Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
90 - 180
وقد قال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر لو باع کاغذ ۃ بالف یجوز ولایکرہ ۲؎ اھ وھذہ ان حققت جزئیۃ النوط اتی بھا ھذا الامام قبل حدو ثہ بخمسمائۃ سنۃ، فانہ ھوا لکاغذ الذی یباع بالف ولا غر و فکم من مثل ھذہ الکرامات لعلمائنا الکرام نفعنا اللہ تعالٰی ببرکاتھم فی الدنیا والاٰخرۃ اٰمین ، فلا ریب ان النوط بنفسہ مال متقوم یباع ویشتری ویوھب ویورث ویجری فیہ جمیعہ مایجری فی الاموال ،
اور بیشک محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا اگر کوئی اپنے کاغذ کاٹکڑا ہزار روپے کو بیچے تو بلا کراہت جائز ہے انتہی، اور اگر تحقیق کیجئے تو یہ بعینہ نوٹ کا جزئیہ ہے کہ ان امام نے اس کی پیدائش سے پانچسو برس پہلے فرمادیا کہ یہ وہ کاغذ ہے جو ہزار کو بکتا ہے اور کچھ اچنبھا نہیں ایسی کرامتیں ہمارے علماء کرام سے بکثرت ثابت ہوئیں اﷲ ہمیں ان کی برکتوں سے دنیا و آخرت میں نفع پہنچائے ، آمین ! تو کوئی شک نہیں کہ نوٹ بذات خود قیمت والا مال ہے کہ بکتا ہے اور مول لیا جاتا ہے اور ہبہ کیا جاتا ہے اور وراثت میں آتا ہے اور جتنی باتیں مال میں جاری ہیں سب اس میں جاری ہوتی ہیں،
اقول:  ومن الظن بل من اردء الشکوک توھم انہ سند من قبیل الصکوک ای ان السلطنۃ التی تروج ھذہ القراطیس تستدین من اٰخذیہا الدراہم و تعطیھم ھذہ تذکرۃ لدیونھم ولمقادیرھا فاذا جاؤابھا الی السلطنۃ قضتھم دیونھم واخذت قراطیسہا وان اعطوھا غیر ھم من الرعایا فہم یستدینون من اولٰئک الاخرین و یحیلونھم علی السلطنۃ ویعطونھم تلک التذکرۃ علما علی الاحالۃ کی یتوصلوابھا الی اخذ مثل دیونھم من السلطنۃ المدیونۃ لمدیینھم وھکذا کلما تداولت الایدی تکررت الادانات والحوالات ھذا معنی کونہ سندا، وکل طفل عاقل یعلم ان ھذہ المعانی مما لایخطر ببال احد من المتعاملین بھا و لایقصدون قط بھذا التداول ادانہ ولا استدانۃ ولا حوالۃ ولا یذہب خاطر ھم الٰی شیئ من ذٰلک اصلا ولاتری احدھم قط یذکر فی دفتر دیونہ علی الناس من اخذالدراہم منہ باعطاء النوط ولا یقول لہ مدۃ عمرہ انک استدنت منی کذا فاقضنی وخذتذکرتک منی ولا فی دفتردیون الناس علیہ من اخذھوالدراہم منہ واعطاہ النوط ولا یذکر لاحد فیہ حیاتہ ولا عندمماتہ ان لفلان علی کذا فاقضوہ وخذوا تذکرتی منہ والظلمۃ المھتکۃ المعتادۃ باکل الربا جھارا لایدینون احدادرھما الابربا یوضع علیہ کل شھرمالم یقض وتراھم یاخذون النوط و یعطون الدراہم ولایطلبون علیہا فلسا واحدا لاعلی شھر ولا علی سنین ولو علمواانہ ادانۃ لما ترکوہ قطعا، فالحق انہم جمیعا انما یقصدون المبادلۃ والبیع والشراء ومن اخذ النوط یعلم قطعاً انہ ملکہ بالدراہم ومن اعطاہ یعلم قطعا انہ اخرجہ من ملکہ بالدراہم و صاحبہ یعدہ من مالہ و کنزہ کا لنقدین والفلوس و یدخرہ و یھبہ ویو صی بہ ویتصدق فلا یفھمون الاالبیع ولا یقصدون الا البیع والناس عند مقاصدہم وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۱؎ ، فمن المتیقن الذی لایحرم یحوم حومۃ شبھۃ انہ عند الناس مال متقوم محرز مدخر مرغوب فیہ یباع ویشتری ویجری فیہ کل مافی المال جری اما ماتری من علو اثمانہ فقطعۃ بعشرۃ واخری بمائۃ واخری بالف،
