Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
88 - 180
مسئلہ ۲۱۵: از لکھنؤ مدرسہ فرقانیہ مرسلہ مولوی سید مظفر صاحب مدرس مدرسہ مذکور ۲۱/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

زید نے عمرو کو چھ سات ہزار روپیہ قرض دیا اور قرض دینے کے وقت زید کا اراد ہ اشارۃً یا کنایۃً یا صراحۃً سود لینے کا نہ تھا اور وعدہ عمرو نے ادائیگی روپیہ کا دوماہ کا کیا تھا، بعد میں رقعہ تحریر کیا گیا تو اس میں سود اس وجہ سے زید نے لکھوایا کہ قانون مروجہ گورنمنٹی کے رقعہ مذکورہ ناجائز نہ ہو اور ضرورت کے وقت بیکار نہ ہو عمرو نے دوماہ کی جگہ پندرہ ماہ میں نصف روپیہ تو بمشکل تمام زید کو ادا کیا اور نصف نہیں حتی کہ قریب سال کے ہوگئے چونکہ میعاد رقعہ تین سال ہوتی ہے اس لئے زید کو عمرو کی نالش کرنی پڑی تو اس نالش کرنے میں زید کا روپیہ بہت ساخرچ ہوا اور زید کی ڈگری عمرو پر مع سود کچہری مجاز سے ہوگئی اور عمرو نے اصل روپیہ مع سود داخل کچہری بھی کردیا تو اب عندالشرع زید کو اپنا روپیہ مع سود لینا جائز ہے یانہ؟ اگر کل سود سے پرہیز کرے تو بقدر اپنے خرچ نالش کے لینا جائز ہوگا یانہ؟ اور روپیہ کچہری سے کل زید کو بلا سود وا پس بھی نہیں مل سکتا تو ایسی مجبوری میں زید کو اپنا روپیہ مع سود لینا جائز ہوگا ، اور اگر کچہری سے روپیہ اس کو مع سود ملا تو کیا طریقہ احتراز کا ہوگا؟ اور بقدر اپنے خرچ کچہری کے نکال کر باقی کو صدقہ کردے یا اصل مالک کو واپس ؟مجموعہ فتاوٰی مولوی عبدالحی لکھنؤ ی میں عدم جواز کا فتوٰی لکھا ہوا ہے کہ مدعی مسبب ہے نہ مباشر ، اور ضمان مباشر پر ہوتا نہ کہ مسبب پر ، جیساکہ واقف فقہ پر مخفی نہیں، جواب مع حوالہ کتب ودلائل کے تحریر ہو۔
جواب دیوبندی 

اس صورت میں زید کواپنا اصل روپیہ رکھ کر باقی جو سود کے نام سے وصول ہوا ہے عمرو کو واپس کردینا چاہئے کیونکہ خرچہ مقدمہ کا مدعی علیہ سے وصول کرنے نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے ، ایک یہ ہے کہ قول جو مولانا عبدالحی صاحب نے لکھا ہے ، اور دوسرا یہ کہ بصورت تعنت مدعا علیہ اور بلا نالش کسی طرح وصول نہ ہوسکنے کی صورت میں خرچہ مدعا علیہ سے لیا جائے تو صورت مذکورہ میں چونکہ مدعی  نے محض قانونی قاعدہ کو پیش نظر کھ کر نالش کی ہے اورعمرو کا کوئی تعنت اور سرکشی و انکار ظاہر نہیں ہوا اس لئے زید کو مناسب نہیں کہ وہ عمرو  مدعا علیہ سے خرچہ وصول کرے ، واﷲ تعالٰی اعلم ۔ کتبہ عزیز الرحمٰن عفی عنہ مفتی مدرسہ دیوبند ۸/ ربیع الثانی ۱۳۳۶ھ
سود کا ایک حبہ لینا حرام قطعی کہ سو د لینے والے پر اﷲ و رسول کی لعنت ہے ۔ صحیح حدیثوں میں فرمایا :

الربٰا ثلثۃ وسبعون حوبا ایسر ھن کان یقع الرجل علٰی امہ ۱؎۔  سود کھانا تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے جن میں سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے(ت)
 (۱؎المستدرک     کتاب البیوع    دارالفکر بیروت    ۲ /۳۷)

(شعب الایمان     حدیث۵۵۱۹    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۴ /۳۹۴)
دوسری حدیث میں ہے :
من اکل درھم ربا وھو یعلم کان کمن زنی بامہ ستاوثلثین مرۃ ۲؎۔
جو دانستہ  ایک درہم سود کھائے وہ اس کے مثل ہو جس نے چھتیس بار اپنی ماں سے زنا کیا۔(ت)
 (۲؎ المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۲۷۰۳    مکتبۃ المعارف الریاض     ۳ /۳۳۰)

(الترغیب والترہیب     الترہیب من الربا حدیث۱۴    مصطفی البابی مصر    ۳ /۷)
ایک درہم تقریباً یہاں کے ۴ ۰/ کے برابر ہوتا ہے جس کے اٹھارہ پیسے ہوئے تو فی دھیلا ایک بار ماں سے زنا ہوا۔ اگر وہ اس بیان میں سچا ہے کہ کچہری سے بلا سود روپیہ اسے نہیں مل سکتا تھا تو روپیہ واپس لے اور اس میں سے صرف اپنا زر اصل اٹھالے باقی تمام وکمال عمرو کو واپس دے مدعا علیہ سے خرچہ لینا بھی مطلقاً حرام ہے اگر چہ اس نے تعنت کیا ہو ، اسے مختلف فیہ بتانا دیوبندی مفتی کا کذب محض ہے ہر گز کسی کتاب میں اس کا جواب نہیں ، خرچہ کہ اس سے کچہر ی نے لیا دو حال سے خالی نہیں اس کے نزدیک حقاً لیا یا ظلماً لیا، اگر حقاً لیا تو اس کا معاوضہ دوسرے سے کیا چاہتا ہے اور اگر اس کے نزدیک ظلماً لیا تو کونسی شریعت کا مسئلہ ہے کہ مظلوم دوسرے پر ظلم کرے ، عقد نہیں وراثت نہیں مال مباح نہیں کوئی وجہ شرعی اس سے لینے کی نہیں تو نہ ہوامگر باطل ، اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے  :
ولا تاکلوااموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا الی الحکام لتاکلو افریقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون ۳؎۔
آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤاور اس کو حاکموں کے پاس اس نیت سے مت لے جاؤ کہ تم لوگوں کا کچھ مال جان بوجھ کر گناہ کے ساتھ کھا جاؤ۔(ت)
(۳؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۸۸)
عقود الدریہ میں ہے :
رجل کفل اٰخر عن زید بدین معلوم ثم طالبہ زید بہ والزمہ بہ لدی القاضی فطلب الرجل من زید ان یمھلہ بہ فابی الاان یدفع لہ الرجل قدر ماصرفہ فی کلفۃ الالزام فدفع لہ ثم دفع لہ المبلغ المکفول بہ ویرید الرجل مطالبۃ زید بما قبضہ زید منہ من کلفۃ الالزام فلہ ذٰلک ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایک شخص دوسرے شخص کا معین قرض کے بارے میں زید کے پاس ضامن بنا ، پھر زید نے ضامن شخص سے اس قرض کامطالبہ کیا اور قاضی کے پاس اس پر اس کا لزوم ثابت کیا اب اس شخص (ضامن ) نے زید سے مہلت مانگی تو زید نے اس وقت مہلت دینے سے انکار کردیا جب تک وہ زید کو اس مقدمہ پر کیا ہواخر چہ نہ دے چنانچہ اس نے زید کو وہ خرچہ دے دیا، پھر وہ قرض بھی زید کو اس نے ادا کردیا جس کا وہ ضامن بنا تھا، اب وہ ضامن شخص چاہتا ہے کہ زید نے جو مقدمہ کا خر چ اس سے لیا تھا زید سے اس کا مطالبہ کرے تو اس کو ایسا کرنے کا حق ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ العقود الدریۃ     کتاب الکفالۃ     حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان    ۱ /۳۰۸)
مسئلہ ۲۱۶: ازبمبئی دکان ایس کریم نمبر ۹ مسئولہ مولوی عبدالعلیم صاحب میرٹھ ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ مسجد کے کرایہ کے روپے ورثاء واقفہ مکان کے مقدمہ دائر کرنے کے سبب کورٹ کے رسیور یعنی محاٖفظ کے پاس جمع ہیں آٹھ ہزار روپوں کی مذکور محافظ نے پرامیسری نوٹیں خریدیں ، جب مقدمہ ورثاء واقفہ اور متولیان مسجد نے آپس میں اتفاق کرکے کورٹ سے(کننٹ ڈگری لی) یعنی مقدمہ اٹھالیا اس وقت محافظ مذکور کے پاس سے پرامیسری نوٹوں کا بیاج سالانہ سیکڑے ساڑھے تین ٹکے کے حساب سے ایک ہزار اٹھارہ روپے چودہ آنے دو پائی نقد اور چار ہزار ایک سو سینتالیس روپے نوآنے نقد بابت کرایہ متولیان مسجد کو دئیے متولیان مسجد کے قبضہ میں مذکور نوٹیں کئی مہینوں تک مسجد کی تجوری میں رہیں جن کے رہنے سے مذکورنوٹوں کا ایک سو باسٹھ روپیہ آٹھ آنہ دس پائی بیاج بڑھا ، اکثر متولیان مسجد نے آپس میں اتفاق کر کے یہ ٹھہراؤ کیا کہ موجودہ جنگ کے سبب آپس میں اطمینان نہ ہونے کی وجہ قیمت اس وقت کم ہوئی ہے اور آئندہ اس سے بھی کم ہونے کا خوف ہے اس وجہ سے مذکور نوٹوں کو جلد فروخت کیا جائے اس وقت ایک متولی نے ترمیم کی کہ موجودہ جنگ کی وجہ سے ان کی قیمت کم ہوئی ہے اس لئے فی الحال فروخت نہ کریں۔ جنگ ختم ہونے کے بعد مذکور نوٹوں کی پوری قیمت آئے گی اس وقت فروخت کیا جائے کہ مسجد کا نقصان بھی نہ ہو گا، اس ترمیم کی کسی نے تائید نہیں کی اور مذکورہ نوٹوں کو فروخت کرنےکےلئے نا ظر مسجد کو اجازت دی اور اس وقت یہ بھی ٹھہراؤ کیا کہ مذکورہ بیاج کے روپیوں کو مسجد کے دفتر میں بیاج کے نام سے درج کیا جائے اس وقت ایک متولی نے ترمیم کی کہ جس تاریخ کو مذکورہ نوٹیں محافظ نے خرید کی ہیں اس تاریخ سے جس تاریخ کو بکیں ______ _______________اس تاریخ تک مذکور نوٹوں کے بیاج کے روپے مسجد کے دفتر میں بیاج کے نام سے جمع نہیں کئے جائیں بلکہ وہ رقم مذکور محافظ کے حوالے کئے جائیں ( مذکور محافظ گبر پارسی ہے) مذکور ترمیم کی بھی کسی نے تائید نہیں کی، کیا متولیان مسجد مذکور بیاج کی رقم کولینا اور مسجد کے دفتر میں بیاج کے نام سے درج کرنا شرعاً جائز ہے ؟ دیگر ہماری گورنمنٹ عالیہ مذکورہ نوٹوں کی جو اصل قیمت ہے وہی سمجھتی ہے اور اسی کے موافق آج تک مذکور نوٹوں کا بیاج پورا دے رہی ہے کیا اس وجہ سے مذکور بیاج کی رقم کو مذکور نوٹوں کی پوری قیمت نہ ملنے کی وجہ سے مذکور نوٹوں کی گھٹی ہوئی رقم میں داخل کرسکتے ہیں ؟ دیگر متولیان مسجد کو مذکور بیاج کے روپے مذکور محافظ سے مسجد کے لئے لینا یا ورثاء واقفہ کے شرعی حصہ میں بطور رضامندی باہمی کے دینا جائز ہے یانہیں؟ لہٰذا ازراہ ہمدردی ملی واحساس دینی مذکورہ بالا کی بابت شرعی حکم بصورت فتوٰی تحریر فرما کر مسلمانوں کو ورطہ گمراہی سے نجات دیں اور خدا وند عالم سے دینی و اخروی اجر حاصل فرمائیں وما علینا الاالبلاغ خیر خواہ اسلام۔
الجواب 

