Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
86 - 180
مسئلہ ۲۰۹: ۹/ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ

زید  عمرو سے ڈیڑھ سوروپیہ بے سودی لینا چاہتا ہے قرض ، اور عمرو کو یہ منظور ہے کہ اسے کچھ نفع جائز شرعی طور پر مل جائے اور سود نہ ہو اس صورت میں کیا کیا جائے ؟
الجواب : علماء کرام نے اس کی متعدد صورتیں تحریر فرمائیں ہیں از انجملہ بہت آسان طریقہ یہ ہے کہ زید جو قرض لینا چاہتا ہے عمرو کے ہاتھ کوئی مال مثلاً برتن یا کپڑا ڈیڑھ سو روپے کو بیچے عمرو خرید لے اور ڈیڑ ھ سوروپیہ زر ثمن کے زید کو دے دے بعدہ  اسی جلسہ خواہ دوسرے جلسہ میں عمرو یہی مال زید کے ہاتھ دوسوروپیہ کومثلاً بوعدہ ایک سال بیچے زید خریدلے اور اب اس زر ثمن کے عوض چاہے تو عمرو کے پاس رہن بھی رکھ دے اس صورت میں زید کی چیز زید کے پاس آگئی اور اسے ڈیڑھ سو روپیہ مل گئے اور اس پر عمرو کے دوسو روپے واجب ہوگئے عمرو اس رہن سے کچھ انتفاع نہ کرے ورنہ سود ہوجائے گا۔
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے :
رجل لہ علی رجل عشرۃ دراہم فاراد ان یجعلھا ثلثۃ عشر الٰی اجل قالو ایشتری من المدیون شیئا بتلک العشرۃ ویقبض المبیع ثم یبیع من المدیون بثلثۃ عشر الی سنۃ فیقع التحرز عن الحرام ، ومثل ھذا مروی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ امربذٰلک ۱؎ الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایک شخص کے دوسرے پر دس درہم قرض ہیں وہ چاہتا ہے کہ ایک معینہ مدت تک یہ تیرہ درہم ہوجائیں ۔ علماء نے فرمایا ہے وہ مقروض سے ان ہی دس درہم میں کوئی چیز خریدے اور مبیع پر قبضہ کرلے پھر وہی چیز تیرہ درہم کے بدلے ایک سال کے ادھار پر مقروض کے ہاتھ فروخت کرے تو اس طرح سے حرام سے اجتناب ہوجائے گا، اور اسی کی مثل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخان     کتاب البیوع    فصل فیما یکون فراراعن الربٰو    نولکشور لکھنو    ۲ /۴۰۶)
مسئلہ ۲۱۰: ایک شخص سو روپے قرض لیا چاہتا ہے دوسرا دیا چاہتا ہے ، روپے کے دینے والے کو سود لینے سے انکار ہے اور روپیہ کے لینے والے کو سود دینے سے انکار ہے ، کس طریقہ پر دستاویز تحریر کرائی جائے اور ہندو سے لینا نہیں چاہتے مگر روپیہ دینے والے کو بلا کسی نفع کے دینا منظور نہیں ہے ۔
الجواب : اس کی بہت سی صورتیں ہیں ، ایک سہل صورت یہ ہے کہ دینے والا قرض نہ دے بلکہ اس کے ہاتھ نوٹ بیچے، مثلاً سو روپے یہ لینا چاہتاہے اور سال بھر کا وعدہ ہے اور دینے والا نفع لینا چاہتا ہے تو سورو پے کا نوٹ اس کے ہاتھ ایک سال کے وعدہ پر ، مثلاً ایک سو بارہ روپے کو بیچے پھر اگر وہ سال کے اندر مثلاً چھ مہینے میں روپیہ دے دے تو صرف ایک سو چھ لے ، اس سے زیادہ لینا حرام ہے یونہی اور کوئی چیز جو بازار کے عام بھاؤ سے سوروپے کی ہو ایک سوبارہ کو بیچے اس کا بھی یہی حکم ہے،
درمختار میں ہے :
قضی المدیون الدین المؤجل قبل الحلول لایاخذ من المرابحۃ التی جرت بینھما الابقدر مامضی من الایام۱؎۔
مقروض نے میعادی قرضہ میعاد سے پہلے ادا کردیا تو قرض دہندہ اس سے وہ نفع نہ لے جوان کے درمیان طے پایا تھا مگر صرف اتنے دنوں کے حساب سے نفع لے سکتا ہے جتنے دن گزرچکے ہیں(ت)
 (۱؎ درمختار    باب مسائل شتی     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۵۱)