اقول: ( میں کہتا ہوں) اور گمان فاسد بلکہ نہایت بدتر شک میں سے  ہے یہ وہم کہ نوٹ دستاویز کے قبیل سے کوئی سند ہے یعنی وہ سلطنت جو ان کاغذوں کو رائج کرتی ہے ان کے لینے والوں سے روپے قرض لیتی ہے اور یہ ان کے قرضوں اور انکی مقداروں کی یادداشت ان کو دیتی ہے تو جب وہ لوگ سلطنت کے پاس وہ نوٹ لے کر آئیں ________________سلطنت ان کے قرض ادا کردیتی اور اپنے کاغذ واپس لیتی ہے اور اگر نوٹ لینے والے رعیت میں اوروں کو نوٹ دیں تو وہ ان دوسروں  سے روپے قرض لیتی ہیں اور اپنا قرضہ سلطنت پر اتار دیتے ہیں اور اس حوالہ کی نشانی کو وہی یا دداشت کا کاغذ ان کو دے دیتے ہیں تا کہ ان کے ذریعہ سے ان دوسروں نے جو قرض ان پہلوں کو دیا تھا اسے سلطنت سے وصول کرسکیں جو ان پہلوں کے مقروضوں کی مدیون ہے اور یونہی جتنے الٹ پھیر نوٹوں کے ہوں قرض اور حوالے مکرر ہوتے چلے جاتے ہیں اس کے سند ہونے کے یہ معنی ہیں اور ہر سمجھ وال بچہ بھی جانتا ہے کہ جتنے لوگ نوٹ کا معاملہ کرتے ہیں کسی کے دل میں ان باتوں کا خطرہ بھی نہیں گزرتا اور کبھی اس الٹ پھیر سے قرض دینے یا لینے یا حوالہ کا قصد نہیں کرتے اور کبھی ان باتوں میں سے کسی طرف ان کا خیال نہیں جاتا  اور تو ان میں کبھی کسی کو نہ دیکھے گا کہ اپنے قرض کے بھی کھاتے میں اس کا نام لکھے جس نے نوٹ دے کر اس سے روپے لئے اور اپنی زندگی بھر اس سے یہ نہیں کہتا کہ تو نے مجھ سے قرض لیا ہے ، ادا کردے اور اپنی یادداشت مجھ سے لے لے اور جواوروں کا ا س پر دینا آتا ہے اس میں بھی اس کا نام کبھی نہیں لکھتا جسے نوٹ دے کر اس نے روپے لئے اور اپنی زندگی بھر یا مرتے وقت یہ نہیں کہتا کہ فلاں کا مجھ پر اتنا آتا ہے اسے ادا کردینا اور میری یادداشت اس سے لے لینا اور وہ ظالم بیباک جو سود علانیہ کھانے کے عادی ہوئے ہیں ایک روپیہ کسی کو قرض نہ دیں گے جب تک تا ادائے دین اس پر ماہوار سود نہ مقرر کرلیں اور تو انہیں دیکھے گاکہ نوٹ لے کر روپے دیتے ہیں اور اس پر ایک پیسہ بھی نہیں مانگتے نہ مہینے پیچھے نہ برسوں بعد، اور اگر وہ جانتے کہ یہ قرۤض دینا ہے تو ہر گز نہ چھوڑتے ، تو حق یہ ہے کہ وہ سب کے سب اس سے مبادلہ اور خریدو فروخت ہی کا قصد کرتے ہیں جو نوٹ لیتا ہے اور وہ یقینا جانتا ہے کہ میں روپے دے کر اس کا مالک ہوگیا اور جو نوٹ دیتا ہے وہ یقینا جانتا ہے کہ میں نے روپے لے کر نوٹ اپنی ملک سے خارج کردیا اور نوٹ لینے  والا اسے روپوں اشرفیوں پیسوں کی طرح اپنا مال اور اپنی جمع سمجھتا ہے اور اسے جوڑ کر رکھتا ہے اور ہبہ کرتا ہے اور اس میں وصیت کرتا ہے اور تصدیق کرتا ہے تو وہ بیع ہی سمجھتے ہیں اور بیع ہی کا قصد کرتے ہیں اور لوگوں کے معاملات وہی سمجھے جائیں گے جو ان