Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
93 - 180
اقول:  وباﷲ التوفیق ھذا قالہ قبل ان یطالع رسالتی ولذٰلک وددت انہ سلمہ ربہ طالعھا واطلع علی مافیہا والجواب ظاھر بملا حظۃ قولہ لایساوی فلسا فبون بیّن بین لایساوی ولم یکن یساوی لانہ الاٰن یساوی مائۃ والفا وا لنظر للحال لا للاصل الا تری ان بیع اوانی الخزف والطین کبارھا وصغار ھا من الحب والجفنۃ الی نحو رأس الشیشۃ شائع ذائع بین عامۃ المسلمین ولم ینکرہ احد مع ان اصلہ تراب والتراب لیس بمال بل لو نظر للاصل لعادت مسألۃ الفلس المتمسک بھا علی نفسہا بالنقص لما علمت ان قطعۃ نحاس بوزن فلس لا تساوی فلسا قط بل لا تبلغ نصفہ ایضا، ولذااولعت المجازفون باصطناع قوالب کقالب دارالضرب یذیبون النحاس ویقلبونہ فیہا فیصیر فلو سا ویربحون بہ ضعف ماخسروا ویقولون انہ انفع من ضرب الربابی فبا لنظر للاصل لایساوی الفلس نفسہ فلسافلایکون مالامتقوما فکیف یکون قیمۃ وثمنا ومن تأمل حدیث ورقۃ علم الذی قدمنا علم ان الشیئ انما ینظر الیہ بما ھو علیہ الاٰن لابما قد کان الاتری ان العالم معظم شرعا وعقلا وعرفا ولا نظر الی انہ فی الاصل من الذین قال اﷲ تعالٰی فیہم واﷲ الذی اخرجکم من بطون امھتکم لاتعلمون شیئا ۱؎ وما ذٰلک الا لانہ بحدوث وصف فیہ صار متقوما عنداﷲ و عندالناس بعد ان لم یکن وکذٰلک ورقۃ العلم لما تجد د فیہا من کتابۃ ذٰلک العلم وکذٰلک النوط لما حدث فیہ بذاک الرقم والطبع ما استجلب الرغبات الیہ للنفع وصار یمیل الیہ الطبع ویجری فیہ البذل والمنع ولا قیمۃ للایراد بانہ لایمشی فی کل البلاد فان ھذا لیس من لوازم المالیۃ عند احدبل ھذا ھو حال اکثر العملۃ المضروبۃ الاتری ان الخمسات والعشرات والھللات الرائجۃ ھٰھنا لاتروج فی الھند اصلا وکذٰلک لاتمشی فلوس الھند ھنا بخلاف النوط فان نوط الھند نافق ھھنا بالمشاھدۃ وبعض النقصان لا یمنع المشی ولا یوجب الکساد بل قد اصطرفت انافی ذی الحجۃ ھذا بھذاالبلدالامین نوطا افرنجیا معلما برقم خمسمائۃ ربیۃ بثلثۃ وثلثین جنیہا و خمس ربابی وھذا ثمنہ سواء بسواء فالجنھیات بار بعمائۃ وخمس و تسعین وھی مع الخمس خمسمائۃ ( ربیۃ) وقد قال فی الکفایۃ اوائل باب البیع الفاسد ان صفۃ المالیۃ للشیئ بتمول کل الناس او بتمول البعض ۱؎ ایاہ اھ ومثلہ فی فتح القدیر ، وفی ردالمحتار عن البحرالرائق عن الکشف الکبیر المال مایمیل الیہ الطبع ویمکن ادخارہ لوقت الحاجۃ والمالیۃ تثبت بتمول الناس کافۃ او بعضھم ۲؎ اھ فتبین ان الفرع المذکور المتمسک بہ لامساس لہ بما نحن فیہ ولکن العبد الضعیف یحب ان یکشف الحجاب عن حالہ ایضا کیلا یغتربہ فی محل اٰخر مع مافیہ من تحجیر ما وسعہ الشرع المطہر،