دوسرے یہ کہ سوروپے اسے قرض دے اور قرض لینے والا دینے والے کے پاس اپنی کوئی چیز مثلاً چاقو یا تھالی امانت رکھے اور دینے والے سے کہے میری اس چیز کی حفاظت کرمیں اس کی حفاظت پرایک روپیہ یا ۴ / یا ۲/ یا دس روپے ماہوار جو ٹھہرجائے دوں گا مگر جو شے ا سکے پاس رکھے اس کی قیمت اس اجرت سے زیادہ ہو روپے مہینہ پر رکھے تو روپے سے زیادہ قیمت کی چیز ہو ۔
عالمگیریہ میں ہے :
استیجار المستقرض المقرض علی حفظ عین متقومۃ قیمتہ ازید من الاجرۃ کالسکین والمشط والمعلقۃ کل شہر بکذا ، اختلف فیہ الائمۃ المتاخرون فقیل یجوز بلا کراہۃ منھم الامام محمد بن سلمۃ والامام الصاحب الکامل مولانا حسام الدین علیا بادی وجلال الدین ابو الفتح محمد بن علی وصاحب الھدایۃ وقد وقع علی الجواز اجلۃ الائمۃ ۲؎۔
مقروض کسی ایسی قیمتی معین شیئ کی حفاظت کے لئے قرض دہندہ کو معین ماہانہ اجرت پر مقرر کرے جس شیئ کی قیمت اجرت سے زیاد ہ ہے مثلاً چاقو، کنگھی اور چمچ وغیرہ ، تواس میں متاخرین ائمہ کے درمیان اختلاف ہوا، بعض نے بلاکراہت جواز کا قول کیا ان میں امام محمد بن سلمہ ، امام صاحب کامل مولانا حسام الدین علیا بادی، جلال الدین ابوالفتح محمد بن علی اور صاحب ہدایہ شامل ہیں ، اور تحقیق جلیل القدر ائمہ کرام نے جواز پر اتفاق کیا ہے ۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الاجارۃ     الباب الثانی والثلاثون     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۵۲۲)
اور اس کے سوا اور صورتیں ہیں کہ ہم نے کفل الفقیہ میں ذکر کیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۲۱۱: مسئولہ محمد حسین خان بریلی شہر کہنہ     ۳/ شوال المکرم 

جناب مولوی صاحب قبلہ و کعبہ دارین مدظلہ اﷲ آداب! بصد نیازگزارش ہے کہ مجھ سے ایک شخص قرضہ چاہتا ہے اور بالعوض اس کے اپنا مکان وہ شخص رہن کرنا چاہتا ہے مجھ کو روپے دینے میں اور دوسرے کی حاجت نکالنے میں کچھ عذر اور انکار نہیں ہے کیونکہ روپیہ اللہ  نے جبکہ دیا ہے تو دوسرے کی حاجت براری ہوجانے پر امید ہے کہ اﷲ بھی خوش ہوگا مگر اس قدر ہے کہ سود کھانا نہیں چاہتا ہوں، اب اس میں گزارش ہے وہ جائداد بالعوض روپیہ کے دخلی رہن کردیں یا کس طرح سے روپیہ دوں کہ سود سے بچوں کیونکہ میں اہل اسلام ہوں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب : دخلی رہن بھی سود اور حرام ہے بلکہ سبیل یہ ہے کہ آپ محض بلا سود و بلا رہن روپیہ قرض دیجئے پھر اس سے اپنا کوئی برتن مثلاً وہ مدیون آپ کو دے کہ اس کی حفاظت کرو حفاظت کا اتنا ماہوار مثلاً ایک روپیہ یا دس روپے تمہیں دی جائیگی یوں اس حفاظت کی اجرت کا روپیہ لینا حلال ہوگا، اور اگر مکان ہی چاہئے تو وہ کوئی برتن وغیرہ مثلاً دس روپے مہینے اجرت پر کو حفاظت کےلئے دے اور آپ اس کا مکان مثلاً دس روپے یا کم و بیش کو جتنا کہ قرار پائے اسی سے کرایہ پر لیجئے حفاظت کی اجرت ماہوار اس پر واجب ہوگی اور مکان کا کرایہ آپ پر، پھر اگر دونوں اجرتیں بر ابرہیں تو باہم آپ دونوں کو معاملہ برابر ہوگیا، نہ آپ اسے روپیہ دیں نہ وہ آپ کو، آپ اس کی چیز کی حفاظت کریں اور اس کرایہ کے مکان میں رہیں اور اگر برابر نہیں تو جس پر زیادہ ہے وہ قدر زائد ادا کرتا رہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter