Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
91 - 180
اقول:  (میں کہتا ہوں ) ہم فتح القدیر سے بیان کرآئے کہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہزار کو بک سکتا ہے اور اس کے لئے صرف اتنا درکا ہے کہ بائع و مشتری دونوں راضی ہوں تو اس کا کیا کہنا جس پر گروہ کے گروہ راضی ہوں اور ان قطعوں کی یہ قیمتیں اپنی اصطلاح میں ٹھہرالیں، علاوہ بریں سکہ شاہی شرع کے نزدیک بھی قیمتی ہے کیا نہیں دیکھتا کہ جو شخص دس درہم سکہ کے چرائے ہاتھ کاٹا جائے گا اور جو ایسی چاندی بے سکہ کی چرائے جس کا وزن دس درہم بھر ہو اور اس کی قیمت سکہ کے دس درہم تک نہ پہنچی اس کا ہاتھ نہ کٹے گا ، جیسا کہ ہدایہ وغیرہ عام کتب مذہب میں تصریح ہے اور ایک روپے کے سکہ دار پیسے جتنے آتے ہیں اگر توان کے وزن کا تانبالے تو ہر گز ایک روپے کا نہ ہوگا بلکہ بعض وقت اٹھنی کا بھی نہ ہوگا بلکہ ایسی حالت چاندی میں بھی دیکھو گے ابھی تھوڑا زمانہ گزرا ہے کہ دو روپے بھر چاندی ہمارے ملک میں ایک روپے کو بکتی تھی اور جاہل لوگ خریدتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ اس میں سود کا کیسا وبال ہے تو سکہ سے جب دو نا دون قیمت ہوگئی تو دو چند ہزار چند سب یکساں، اور ہر شخص کہ شرع مطہر یا عقل سلیم کے گھاٹ گزرا ہے اگرچہ راہ چلتا ہوا،  اس پر روشن ہے کہ ایک شیئ نہایت حقیر میں ایک وصف لگ جاتا ہے کہ اسے اس جیسی ہزاروں سے بیش بہا کردیتا ہے اور بارہا ایک کنیز دولاکھ روپے اور اس سے زائد کو خریدی گئی اور دوسری کو کوئی تیس روپے کو نہیں پوچھتا حالانکہ اوصاف کےلئے ثمن میں سے کوئی حصہ نہیں یہاں تک کہ ہاتھ پاؤں جب تک کہ بالقصد نہ ہلاک کئے جائیں وہ ثمن ذات ہی کا ہے جسے رغبتیں بڑھنے کے سبب اوصاف نے بڑھا دیا بھلا بتا تو کہ ایک ورق کاغذ ہو جس میں ایک علم نفیس عجیب و غریب نادر ہو اور ایک شخص اس علم کا طلب گار ہو اور اس کی طلب جانتا ہو وہ اس ورق کو دس ہزار میں خریدلے تو کیا کوئی اس میں خلاف ہے ہر گز نہیں بلکہ حلال طیب ہے اس پر قرآن عظیم کا نص اور بلا انکار ومنازعت اجماع قائم ہے ، رب عزوجل فرماتا ہے مگر یہ کہ کوئی سودا تمہارے آپس کی خوشی کا ہو اور یہ دس ہزار اس لکھے ہوئے علم کی قیمت نہیں کہ وہ تو مال کے قبیل ہی سے نہیں جیسا کہ ہدایہ اور باقی تمام کتب میں تصریح ہے جن میں مسائل مع دلائل مذکور ہیں اور یہ ہدایہ کی عبارت ہے قرآن مجید چرانے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اگرچہ اس پر سونا چڑھا ہو اس لئے کہ لکھے ہوئے کے اعتبار سے تو وہ از قبیل مال ہی نہیں اور اس کا محفوظ رکھنا اس مکتوب ہی کی غرض سے ہے نہ کہ جلد اور ورقوں اور نقوش زر کےلئے یہ چیزیں تو تابع ہیں اور کسی قسم کے دفتر کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کہ ان سے مقصود وہ ہے کہ جو ان میں لکھا ہے اور وہ مال نہیں مگر حساب کی بہیاں کہ ان میں جو لکھا ہے وہ دوسرے کے کام کا نہیں ہوتا جو اس کالینا مقصود ہو تو ضرور کاغذ ہی مقصودہوئے انتہی ملخصاً،توکھل گیاکہ ایک ورق کاغذ ہی کی قیمت اسکی تحریرکےباعث دس  ہزارکو پہنچ گئی تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اس لکھائی کے سبب نوٹ کی قیمت دس یا زائد کو پہنچ جائے جس کے باعث لوگوں کی رغبتیں اسکی طرف کھجچ گئیں اور شرع سے اس پر کون سی روک ہے ،خلاصہ یہ کہ مسئلہ اس سے زیادہ روشن ہے کہ روشن کرنے کا حاجتمندیہ ہواور کہاں تک تو چراغ مانگے جائے گا حالانکہ صبح روشن ہوگئی ،
 (۱؎ الہدایۃ     کتاب السرقۃ    المکتبۃ العربیۃ کراچی     ۲ /۵۱۸) 

(۱؎ القرآن الکریم     ۴ /۲۹)

(۱؎ الہدایۃ     کتاب السرقۃ     باب مایقطع فیہ وما لایقطع    المکتبۃ العربیۃ بیروت    ۲/ ۲۱۔۵۲۰)
ثم اقول:  بل حقیقۃ الامر ان الاموال کما فی البحر وغیرہ اربعۃ اقسام ، الاول ثمن بکل حال وھو النقدان فانھما اثمان ابداصحبتھما الباء اولا وقوبلا بجنسھما اولا وعدھما العرف من الاثمان اولا کا لمصوغ منھما فانہ بسبب ما اتصل بہ من الصنعۃ لم یبق ثمنا صریحا و لہذا یتعین فی العقد و مع ذٰلک بیعہ صرف یشترط فیہ مایشترط فی الصرف لانھما خلقا للثمنیۃ ولا تبدیل لخلق اﷲ، والثانی مبیع بکل حال کالثیاب والدواب فانھا وان صحبتھا الباء وقو بلت بماتشاء لا تثبت دینا فی الذمۃ وھذا ھو المعنی بالثمنیۃ فلا یرد ان فی المقایضۃ کلا من العرضین ثمن من وجہ ھکذا وجہ ابن عابدین جوابا عن ایراد العلامۃ الطحطاوی ،
ثم اقول:  ( پھرمیں کہتا ہوں) اصل بات یہ ہے کہ مال چار قسم ہے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے، اول وہ کہ ہر حال میں ثمن ہی ہے اور وہ سونا چاندی ہے کہ ہمیشہ ثمن ہی رہیں گے خواہ انکے عوض کوئی چیز بیچی یا انکو کسی چیز کے عوض بیچنا کہیں خواہ اپنی جنس سے بدلے جائیں یاغیر جنس سے خواہ اہل عرف انہیں ثمن کہیں یا نہیں جیسے چاندی سونے کے برتن کہ وہ اس گھڑت کے سبب جو ان میں ہوئی خالص ثمن نہ رہے ولہٰذا عقد بیع میں متعین ہوجائیں گے اور باینہمہ ان کی بیع شرعاً صرف ٹھہرے گی ( یعنی ثمن سے ثمن کا بیچنا) اور جو شرائط صرف کے وہ سب اس کے مشروط ہوں گے اس لئے کہ چاندی سونا ثمن ہونے کے لئے ہی بنائے گئے اور اﷲ کی پیداکی ہوئی چیز بدلی نہیں جاتی ۔ قسم دوم وہ جو ہر حال مبیع ہے جیسے کپڑے ، چوپائے کہ اگر ان کے عوض کوئی چیز بیچنا کہیں اور ان کا مبادلہ کسی شیئ کے ساتھ ہو وہ کبھی ذمہ پر دین ہوکر لازم نہ ہوں گے ، اور ثمن ہونے کے یہی معنی ہیں تو یہ اعتراض وارد نہ ہوگا کہ بیع مقایضہ ( جس میں متاع کے بدلے متاع بیچی جاتی ہے ) ا س میں دونوں متاع ایک وجہ سے ثمن ہیں، اعتراض علامہ طحطاوی کے جواب میں علامہ شامی نے اسی طرح توجیہ فرمائی ،
اقول:  وفیہ ان المصوغ من الججرین ایضا لایثبت دینا فی الذمۃ بل یتعین فی العقود کما تقدم عن البحر فان سلم ھذا وردالنقض علی ذٰلک فلیتأمل والاظہر عندی الجواب بان کل سلعۃ فی المقایضۃ مبیع ایضاولا یمکن ان تصیر ثمنا محضا وان کان لھا وجہۃ الی الثمنیۃ من حیث ان البیع لایقوم الابالبدلین بخلاف القسم الاٰتی فانہ تارۃ یصیر ثمنا بحتا و واخری مبیعا خالصا فمعنی القسمین انہ لا ینفک عنہ کونہ ثمنا او کونہ مبیعا بشیئ من الاحوال وان اعتراہ وجھۃ اخری ایضا فی بعض الحال ثم قولہ کالثیاب ارسلہا ارسا لاواقرہ الشرح والحواشی والمراد المختلفۃ افرادھا مالیۃ والاکانت من الثالث حیث امکن ضبطھا بذکر جنس کقطن وکتان وصنعۃ کعمل الشام و مصر ورقۃ او غلظۃ وذرع طولا و عرضا ووزن ان بیعت بہ وبذا یجوز السلم فیہا کما عرف فی محلہ والثالث مالوصف فی ذاتہ ثمن تارۃ و مبیع اخری ولا  اقول:  کقول التنویر ثمن من وجہ مبیع من وجہ ۱؎ لیعود حدیث المقایضۃ ،
اقول:  ( میں کہتا ہوں ) اس میں یہ اعتراض ہے کہ چاندی سونے کی گھڑی ہوئی چیز مثلاً برتن یا گہنا یہ بھی ذمہ پر دین نہیں ہوتے بلکہ عقد میں متعین ہوجاتے ہیں جیسا کہ بحرالرائق سے گزرا، تو اگر یہ تقریر سالم رہے تو اس پر نقض وارد ہوگا، فتامل، اور میرے نزدیک صاف جواب یہ ہے کہ بیع مقایضہ میں ہر شے مبیع بھی ہے اور ثمن خالص نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کا ایک رخ ثمنیت کی طرف بھی سہی اس لئےکہ بیع بغیر ثمن و مبیع دونوں کے نہیں ہوسکتی بخلاف قسم آیندہ کے کہ وہ کبھی خالص ثمن ہوتی ہے اور کبھی خالص مبیع ، تو ان دونوں قسموں کے معنی یہ ہیں کہ اس کا ثمن یا مبیع ہونا کسی حال اس سے جدا نہ ہو اگرچہ بعض او قات اسے دوسرا رخ بھی عارض ہو پھر وہ جو کپڑوں کی مثال گزری مصنف نے اسے یونہی مطلق چھوڑا اور شرح وحواشی میں اسے برقرار رکھا اور مراد وہ کپڑے ہیں جو مالیت میں ایک سے نہ ہوں ، ورنہ تیسری قسم میں ہوں گے جبکہ ان کا ضبط ہوسکے ذکر جنس سے جیسے روئی اور کتان ، یا کارخانہ کے ذکر سے جیسے شام ومصر کا کام، یا پیتل اور دبیز ہونے سے یا طول و عرض کی پیمائش سے یا وزن سے اگر تول کر بیچے جاتے ہوں اور اسی بنا پر ان میں بیع سلم یعنی بدلی جائز ہے جیسا کہ اپنے محل میں معلوم ہوچکا ہے ۔، قسم سوم وہ جن کی ذات میں کوئی کاایسا وصف ہے جس کے سبب کبھی ثمن کبھی مبیع ہوتے ہیں اور میں ویسا نہیں کہتا جیسا تنویر میں فرمایا کہ ایک جہت سے ثمن ہو اور ایک جہت سے مبیع کہ مقایضہ کی بات پلٹ پڑے،
 (۱؎ درمختار     باب الصرف         مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۵۷)