اقول: وباﷲ التوفیق ( میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے ) ان عالم نے یہ بات میرا رسالہ دیکھنے سے پہلے کہی اور اسی لئے میں نے تمنا کی کہ کاش وہ میرا رسالہ دیکھ لیتے اور اس کے مضامین پر مطلع ہوتے اور اعتراض کا جواب تو خود ان کے اس کہنے ہی سے ظاہر ہے کہ یہ پرچہ کاغذ ایک پیسہ کا نہیں کہ ان دونوں باتوں میں کھلا فرق ہے کہ ایک پیسہ کا نہیں یا ایک پیسہ کا نہ تھا اس لئے کہ اب تو وہ سو روپے اور ہزار روپے کا ہے اور شے کی حالت موجودہ دیکھی جاتی ہے نہ یہ کہ اصل میں کیا تھی، کیا نہیں دیکھتے کہ پکی اور کچی مٹی کے برتن چھوٹے بڑے گولی او ر کونڈے سے لے کر چلم تک ان کی بیع تمام مسلمانوں میں رائج و معروف ہے اور کوئی اس پر انکار نہیں کرتا حالانکہ ان کی اصل مٹی ہے اور مٹی مال نہیں اگر اصل کو دیکھیں تو وہ پیسہ کا مسئلہ خود اپنے ہی نفس کا ناقص ہوگا اس لئے کہ تمہیں معلوم ہوچکا کہ تانبے کا پتر جو وزن میں ایک پیسہ کے برابر ہو ہر گز ایک پیسے بلکہ دھیلے کا بھی نہیں ہوتا اور اسلئے بیباکوں کو پیسہ ڈھالنے کی بہت لت ہوتی ہے ٹکسال کی طرح سانچا بنا کر تانبا گلاکر اس میں ڈالتے ہیں کہ پیسہ ہوجاتا ہے اور اس میں جتنا خرچ ہوتا ہے ا س سے دونا  نفع مل جاتا ہے اور اسے روپے ڈھالنے سے زیادہ نافع بتاتے ہیں تو اصل پر نظر کرنے سے خود ایک پیسہ ایک پیسے کا نہیں تو مال متقوم نہ ہوا تو کیونکر قیمت اور ثمن ہوسکتا ہے اور ورق کی بات کہ اوپر گزری جو اسے دیکھے گا یقین کریگا کہ شے کی حالت موجودہ دیکھی جاتی ہے نہ کہ حالت گزشتہ ، کیا نہیں دیکھتے کہ شرع میں عقل میں عرف میں عالم کی تعظیم ہے اور اس پر نظر نہیں کہ وہ اصل میں ان لوگوں سے ہے جن کی نسبت رب عزوجل نے فرمایا کہ اﷲ وہ ہے جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال پر پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے تو یہ اسی سبب سے ہے کہ اس میں ایک وصف ایسا پیدا ہوگیا جس کے سبب خالق و خلق سب کے نزدیک اس کو وہ عزت ہوگئی جو پہلے نہ تھی ایسے ہی وہ علم کا ورق اس وجہ سے کہ اس میں وہ علم لکھ دیا گیا اور ایسے ہی نوٹ جس نے نفع کے باعث رغبتوں کو اس کی طرف کھینچ دیا ور طبیعتیں اس کی طرف میل کرنے لگیں اور اس میں دینا اور روکنا جاری ہوا اور یہ اعتراض کچھ حقیقت نہیں رکھتا کہ نوٹ سب شہروں میں نہیں چلتا کہ یہ تو کسی کے نزدیک مالیت کو لزوم نہیں بلکہ سکہ کی اکثرچیزوں کا یہی حال ہے کیا نہیں دیکھتے کہ خمسے اور عشرے اور ہللے جویہاں ( عرب شریف میں)رائج ہے ہند میں اصلا نہیں چلتے اور ایسے ہی ہندوستان کے پیسے یہاں نہیں چلتے بخلاف نوٹ کے کہ ہندوستان کا نوٹ یہاں آنکھوں دیکھا رائج ہے اور کچھ کم کو بکنا چلنے کے منافی نہیں ، نہ اس سے بے رواجی لازم ہے بلکہ میں نے اسی ذی الحجہ میں اسی امان والے شہر ( مکہ معظمہ) میں ایک انگریزی