Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
95 - 180
واما التاسع

فاقول:  نعم یجوز اذا قبض النوط فی المجلس کیلا یفترقا عن دین بدین و تحقیق ذٰلک ان بیع النوط بالدراہم کالفلوس بھا لیس بصرف حتی یجب التقابض فان الصرف بیع ماخلق للثمنیۃ بما خلق لہا۱؎ کما فسرہ بہ البحر والدروغیرہما ومعلوم ان النوط والفلوس لیست کذٰلک وانما عرض لھا الثمنیۃ بالاصطلاح مادامت تروج والا فعروض وبعدم کونہ صرفا صرح فی ردالمحتار عن البحر عن الذخیرۃ عن المشائخ فی باب الربا نعم لکونھا اثمانا بالرواج لابدمن قبض احد الجانبین والاحرم لنھیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن بیع الکالئ بالکالئ والمسئلۃ منصوص علیہا فی مبسوط الامام محمد واعتمدہ فی المحیط (عہ) والحاوی والبزازیۃ والبحر والنھر وفتاوی الحانوتی والتنویر والھندیۃ وغیرہا وھو مفاد کلام الاسبیجابی کمانقلہ الشامی عن الزین عنہ،
جواب سوال نہم 

فاقول: (تو میں کہتاہوں) ہاں جائز ہے جبکہ اسی جلسہ میں نوٹ پر قبضہ کرلیا جائے تا کہ طرفین دین کے بدلے دین بیچ کر جدا نہ ہوں اور تحقیق اس مسئلہ کی یہ ہے کہ روپوں کے بدلے نوٹ بیچنا بیع صرف نہیں جیسے روپے کے بدلے پیسے تاکہ دونوں طرف کی قبضہ شرط ہو اس لئے کہ صرف یہ ہے کہ جو چیز ثمن ہونے کے لئے پیدا کی گئی ہے اسے ایسی ہی چیز کے ساتھ بیچیں جیساکہ اسکی یہ تعریف بحر ودر وغیرہ میں فرمائی اور معلوم کہ نوٹ اور پیسے ایسے نہیں ان میں تو ثمن ہونا اصطلاح کے سبب عارض ہوگیا جب تک چلتے رہیں ورنہ وہ متاع ہیں اور اس کے بیع صرف نہ ہونے کی ردالمحتار باب ربا میں بحر، اس میں ذخیرہ ، اس میں مشائخ سے تصریح فرمائی ، ہاں اس لئے کہ وہ چلن کے سبب ثمن ہے دونوں طرف میں سے ایک کا قبضہ ضرور ہے ورنہ حرام ہوجائے گا اس لئے کہ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے دین سے دین کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ مبسوط امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی میں اس مسئلہ کی تصریح ہے اور اسی پر اعتماد کیا محیط اور حاوی اور بزازیہ اور بحر اور نہر اور فتاوٰی حانوتی اور تنویر اور در اور ہندیہ وغیرہا میں ، اور وہی مفاد ہے کلام امام اسبیجابی کا جیسا کہ شامی نے بحوالہ بحران سے نقل کیا،
عہ:  ای محیط الامام السرخسی انتہی منہ
 (۱؎ درمختار     باب الصرف     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۵۵)
ففی الھندیۃ عن المبسوط اذااشتری الرجل فلو سا بدراہم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عندالبائع فالبیع جائز اھ ۱؎ وفیہا عن الحاوی وغیرہ لو اشتری مائۃ فلس بدرہم فقبض الدرہم ولم یقبض الفلوس حتی کسدت لم یبطل البیع قیاسا ولو قبض خمسین فلسا فکسدت بطل فی النصف ولو لم تکسد لم یفسد وللمشتری مابقی من الفلوس اھ ۲؎ وفیہا عن محیط السرخسی نحوہ وفیہا عن الذخیرۃ لو اشتری فلوسا او طعاما بدراھم حتی لم یکن العقد صرفا وتفرقا بعد قبض احد البدلین حقیقۃ یجوز اما اذا حصل الافتراق بعد قبض احد البدلین حکما لاغیر لایجوز سواء کان العقد صرفا اولم یکن بیانہ فیما اذاکان لہ علیہ فلوس او طعام فاشتری من علیہ الفلوس او الطعام الفلوس اوالطعام بدراہم وتفرقاقبل نقد الدراہم کان العقد باطلا وھذا فصل یجب حفظہ والناس عنہ غافلون اھ ۱؎
ہندیہ میں مبسوط سے ہے کہ کسی نے روپوں کے عوض پیسے خریدے روپے تو اس نے دے دئے اور پیسے بائع کے پاس نہ تھے تو بیع جائز ہے انتہی ، نیز عالمگیری میں حاوی وغیرہ سے ہے جب ایک روپے کے سو پیسے خریدے روپے پر تو اس نے قبضہ کرلیا اور پیسوں پر اس کا قبضہ نہ ہوا یہاں تک کہ ان کا چلن جاتا رہا تو قیاس یہ ہےکہ بیع باطل نہ ہو اور اگر پچاس پیسوں پر قبضہ کرچکا تھااس کے بعد چلن جاتا رہا تو نصف میں بیع باطل ہوجائیگی اور اگر چلن رہے تو بیع فاسد نہ ہوگی اور خریدنے والا باقی پیسے لے لے گا انتہی ، نیز اس میں محیط سرخسی سے اسی کے مثل ہے اسی میں ذخیرہ سے ہے اگر روپے کے بدلے پیسے یا غلہ خریدا یہاں تک کہ یہ عقد صرف نہ ہوا اور بائع مشتری ایک ہی طرف کا حقیقۃً قبضہ ہو کر جدا ہوگئے تو جائز ہے ہاں اگر کسی طرف کا قبضہ حقیقۃً نہ ہو صرف ایک طرف کا حکماً ہو ا تو جائز نہیں خواہ وہ عقد صرف ہو یا نہ ہو ، بیان اس کا یہ ہے کہ ایک شخص کا دوسرے  پر پیسہ یا غلہ آتا تھا تو اس نے جس پر پیسہ یا غلہ آتا ہے انہی پیسوں یا غلہ کو روپے سے خرید لیا اور روپے دینے سے پہلے جدا ہوگئے تو بیع باطل ہوگئی ، اس مسئلہ کا یادرکھنا واجب ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں انتہی ،
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الصرف     الفصل الثالث فی بیع الفلو س     نورانی کتب خانہ پشاور     ۳/ ۲۲۴)