اقول:  وانما زدت لو صف فی ذاتہ احترازا عن قسم الرابع فانہ ایضاًیصیر مرۃ ثمنا واخری لا، لا لو صف فی ذاتہ بل للاصطلاح وعدمہ وھذہ ھی المثلیات فانہا اما ان تقابل باحد النقدین او لا علی الاول مبیعات مطلقا سواء دخلتہا الباء اولا وتعینت اولا کقولک بعتک ھذا الذھب بکُرّ برّ او بھذ االکر فالکر مبیع مطلقا والبیع فی صورۃ التعیین مطلق وفی غیرہ سلم یشترط فیہ شرائطہ وعلی الثانی اما ان تدخلھا الباء اولا علی الاول اثمان مطلقا تعینت اولا کبعتک ھذا الثوب بکربر او بھذا الکر والبیع مطلق فی الوجہین والکر یثبت فی الذمۃ وعلی الثانی ان تعینت فاثمان کبعتک ھذاالکر بھذا الثوب اولا فمبیعات کبعتک کرا بھذا العبد والبیع سلم بشروطہ والحاصل ان المثلی ان قوبل بحجر فمبیع مطلقا والا فان دخلتہ الباء فثمن مطلقا والا فان تعین فثمن اولافمبیع وھذاایضاح ماحرر الشامی مع احسن ضبط لا یوجد فیہ والرابع ما ھو سلعۃ بالاصل وثمن بالاصطلاح کالفلوس فما دام یروج فکثمن والا عاد لاصلہ ولا شک ان المصطلحین اذا ارادوا ان یجعلواسلعۃ ثمنا لا بد لھم ان یرجعوافی تقدیر ھا الی الثمن الخلقی فان ما بالعرض لا یتقوم الابما بالذات فیجعلون اربعۃ وستین من الفلوس الھندیۃ اواحدی وعشرین من الھللات العربیۃ بربیۃ وھکذا فی غیرہا وھم فی ذٰلک بالخیار یصطلحون کیف یشاؤن اذلامشاحۃ فی الاصطلاح، وقد کان قبل نحو عشرین سنۃ فی الدیار الھندیۃ قسمان من الفلوس یروجان احدھما مضروب والاٰخر قطعۃ نحاس مستطیلۃ الشکل نحو ضعف الفلس المضروب فی الوزن وکان من المضروب اربعۃ وستون بربیۃ لاتزید ولا تنقص ومن الاٰخر یختلف السعر، وربما صار ثمانون منہ بربیۃ الی ان کسد ونفد فکل ذٰلک راجع الی الاصطلاح ولا حجر فیہ من جھۃ الشرع الشریف اذا علمت ھذا فالنوط ھو من القسم الرابع سلعۃ باصلہ لانہ قرطاس وثمن بالاصطلاح لانہ یعامل بہ معاملۃ الاثمان وھذہ الرقوم المکتوبۃ علیہ تقدیرات ثمنیۃ بالثمن الاصلی کما علمت، فھو اصطلاح لامضایقۃ فیہ ولا یسأ ل لہ عن وجہ وتوجیہ وقد تبین بھذا التقریر والحمد اﷲ الفتاح القدیر حقیقۃ النوط وانما سائر الاحکام بھا منوط، فاذن لایعتری ان شاء اﷲ تعالٰی فی ابانۃ شیئ من الاحکام اشکال والحمدﷲ المھیمن المتعال ۔
اقول:  ( میں کہتاہوں ) میں نے یہ قید کہ اس کی ذات میں کوئی وصف ایسا ہو اس لئے بڑھادی کہ قسم چہارم نکل جائے کہ وہ بھی تو کبھی ثمن ہوتی ہے کبھی نہیں لیکن کسی اپنے وصف کے سبب نہیں بلکہ اصطلاح وعدم اصطلاح کی بناپر ۔ اور یہ وہ اشیاء ہیں جن کو مثلی کہتے ہیں اب ان کا مقابلہ یا تو چاندی سونے سے ہوگا یا اور چیز سے : پہلی صورت میں مطلقاً مبیع ہیں چاہے خرید وفروخت میں ان کو عوض ٹھہرایا ہو یا سونے چاندی  کو اور یہ شیئ مثلی معین ہو یا غیر معین جیسے کوئی یوں کہے میں نے یہ سونا اتنے من گیہوں کو بیچا یا ان گیہوؤں کے عوض بیچا تو گیہوں بہر حال مبیع ہے  پھر وہ گیہوں اگر معین ہے تو بیع