| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اور اسی میں ذخیرہ سے ہے کسی کو ایک روپیہ دیا اور کہا کہ آدھے کے اتنے پیسے دے دے اور آدھے کی اٹھنی تو یہ جائز ہے پھر اگر اٹھنی اور پیسوں پر قبضہ سے پہلے وہ دونوں جدا ہوگئے تو پیسوں میں بیع بر قرار ہے اٹھنی کے حصہ میں باطل ہوگئی اور اگر روپیہ بھی نہیں دیا تھا ویسے ہی دونوں جدا ہوگئے تو اٹھنی اور پیسے سب میں باطل ہوگئی انتہی و نیز اسی میں اس سے ہے کوئی چیز پیسوں کو خریدی اور پیسے دے دئے اور دونوں جدا ہوگئے پھر بائع نے ان میں ایک پیسہ کھوٹا پایا اسے واپس دیا اور اس کے بدلے اور پیسہ لیا تو اس صورت میں یہ پیسے اگر کسی متاع کے ثمن تھے تو عقد باطل نہ ہو اخواہ وہ جو واپس دئے تھوڑے پیسے تھے یا زیادہ ، اور بدلے میں دوسرے پیسے لئے یا نہیں، اور اگر وہ پیسے روپوں کے ثمن تھے اب اگر روپوں پر قبضہ ہوچکا تھا اس صورت میں کھوٹا پھیرا اور اس کے بدلے میں کھرالیا یا نہ لیا تو عقد بدستور صحیح ہے اسی طرح اس صورت میں سب پیسے کھوٹے پائے اور واپس دئے اور ان کے عوض کھرے لئے یا ابھی نہ لئے جب بھی بیع صحیح رہے گی، اور اگر روپوں پر قبضہ نہیں ہوا تھا اگر سب پیسےکھوٹے پائے اور واپس دئے تو بیع امام اعظم کے نزدیک باطل ہوگئی اگرچہ اسی مجلس میں کھرےبدل لئے ہوں یا نہیں اور صاحبین فرماتے ہیں اگر اسی مجلس میں کھرے بدل لئے تو بیع بدستور صحیح ہے اور اگر نہ لئے تو بیع ٹوٹ گئی اور کچھ پیسے کھوٹے پاکر واپس دئے تو قیاس یہ ہے کہ اتنے میں بیع باطل ہوجائے مگر امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ استحساناً فرماتے ہیں کہ اگر واپس دئے ہوئے پیسے تھوڑے ہوں اور اسی جلسے میں بدلے کے پیسے لے لئے جائیں تو عقد اصلاً نہ ٹوٹے گا اور یہ کہ تھوڑے کتنے کو کہیں اس میں امام صاحب سے روایتیں مختلف آئیں ، ایک روایت میں ہے کہ نصف سے زائد کثیر ہیں اور اس سے کم قلیل، اور ایک روایت میں یہ ہے کہ نصف بھی زائد ہے ، اور ایک روایت میں تہائی سے زیادہ ہو تو کثیر ہے انتہی ملخصاً ۔
(۲؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۲۵) (۱؎ فتاوی ہندیۃ کتاب البیوع الفصل الثالث فی بیع الفلوس نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۶۔ ۲۲۵)
وانما اکثر نا النقول عن الذخیرۃ لانہ سیاتی عنہا نقل خلاف فی بیع فلس بفلسین فلیکن علی ذکر منک انہ جزم فی مسألتنا ھذہ اعنی بیع الفلوس بالدراہم فی غیر موضع بالجواز ولم یلم ھٰھنا بذکر خلاف اصلا، وفی تنویر الابصار والدرالمختار باع فلوسا بمثلھا او بدراہم وبدنانیر فان نقد احدھما جاز وان تفرقا بلا قبض احدھما لم یجز اھ ۱؎۔
اور ہم نے ذخیرہ سے نقول بکثرت اس واسطے ذکر کیں کہ اس سے ایک نقل اس کے مخالف آنے والی ہے ایک پیسہ دو پیسے سے بیچنے کے مسئلہ میں تویہ تجھے یادرہے کہ ذخیرہ نے ہمارے اس مسئلہ یعنی روپوں کے عوض پیسے بیچنے کے بارے میں متعدد جگہ جواز پر جزم فرمایا ہے اور یہاں اصلاً کسی ذکر خلاف کے قریب بھی نہ گئے اور تنویر الابصار و ردالمحتار میں ہے کہ پیسوں یا روپوں یا اشرفیوں کے عوض پیسے بیچے اور ایک طرف کاقبضہ ہوگیا تو جائز ہے اور اگر کسی طرف کا قبضہ نہ ہوا کہ دونوں جدا ہوگئے تو ناجائز ہے انتہی ،
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۲)
وبالجملۃ فالمسئلۃ ظاہرۃ والنقول متوافرۃ وان خالفھا العلامۃ قاری الھدایۃ فی فتاواہ فشرط التقابض وحرم النسئۃ وھذا نصھا (سئل) ھل یجوز بیع مثقال من الذہب بقنطار من الفلوس نسئۃ ام لا( اجاب ) لایجوز بیع الفلوس الی اجل بذھب او فضۃ لان علماء نا نصوا علٰی انہ لایجوز اسلام موزون فی موزون الا اذاکان الموزون المسلم فیہ مبیعا کزعفران او غیرہ والفلوس لیست من المبیعات بل صارت اثمانا۲؎اھ وردہ العلامۃ الحانوتی حین سئل عن بیع الذہب بالفلوس نسئۃ فاجاب بانہ یجوز اذا قبض احدالبدلین لما فی البزازیۃ لو اشتری مائۃ فلس بدرہم یکفی التقابض من احد الجانبین قال و مثلہ مالو باع فضۃ او ذھبا بفلوس کما فی البحر عن المحیط قال فلا یغتر بما فی فتاوٰی قاری الھدایۃ ۱؎ اھ واجاب عنہ فی النھر بان مرادہ بالبیع السلم والفلوس لھا شبہ بالثمن ولا یصح السلم فی الاثمان ومن حیث انہا عروض فی الاصل اکتفی بالقبض من احد الجانبین ۲؎۔
الحاصل مسئلہ ظاہر ہے اور نقلین وافر ہیں اگرچہ علامہ قارئ الہدایہ نے اپنے فتاوٰی میں اس کی مخالفت فرمائی کہ دونوں جانب کا قبضہ شرط کیا اور کسی طرف ادھار ہونے کو حرام ٹھہرایا اس کی عبارت یہ ہے ( سوال ہوا) کہ آیا ایک مثقال سونا پیسوں کی ڈھیری سے ادھار بیچنا جائز ہے یانہیں ؟ ( جواب دیا) کہ پیسے سونے یا چاندی کے عوض ادھار بیچنا ناجائز ہے اس لئے کہ ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دو چیزیں جو تول کر بیچی جاتی ہوں(جیسے سونا چاندی تانبا) ان میں ایک کی دوسرے سے بدلی جائز نہیں مگر اس صورت میں کہ وہ موزون چیز جو بذریعہ سلم وعدہ پر یعنی ٹھہری ہے مبیع ہو قسم ثمن سے نہ ہو جیسے زعفران وغیرہ اور پیسے جنس مبیع سے نہیں ہیں بلکہ ثمن ہوگئے ہیں انتہی ، اور علامہ حانوتی نے اس کا رد فرمایا جبکہ ان سے پیسوں کے عوض سونا اور ادھار بیچنے کی نسبت سوال ہوا، جواب دیا کہ جائز ہے، اگر دونوں میں سے ایک کا قبضہ ہوگیا اس لئے کہ بزازیہ میں ہے کہ اگر ایک روپے کے سو پیسے خریدے تو ایک جانب کا قبضہ کافی ہے ، پھر فرمایا اگر اسی طرح چاندی یا سونا پیسوں کو بیچیں جیسا کہ بحر میں محیط سے ہے فرمایا تو وہ جو فتاوٰی قاری ہدایہ میں واقع ہوا اس سے دھوکا نہ کھایا جائے انتہی ، اور اس اعتراض کا نہر میں یہ جواب دیا کہ یہاں قاری ہدایہ کی مراد بیع سے بدلی ہے اور پیسوں کو ایک مشابہت ثمن سے ہے اور ثمن کی ثمن سے بدلی صحیح نہیں اور اس حیثیت سے کہ پہلے اصل میں متاع ہیں ایک جانب کا قبضہ کافی سمجھا گیا۔
