| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
واما الثانیۃ فاقول: اکثر تعیش الفقراء فی مملکۃ الھند علی کبرھا واتسا عھا ( فان عمارتہا عرضا من ثمان درج شمالیۃ عن خط الاستواء الی خمس وثلثین درجۃ وطولامن ست و ستین درجۃ شرقیۃ عن قرینص الی اثنتین و تسعین درجۃ ) انما ھو بالمبا یعات باجزاء فلس نصف وربع وثمن وغیرہا فرب فقیر یشتری لادامہ شیئا من البقول بنصف فلس ویصب فیہ دھن الشیرج بنصف فلس والتوابل الثلث جمیعا بربع فلس والثوم والبصل معا بربع فلس وکذالملح بربع فلس فیتھیؤلہ الادام فی فلسین الا ربعا ویأکلہ غداء وعشاء ، ویشتری لسراجہ الدہن بنصف فلس یکفیہ من المساء الی قریب نصف اللیل وقربۃ کبیرۃ من الماء العذب بنصف فلس وقد کانت قبیل ھذا بثلث فلس وتجدعلبۃ الکبریت بنصف فلس ویشتری لعیالہ من الذفواکہ الھند المشھورۃ عندا لعرب باسم العنب بفتح العین وسکون النون وبالفارسیۃ انبۃ وبالھندیۃ اٰم جملۃ کثیرۃ بنصف فلس وکذامن الجامون ومن التمر الھندی بربع فلس ، وان کان متعودا بالتامول والتتن فیکفیہ لیوم بلیۃ الوق بنصف فلس والفوفل والکات والتنباک الماکول کل بربع ربع فتنقضی حاجۃ یومہ فی فلس وربع وان کان یشرب الدخان فیکفیہ التتن بنصف فلس وامثال ذٰلک اشیاء کثیرۃ تباع باجزاء الفلس حتی الثمن ونصف الثمن ولو لا ذٰلک لضاق الامور و ثقل علی اخفاء ذات الید بحیث لا یطیقون ولو ابطلنا تلک البیاعات الشائعۃ فی الاٰلف مولفۃ من المسلمین والزمنا ھم ان لایشترواشیئا باقل من فلس قط مع ان حاجاتھم تندفع بالربع وبالثمن لکان ھذا من وضع الاصر علیہم وما جاءت ھذہ الشریعۃ السمحۃ السہلۃ الغراء الابرفعہ ، وربما لایجدون ھذا القدر من الفلوس فان الادام الذی کان تھیأفی فلس واحد وثلثۃ ارباع فلس الا ان لایتأتی الافی ثمانیۃ فلوس والتامول التام فی فلس وربع لایتم الافی اربعۃ فلوس وقس علیہ فاذالم یجد لادامہ الا فلسین والزمتموہ بثمانیۃ فماذا تامرون ایکتفی بسف التدقیق او قضم خبز الشعیر وحدہ بدون ادام یصلحہ و ویسیغہ ویعین علی ھضمہ ، والمعتادون بالادام وھم الناس کلھم او جلھم لو اکتفوا بھذالم یلائمھم واورث اسقاما فیہم فان ترک العادۃ عداوۃ مستفادۃ ام یتکفف والتکفف ذل وحرام ام یغصب وفی الغصب اشد الغضب والانتقام ام یؤمر البیاعون والبقالون والسقاؤن ان یعطوہ جمیع حاجاتہ مجانا لانھا لا تساوی فلساوما لا یساوی فلسا فلیس بمال ولا قیمۃ لہ فہم کیف یرضون بھذا وان رضوا فلا ترجیح لفقیر علٰی فقیر، فلیعطو اکلا حوائجہ فتذہب متاجرھم بلا شیئ فاذن لا سبیل الافتح باب البیع وقد فتحہ القراٰن بقولہ تعالٰی مطلقا واحل اﷲ البیع۱؎، وقولہ تعالٰی الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۲؎، وما کان شرع البیع الادفع تلک الشنائع ففی تحجیرہ وقد وسعہ اﷲ اعادۃ لھا وعود علی مقصود الشرع بالنقض۔
