Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
84 - 180
مسئلہ ۲۰۲: مرسلہ شیخ علاء الدین صاحب از میرٹھ لال کرتی ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے کچھ روپیہ بنک میں جمع کیا اس کے بعد اس کے ورثہ سے عمرو نے اسے ناجائز جان کر بنک کو نوٹس دے دیا کہ میرا کل روپیہ دے دو۔ بنک والوں نے اپنے ضابطہ کے موافق ایک سال میں دینے کا وعدہ کیا، عمرو کو روپیہ کی ضرورت ہوئی بنک سے منگایا ، بنک والوں نے اسے قرض قرار دے کر دیا کہ عمرو کو عمرو کا روپیہ وہ ابھی نہیں دیتے اب بعد تمامی سال بنک والے اپنے اس قرض کا سود عمرو سے لیں گے اور عمرو کے روپیہ کا ابتداء سے سود اسے دیں گے وہ مقدار اس سے بہت زائد ہوگی جو وہ عمرو سے لیں گے تو بعد منہائی عمرو ہی کو زائد ملے گا لیکن عمرو قصد مصمم کرچکا ہے کہ نہ لونگا۔ اس صورت میں اسے کہنا جائز ہوگا یا نہیں کہ ہم  نہ سود لیں گے نہ دیں تم اپنے یہاں حساب کرلو۔ بینواتوجروا۔
الجواب : اللھم لک الحمد(اے اﷲ! تیرے لیے ہی حمد ہے ۔ت) شرع مطہر میں سود لینا مطلقاً اور بے ضرورت ومجبوری شرعی دینا بھی دو نوں حرام ہیں مگر مال مباح جب بلا غدر و بے ارتکاب جرائم برضا مندی ملتا ہو تو اسے نہ بہ نیت سود بلکہ اسی نیت مباح سے لینے میں حرج نہیں،
قال رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی، ۱؎ وقد حققنا المسئلۃ بما لامزید علیہ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی فتاوٰنا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی اور ہم نے اس مسئلہ کی تحقیق اﷲ تعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی میں اس انداز سے کردی ہے کہ اس پر اضافہ کی ضرورت نہیں۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     باب کیف کان بداء الوحی     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲)
دینے والے کا اسے اپنے زعم میں سود سمجھنا اسے مضر نہ ہوگا جبکہ وہ نہ واقع میں سود نہ لینے والے کو سود مقصود،
الاتری الی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لکل امرئ مانوی۲؎، فقد جعل کلا ونیۃ و قال تعالٰی لایضرکم من ضل اذااھتدیتم ۳؎وقال تعالٰی قل کل یعمل علٰی شاکلتہ ۱؎۔
کیا تو نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف نہیں دیکھتا کہ ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ تحقیق حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہر شخص کو اس کی نیت کے ساتھ چھوڑ دیا، اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا تمہیں نقصان نہیں پہنچاتا وہ جو گمراہ ہوا جبکہ تم خود ہدایت پر ہو۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اے ( میرے محبوب ) آپ فرمادیں کہ ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے ۔(ت)
 (۲؎صحیح البخاری     باب کیف کان بداء الوحی     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲)

(۳؎ القرآن الکریم     ۵/ ۱۰۵)  	    (۱؎ القرآن الکریم     ۱۷ /۸۴)
مگر یہ اس صورت میں ہے کہ بنک میں کوئی مسلمان شریک نہ ہو ،ا ور اگر مسلمان بھی حصہ دار ہوں توضرور ہے کہ یہ روپیہ جس قدر اسے زیادہ ملے گا اتنا یا اس سے زائد اس کا ان پر آتا ہو اس آتے ہوئے میں اس زیادت کو محسوب کرلے مثلاً اسی بنک سے پہلے بھی متعدد بار اس نے قرض لیا تھا جس کا سود سب بار کا پانسوروپے بنک کو پہنچ چکے ہیں اور اب اسے جو کچھ وہ بنام سود دینگے وہ اسی قدر یا اس سے کم ہے تو اسے لینا جائز ہے اور نیت اس آتے ہوئے کے واپسی کی کرکے جو قانوناً اس صورت کے سوا بلارضامندی کے دوسری طرح واپس نہ لے سکتا تھا، اور اگر وہاں مسلمان شریک ہیں اور اس کا پہلے سے کچھ نہیں آتا یا اس ر قم سے جو اسے ملے گی کم آتا ہے اور وہ خواہی نخواہی اسے یہ زیادت دیں گے تو اسے اور مسلمانوں کی جانب سے لے جن سے ان لوگوں نے سود لیا تھا