(۲؎فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الصرف     الفصل الثالث فی بیع الفلو س     نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/۲۶۔ ۲۲۵)

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب البیوع     الباب التاسع     نورانی کتب خانہ پشاور     ۳/ ۱۰۲)
وفیہا عنہا اعطی رجلا درہما وقال اعطنی بنصفہ کذا فلساو بنصفہ درہما صغیرا فھذا جائز فان تفرقا قبل قبض الدرہم الصغیر والفلوس فالعقد قائم فی الفلوس منتقض فی حصۃ الدرہم وان لم یکن دفع الدرہم الکبیر حتی افترقا بطل البیع فی الکل ۲؎ اھ وفیہا عنہا اشتری بفلوس واعطی الفلوس وافترقا ثم وجد فیہا فلسا لاینفق فردہ فاستبدلہ ففی ھذہ الصورۃ اذاکانت الفلوس ثمن متاع لایبطل العقد سواء کان المردود قلیلا ا وکثیر ااستبدل او لم یستبدل وان کانت الفلوس ثمن الدراہم مقبوضۃ فرد الذی لاینفق واستبدل اولم یستبدل فالعقد باق علی الصحۃ وکذ لک لو وجد الکل فی ھذہ الصورۃ لاینفق وردھا واستبدل ویستبدل فالعقد باق علی الصحۃ وان لم تکن الدراہم مقبوضۃ ان وجد کل الفلوس لاینفق فردھا بطل العقد فی قول ابی حنیفۃ استبدل فی مجلس الرداو لم یستبدل ، وقالا ان استبدل فی مجلس الرد فھو صحیح علی حالہ وان لم یستبدل انتقض وان کان البعض لا ینفق فردھا فالقیاس ان ینتقض العقد بقدرہ لکن اباحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی استحسن فی القلیل اذاردہ واستبدل فی مجلس الرد ان لا ینقض العقد اصلا واختلفت الروایات عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی فی تحدید القلیل ففی روایۃ اذا زاد علی النصف فکثیر وما دونہ قلیل وفی روایۃ النصف کثیر وفی روایۃ اذ زاد علی الثلث۱؎اھ کلہا ملخصاً،
Flag Counter