رہی دوسری مخالفت اقول: ( میں کہتا ہوں) ملک ہند کہ اس قدر کبیرو وسیع ہے ( جس کا عرض خط استواء سے شمال کی جانب آٹھ درجے سے پینتیس درجے تک ہے اور طول گرینچ سے ( کہ لندن کی رصدگاہ ہے ) شرق کی جانب چھیا سٹھ درجے سے بانوے درجے تک ہے ) اس میں اکثر فقراء کی معیشت اسی خریدو فروخت سے ہے جو پیسے کے حصے دھیلے چھدام دمڑی وغیرہ سے ہوتی ہے تو بہتیرے فقیر اپنے سالن کے لئے کوئی ساگ دھیلے کاخر ید لیتے ہیں اور اس میں دھیلے کا تلوں کا تیل ڈالتے ہیں اور تینوں مسالے چھدام کے اور لہسن پیاز چھدام کے ، اور یونہی چھدام کا نمک، تو پونے دو پیسے میں اس کی ہانڈی تیار ہوجاتی ہے اور اسے صبح وشام دو وقت کرکے کھالیتا ہے اور اپنے چراغ کے لئے دھیلے کا تیل خریدتا ہے جو شام سے آدھی رات تک اس کے لئے کافی ہوتا ہے اور میٹھے پانی کی بڑی مشک دھیلے کو ، اور تھوڑا ہی زمانہ گزرا کہ پیسے کی تین مشکیں تھیں، اور دیا سلائی کی ڈبیا تمہیں دھیلے کو مل جائے گی اور اپنے بال بچوں کے لئے ہندوستانی میووں میں سب سے مزہ دار میوہ( جسے اہل عرب عنب بفتح عین و سکون نون ) کہتے ہیں اور فارسی میں انبہ اور ہندی میں آم ، بہت سے ایک دھیلے کو اور ایسے ہی جامن اور املیاں چھدام کو، اور اگر پان تمباکو کا عادی ہے تو اسے ایک رات دن کیلئے کفایت کرینگے دھیلے کے پان اور کتھا اور چھالیا اور کھانے کا تمبا کو چھدام چھدام کے تو اس کی ایک دن کی حاجت سوا پیسے میں نکل جائیگی اور اگر حقہ پیتا ہو تو دھیلے کی تمباکو کافی ہے اور اسی طرح بہت چیزیں پیسہ کے حصوں سے بکتی ہیں یہاں تک کہ دمڑی اور آدھی اور ایسا نہ ہو تو معاملہ تنگ ہوجائے اور کم استطاعت والوں پر ایسا گراں گزرے کہ اٹھا نہ سکیں اور یہ بیعیں کہ ہزاراں ہزار مسلمانوں میں شائع ہیں اگر ہم باطل کردیں اور ان پر لازم کریں کہ کبھی کوئی چیز پیسہ سے کم کی نہ خریدیں حالانکہ ان کی حاجتیں چھدام اور دمڑی میں پوری ہوجاتی ہیں تو یہ ان پر بھاری بوجھ ڈالنا ہوگا اور یہ روشن اور نرم و آسان شریعت تو نہ آئی مگر بوجھ کے دفع کرنے کو بلکہ اکثر اوقات اتنے پیسے انہیں ملیں گے بھی نہیں اس لئے کہ وہ سالن جو پونے دو پیسے میں تیار ہوتا تھا اب دو آنے سے کم میں نہیں تیار ہوگا ، اور پان کہ سواپیسے میں جس کا کام پورا ہوتا تھا اب ایک آنہ میں ہوگا اور اسی پر قیاس کرو تو وہ جب اپنی ہانڈی کے لئے دو پیسے سے زائد نہ پائے اور تم اس پر دو آنے لازم کرو تو بتاؤ کیا کرے آیا روکھاآٹا پھانکے یا جو کی خشک روٹی چبائے جس کے ساتھ کوئی سالن ایسا نہ ہو کہ اس کی اصلاح کرے اور اسے نگلنے کے قابل بنائے اور اس کے ہضم پر اعانت کرے اور جنہیں سالن کی عادت پڑی ہوئی ہے اور تمام آدمی یا اکثر ایسے ہی ہیں اگر اس پر قناعت کریں تو انہیں راس نہ آئے اور ان میں بیماریاں پیدا کردے کہ عادت کا چھوڑنا خود اپنے ساتھ عداوت کرنا ہے یا یہ کہتے ہو کہ بھیک مانگے اور بھیک مانگنا ذلت و حرام ہے یا دوسروں کا مال چھین لے اور چھیننے میں سخت غضب اور سزا ہے یا بیچنے والوں اور ترکاری فروشوں اور بہشتیوں کو حکم دیا جائے گا کہ ان کی تمام حاجت کی چیزیں انہیں مفت دے دیں اور اس لئے کہ وہ ایک پیسہ کی قیمت کی نہیں اور جو ایک پیسہ کی نہیں وہ مال نہیں اور نہ اس کی کوئی قیمت ، تو بیچنے والے اس پر کیونکر راضی ہونگے ، اور اگر راضی ہوجائیں تو ایک فقیر کو دوسرے فقیر پر ترجیح