کے مقصود ہیں اور اعمال کا مدار نیت ہی پر ہے اور ہر شخص کےلئے وہی ہے جو اس نے نیت کی تو ایسے یقین سے ثابت ہے جس کے گرد شبہہ کو اصلاً بار نہیں کہ نوٹ لوگوں کے نزدیک قیمت والا مال ہے جو محفوظ رکھا جاتا ہے جمع کیا جاتا ہے اس کی طرف رغبت ہوتی ہے بیچا جاتا ہے اور مول لیا جاتا ہے اور جو مال میں جاری ہے سب اس میں جاری ہوتا ہے اور یہ جو تم اس کی بڑی بڑی قیمتیں دیکھتے ہو کہ ایک نوٹ دس کا اور دوسر ا سو کا اور تیسرا ہزار کا ،
 (۲؎ فتح القدیر     کتاب الکفالۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۳۲۴) 

(۱؎ صحیح البخاری     باب کیف بدء الوحی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲)
فاقول:  قدمنا عن الفتح ان قطعۃ قرطاس تصلح ان تباع بالف و ذلک بالتراضی بین العاقدین فقط، فکیف اذاتراضی علیہ امم من الناس وجعلو اھذہ القطعات بھذہ الاثمان اصطلاحا منھم علا ان الضرب السلطانی لہ قیمۃ عند الشرع ایضا، الاتری ان من سرق عشرۃ دراہم مضروبۃ قطع ومن سرق تبراغیر مضروب وزنہ قدر عشرۃ ولا تبلغ قیمۃ عشرۃ مضروبۃ لم یقطع کما نص علیہ فی الھدایۃ ۱؎ وغیرھا عامۃ کتب المذہب والفلوس المضروبۃ المقدرۃ بربیۃ ان اخذت قدرھا وزن من النحاس لایساوی ربیۃ قطعا بل قد لایساوی نصفہا بل تری مثل ذٰلک فی الفضۃ فقد کانت فی قریب من الزمان فضۃ تساوی ربیتین وزنا بربیۃ واحدۃ فی بلادنا وکانت الجھلۃ یشترون ولا یعلمون مافیہ من وبال الربا فاذا حصل بالضرب التضعیف فالضعف والا ضعاف سواء ومن الجلی عند کل من ورد ولو عابر سبیل مشرع الشرع الجلیل او منھل العقل السلیم ان الشیئ التافۃ جدا ربما یعرض لہ ما یجعلہ اعلی من الوف امثالہ وربما اشتریت جاریۃ بما ئتی الف واکثر، ولایرغب فی اخری بثلثین درھما مع ان الاوصاف لا قسط لہا من الثمن حتی الاطراف مالم تصرمقصودۃ بالاتلاف فما ھی الاثمن الذات زادتہ الاوصاف لزیادۃ الرغبات، ارأیتک ان کانت ورقۃ کاغذ فیہا علم نفیس عجیب نادر غریب وکان رجل یطلبہ ویعرف قدرہ فاشتراھا بعشرۃ الاف ھل فیہ من خلاف کلا، بل حلال طیب بنص القراٰن والاجماع من دون نکیر ولا نزاع ،قال تعالٰی الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم۱؎ فھذ ہ العشرۃ الالاٰف ماھی ثمن المکتوب فانہ لا مالیۃ لہ اصلا کما نص علیہ فی الہدایۃ وسائر الکتب المعللۃ وھذا نصھا ولا قطع فی سرقۃ المصحف و ان کان علیہ حلیۃ لانہ لامالیۃ لہ علی اعتبار المکتوب واحرازہ لا جلہ لاللجلد والاوراق والحلیۃ وانما ھی توابع، ولا فی الدفاتر کلھا لان المقصود مافیہا وذٰلک لیس بمال الادفاتر الحساب لان مافیہا لایقصد بالاخذ فکان المقصود الکواغذاھ ۱؎ ملتقطا فتبین ان الورقۃ الواحدۃ ھی التی بلغ ثمنھا لما فیہا عشرۃ اٰلاف فای غرو فی بلوغ قیمۃ نوط عشرۃ اواکثر لاجل ماکتب فیہ مما استجلب رغبات الناس الیہ وای حجرمن الشرع علیہ وبالجملۃ فالمسألۃ اوضع من ان تحتاج الی ایضاح والی کم تبتغی المصباح وقد اسفر الاصباح ،
Flag Counter