مطلق ہے اور اگر غیر معین ہے تو سلم کہ اس کے شرائط لازم ہوں گے اور دوسری صورت میں ان کے عوض کوئی چیز بیچنا کہی یا ان کو کسی شے کے عوض بیچنا کہا پہلی تقدیر پر ہر حالت میں ثمن ہوں گے خواہ معین ہوں یا نہیں جیسے یوں کہا کہ میں نے یہ کپڑا اتنے گیہوؤں یا ان گیہوؤں کے عوض بیچا اور بیع بہر حال مطلق ہے چاہے یہ معین ہوں یا نہیں اور وہ گیہوں ذمہ پر لازم ہونگے بر تقدیر دوم اگر  یہ چیزیں معین ہوں تو ثمن ہیں جیسے یوں کہا کہ میں نے یہ گیہوں اس کپڑے کے عوض بیچے اور معین نہ ہوں تو مبیع ہیں جیسے یوں کہے کہ میں نے اتنے من گیہوں اس غلام کے بدلے بیچے اور بیع سلم ہے اس کے شرائط کے ساتھ اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ مثلی چیز اگر سونے چاندی کے مقابل ہو تو مطلقاً مبیع ہے ورنہ اگر اس کے عوض بیچنا کہیں تو مطلقا ثمن ہے ورنہ اگر معین ہو تو ثمن ہے او رغیر معین ہو تو مبیع یہ اس کاایضاح ہے جو علامہ شامی نے یہاں منقح فرمایا مگر ایسے نفیس ضبط کے ساتھ جو شامی میں نہیں، قسم چہارم وہ یہ کہ حقیقۃًکوئی متاع ہو اور اصطلاحاً ثمن جیسے پیسے تو وہ جب تک چلتے ہیں ثمن ورنہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جائیں گے اور اصلاً شبہہ نہیں کہ اہل اصطلاح جب کسی چیز کو ثمن کرنا چاہیں تو انہیں ان کے اندازہ میں ثمن پیدائشی کی طرف رجوع کرنے ناگزیر ہے کہ عرضی چیز کا قیام تو ذاتی ہی سے ہوتا ہے تو ۶۴ ہندی  پیسے یا ۲۱عربی ہللے ایک روپے کے قرار دیتے ہیں یوں ہی اس کے ماسوا میں ، اور اختیار ہے جیسے چاہیں اصطلاح مقررکریں کیونکہ اصطلاح میں کوئی روک ٹوک نہیں ، ۲۰ برس پہلے ہندوستان میں دو طرح کے پیسے رائج تھے ایک سکہ زدہ ( ڈبل) دوسرے تانبے کے لمبے ٹکڑے وزن میں ڈبل پیسے سے قریب ، دونے کے ( منصوری) ڈبل پیسے روپیہ کے ۶۴ سے نہ زائد ہوتے ہیں نہ کم ، اور منصوری کا بھاؤ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اور کبھی ایک روپے کے اسی ہوجاتے تھے یہاں تک کہ چلن نہ رہا اور جاتے رہے تو یہ سب اصطلاح کی جانب راجع ہے اور اس میں شرع مطہر کی طرف سے کوئی روک نہیں ۔ جب یہ معلوم ہولیا تو نوٹ چوتھی قسم سے ہے ، اصل میں یہ ایک متاع ہے اس لئے کہ ایک پرچہ کاغذ ہے اور اصطلاح میں ثمن ہے اس لئے کہ اس کے ساتھ ثمن کا سامعاملہ کیا جاتا ہے اور یہ رقمیں کہ اس پر مرقوم ہیں یہ اس کی ثمنیت کا ثمن اصلی سے اندازہ ہے جیسا کہ معلوم ہوچکا تو یہ ایک اصطلاح ہے اس میں کچھ مضائقہ نہیں نہ اس کی وجہ توجیہ دریافت کی جائیگی ، بحمد اﷲ القدیر اس تقریر سے نوٹ کی حقیقت واضح ہوگئی اور تمام احکام اسی پر مبنی تھے تو ان شاء اﷲ تعالٰی اب کوئی دشواری کسی حکم کے اظہار میں آڑے نہ آئے گی ، اور سب خوبیاں اﷲ کو جو ہر چیزکا نگہبان ہے بلندی والا۔
Flag Counter