نہیں تو چاہئے کہ ہرایک کو اس کی ضروریات مفت دیں تو ان کی تجارتیں یونہی جاتی رہیں تو ثابت ہوا کہ کوئی راستہ نہیں ہے سوا اس کے کہ بیع کا دروازہ کھولا جائے اور بیشک قرآن عظیم نے اسے اس مطلق ارشاد سے کھولا ہے کہ ''حلال کی اﷲ تعالیٰ نے بیع'' ، اور اس ارشاد سے ''مگر یہ کہ کوئی سودا ہو تمہاری آپس کی رضامندی کا ''، اور بیع کا مشروع کرنا انہیں قباحتوں کے دفع کرنے کو تھا تو اس کے تنگ کرنے میں حالانکہ اﷲ تعالیٰ اسے واسع فرماچکا ہے انہیں قباحتوں کا پلٹ آنا ہے اور مقصود شرع پر اس کے توڑنے کے ساتھ عون کرنا ہے،
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)(۲؎القرآن الکریم ۴/ ۲۹)
قال المحقق فی الفتح لولم یشرع البیع سببا للتملیک فی البدلین لاحتاج ان یؤخذعلی التغالب والمقاھرۃ او السؤال و الشحاذۃ او یصبر حتی یموت وفی کل منھا مالایخفی من الفساد وفی الثانی من الذل والصغار ما لایقدر علیہ کل احد ویزری بصاحبہ فکان فی شرعیتہ بقاء المکلفین المحتاجین و دفع حاجاتھم علی النظام الحسن اھ ۱؎ ومعلوم ان الشرع لم یحد فی ھذا حدا انما احل البیع وھو مبادلۃ مال بمال الخ والمال کما مرما یمیل الیہ الطبع ویمکن ادخارہ لو قت الحاجۃ وھذاصادق قطعا علی ماقصصنا ممایساوی نصف فلس وربعہ فایجاب ان لایکون الابفلس لایکون الاتحکما و زیادۃ فی الشرع فکیف یقبل ثم لعل لقائل ان یقول لم یات الشرع بتقدیر الفلس وھو مختلف باختلاف الزمان والمکان ولا سبیل الی اعتبار کل فی محلۃ لماتقدم ان المالیۃ تثبت بتمول البعض فوجب الفحص کل حین عن اصغر فلس یروج فی الدنیا وفیہ حرج والحرج مدفوع بالنص فافھم وقال فی الکفایۃ اول البیع الفاسد قد تثبت صفۃ التقوم بدون المالیۃ فان حبۃ من الحنطۃ لیست بمال حتی لایصح بیعھا وان ابیح الانتفاع بھا شرعا لعدم تمول الناس ایاہ اھ ۱؎ ومثلہ فی الکشف الکبیر والبحرالرائق وردالمحتار وقال فی الفتح مکان حبۃ حبات ولم نراحدامنھم ذکر ان مادون مایساوی فلسالیس بمال و کان مبنی الفرع علی انہ لم یکن فی زمنہ ثمن دون الفلس او لم یجدہ فی تقدیرات الشرع فحکم بان مادونہ لیس بشیئ کما حکم فی الاسرار بان مادون الحبۃ من الذھب والفضۃ لاقیمۃ لہ۲؎ کما نقل عنہا فی الفتح لانھم لم یعرفوا لھا مقدارا دون الحبۃ وقد عرفت فی دیارنا الی ثمن حبۃ وقیمۃ ذھب یساوی ثمن حبۃ فی بلادنا الان فلسان ای نحو ھللۃ واحدۃ ھھنا وھو لا شک مال متقوم فکیف بما فوقہ مما یساوی ربع حبۃ وکما حکم کثیرون بان مادون نصف صاع خارج عن المعیار فیجوز فیہ التفاضل مع اتحاد الجنس وعلیہ تتفرع مسألۃ حفنۃ بحفنتین وقدردہ المحقق فی الفتح قائلا لا یسکن الخاطر الی ھذا بل یجب بعد التعلیل بالقصد الی صیانۃ اموال الناس تحریم التفاحۃ بالتفاحتین والحفنۃ بالحفنتین اما ان کانت مکاییل اصغر منھا کما فی دیارنا من وضع ربع القدح وثمن القدح المصری فلا شک وکون الشرع لم یقدر بعض المقدرات الشرعیۃ فی الواجبات المالیۃ کالکفارات وصدقۃ الفطر باقل منہ لایستلزم اھدار التفاوت المتیقّن الخ 0 واقرہ فی البحر والنھر والشرنبلالیۃ والدر والحواشی وغیرہا وھو حسن وجیہ کذٰلک نقول ھٰھنا یجب بعد تعریف المال بمامر ان یکون کل ماذکرنا ممالایساوی فلسا ما لا متقوما اما ان کانت اثمان اصغر من فلس کما فی دیارنا من وضع ربع الفلس وثمن الفلس فلا شک ، وکون الشرع لم یذکر مادون فلس لایستلزم اھدار المالیۃ المتیقنۃ ، فھذاما عندی والعلم بالحق عند ربی واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
