Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
85 - 180
نیز درمختار میں ہے  :
ولا یبطل حق الفسخ ( ای فی البیع الفاسد ) بموت احدھما (ای احد العاقدین) فیخلفہ الوارث بہ یفتی اھ ۲؎  اقول:  فافاد ان انتقال الملک فی الملک الخبیث لایزیل الخبث ویجب علی الوارث فسخہ فان لم یفعل اجبرا لقاضی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بیع فاسد میں بائع یا مشتری کی موت کے سبب سے حق فسخ باطل نہیں ہوتا، چنانچہ مرنے والے کا وارث اس کا قائم مقام ہوگا اور اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے ۔میں کہتا ہوں کہ اس کلام نے اس بات کا فائدہ دیا کہ ملک خبیث میں ملک کا منتقل ہونا خبث کو زائل نہیں کرتا لہٰذا وارث پر واجب  ہے کہ بیع فاسد کو فسخ کرے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو قاضی اس پر جبر کرے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب البیوع   باب البیع الفاسد  مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۹)
مسئلہ ۲۰۴: ملک بنگالہ ضلع نصیر آباد مرسلہ مولوی تمیز الدین صاحب ۸/ ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ سود خور کے ساتھ میل جول کرنا اور شادی اور پنچایت میں بلاناجائز ہے یانہیں؟بحوالہ کتب وبادلیل جواب عنایت فرمائیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب : سود خور کہ علانیہ سود کھائے اور توبہ نہ کرے ، باز نہ آئے، اس کے ساتھ میل جول نہ چاہئے اسے شادی وغیرہ میں نہ بلایا جائے،
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالم قوم کے ساتھ مت بیٹھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶ /۶۸ )
مسئلہ ۲۰۵: از ریاست کشن گڈھ متصل اجمیر شریف مہاراجہ اسکول تھرڈ ماسٹر مسئولہ سید امانت علی صاحب ۷ /ربیع الآخر ۱۳۳۱ھ

شادی و زندگی کا بیمہ کرنا یا کروانا جائز ہے یاناجائز ؟ آپ کے شادگرد رامپوری صاحب نے جو کہ اجمیر شریف میں عرصہ سے قیام پذیر ہیں دریافت کرنے پر یہ جواب دیا کہ میرے خیال سے تویہ حرام نہیں ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ میرے مولٰنا مولوی احمد رضاخان صاحب سے دریافت کرلینا چاہئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ بافادہ اہل اسلام بصورت فتوٰی ارسال فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں گے۔ اس بیمہ کا قانون بھی گورنر جنر ل کی کونسل سے ۱۳۱۲ھ میں پاس ہوگیا مگر ہنوز اس پر کوئی اعتراض نہ ہوا۔ پر اسپکٹس اردو سالانہ رپورٹ بزبان انگریزی جناب کے ملاحظہ کے لئے روانہ کرتا ہوں۔
الجواب :یہ نرا قمار ہے اس میں ایک حد تک روپیہ ضائع بھی جاتا ہے اور وہ منافع موہوم جس کی امید پر دین اگر ملے بھی تو کمپنی بیوقوف نہیں کہ گرہ سے ہزار ڈیڑھ ہزارد ے بلکہ وہ وہی روپیہ ہوگا جو اوروں کا ضائع گیا، اور ان میں مسلمان بھی ہوں گے تو کوئی وجہ اس کی حلت کی نہیں،
قال اﷲتعالٰی لاتاکلوااموالکم بینکم بالباطل۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور مت کھاؤ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۲؎القرآن الکریم ۲/۱۸۸)
مسئلہ ۲۰۶: کابلی علاوہ مسلمانوں کے غیر قوم سے جو سود لیتے ہیں ان کے یہاں کھانا پینا ، ان کے پیچھے نما ز پڑھنا یا رسم رکھنا کیسا ہے ؟
الجواب:  یہ مسئلہ ایسانہیں کہ ایسی شدت کا برتاؤ ان سے بر تا جائے ۔واﷲ اتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۲۰۷: ازسید ایوب علی صاحب محلہ بہاولپور کا سگرہ ،بریلی 