سودحرام ہے
قال اﷲ تعالٰی وحرم الربٰو۱؎
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ت)
 (۱؎ القرآن الکریم  ۲/۲۷۵)
مسجد اسے قبول نہیں کرسکتی،
قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ طیب لایقبل الاطیباً۲؎۔
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اﷲ تعالی پاک ہے اور وہ قبول نہیں فرماتا مگر پاک کو ۔(ت)
 (۲؎ السنن الکبرٰی للبیہقی    کتاب صلوٰۃ الاستسقاء     باب الخروج من المظالم الخ     دارصادر بیروت    ۳ /۳۴۶)

(صحیح مسلم     کتاب الزکوٰۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۲۶)
مسجد کے دفتر میں سود کے نام سے جمع کرنا اسے نجاست سے آلودہ کرنا ہے ، قیمت اگر گھٹ گئی تو گورنمنٹ نے کوئی مال مسجد کا نہ لے لیا جس کے تاوان میں یہ رقم لی جائے ملازم کورٹ کو اس کا دینا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ کسی طرح اس روپے کا مستحق نہیں۔ سود سمجھ کر لینے کا جواب تو یہ ہے ، ہاں اگر نہ اسے سود سمجھیں نہ سود کہیں ، نہ سود کے نام سے دفتر مسجد میں جمع کریں بلکہ یہ جانیں کہ گورنمنٹ اپنی خوشی سے بغیر ہمارے غدر کے ( کہ غدر شرعاً حرام ہے ) ایک مال زائد ہمیں مسجد کے لئے دیتی ہے تو اس کے لینے اور مسجد میں صرف کرنے اور دفتر مسجد میں بنام ''رقم زائد از گورنمنٹ'' لکھنے میں کوئی حرج نہیں،
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک عملوں کا دار و مدار نیتوں پر ہے اورہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی ۔ اور اﷲ تعالٰی بہتر جانتا ہے ۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری    با ب کیف بدء الوحی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲)
Flag Counter