(۲؎ ردالمحتاربحوالہ فتاوٰی قاری الہدایہ کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۴) (۱؎ ردالمحتار بحوالہ الحانوتی کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴) (۲؎ ردالمحتار بحوالہ النہر کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴)
اقول: وھذا ھو المستفاد من تعلیلہ بان علمائنا نصوا علی انہ لا یجوز اسلام موزون فی موزون الخ لکن لم یقنع بہ العلامۃ ابن عابدین فی ردالمحتار واجاب بحمل مافی فتاوٰی قاری الھدایۃ علی مادل علیہ کلام الجامع الصغیر من اشتراط التقابض من الجانبین قال فلا یعترض علیہ بما فی البزازیۃ المحمول علی مافی الاصل ۳؎ یعنی المبسوط ، و نقل قبیلہ عن البحر عن الذخیرۃ ان محمد اذکر مسئلۃ بیع فلس بفلسین باعیا نھما فی صرف الاصل ولم یشترط التقابض و ذکر فی الجامع مایدل علی انہ شرط فمنھم من لم یصحح الثانی لان التقابض مع التعیین شرط فی الصرف ولیس بہ ومنھم من صححہ لان الفلوس لہا حکم العروض من وجہ وحکم الثمن من وجہ فجاز التفاضل للاول واشترط التقابض للثانی ۱؎ اھ
اقول: ( میں کہتا ہوں) یہی ان کی اس دلیل سے مستفاد ہے کہ ہمارے علماء نے نص فرمایا کہ دو چیزیں جو وزن سے بیچی جاتی ہوں ان میں بدلی جائز نہیں الخ مگر علامہ ابن عابدین نے ردالمحتار میں اس پر قناعت نہ فرمائی اور یوں جواب دیا کہ علامہ قاری ہدایہ کا کلام اس مسئلہ پر محمول ہے جو کلام جامع صغیر سے مفہوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے قبضہ شرط ہے اور کہا تو اب اس مسئلہ بزازیہ سے اعتراض نہ ہوگا کہ وہ اس پر محمول ہے جو مبسوط امام محمد میں ہے اور اس سے پہلے بحوالہ بحر ذخیرہ سے نقل کیا کہ امام محمد نے مبسوط کی کتاب الصرف میں ایک پیسہ دو پیسے معین کے بدلے بیچے کا مسئلہ ذکر فرمایا اور طرفین کا قبضہ شرط نہ کیا اور جامع صغیر میں وہ عبارت ذکر فرمائی جو دلالت کرتی ہے کہ وہ شرط ہے تو مشائخ میں بعض نے اس حکم ثانی کی تصحیح نہ کی کہ تعین کے ساتھ دونوں طر ف کا قبضہ بیع صرف میں شرط ہے اور یہ وہ نہیں اور بعض نے اس کی تصحیح کی اس لئے کہ پیسوں کے لئے ایک جہت سے متاع کا حکم ہے اور ایک جہت سے ثمن کا تو پہلی جہت کے سبب کمی بیشی جائز ہوئی اور دوسری کے سبب طرفین کا قبضہ شرط ہو اانتہی ،
(۳؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴) (۱؎ ردالمحتار کتا ب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۴)