زید نے کچھ روپیہ بکر کو دس سال کی مدت پر سودی قرض دیا اور اس کا کاغذ رجسٹری ہوگیا۔ جب اہل محلہ کو اس کی خبر ہوئی اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس کے علاوہ دو ایک مکان بھی زید کے پاس لوگوں کے رہن ہیں اور ان سے کرایہ وصول کرتا ہے اس پر اہل محلہ نے زید سے پوچھا جس کا اقرار زید نے کیا اور کہا کہ میرا ارادہ سود لینے کا نہیں کاغذ میں یہ شرط سود کی بقواعد تعزیرات ہند لکھادی ہے پھر کہا اس کی مدت تو دس سال ہے جب وہ وقت آئے گا میں زر سود نہ لوں گا اور مکانوں کی نسبت کہا کہ اس کا روپیہ میں اپنی بیٹی کو دے دیتا ہوں اور بیٹی نے کہا کہ میں کرایہ مکان میں دیتی ہوں اپنے پاس نہیں رکھتی، اور یہ اقبال تمام واقعات کا جب کیا جب دیکھا کہ اہل محلہ چھوڑنے پر آمادہ ہیں بلکہ بعض نے چھوڑبھی دیا، ایسی صورت میں زید کے یہاں کھانے پینے سے احتراز کیا جائے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : صورت مذکورہ میں زید ضرور سود خور ہے اس سے احتراز کیا جائے، اس سے میل جول ترک کیا جائے ، اس کے بہانے جھوٹے ہیں ، کرایہ کہ وہ لیتا ہے یقینا سود ہے ، اس نے سود لیا چاہے خود کھائے یا بیٹی کودے، قانون کی کوئی دفعہ ایسی نہیں ہے جو قرض میں سود لکھانا ضرور ہو یہ سود خور کذابوں کا جھوٹا عذر ہے اور یہ کہنا کہ لکھا لیا ہے لیں گے نہیں، ایسا ہے کہ کوئی یہ کہے غلیظ منہ میں لیا ہے نگلیں کے نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۰۸: ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ حضرت سید برکات حسن صاحب ۲۴/رجب ۱۳۱۸ھ

ایک شخص چھ سوروپے قرض لیتا ہے اورجائداد روپیہ دینے والے کو دیتا اور اس کا حق الخدمت یا حق التحصیل مثلاً سویا پچاس روپے مقرر کرتا ہے لفظ سود سے دونوں بچنا چاہتے ہیں یہ عقد رہن ہے قرض تو ہے نہیں، قرض میں عوض نہیں ہوتا ہے ، الحاصل رہن صحیح ہوجائے اس کی شکل فرمادیجئے اور روپیہ لینے والا دینے والے کو جو کچھ دینا چاہتا ہے اس کو دینا اور اس کو لینا جائز ہوجائے ۔ بینواتوجروا۔
الجواب : یہ رہن نہیں ہوسکتا، گاؤں سے انتفاع بطریق اجارہ ہوتا ہے کہ زمین مزارعین کے پاس اجارے میں ہے اور اجارہ و رہن دو عقد منافی ہیں باہم جمع نہیں ہوسکتے ، مزارعین کے اجارے میں ہونا زمین پر ان کا قبضہ چاہے گالاستحالۃ الانتفاع بدون القبض(کیونکہ بغیر قبضہ کے نفع حاصل کرنا محال ہے ۔ت) اور مرہون ہونا مرتہن کا قبضہ چاہے گا
لقولہ تعالٰی فرھٰن مقبوضۃ۱؎
 (تو رہن قبضہ کیا ہوا۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۲۸۳)
اور دو مختلف قبضے شے واحد پر وقت واحد میں محال ہیں، ہاں زید مستقرض عمرو مقروض سے روپیہ قرض لے لے اور عمرو کو اپنے گاؤں پر بطور کارندگی نوکر رکھ لے معمولی تنخواہ اگرچہ پانچ روپے ہوتی ہو اس کی دس بیس پچاس چالیس جس قدر ماہواری مناسب جانے اور باہم تراضی ہو مقرر کردے مگر اتنا لحاظ کرے کہ تنخواہ تو فیر کو محیط نہ ہوجائے کیلا یخرج من اجارات الناس(تاکہ لوگوں کے اجاروں سے خارج نہ ہوجائے ۔ت) اس قدر اسے لینا بہت اکابر کے نزدیک حلال ہوگا باقی توفیر کو مالک کردیا کرے جب دین ادا ہوجائے زید عمرو کو موقوف کردے،
فی الھندیۃ عن البزازیۃ استیجار المستقرض المقرض علی حفظ عین متقوم قیمتہ ازید من الاجارۃ کالسکین والمشط والمعلقۃ کل شھر بکذا، اختلف فیہ الائمۃ المتأخرون فقیل یجوز بلا کراھۃ منھم الامام محمد بن سلمۃٰ والامام الصاحب الکامل مولانا حسام الدین علیا بادی وجلال الدین ابوالفتح محمد بن علی وصاحب الھدایۃ وقد وقع علی الجواز اجلۃ الائمۃ ۱؎۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں بزازیہ کے حوالے سے مذکور ہے ، مقروض کا کسی ایسی قیمتی معین شیئ کی حفاظت کےلئے قرض دہندہ کو اجرت پر رکھنا جس شیئ کی قیمت اجرت سے زیادہو جسے چھری ، کنگھی اور چمچہ کہ ہر ماہ اتنی اجرت دے گا، اس میں متاخرین ائمہ کا اختلاف ہے ، بعض نے کہا ہے کہ بلا کراہت جائز ہے ان میں امام محمد بن سلمہ ،ا مام صاحب کامل مولانا حسام الدین علیا بادی ، جلال الدین ابو الفتح محمد بن علی اور صاحب ہدایہ شامل ہیں اور تحقیق جلیل القدر ائمہ کرام جواز پر متفق ہوئے ۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الاجارۃ     الباب الثانی والثلاثون     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۵۲۲)
Flag Counter