،لانھم مامورون شرعا برد ما اخذ وامنھم الیہم وھم لایردون والمسلمون لا یقدرون علی ان یسترددوافیکون ھذا عونا لاخوانہ۔
کیونکہ اہل حرب مسلمانوں سے لیا مال انہیں واپس کرنے کے مامور ہیں حالانکہ وہ واپس نہیں کرتے اور مسلمان ان سے واپس لینے کی طاقت نہیں رکھتے تو اس  طرح اسکے بھائیوں کی مدد ہوگی ۔(ت)
پھر جس قدر اپنا آتا تھا خود لے سکتا تھا باقی واجب ہے کہ فقراء پر تصدق کردے ،
لانہ سبیل کل مال صالح لایعلم مستحقہ کما فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ سبیل ہے ہر مال صالح میں جس کا مستحق معلوم نہ ہو جیسا کہ درمختار وغیرہ قابل اعتماد کتابوں میں ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۲۰۳: ملک بنگالہ ضلع نصیر آباد مرسلہ مولوی تمیز الدین صاحب ۸ ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اول سود کھاتا تھا اب اس نے توبہ کرلی کہ اب میں سود نہیں لوں گا اور نہ سود لیا پہلا جو مال اس کے پاس سودی ہے اس کا خرچ کرنا اپنے حوائج میں جائز ہے یا نہیں اس کے ورثاؤں کو وہ مال حلال ہے یا حرام ؟
الجواب: سود میں جو مال ملتا ہے وہ سود خور کے قبضہ میں آکر اگرچہ اس کی ملک ہوجاتا ہے ،
لان ھذا ھو حکم العقود الفاسدۃ وذھل الفاضل الشامی فی العقود الدریۃ ۔
کیونکہ عقود فاسدہ کا یہی حکم ہے اور علامہ فاضل شامی سے عقود دریہ میں بھول ہوئی ۔(ت)
مگر وہ ملک خبیث ہوتی ہے اس پر فرض ہوتا ہے کہ ناپاک مال جن جن سے لیا ہے انہیں واپس دے وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو دے وہ بھی نہ ملیں توتصد ق کردے ، بہرحال اپنے حوائج میں اسے خرچ کرنا حرام ہوتا ہے اگراپنے خرچ میں لائے گا تو وہ اب بھی سود کھارہا ہے اور اس کی توبہ جھوٹی ہے ، لانہ لم یندم علی الماضی وما ترک فی الاتٰی ولم یمح الباقی فلم یوجد شیئ من ارکان التوبۃ ۔ کیونکہ وہ گزشتہ پر نادم نہیں ہوا اور آئندہ کے لئے اس کو چھوڑا نہیں اور نہ ہی باقی کو مٹایا تو اس طرح ارکان توبہ میں سے کوئی بھی نہیں پایا گیا(ت)

وارث کو اگر معلوم ہوکہ اس کے مورث نے فلاں فلاں شخص سے اتنا اتنا حرام لیا تھا تو انہیں پہنچا دے اور اگر سب معلوم ہو کہ بعینہ یہ روپیہ جو اس صندوق یا اس تھیلی میں ہے خالص مال حرام ہے تو اسے فقراء پر تصدق کردے اور اگر سب مخلوط ہے اور جن سے لیا وہ بھی معلوم نہیں تو وارث کےلئے جائز ہے اور بچنا افضل ہے ۔
درمختار میں ہے  :
الحرمۃ تتعدد مع العلم بھا الافی حق الوارث وقیدہ فی الظہیریۃ بان لایعلم ارباب الاموال ۱؎۔
حرمت کا اگر علم ہو تو وہ منتقل ہوتی ہے سوائے وارث کے حق کے ، اور ظہیریہ میں حق وارث کے ساتھ یہ قید لگائی کہ وہ وارث مال کے مالکوں کو نہ جانتا ہو ( تب اس کے لئے حلال ہے )۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب البیوع     باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۹)
ردالمحتار میں ہے :
الحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیہم، والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ ، وان کان مالامختلطا مجتمعا من الحرام ولا یعلم اربابہ ولا شیئا منہ بعینہ حل لہ حکما ، والاحسن دیانۃ التنزہ عنہ ۱؎۔
حاصل یہ کہ اگر وارث مال کے اصل مالکوں کا علم رکھتا ہو تو ان کا مال انہیں لوٹانا اس پر واجب ہے ورنہ اگر اس مال کے بعینہ حرام  ہونے کا اسے علم ہے تو اس کے لئے حلال نہیں بلکہ مالک کی طرف سے نیت کرتے ہوئے صدقہ کرے اور اگر مال حرام حلال سے مخلوط ہے اور وہ وارث اس کے مالکوں کونہیں جانتا ، نہ ہی بعینہ اس کے حرام ہونے کا اس کو علم ہے تو وہ حکماً اس کے لئے حلال ہے مگر دیانت کے اعتبار سے اس سے بچنا ہی زیادہ بہتر ہے ۔(ت)
(۱؎ردالمحتار     کتاب البیوع     باب البیع الفاسد     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۳۰)
Flag Counter