محقق نے فتح القدیر میں فرمایا اگر بیع ثمن و مبیع دونوں کی تملیک کا سبب بناکر جائز نہ کی جاتی تو حاجت پڑتی کہ یا تو زبردستی یا دھینگا دھینگی لیتے یا بھیک مانگتے یا آدمی صبر کرتا یہاں تک کہ مرجائے اور ان سب باتوں میں کھلا ہوا فساد ہے بھیک میں وہ ذلت وخواری ہے جس پر ہر شخص قادر نہیں اور آدمی کو حقیر کرتی ہے تو بیع کی مشروع کرنے میں محتاج مکلفوں کی بقا ہے اور عمدہ انتظام کے ساتھ ان کی حاجتوں کو پورا کرنا ہے انتہی ، اور معلوم ہے کہ شرع مطہر نے اس بارہ میں کوئی حد مقرر نہ فرمائی بس بیع حلال کی ہے اور وہ ایک مال کا دوسرے مال سے بدلنا ہے الخ اور مال جیسا کہ گزرچکا وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت میل کرے اور وقت حاجت کے لئے اس کا اٹھارکھنا ممکن ہو اور یہ تعریف یقیناً ان چیزوں پر صادق ہے جو ہم نے اوپر بیان کیں جو دھیلے اور چھدام کو آتی ہیں تو یہ واجب کرنا کہ پیسہ سے کم کو بیع نہ ہوگا مگر زبردستی حکم اور شرع پر زیادت تو کیونکر مقبول ہو ، پھر شاید کہنے والا کہہ سکے کہ شریعت نے پیسہ کی مقدار مقرر فرمائی نہیں اور وہ وقت اور جگہ کے بدلنے سے بدلتا ہے اور اس طرف راہ نہیں کہ ہر جگہ وہیں کا پیسہ معتبرہو کہ اوپر گزرچکا کہ مالیت بعض کے مال بنانے سے بھی ثابت ہوجاتی ہے تو واجب ہوا کہ ہر وقت اس کی تلاش کریں کہ تمام دنیا میں سب سے چھوٹا پیسہ کون سا ہے اور اس میں حرج ہے اور حرج کون نص نے دفع فرمایا ہے فافھم اور بیشک کفایہ کے شروع باب باب بیع فاسد میں فرمایاکہ کبھی شے میں باقیمت ہونے کی صفت بغیر مالیت بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ گیہوں کا ایک دانہ مال نہیں ہے یہاں تک کہ اس کی بیع صحیح نہیں اگرچہ اس سے نفع حاصل کرنا شرعاً جائز ہے اس لئےکہ لوگ اسے مال نہیں سمجھتے انتہی ، اور ایسا ہی کشف کبیر و بحرالرائق وردالمحتار میں ہے اور فتح القدیر میں ایک دانہ کی جگہ چند دانے فرمایا اور ہم نے ان میں سے کسی کو یہ فرماتے نہ دیکھا کہ ا یک پیسے سے کم کی چیز مال نہیں اور شاید اس مسئلہ قنیہ کی بناء اس پر ہو کہ ان کے زمانے میں پیسے سے کم کوئی ثمن نہ تھا یا یہ کہ شرع مطہر نے جو اندازے مقرر فرمائے ان میں پیسے سے کم نہ پایا تو یہ حکم لگادیا کہ ایک پیسے سے کم کی جو چیز ہو وہ کچھ نہیں جیسے اسرار میں حکم فرمایا کہ جو چاندی یا سونا رتی بھر سے کم ہو اس کی کچھ قیمت نہیں جیسا کہ ان سے فتح القدیر میں نقل فرمایا اس لئے کہ ان علماء نے چاندی سونےکے لئے رتی سے کم کوئی اندازہ نہ پہچانا اور ہمارے شہروں میں اس کا اندازہ رتی کے آٹھویں حصہ (ایک چاول) تک معروف ہے اور آج کل ہمارے یہاں چاول بھر سونے کی قیمت دو پیسے ہے یعنی یہاں کے