نوٹ جس پر پانسو کی رقم لکھی تھی تینتیس اشرفی اور پانچ روپے کو بھنا یا اور یہ اس کا پورا ثمن ہوا کہ وہ اشرفیاں چار سو پچانوے روپے کی ہوئیں اور وہ ان پانچ روپوں سے مل کر پورے پانسو ہوگئے اور بیشک کفایہ کی اوائل باب بیع فاسد میں فرمایا کہ شیئ کا مال ہونا یوں ہوتا ہے کہ سب لوگ اسے مال بنائیں یا بعض انتہی ، اور ایسا ہی فتح القدیر میں ہے اور ردالمحتار میں بحوالہ البحرالرائق کشف کبیر سے نقل کیا کہ مال وہ ہے جس کی طرف طبیعت میل کرے اور وقت حاجت کے لئے اس کا اٹھا رکھنا ممکن ہو اور مالیت یوں ثابت ہوتی ہے کہ سب لوگ یا بعض اسے مال بتائیں انتہی ، تو ظاہر ہوگیا کہ وہ پیسہ کا مسئلہ جس سے ان عالم نے تمسک کیا ہمارے مسئلہ نوٹ سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا مگر بندہ ضعیف دوست رکھتا ہے کہ اس مسئلہ کا حال بھی کھول دے تاکہ کہیں دوسری جگہ اس سے دھوکا نہ کھائے باوصف اس دقت کے جو اس مں ہے کہ اس نے ایسی چیز کو تنگ کردیا جسے شرع مطہر نے وسیع فرمایا تھا،
 (۱؎ القرآن الکریم     ۱۶/ ۷۸) 

(۱؎ الکفایۃ مع فتح القدیر     باب البیع الفاسد     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۴۳)

(۲؎ ردالمحتار     کتاب البیوع    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۳)
فاقول:  وبہ استعین اصل الفرع للقنیۃ فرد المحتار نقلہ عن البحر والبحر نقلہ عنھا وتبعہ تلمیذہ العلامۃ الغزی وبالغ حتی ادخلہ فی متنہ فی متفرقات البیوع قبل الصرف مع خلو اصلہ اغنی الغرر والدرر عنہ وقد ردہ شارحہ العلامۃ العلائی الی القنیۃ بل اعترف بہ المصنف نفسہ فی شرحہ منح الغفار فقال بعد ایرادہ متنا نقلہ فی القنیۃ ایضا اھ ۱؎ ای کما نقل المسألۃ قبلہ فیہا وھی صح بیع خرء حمام کثیر وھبتہ ، والقنیۃ مشہورۃ بضعف الروایۃ وصرحواانہا اذاخالفت المشاھیر لم تقبل بل قد نصو اانہا اذا خالفت القواعد لم تقبل مالم  یعضد ھا نقل معتمد من غیر ھا والعبرۃ بالمنقول عنہ لا بالناقل وبکثرۃ النقول لاتندفع الغرابۃ اذالم یکن مستند ھم الاواحدا کما بینت کل ذلک فی کتابی فی اٰداب المفتی سمیتہ فصل القضاء فی رسم الافتاء وحکم فی الظہیریۃ استحباب القیام بعد سجود التلاوۃ مثل ماقبلہ ونقلہ مافی التتارخانیۃ والغنیۃ والمضمرات وعنھا فی البحر و مشی علیہ فی الدر وغیرہ ومع ذٰلک حکم فی البحرانہ غریب قال الشامی وجہ غرابتہ انہ انفرد بذکرہ صاحب الظہیریۃ ولذا عزہ من بعدہ الیہا فقط اھ ۱؎ وانت تعلم ان فرع القنیۃ لم یرزق من النقول ھذا القدر ایضا ولا القنیۃ کالظہیریۃ فانی تغرب عنہ الغرابۃ ویالیتہ لم یکن الا غریبا فیکون کالشاذلکنہ کالمنکر لان کلتا الخالفتین نقد وقتہ مخالفۃ المشاھیر ومخالفۃ قواعد الشرع المنیر ، اما الاولی فلقد کان ناھیک فیہا قول الفتح والشرنبلالی والطحطاوی وردالمحتار وغیرہا من معتمدات الاسفار لو باع کاغذۃ بالف یجوز ۲؎ وجز اھم اللہ الحسنی وزیادۃ علٰی زیادۃ تاءالوحدۃ فی کاغذۃ لکن ھھنا شیئ اٰخر  اجل واکبر لایرد ولا یرام ولا یمس غبارہ الاوھام وھو اجماع ائمتنا جمیعا فی الروایات الظاہرۃ عنھم واطباق متون المذہب و شروحہ و فتاواہ علی جواز بیع تمرۃ بتمرتین و جوزۃ بجوزتین ، وزادفی الفتح و الدر ابرۃ بابر تین ۱؎ وکل احد یعلم ان لیس شیئ منھا یسوی فلسا ففی بلادنا تکون عدۃ صالحۃ من التمر بفلس وھو ھٰھنا ارخص وکذٰلک الجوز وھو ارخص فی بلادنا وثمہ تجد الابر بفلس من ثمان الی خمس وعشرین فھذہ مخالفۃ بینۃ لجمیع المشاھیر بل لنصوص جمیع ائمۃ المذہب والمحقق حیث اطلق وان رجح روایۃ المعلی عن محمد بکراھۃ تمرۃ بتمرتین لکنہ لاجل التفاضل لالان تمرۃ لایساوی فلسا فلو باع تمرۃ من البرنی بتمرۃ من الجنیب مثلا لم تمسہ روایۃ المعلی ولا ترجیح المحقق ثم الروایۃ ایضا لا تقول الابالکراھۃ فاین البطلان و عدم الانعقاد الذی کنتم تدعون ،
اقول:  وبہ استعین ( میں کہتا ہوں اور اﷲ ہی سے مدد مانگتا ہوں) اصل اس مسئلہ کی قنیہ سے ہے ردالمحتار نے اسے بحر سے نقل کیا اور بحر نے قنیہ سے اور ان کے شاگرد علامہ غزی نے ان کی متابعت کی اور یہاں تک مبالغہ کیا کہ اس مسئلہ کو اپنے متن تنویر الابصار کی متفرقات البیوع میں کتاب الصرف سے کچھ پہلے داخل فرمایا حالانکہ تنویر کی اصل یعنی درر وغرر اس سے خالی ہے اور اس کے شارح علامہ علائی نے اسے قنیہ ہی کی طرف پھیردیا بلکہ خود مصنف نے اس کی شرح منح الغفار میں اس کا اعتراف فرمایا متن کی اس عبارت کے بعد فرمایا کہ اسے بھی قنیہ میں نقل کیا ہے انتہی یعنی جیسے اس سے پہلے مسئلہ بھی قنیہ میں منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ کبوتر کی بیٹ جو کثیر ہو اس کی بیع وہبہ صحیح ہے اور قنیہ مشہور ہے کہ اس کی روایتیں ضعیف ہوا کرتی ہیں اور علماء نے تصریح فرمائی کہ قنیہ جب مشہور کتابوں کی مخالفت کرے مقبول نہ ہوگی بلکہ نص فرمائی ہے کہ قنیہ اگر قواعد کی مخالفت کرے تو مقبول نہ ہوگی جب تک اس کی تائید میں کوئی اور نقل معتمد نہ پائی جائے اور اعتبار منقول عنہ کا ہوتا ہے نہ ناقل کا اور نقلوں کی کثرت سے مسئلہ کی غرابت دفع نہیں ہوئی جبکہ ایک ہی منقول عنہ ان سب کا منتہی ہو جیسے کہ میں نے ان تمام باتوں کا بیان اپنی اس کتاب میں کردیا جوآداب مفتی میں لکھی جس کا نام میں نے فصل القضاء فی رسم الافتاء رکھا، اور ظہیریہ میں حکم فرمایا کہ سجدہ تلاوت کے بعد بھی قیام مستحب ہے جیسا اس سے پہلے اور یہ مسئلہ اس سے تتارخانیہ اور قنیہ اور مضمرات نے نقل کیا اور ان سے بحر میں اور در وغیرہ میں اسی پر چلے باوصف اس کے بحر میں حکم فرمایا کہ وہ غریب ہے ۔ علامہ شامی نے فرمایا: اس کی غرابت کی وجہ یہ ہےکہ تنہا ظہیریہ نے اس مسئلہ کوذکر کیا اور اسی واسطے بعد والوں نے فقط اس کی طرف اسے نسبت کیا انتہی ، اور تو جانتا ہے کہ قنیہ کے اس مسئلہ کو اتنی نقول بھی نصیب نہ ہوئیں اور نہ قنیہ مثل ظہیریہ کے ہے تو غرابت اس سے کہاں جائیگی اور کاش وہ صرف غریب ہی ہوتا تو حدیث شاذ کے مثل ہوتا مگر یہ تو مثل حدیث منکر کے ہے اس لئے کہ دونوں مخالفین اس کی نقد وقت ہیں کتب مشہورہ کی بھی مخالفت اور قواعد شرع روشن کی بھی مخالفت پہلے مخالفت کے ثبوت کو یہی بس تھا کہ فتح القدیر اور شرنبلالی اور طحطاوی اور ردالمحتار وغیرہ معتمد کتابوں میں فرمایا اگر ایک کاغذ ہزار روپے کو بیچا تو جائز ہے تو اﷲ تعالٰی انہیں بھلائی اور اس سے زیادہ جزادے کہ انہوں نے کاغذ میں تائے وحدت بڑھادی ( یعنی ایک کاغذ) لیکن یہاں تو ایک اور چیز ہے نہایت جلیل وعظیم کہ نہ رد ہوسکے نہ اس پر کوئی آنکھ اٹھاسکے نہ اوہام اس کی گرد پائیں، اور وہ یہ ہے کہ ہمارے تمام ائمہ نے ان روایات میں جوان سے متواتر و مشہور ہیں اجماع فرمایا ہے اور متون و شروح و فتاوٰی مذہب کا اتفاق ہے کہ ایک چھوہارہ دو چھوہاروں کو اور ایک اخروٹ دو اخروٹوں کو بیچنا جائز ہے اورفتح القدیر و درمختار میں یہ بھی زائد کیا کہ دو سوئیوں کے بدلے ایک سوئی ، اور ہر شخص جانتا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز ایک پیسہ کی نہیں ہوتی ہمارے شہروں میں معقول گنتی کے چھوہارے ایک پیسہ کے ہوتے ہیں اور یہاں اور بھی سستے ہیں اور ایسے ہی اخروٹ اور ہمارے شہروں میں زیادہ ارزاں ہیں اور ہندوستان میں ایک پیسہ کی آٹھ سے لے کر پچیس سوئیاں ملتی ہیں تو اس مسئلہ قنیہ کی یہ صریح مخالفت ہے تمام کتب مشہورہ بلکہ نصوص جمیع ائمہ مذہب سے اور محقق علی الاطلاق ( امام ابن ہمام) نے اگرچہ امام محمد سے امام معلی کی اس روایت کوترجیح دی کہ دو چھوہاروں کے بدلے ایک چھوہارا بیچنا مکروہ ہے مگر وہ کراہیت ایک زیادتی کے سبب سے ہے نہ اس لئے کہ چھوہارا ایک پیسہ کی قیمت کا نہیں ہوتا تو اگر مثلاً ایک چھوہارہ قسم برنی کا قسم جنیب کے ایک چھوہارے سے بیچے تو اس سے نہ روایت معلی کو کچھ تعلق ہوگا نہ ترجیح محقق کو ، پھر وہ روایت بھی تو اتنا ہی کہتی ہے کہ مکروہ ہے بیع باطل اور اصلاً منعقد نہ ہونا جس کا تمہیں دعوٰی تھا وہ کہاں گیا،
(۱؎ منح الغفار شرح الدرالمختار ) 

(۱؎ ردالمحتار     باب سجود التلاوۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۵۱۵)

(۲؎ فتح القدیر     کتاب الکفالۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۳۲۴) 

(۱؎ درمختار     باب الربوٰ     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۴۱)
Flag Counter