| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
رسالہ کِفْلُ الفقیہِ الفاہِم فی احکامِ قِرطاسِ الدِّراھمِ(۱۳۲۴ھ) (کاغذی نوٹ کے احکام کے بارے میں سمجھدار فقیہ کا حصہ)
مسئلہ ۲۱۷: ماقولکم دام طولکم فی ھذاالقرطاس المسکوک المسمی بالنوط والسؤال عنہ فی مواضع الاول ھل ھو مال ام سند من قبیل الصک، الثانی ھل تجب فیہ الزکٰوۃ اذا بلغ نصابا فاضلا وحال علیہ الحول ام لا ،الثالث ھل یصح مھرا، الرابع ھل یجب القطع بسرقتہ من حرز، الخامس ھل یضمن بالاتلاف بمثلہ او بالدراہم ، السادس ھل یجوز بیعہ بدراہم او دنانیر او فلوس، السابع اذا استبدل بثوب مثلا یکون مقایضۃ او بیعا مطلقا، الثامن ھل یجوز اقراضہ وان جاز فیقضی بالمثل او بالدراہم، التاسع ھل یجوز بیعہ بدراہم نسئۃ الی اجل معلوم، العاشر ھل یجوز السلم فیہ بان تعطی الدراہم علٰی نوط معلوم نوعا وصفۃ یؤدی بعد شہر مثلاً الحادی عشر ھل یجوز بیعہ بازید مماکتب فیہ من عدد الربابی کان یباع نوط عشرۃ باثنی عشر او عشرین او بانقص منہ کذلک ، الثانی عشرا ن جاز ھذا فہل یجوز اذاا راد زید استقراض عشرۃ ربابی من عمرو ان یقول عمرو لادراہم عندی ولکن ابیعک نوط عشرۃ باثنتی عشرۃ ربیۃ منجمۃ الٰی سنۃ تؤدی کل شہر ربیۃ وھل ینھی عن ذلک لانہ احتیال فی الربا وان لم ینہ فما الفرق بینہ و بین الربا حتی یحل ھذا او یحرم ذٰلک مع ان المال وھو حصول الفضل واحد فیہما افید ونا الجواب تو جروایوم الحساب۔
آپ کا کیا ارشاد ہے آپ کا فضل ہمیشہ رہے اس کا غذ کے باب میں جس پر سکہ ہوتا ہے اور اسے نوٹ کہتے ہیں ، اور اس میں متعدد باتیں دریافت کرنی ہیں ،اول کیا وہ مال ہے یا دستاویز کی طرح کوئی سند ، دوم جب وہ بقدر نصاب ہوا اور اس پرسال گزرجائے تو اس پر زکوٰہ واجب ہوگی یانہیں، سوم کیا اسے مہر مقرر سکتے ہیں ، چہارم اگر کوئی اسے محفوظ جگہ سے چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹنا واجب ہوگا یانہیں ، پنجم اگر اسے کوئی تلف کردے تو عوض میں اسے نوٹ ہی دینا ٹھہرے گا یا روپے، ششم کیا روپوں یا اشرفیوں یا پیسوں کے عوض اس کی بیع جائز ہے ، ہفتم اگر مثلاً کسی کپڑے سے اسے بدلیں تو یہ بیع مطلق ہوگی یا مقایضہ ( جس میں دونوں طرف متاع ہوتی ہے ) ہشتم کیا اسے قرض دینا جائز ہے اورا گر جائز ہے تو ادا کرتے وقت نوٹ ہی دیا جائے یا روپے ، نہم کیا روپوں کے عوض ایک وعدہ معینہ پر قرضوں اس کا بیچنا جائز ہے ،دہم کیا اس میں بیع سلم جائز ہے یوں کہ روپے پیشگی دئے جائیں کہ مثلاً ایک مہینہ کے بعد اس قسم کا اور ایسا نوٹ لیا جائے گا ، یازدہم کیا یہ جائز ہے کہ جتنی رقم اس میں لکھی ہے اس سے زائد کو بیچا جائے مثلاً دس کا نوٹ بارہ یا بیس کو یا اسی طرح اس سے کم، دوازدہم اگر یہ جائز ہے کہ جب زید عمرو سے دس روپے قرض لینا چاہے تو عمرو کہے روپے تو میرے پاس نہیں ہیں ہاں میں دس کا نوٹ بارہ کو سال بھر کی قسط بندی پر تیرے ہاتھ بیچتا ہوں کہ تو ہر مہینے ایک روپیہ دیا کرے ، کیا اس کو منع کیا جائے گا کہ یہ سودکاحیلہ ہے ، اور اگر نہ منع کیا جائے تو اس میں اور ربا میں کیافرق ہے کہ یہ حلال ہو اور وہ حرام حالانکہ مآل دونوں کا ایک ہے یعنی زیادتی کا ملنا ، ہمیں جواب سے فائدہ بخشو قیامت کے دن تمہیں اجر ملے ۔