ایک ہللہ کے قریب وہ بلا شبہ قیمت والا مال ہے نہ کہ وہ جواس سے بھی زیادہ ہے جو پاؤ رتی یا نصف رتی یا اس سے زائد کا ہو ایک رتی تک اور جیسے بہت علماء نے حکم فرمایا کہ نصف صاع سےجو کم ہو وہ اندازہ سے باہر ہے تو اس میں ایک چیزاپنی جنس کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ بیچنا جائز ہے اور وہ مسئلہ کہ ایک لپ گیہوں دولپ کے بدلے بیچنا جائز ہے اسی پرمتفرع ہے اور محقق نے فتح القدیرمیں اس کارد کیا یہ فرماتے ہوئےکہ اس حکم پر دل کو اطمینان نہیں ہوتا بلکہ جب حرمت کی وجہ لوگوں کامال محفوظ رکھنا ہے تو اس پر نظر کرکے واجب ہے کہ دوسیب کے بدلے ایک سیب اور دولپ کے بدلے ایک لپ کا بیچنا حرام ہو اگر نصف سے چھوٹے پیمانے پائے جاتے ہوں جیسے ہمارے دیار مصر میں چہارم پیالہ اور پیالہ کا آٹھواں حصہ مقرر ہے جب تو کوئی شک نہیں اور یہ بات کہ شرع نے واجبات مالیہ مثل کفارہ وصدقہ فطر میں اندازے سے مقرر فرمائے ہیں ان میں نصف صاع سےکم کوئی اندازہ نہ رکھا اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ وہ تفاوت جو یقینا معلوم ہے بے اثر کردیا جائے الخ اور محقق کے اس کلام کو بحر اور نہر اور شرنبلالیہ اور درمختار اور حواشی وغیرہا میں مقرر رکھا اور وہ اچھا اور موجہ کلام ہے ایسا ہی ہم یہاں کہتے ہیں کہ جب مال کی تعریف وہ ٹھہری جو اوپر گزری تو واجب ہے کہ جتنی چیزیں اوپر ذکر کیں جو ایک پیسہ کی نہ تھیں سب قیمت والے مال ہونگے تواگر پیسہ سے چھوٹے ثمن پائے جاتے ہوں جیسے ہمارے شہروں میں چھدام اور دمڑی مقرر ہیں جب تو شک نہیں اوریہ کہ شرع مطہر نے پیسہ سے کم کا ذکر نہ فرمایا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو مالیت یقینا معلوم ہے باطل کردی جائے ۔ یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے واﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۵) (۱؎ الکفایۃ مع فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۳) (۲؎ ردالمحتار بحوالہ فتح القدیر باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۶/ ۵۳۔ ۱۵۲) (۱؎ فتح القدیر باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۵۳۔ ۱۵۲ )
واما السابع فاقول : قد اٰذناک انہ ثمن اصطلاحی فاستبدالہ بالثوب لایکون مقایضۃ بل بیعا مطلقا ولا یتعین النوط بل یلزم فی الذمۃ کالفلوس۔
جواب سوال ہفتم فاقول: (میں کہتا ہوں ) ہم تمہیں بتاچکے ہیں کہ نوٹ ثمن اصطلاحی ہے تو کپڑے سے اس کا بدلنا مقایضہ نہ ہوگا بلکہ بیع مطلق ہوگا اور خاص کوئی معین نوٹ دینا نہ آئے گا بلکہ پیسہ کی طرح ذمہ پر لازم ہوگا۔
واما الثامن فاقول: نعم یجوز اقراضہ لما تقدم انہ مثلی ولا یقضی الا بالمثل لانہ شان القرض بل کل دین لایقضی الابمثلہ الا ان یتراضیا۔
جواب سوال ہشتم فاقول : (پس میں کہتاہوں) ہاں نوٹ قرض دینا جائز ہے اس لئے کہ اوپر گزرچکا کہ وہ مثلی ہے اور مثل ہی کے دینے سے ادا کیا جائے گا کہ قرض کی یہی شان ہے بلکہ کوئی دین ادا نہیں کیاجاتا مگر اپنے مثل سے مگر یہ کہ طرفین ( کسی دوسری چیز کے لینے دینے پر) راضی ہوجائیں۔