Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
83 - 180
مسئلہ ۲۰۰: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے ڈاکخانہ میں روپیہ جمع کیا مگر میرا ارادہ سود لینے کا نہ تھا بلکہ میں نے منع کیا کہ سودی نہ جمع کرنا بعد کو جب عرصہ ہوگیا تو میں روپیہ لینے کے واسطے ڈاکخانہ گیا تو اس نے مع سود روپیہ مجھ کو واپس دیا میں نے انکار کیا کہ میں سود نہ لوں گا، اس نے کہا کہ ہم بھی واپس نہیں کرسکتے سود تم کسی محتاج کو دے دینا اس میں عالموں کی کیا رائے ہے اور شرع کا کیا حکم ہے ؟ آیا وہ روپیہ محتاج کو دینا ثواب ہے یا نہیں؟ کیونکہ سرکار اس روپیہ کو واپس نہیں لیتی ہے اور ہمارے بھی کسی کام کا نہیں، اس حالت میں محتاج کو دیں یا کیا کریں؟ بینواتوجروا۔
الجواب: جبکہ اس نے نہ سود لینا چاہا نہ اصلاً اس کا قرار داد کیا بلکہ صراحۃً منع کردیا ، نہ اب سود لینا مقصود توفقراء کو پہنچانے کی نیت سے وہ روپیہ جو گورنمنٹ سے بلا غدر وعہد شکنی بلکہ بخوشی ملتا ہے لینا اور لے کر مساکین مستحقین کو پہنچا دینا ضرور موجب ثواب ہے ،
لان فیہ الاحسان بالمساکین، واﷲ یجب المحسنین۱؎، وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۲؎، و قد قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۱؎۔رواہ مسلم عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ اس میں مسکینوں پر احسان اور مستحقین کو ان کا حق پہنچانا ہے ، اوراﷲ تعالٰی احسان کر نیوالوں سے محبت فرماتا ہے ، اور بیشک اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ اور تحقیق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی طاقت رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے بھائی کو نفع پہنچائے ۔ ( اس کو امام مسلم نے سیدنا حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت فرمایا۔ اور اﷲ تعالٰی بہتر جانتا ہے ۔ت)
 (۱؎ القرآن الکریم      ۳/ ۱۷۳)

(۲؎ صحیح البخاری    باب کیف کان بدأ لوحی         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲)

(۱؎ صحیح مسلم     کتاب السلام     باب استحباب الرقیۃ من العین الخ    قدیمی کتب خالنہ کراچی     ۲/ ۲۲۴)
مسئلہ ۲۰۱: ازمیرگنج مرسلہ ابوالحسن صاحب ۶شعبان ۱۳۲۰ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سیونگ بنک یعنی ڈاکخانہ جات سرکار میں روپیہ جمع کرنا اور اس کو سود ۴/ فیصدی جو حسب قاعدہ سرکاری جمع کنندہ کو ملتا ہے لینا جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : سود مطلقا حرام ہے
قال اﷲ تعالٰی وحرم الربٰو۲؎
 (اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: حرام کیا ہے اﷲ تعالٰی نے سود کو۔ ت)
 (۲؎القرآن الکریم     ۲/ ۲۷۵)
ہاں اگر کسی کا اپنا مطالبہ واجبہ یا مباحہ جائزہ زید پر آتا ہو اور ویسے نہ ملے تو صرف بقدر مطالبہ جس طریقہ کے نام سے مل سکے لے سکتا ہے کہ اس صورت میں یہ اپنا حق لیتا ہے نہ کہ کوئی چیز ناجائز ، دینے والے کا اسے ناجائز نام سے تعبیر کرنا یا سمجھنا اسے مضر نہ ہوگا جب کہ اس کی نیت صحیح اور حق جائز وواجبی ہے واﷲ یعلم السرواخفی (اﷲ تعالٰی رازوں اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے ۔ت) اس امر میں مسلم وغیرہ مسلم سب کا حکم یکساں ہے بشرطیکہ غدر نہ کرے فتنہ نہ ہو ۔
قال اﷲ تعالٰی و الفتنۃ اکبر من القتل۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: فتنہ قتل سے بڑا (گناہ ) ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔ (ت)
 (۳؎القرآن الکریم    ۲ /۲۱۷)
Flag Counter