الجواب اللھم لک الحمد یاوھاب صل وسلم علی السید الاوّاب وعلٰی اٰلہٖ وازواجہ والا صحاب اسئلک ھدایۃ الحق والصواب، اعلم وفقنی اﷲ وایاک والصواب ،وتولّی ھدای وھداک ان النوط من احدث الاشیاء واجدّھالن تجد لہ ذکراو لا اثرافی شیئ من مؤلفات العلماء حتی العلامۃ الشامی ومن ضاھاہ من العلماء الماضین قریبا، ولکن الائمۃ شکراللہ تعالٰی مساعیہم الجمیلۃ وافاض علینا من برکاتھم الجلیلۃ قد بینوا الملۃ الحنفیۃ بیانا شافیالیس دونہ خفاء، وقد اٰضت بحمد اﷲ تعالٰی غراء بیضاء لیلھا کنھا رھا فاصلوا اصولا و فصلو اتفصیلا ، وذکر و اکلیات تنطبق علی مالا یحصی من جزئیات ، فالحوادث وان ابت النہایۃ لاتکاد تخرج عما افادونا من الدرایۃ ولن یخلو لوجود ان شاء الملک الودودعمن یقدرہ المولٰی سبحنہ وتعالٰی علی استخراج تلک الخبایا و الاسترباح من تلک العطایا والمزایا نعم من الافہام بعید و قریب والانسان یخطی ویصیب،وما العلم الانور یقذفہ اﷲ فی قلب من یشاء من عبادہ ،فلا حیلۃ الاالتجاءالی توفیقہ سبحٰنہ و ارشادہ وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل وعلیہ ثم علی رسولہ التعویل، جل وعلا وتکرم وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،
الٰہی ! تیرے ہی لئے حمد ہے ، اے بہت عطافرمانیوالے ! درود و سلام بھیج ان سردار پر جو تیری طرف بہت رجوع فرمانے والے ہیں اور ان کے آل وازواج واصحاب پر میں تجھ سے حق وراستی کی رہنمائی چاہتاہوں جان اﷲ تعالٰی مجھے اور تجھے توفیق دے اور میری او رتیری ہدایت کا والی ہو کہ نوٹ ایک سب سے زیادہ جدید اور نو پیدا چیز ہے تو تالیفات علماء میں اس کااصلاً نام و نشان نہ پائیگا یہانتک کہ علامہ شامی اور ان کےمثل جن کا زمانہ ابھی قریب گزرا لیکن ہمارے اماموں نے ( اﷲ ان کی نیک کوششیں ٹھکانے لگائے اور ان کی عظیم برکتوں کا ہمیں فیض پہنچائے ) اس دین حنیف کا شافی بیان فرمادیا جس میں اصلا پوشیدگی نہیں تو بحمد اﷲ یہ شریعت ایسی روشن چمکتی ہوگئی کہ اس کی رات بھی دن کی طرح ہے تو انہوں نے قواعد مقرر فرمائے اور ہر بات جدا جدا دکھادی اور ایسے کلیے ذکر فرمائے کہ بیشمار جزیوں پر منطبق آئیں تو نئی پیدا ہونے والی باتیں اگر ختم ہونا نہیں مانتیں مگر وہ علم جو ائمہ ہم کو دے گئے ہیں اس سے کوئی باہر رہتی نہیں معلوم ہوتی اور اﷲ نے چاہا تو زمانہ ایسوں سے خالی نہ ہوگا جسے اﷲتعالٰی ان پوشیدہ باتوں کے نکالنے اور ان بخششوں اور فضیلتوں سے نفع اٹھانے پر قدرت دے ہاں فہم بعضے بعید