| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۲۱۲: ۱۱شعبان ۱۳۳۵ھ چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ حکام ریاست بہاولپور برائے مخلصی مسلمانان از قرض ہندو ان درہر موضع و دہ بنک تجویز کر دہ اندبایں طور کہ چند معتبران موضع را ممبر آں بنک نمودہ می گویند کہ از ہر کس حسب حیثیت روپیہ داخل بنک کنایندہ نزد خود جمع سازید وازاں روپیہ خاصۃ داخل کنندہ را و بدیگرے رابوقت حاجت ولے قرض میعاد ی بسود یسیر دادہ باشید و عند المیعاد آں روپیہ مع سود ازو وصول نمودہ بایں طرز دیگرے راہ و سیس اخیر رامی دہید از سود دادہ شما آن جائداد شما تر قی پذیردو برآمدگی حاجات مسلماناں از مال خویش بسہولت گردد و ضرورت باستقراض ا ز ہند وان نماند۔ پس در شرع شریف روپیہ دادن یا گرفتن ازیں بنک چہ حکم دارد، چونکہ دریں امر عامہ مسلمانان از حکام ماورند و مجبور ، ازآں اگر حیلہ جواز فعل ایشاں ایما فرمودہ شود امید کہ قرین ماجوریت عنداﷲ و مشکوریت من خلق اﷲ خواہد شد ۔
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا ارشادفرماتے ہیں کہ ریاست بہاولپور کے حکام نے ہندوؤں کے قرض سے مسلمانوں کو رہائی دلانے کے لئے ہر بستی اور گاؤں میں بنک تجویز کیا ہے ، اس کی صورت یہ ہے کہ اس بستی کے چند معتبروں کو بنک کا ممبر ظاہر کرکے کہتے ہیں کہ ہر شخص سے اس کی حیثیت کے مطابق روپے بنک میں داخل کراکے اپنے پاس جمع رکھو، پھر انہیں خاص روپوں میں سے داخل کرنے والے کو یا دوسرے کو بوقت ضرورت تھوڑے سے سود پر میعادی قرض کے طور پر دیں اور میعاد گزرنے پر وہ روپے سود سمیت اس سے واپس لیں اور پھر اسی طرح کسی دوسرے شخص کو اسی طریقے سے قرض دیں اسی طرح یکے بعد دیگرے حاجتمندوں کو سود پر قرض دیتے جائیں تاکہ تمہارے ادا کردہ سودسے تمہاری جائداد ترقی اختیار کرے اور مسلمانوں کی حاجات ان کے اپنے مال سے بآسانی پوری ہوں اور ہندوؤں سے قرض لینے کی ضرورت نہ پڑے۔ شرع شریف میں اس بنک کو روپیہ دینا اوراس سے لینا کیا حکم رکھتا ہے چونکہ اس معاملہ میں عام مسلمان حاکموں کی طرف سے مامور اور مجبور ہیں اس لئے اگر ان کے اس فعل کے جواز کی طرف کوئی اشارہ فرمایا جائے تو امید ہے کہ اﷲ تعالٰی کے ہاں ماجور اور مخلوق کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہوں گے ۔(ت)
الجواب: ربا گرفتن حرام قطعی بالاجماع و کبیرہ و شدیدہ است وربا دادن محتاج بحاجت شرعیہ صحیحہ را رخصت کردہ اند فی الدر المختار یجوز المحتاج الاستقراض بالربا۱؎،
سودلینا بالاتفاق حرام قطعی اور سخت کبیرہ گناہ ہے اور سوددینے کی محتاج کو حاجت شرعیہ صحیحہ کے وقت اجازت دی گئی ہے ۔ درمختار میں ہے کہ محتاج کو سود پر قرض لینا جائز ہے،
(۱؎ الاشباہ والنظائر بحوالہ القنیہ الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۶)
حاصل ایں بنک آنست کہ حرامے کہ ہندو ان می خورند بیاید تامسلمانان خورند و لاحول ولا قوۃ الا باﷲ کارکنان ایں بنک اگر درد دین دارند صورتے مہیا است کہ بہ مقصد ر سند واز حرام وار ہند ہر کہ مثلاً صدر وپیہ دام خواہدزرند ہند کاغذ زر کہ نوٹ نامند بدہندو آں ھم دام ندہند کہ بردام ہر چہ سودے گیرد ربا باشد وحرام، فی الحدیث عن علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فھو ربا۱؎بلکہ نوٹ صدروپیہ بہر ربحے کہ باہم تراضی شود بمیعاد وا جل مسمی بدست او فروشند مثلاً بیک صد و دہ روپیہ بوعدہ یک سال ایں ربح ربح بیع باشد و ربح بیع حلال است و ربح قرض حرام قال اﷲ تعالٰی قالواانما البیع مثل الربٰو واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو۲؎ایں مسئلہ را در کتاب کفل الفقیہ الفاہم ہر چہ تمامتررنگ تفصیل دادہ ایم بایں وجہ ہم ربح حلال بدست آید وہم آں مستقرض بمراد خود برسد ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس بنک کا حاصل یہ ہے کہ جو حرام ہندو کھاتے ہیں وہ حاصل ہوجائے تاکہ اس کو مسلمان کھائیں۔ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں سوائے اﷲ تعالٰی کی توفیق کے اس بنک کے کارکن اگر دین کا درد رکھتے ہیں تو ایک ایسی صورت مہیا ہے کہ وہ اپنے مقصد تک رسائی بھی حاصل کریں اورحرام سے خلاصی بھی پالیں ، جو کوئی مثال کے طور پر سوروپیہ قرض چاہتا ہے اس کو زر نہ دیں بلکہ وہ کاغذ دیں جس کا نام نوٹ ہے اور وہ بھی بطور قرض مت دیں کیونکہ قرض پر جو بھی نفع لے گا وہ سود اور حرام ہوا ۔ حدیث میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے ۔ بلکہ سوروپے کا نوٹ اس نفع کے لئے جس پر دونوں باہم رضامند ہوں مدت مقرر ہ تک اس کے ہاتھ فروخت کریں مثلاً وہ سو کا نوٹ ایک سال کے لئے ایک سو دس روپے کے بدلے فروخت کریں تو اس طرح یہ نفع بیع کا نفع ہوگا اور بیع کا نفع حلال ہے جبکہ قرض کا نفع حرام ۔ اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: کہا ان لوگوں نے کہ بیع تو سود کی طرح ہی ہے جبکہ اﷲ تعالٰی نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام ۔ اس مسئلہ کو ہم نے اپنی کتاب ''کفل الفقیہ الفاہم '' میں مکمل طور پر تفصیلی رنگ دیا ہے ،اس طریقے سے حلال نفع بھی ہاتھ آئیگا اور وہ قرض لینے والا بھی اپنے مقصد کو حاصل کرلے گا ۔(ت)
(۱؎ کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸)(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
مسئلہ ۲۱۳: مرسلہ احمد خان صاحب وکیل دربار مارواڑ متعینہ ریذیڈ نسی او دیپور میواڑ ۳شعبان ۱۳۳۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین دریں باب کہ گورنمنٹ جو قرضہ کا منافع دے رہی ہے اس کا لینا جائز ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب: سود کی نیت سے لینا جائز نہیں
لاطلاق قولہ وحرم الربٰو۳؎
(کیونکہ اﷲ تعالٰی کا یہ ارشاد کہ ''اﷲ تعالٰی نے سود کو حرام کیا'' مطلق ہے ۔ت)
(۳؎القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
اور اگر کسی گورنمنٹ پر اس کی رعیت خواہ اور شخص کا شرعاً کچھ آتا ہے اس میں وصول سمجھنا بلا شبہہ روا"لانہ ظفر بجنس حقہ کما فی ردالمحتار وغیرہ۱؎(اس لئے کہ یہ اپنے حق کی جنس کو حاصل کرنے کی کامیابی ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے ۔ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۲ /۱۲)
یونہی اگر بیت المال میں حقدار ہوتو اس میں لے سکتا ہے کما فی ردالمحتار عن السید السمہودی وغیرہ (جیسا کہ سید سمہودی وغیرہ سے ردالمحتارمیں ہے ۔ت) اور اگر کچھ نہ ہو اور اسے سود نہ سمجھے بلکہ یہ تصور کرے کہ ایک جائز مال برضائے مالک بلا غدر و بدعہدی ملتا ہے تو وہ بھی روا ہے کما حققناہ فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کردی ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم ۔ اصل حکم یہ ہے مگر اہل تقوٰی خصوصاً مقتداء کوان دو صورتوں خصوصاً اخیرہ سے احتراز چاہئے کہ ناواقف اسے متہم نہ کریں ، حدیث میں ہے :
اتقوا مواضع التھم۲؎
(تہمت کی جگہوں سے بچو۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم ۔
(۲؎ کشف الخفاء حدیث۸۸ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ /۴۵)
مسئلہ ۲۱۴: ازبریلی محلہ چک مرسلہ محمدرضاقادری متصل چوکی چنگی رجب۱۳۳۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے مراؤ کو کچھ روپیہ واسطے بونے چنا کےلئے دیا اور بروقت دینے روپیہ یہ اس مراؤ سے ٹھہرالیا کہ چنا فصل کاٹنے پر فی روپیہ تین سیر چنا زائد بازار کے نرخ سے تم سے لئے جائیں گے ، فصل کاٹنے پر مراؤ نے بجائے چنے کے جتنا روپیہ زائد ہوا بالعوض چنے کے دیا۔ اب ایسی صورت میں اس روپیہ کا کیا کیا جائے اور روپیہ دینے والے کو اول اس کا علم نہ تھا، لہٰذا اب معلوم ہونے پر اس زائد روپیہ کو علیحدہ رکھ لیا گیا ہے جو حکم ہو ا سکی تعمیل بسر و چشم کی جائے کیونکہ ایمان ہے تو سب کچھ ہے ورنہ کچھ نہیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب ایسا عقد شرعاً ضرورناجائز ہے مگر اگر وہ مراؤ کافر ہے جیساکہ یہی ظاہر ہے تو یہ روپیہ کہ بغیر غدر اسے ملا اسے واپس دینا ضرور نہیں البتہ ، اور بہتر یہ ہےکہ فقیر مسلمان پر تصدق کردے۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