلس بالفلسین باعیانھما ۱؎ اھ۔ فظہر ظہور الشمس فی رابعۃ النھار ان لیس فی الجامع دلیل علی مافھم ھٰؤلاء الاعلام وان فرض فمع احتمال الغیر احتمالا اظہر وازھر لا یرد و لا یرام ولا حجۃ فی المحتمل بخلاف عبارۃ الاصل فانھا نص ای نص فی عدم اشتراط التقابض کما سمعت فعلیہ فلیکن التعویل والتوفیق باﷲ الملک الجلیل،
اور تنویر الابصار میں ہے کہ جس مال میں ربا کا احتمال ہے وہاں ماورائے صرف میں مال کا فقط عین ہونا معتبر ہے قبضہ طرفین شرط نہیں، درمختار میں فرمایا یہاں تک کہ اگر گیہوں کے بدلے گیہوں بیچے اور ان دونوں کو معین کردیا اور بے قبضہ کئے ہوئے جدا ہوگئے تو جائز ہے انتہی، تو امام محمد کا یہ قول عبارت مذکورہ میں اگر قبضہ طرفین پر حمل کیا جائے اور اس سے یہ مطلب نکالا جائے کہ پیسوں کی باہم بیع میں قبضہ طرفین شرط ہے تو خرموں اور انڈوں اور اخروٹوں کی باہم بیع میں بھی اس کا شرط ہونا لازم آئے گا انکے نزدیک جو کہتے ہیں کہ یہ قید ان تمام مسائل کی طرف راجع ہے جیسے نہر الفائق اور درمختار وغیرہما اس لئے کہ وہ سب مسئلے ایک ہی روش پر بیان میں آئے ہیں خصوصاً عبارت جامع صغیر میں کہ اس میں تو یہ قید بیع خرما کے بعد مذکور ہے اور پیسوں کی بیع اس سے پہلے ذکر فرمائی ہے اور یہ ہمارے ائمہ میں سے کسی کا قول نہیں، تو واجب ہوا کہ دست بدست بمعنی تعیین لیں اور امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ارشاد کہ معین ہوں اس دست بدست کی تفسیر ہو ورنہ محض بیکار بھرتی ہوگا جس کا کچھ فائدہ نہیں کہ قبضہ طرفین میں تعین مع زیادت ہے تو اس کے بعد اس کا ذکر فضول ہے اس لئے جب امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے جامع صغیر سے اس مسئلہ کو نقل کیاتو دست بدست کا لفظ اس سے ساقط فرمادیا اور صرف تعیین کا ذکر کیا جہاں کہ ہدایہ میں کہا کہ فرمایا(یعنی امام محمد جیسا کہ علامہ بدر الدین عینی نے بنایہ میں تصریح کی ) انڈا دو انڈے اور ایک خرما دو خرمے اور ایک اخروٹ دو اخروٹ کو بیچنا جائز ہے اور ایک پیسہ دو پیسے معین کو جائز ہے انتہی، تو پہروں چڑھے آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ جامع صغیر میں اس پر کچھ دلالت نہیں جو یہ اکابر سمجھے اور اگر فرض بھی کرلی جائے تو اس کے ساتھ دوسرا احتمال بھی موجود ہے ظاہرتر روشن ترکہ نہ رد ہو نہ اس کی طرف کوئی برا قصد کرسکے اور احتمالی بات حجت نہیں ہوتی بخلاف عبارت مبسوط کے کہ وہ قبضہ طرفین شرط نہ ہونے میں نص اور کیسی نص ہے جیسا کہ سن چکے تو اسی پر اعتماد ہونا چاہئے، اور توفیق اﷲ عظمت والے بادشاہ کی طرف سے ہے،
 (۳؎ الدرالمختار شرح تنویر الابصار     باب الربا    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۴۱)

(۴؎الدرالمختار شرح تنویر الابصار     باب الربا    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۴۱)

(۱؎ البنایۃ     فی شرح الہدایۃ     کتاب البیوع     باب الربوٰ     المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ     ۳ /۱۵۴)

(۱؎ الھدایۃ     کتاب البیوع    باب الربا    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۸۳)
ثم لا یخفی علیک ان ھذ اکلہ کان مما شاۃ منامع العلامۃ الشامی والمقصود ابانۃ مفادا لجامع والا فالحق ان فتوی العلامۃ سراج الدین مابھا حاجۃ الی حمل کلام الجامع علٰی اشتراط التقابض ولا(عہ۱)ھو مدعاہ ولا(عہ۲) علیہ توقف لما ادعاہ فانہ انما حرم النسیئۃ وحرمتھا لاتوجب (عہ۱) عینیۃ الجانبین ایضا فضلا عن التقابض الاتری ان بیع ثوب بدرھم حالا لیس بنسیئۃ ولا فیہ العینیتان نعم ایجاب العینیۃ من الجانبین یوجب تحریم النسیئۃ لان التاجیل للترفیۃ فی التحصیل والعین متحصلۃ بالفعل فلو استدل لہ بعبارۃ الجامع علی ھذ االوجہ لکان (عہ۲) لہ وجہ وسلم من الاعتراض المذکور،
پھر اتنا معلوم رہے کہ یہ سب کچھ ہماری طرف سے علامہ شامی کے ساتھ ان کی روش پر چلنا تھا اور مقصود مفاد جامع صغیر کا ظاہر کرنا ورنہ حق یہ ہے کہ فتوٰی علامہ قاری الہدایہ کو اس کی طرف حاجت نہیں کہ عبارت جامع کو قبضہ طرفین شرط کرنے پر محمول کیجئے اور نہ وہ ان کا مدعی ہے اور نہ اس پر ان کا دعوٰی موقوف کہ وہ تو ادھار کو حرام بتارہے ہیں اور اس کی حرمت دونوں طرف عین ہونے کو بھی واجب نہیں کرتی نہ کہ قبضہ طرفین، کیا نہیں دیکھتے کہ کوئی کپڑا ایک روپے نقد کو بیچنا نہ تو ادھار ہے نہ اس میں دونوں جانب عین، ہاں دونوں طرف عینیت کا واجب کرنا ادھار کی حرمت لازم کرتا ہے اس لئے کہ وعدہ مقرر کرنا اس غرض سے ہوتا ہے کہ شیئ کے حاصل کرنے میں آسانی ہو اور عین خود ہی فی الحال حاصل ہے، تو اگر جامع کی عبارت سے علامہ قاری الہدایہ کے اس طرز پر استدلال کیا جاتا تو اس کی ایک وجہ ہوتی ہے اور اعتراض مذکور سے محافظت رہتی ہے۔
Flag Counter