ہوتے ہیں اور بعضے قریب، اور آدمی خطا بھی کرتا ہے اور صواب بھی، اور علم تو اسی نور کا نام ہے جو اﷲ تعالٰی اپنے جس بندے کے چاہے قلب میں القافرماتا ہے تو سوا اس کے کوئی چارہ نہیں کہ اﷲ عزوجل کی توفیق و ہدایت کی طرف التجا کی جائے اور اﷲ ہم کو کافی ہے اور بہت اچھاکام بنانے والا اور اسی پر اور پھر اس کے رسول پر بھروسا ، وہ بزرگی وبلندی و کرم والا، اور ان پر اس کے درود و سلام،
فاقول: وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق اول اسئلتک اصل اسئلتک واذا علمت حقیقۃ ھذا القرطاس اتضحت الاحکام کلہا من دون التباس ، اما اصلہ فمعلوم انہ قطعۃ کاغذ و الکاغذ مال متقوم و مازادتہ ھذہ السکۃ الارغبۃ للناس الیہ وزیادۃ فی صلوح ادخارہ للحاجات وھذا معنی المال ای مایمیل الیہ الطبع ویمکن ادخارہ للحاجۃ کما فی البحر والشامی ۱؎ وغیرہما، و معلوم ان الشرع لم یرد بحجر المسلم عن التصرف فی قطعۃ قرطاس کیفما کانت کما ورد بہ فی الخمر والخنزیر وھذا ھو مناط التقوم کما فی ابن عابدین وفیہ عن التلویح المال مامن شانہ ان یدخر للانتفاع وقت الحاجۃ والتقویم یستلزم المالیۃ۲؎،وفیہ عن البحر عن الحاوی القدسی المال اسم لغیر الاٰدمی خلق لمصالح الاٰدمی وامکن احرازہ والتصرف فیہ علی وجہ الاختیار اھ۱؎
فاقول: ( تو میں کہتاہوں) اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اسی سے تحقیق کی بلندیوں تک پہنچنا، آپ کا پہلا اسوال آپ کے سب سوالوں کی اصل ہے اور جب اس کاغذ کی حقیقت معلوم ہوجائیگی تو سب احکام واضح ہوجائینگے جن میں کوئی شبہہ نہ رہے گا، اس کی اصل تو معلوم ہے کہ وہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے اور کاغذ مال متقوم ہے اور اس سکہ نے اسے کچھ زیادہ نہ کیا مگر یہی کہ لوگوں کی رغبتیں اس طرف بڑھ گئیں اور وقت حاجت کےلئے اٹھارکھنے کا زیادہ لائق ہوگیا اور مال کے یہی معنی ہیں یعنی وہ جس کی طرف طبیعت میل کرے اور حاجت کےلئے اٹھارکھنے کے قابل ہو، جیساکہ بحر و شامی وغیرہما میں ہے اور معلوم ہے کہ شرع مطہر نے کبھی مسلمان کو اس سے نہ روکا کہ وہ اپنے پارہ کاغذ میں جس طرح چاہے تصرف کرے جیساکہ شراب و خوک کے بارے میں نہی وارد ہوئی اور مال کے قیمت والے ہونے کا اسی پر مدار ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے ، اور اسی میں تلویح سے نقل فرمایا مال وہ چیز ہے جس کی شان یہ ہو کہ وقت حاجت اس سے نفع لینے کےلئے اٹھارکھا جائے اور قیمت والا ہونا مال ہونے کو مستلزم ہے ، اسی میں بحوالہ بحرالرائق حاوی قدسی سے ہے، مال آدمی کے سواہر شے کا نام ہے جو آدمی کی مصلحتوں کےلئے پیدا کی گئی اور اس قابل ہو کہ اسے محفوظ رکھیں اور باختیار خو داس میں تصرف کریں،
(۱؎ و ۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳) (۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳)