| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
جواب سوال اول مع شے زائد واضح ہو لیا اور بڑھانے کی ضرورت نہیں ۔
واما الثانی فاقول: نعم تجب فیہ الزکٰوۃ بشروطھا لما علمت انہ مال متقوم بنفسہ ولیس سنداو تذکرۃ للدین حتی لایجب اداؤھا مالم یقبض خمس نصاب ولا حاجۃ فیہ الٰی نیۃ التجارۃ لان الفتوی علی ان الثمن المصطلح تجب فیہ الزکٰوۃ مادام رائجابل لا انفکاک لہ عن نیۃ التجارۃ لانہ لا ینتفع بہ الا بالمبادلۃ کما لایخفی فی فتاوٰی قاری الھدایۃ الفتوی علی وجوب الزکٰوۃ فی الفلوس اذا تعومل بھا اذا بلغت ماتساوی مائتی درہم من الفضۃ او عشرین مثقالا من الذہب اھ ۱؎ والنوط المستفاد قبل تمام الحول یضم الی نصاب من جنسہ او من احد النقدین باعتبار القیمۃ کا موال التجارۃ۔
جواب سوال دوم فاقول: ( تو میں کہتا ہوں) ہاں نوٹ میں زکوٰۃ اپنی شرطوں کے ساتھ واجب ہے اس لئے کہ آپ نے جان لیا کہ وہ خود قیمتی مال ہے دستاویز و رسید قرض نہیں کہ جب تک نصاب کا پانچواں حصہ قبضہ میں نہ آئے زکوٰۃ دینا واجب نہ ہو اور نوٹ میں نیت تجارت کی بھی حاجت نہیں ا سلئے کہ فتوٰی اس پر ہے کہ ثمن اصطلاحی جب تک رائج ہے زکوٰۃ اس میں واجب ہے بلکہ نوٹ کو نیت تجارت سے اصلاً جدائی نہیں کہ بغیر مبادلہ اس سے نفع لے ہی نہیں سکتے جیسا کہ ظاہر ہے فتاوٰی علامہ قاری الہدایۃ میں ہے فتوٰی اس پر ہے کہ پیسے جب تک رائج ہیں ان پر زکوٰۃ واجب جبکہ دو سو درہم چاندی یا بیس مثقال سونے کی قیمت کوپہنچے ہوں انتہی اور نوٹ جو سال زکوٰہ تمام ہونے سے پہلے ملے وہ اپنی جنس کے نصاب یا قیمت لگا کر سونے چاندی سے ملایا جائے گا جیسا تجارتی مال کا حکم ہے ۔
واما الثالث فاقول: نعم یصح مھرالما علمت اذاکانت قیمتہ وقت العقد سبع مثاقیل من فضۃ فان اقل یتم کما فی العروض ۔
جواب سوال سوم فاقول: ( تو میں کہتا ہوں) ہاں و ہ مہر ہوسکتا ہے اسی بنا پر کہ آپ جان چکے جبکہ وقت عقد اس کی قیمت سات مثقال چاندی ہو اگر کم ہوگی تو پوری کی جائے گی جس طرح اسباب میں ہے ۔
واما الرابع فاقول: یجب القطع بشروطہ من تکلیف ونطق وبصر و حرز تام وغیرہا اذا بلغت قیمتہ کلا یومی السرقۃ والقطع عشرۃ دراہم مضروبۃ جیادا وذٰلک کلہ لما بینا انہ مال متقوم بنفسہ۔
جواب سوال چہارم فاقول: ( میں کہتا ہوں ) نوٹ کی چوری میں ہاتھ کاٹاجائے گا جب کہ اس کی شرطیں پائی جائیں یعنی چور عاقل بالغ ہو، گونگانہ ہو ، اندھا نہ ہو ، نوٹ پوری حفاظت کی جگہ رکھا ہو، اور اس کے سوا جو شرائط ہیں اور جس دن چرایا تھا اور جس دن کاٹیں دونوں دن اس کی قیمت دس درہم سکہ دار کھرے تک پہنچے اور یہ سب اسی بنا پر ہے کہ ہم بیان کرآئے کہ وہ بذات خود ایک قیمت والا مال ہے ۔
واما الخامس فاقول: نعم یضمن باتلاف بمثلہ ولا یجبر المتلف علی اداء الدراہم خاصۃ لان النوط عددی غیر متفاوت اصلااذااتحد دار ضربہ ، نعم اذااختلف ولو اتحدت السلطنۃ فربما تختلف القیمۃ وذٰلک ان النوط الٰہ آباد او الٰہ آباد و کلکتۃ یروج فی ممالک الہندالمشرقیۃ الشمالیۃ اکثر مما یروج نوط بمبئی وبالعکس ربما یشتری نوط مکانٍ فی اخر بنقص عدۃ آنات من رقمہ المکتوب علیہ فلا یعد احدھما مثل الاٰخر الااذا استویارواجا۔
جواب سوال پنجم فاقول: (میں کہتا ہوں ہاں کوئی کسی کا نوٹ تلف کردے تو ا سکے تاوان میں نوٹ ہی دینا آئے گا اور تلف کنندہ کو خاص روپیہ ادا کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا کہ نوٹ وہ چیز ہے جس کا لین دین گن کر ہوتا ہے اور دو نوٹوں میں اصلاً تفاوت نہیں سمجھتا جاتا ہے جبکہ وہ ایک ٹکسال کے ہوں ہاں ٹکسال جب مختلف ہو تو اگرچہ سلطنت ایک ہواکثر قیمت مختلف ہوجاتی ہے اور یہ اس لئے کہ نوٹ الہ آباد یا الہ آباد و کلکتہ کا چلن مشرقی شمالی ممالک ہند میں بمبئی کے نوٹ سے زیادہ ہے وبالعکس اور بیشتر ایک جگہ کا نوٹ دوسرے مقام پر کچھ آنوں کی کمی سے لیا جاتا ہے تو ایک دوسرے کے برابر شمار نہ کیا جائے گا تاوقتیکہ چلن میں برابر نہ ہوں۔
واما السادس فاقول: نعم یجوز نعم کما تعاملہ الناس فی عامۃ البلاد وقد علمت تحقیقہ۔
جواب سوال ششم فاقول: (پس میں کہتا ہوں) ہاں جائز ہے جیسا کہ تمام شہروں میں عمل در آمد ہے اور تم اس کی تحقیق جان چکے ۔ تنبیہ : کنت قنعت فی الجواب بھذا القدر لوضوح الامر بما قررتہ فی الصدر فاذانہیت الرسالۃ بلغنی عن بعض (عہ) الافاضل انہ حفظہ اﷲ تعالٰی قال مذاکرۃ لامجادلۃ ان العلامۃ ابن عابدین ذکر فی ردالمحتار تفریعا علی ان من شروط انعقاد البیع کون المعقود علیہ مالا متقوما انہ لم ینعقد بیع کسرۃ خبز لان ادنی القیمۃ التی تشترط لجواز البیع فلس اھ ۱؎ ومعلوم ان ھذا القدر من القرطاس لایساوی فلسا ای فیکون البیع باطلا غیر منعقد اصلا فضلا عن الحرمۃ والکراھۃ۔
تنبیہ: میں نے جواب میں اسی پر اکتفاء کی تھی اس لئے کہ ابتدائے کلام میں جو تقریر گزری اس سے امر واضح ہوچکا تھا پھر جب میں رسالہ تمام کرچکا مجھے بعض علماء سلمہ اﷲ تعالٰی سے خبر پہنچی کہ انہو ں نے بطور مذاکرہ نہ بطور مجادلہ یہ فرما یاکہ علامہ ابن عابدین نے ردالمحتار میں اس مسئلہ پر کہ بیع منعقد ہونے کی شرط مبیع کا مال متقوم ہونا ہے یہ تفریع ذکر کی کہ ایک ٹکڑ ے روٹی کی بیع باطل ہے کہ جواز بیع کےلئے کم سے کم ایک پیسہ قیمت ہونا شرط ہے انتہی ، اور ظاہر ہے کہ اتنا ٹکڑا کاغذ کا ایک پیسہ کی قدر نہیں تو نوٹ کی بیع باطل ہونا چاہئے کہ اصلاً ہوئی ہی نہیں، حرام یا مکروہ ہونا تو درکنار ،(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵) عہ: یعنی فاضل حامد احمد محمد جدا دی سلمہ ۱۲