Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
82 - 180
مسئلہ ۱۹۸: ازلکھنؤ بازار جھاؤلال مکان ۳۷ مسئولہ سید عزیز الرحمان ۱۱/رمضان ۱۳۳۹ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ ( آپ کا کیافرمان ہے اﷲ آپ پر رحم کرے ۔ت) ربا کی حرمت نصوص صریحہ سے ثابت ہے مگر قرآن مجید میں ربا کی کوئی تفسیر نہیں کی گئی، ایام جاہلیت میں جو ربا عام طور پر شائع تھا وہ یہ تھا کہ لوگ ایک دوسرے سے میعاد معینہ پر قرض لیتے تھے اور میعاد گزرجانے پر مدیون راس المال پر اضافہ گوارا کرتا یا پہلے ہی سے دونوں میں معاہدہ ہوجاتا تھا ، اسی راس المال پر اس افزائش کو اضافہ کرکے پھر اس پر سود لگایا جاتا تھا جیسا کہ اس زمانے میں مہاجنی کا طریقہ ہے اس صورت کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں مگر اب اس زمانے میں معاملات کی نئی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں جیسے بنک یالائف انشورنس کمپنی یا ریلوے اور ملوں کے حصے وغیرہ جوتاجرانہ کاروبار کرتے ہیں ان میں جو شخص روپیہ جمع کرتا ہے وہ در حقیقت قرض نہیں دیتا اور جو نفع اس کو ملتا ہے وہ در حقیقت سود نہیں ہوتا بلکہ وہ اس تجارت میں ایک گونہ شرکت ہے اور جو سود مقرر ہوتا ہے اگرچہ وہ بلفظ سود ہو مگر در حقیقت سود نہیں ہے بلکہ وہ اس کاروبار کا نفع ہے جو منقح ہوتا ہے اور قرآن مجید میں کہیں منقح نفع کی حرمت وارد نہیں اور نہ اس کی کوئی وجہ معلوم ہوتی ہے ، اس واسطے کہ جو شخص تجارتی حساب سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو اس کو بغیر اس کے چارہ نہیں ہے کہ وہ فیصدی تین یا پانچ روپیہ پہلے سے منقح کرکے لیا کرے خصوصاً اس زمانے میں جبکہ کروڑوں روپیہ کے شرکت سے تجارتی کاروبار کھولے جاتے ہیں اور شرکاء کی جانب سے ڈائر کٹروں کی جماعت کاروبار چلانے اور حساب و کتاب رکھنے اور منافع مشخص کرنے اور ریزر وفنڈ (محفوظ) کے قائم رکھنے کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں جو درحقیقت ان شرکاء کی طرف سے وکیل ہوتے ہیں تو جو منافع بعد پس انداز کرنے ریزرو فنڈ کے ان وکیلوں نے تجویز کیا ہو وہ سود نہیں ہوسکتا اور نہ ایسے کاروبار میں روپیہ داخل کرنے کو قرض کہا جاتا ہے ، علاوہ اس کے ربا کی حرمت کی جو علت آیہ کریمہ
لاتظلمون ولاتظلمون۱؎
 (نہ تم ظلم کرو اور نہ ظلم کئے جاؤ۔ت) میں بیان فرمائی گئی ہے وہ اس پر کسی طرح صادق نہیں آتی ۔ ضرورت ہے کہ علمائے کرام اس پر غور فرماکر جواب تحریر فرمائیں تاکہ اس زمانہ میں مسلمان جس کشمکش میں مبتلا ہیں اس سے نجات پائیں۔
 (۱؎القرآن الکریم     ۲/ ۲۷۹)
الجواب : یہاں چار ہی صورتیں متصور ہیں ، کام  میں لگانے کے لئے یہ روپیہ دینے والا بغرض شرکت دیتا ہے یا بطور ہبہ یا عاریہ یا قرض ۔ صورت ہبہ تو یہاں بداہۃً نہیں اور شرکت کابطلان اظہر من الشمس ،شرکت ایک عقد ہے جس کا متقضی دونوں شریکوں کا اصل و نفع دونوں میں اشتراک ہے ایک شریک کے لئے معین تعداد زر مقرر کرنا قاطع شرکت ہے کہ ممکن کہ اسی قدر نفع ہو تو کلی نفع کا یہی مالک ہوگیا ، دوسرے شریک کو کچھ نہ ملا تو ربح ( نفع ) میں شرکت کب ہوئی ۔
جوہرہ نیرہ و تنویر الابصار میں ہے :
الشرکۃ عبارۃ من عقد بین المتشارکین فی الاصل والربح ، ۱؎
تنویر وشرح مدقق علائی۔ شرکت نام ہے اصل و نفع میں دو شریک ہونیوالوں کے درمیان عقد کا، تنویر و شرح مدقق علائی۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار     کتاب الشرکۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۷۰)
درمختار میں ہے :
شرطھا ای شرکۃ العقد عدم مایقطعھا کشرط دراہم مسماۃ من الربح لاحدھما لانہ قد لایربح غیر المسمی و حکمھا الشرکۃ فی الربح۲؎۔
شرکت عقد کی شرط اس چیز کا نہ پایا جانا ہے جو شرکت کو قطع کرے جیسے دو شریکوں میں سے ایک کے لئے نفع میں سے معین درہموں کی شرط کیونکہ کبھی ان معینہ درہموں کے علاوہ کوئی نفع ہی نہیں ہوتا اور شرکت عقد کا حکم نفع میں شرکت ہے ۔(ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار     کتاب الشرکۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۷۱)
اگر ایک سرمایہ سے تجارت ہوئی پھر اس میں سو حصہ دار اور شریک ہوئے اور ہر ایک کیلئے دس دس روپے نفع کے لینے ٹھہرے اور ا س سال ایک ہی ہزار کا نفع ہوا تو یہ ہزار تنہا یہی سو حصہ دار لیں گے یہ شرکت نہیں لوٹ ہے ، شرکت کا متقضیٰ یہ ہے کہ جیسے نفع میں سب شریک ہوتے ہیں نقصان ہو تو وہ بھی سب پر ہر ایک کے مال کی قدر پڑے۔
ردالمحتار میں ہے :
ثم یقول فما کان من ربح فہو بینھما علی قدر رؤس اموالھما وماکان من وضیعۃ او تبعۃ فکذلک ، ولا خلاف ان اشتراط الوضیعۃ بخلاف قدراس المال باطل واشتراط الربح متفا وتا صحیح فیما سیذکر۳؎۔
پھر کہے ، جو بھی نفع ہو گا وہ دونوں کے درمیان ان کے سرمائے کی مقدار کے حساب سے ہوگا یوں ہی حکم نقصان کا بھی ہوگا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سرمائے کی مقدار کے خلاف نقصان کی شرط لگانا باطل ہے اور نفع میں تفاوت کی شرط لگانا صحیح ہے اس کی دلیل ہم عنقریب ذکر کریں گے ۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار         کتاب الشرکۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۳۷)
یہاں اگر نقصان ہوا جب بھی ان حصہ داروں کو اس سے غرض نہ ہوگی وہ اپنے ہزار روپے لے چھوڑیں گے یہ شرکت ہوئی یا غصب، اصل مقتضاء شرکت عدل و مساوات ہے ۔
قال اﷲ تعالٰی فھم شرکاء فی الثلث۴؎
 (  اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: سب ترکہ کے تیسرے حصہ میں شریک ہیں۔ت)
(۴؎ القرآن الکریم۴/ ۱۲)
فرض کیجئے کہ اصل سرمایہ ان سو حصوں سے دو چند تھا اور اس سال پندرہ سو روپے کے نفع ہوئے تو یہ نصف والے ایک ہزار لیں گے اور دو چند والوں کو صرف پانسو ملیں گے، آدھے کو دو نا اور دونے کو آدھا، یہ عدل ہوا یا صریح ظلم۔ بالجملہ اس عقد مخترعہ کو شرکت شرعیہ سے کوئی علاقہ نہیں ، اب نہ رہے مگر عاریت یا قرض ، عاریت ہے جب بھی قرض ہے کہ روپیہ صرف کرنے کو دیا، او ر عاریت میں شے بعینہٖ قائم رہتی ہے ۔
درمختار میں ہے :
عاریۃ الثمنین قرض ضرورۃ استھلاک عینھا۱؎۔
ثمنوں( سونے اور چاندی ) کی عاریت قرض ہے کیونکہ اس میں عین کو ہلاک کرنا لازم ہے ۔(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب العاریۃ     مطبع مجتبائی دہلی      ۲/ ۱۵۶)
بہر حال یہاں نہیں مگر صورت قرض، اور اس پر نفع مقرر کیا گیا، یہی سود ہے اور یہی جاہلیت میں تھا، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جر منفعۃ فھو ربٰو۲؎۔
قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ ربا ہے ۔
 (۲؎ کنز العمال     حدیث ۱۵۵۱۶     موسسۃ الرسالہ بیروت     ۶/ ۲۳۸)
قرآن کریم اس نفع منقح کی تحریم سے ساکت نہیں خود سائل نے علت تحریم ربا تلاوت کی
لاتظلمون ولاتظلمون۳؎
 (نہ تم ظلم کرو اور نہ ظلم کئے جاؤ۔ت)
 (۳؂ القرآن الکریم    ۲ /۲۷۹)
اور یہاں "تظلمون وتظلمون" دونوں ہیں ، ان مذکور صورتوں میں کہ ہزار ہی نفع کے ہوئے اور سب ان سو حصہ دار وں نے لئے یا نفع کے پندرہ سو ہوئے اور نصف والوں نے دو نے لئے ، یہ ظالم ہیں اور وہ مظلوم، اور اگر پانچ ہزار نفع کے ہوئے تو ان نصف والوں نے دونے لئے ، یہ ظالم ہیں اور وہ مظوم ، اور اگر پانچ ہزار نفع کے ہوئے تو ان نصف والوں کو پانچواں حصہ ملا اور ان دو چند ہی والوں کو چہار چند، یہ مظلوم ہوئے اور وہ ظالم ، اور اگر یہ حصے سرمایہ سے تھے تو ظلم اشد ہے ، اور دونے اور آدھے کو چار ۔ اب ایک صورت اگر یہ خیال کی جائے کہ اصل سرمایہ ان حصوں سے جدا نہ ہو  انہیں حصوں سے تجارت شروع ہوئی، مثلاً سواشخاص نے سو سو روپے ملاکر دس ہزار سے تجارت کی اور ہر شریک کے لئے دس دس رپوے نفع منقح قرار پایا یہ صورت ظاہر کردے گی کہ وہ قرار داد ظلم و جبریت تھا یا محض جہل و حماقت ۔ فرض کیجئے ایک سال پانچ ہی سو نفع کے ہوئے تو یہ سوپر دس دس کرکے کیسے بٹیں ، کیا پانسو کہیں سے غصب کرکے ملائے جائیں گے یا پچاس ہی کو دے کر پچاس کو رے چھوڑ دئے جائیں گے اور وہ کون سے پچاس ہوں گے جن کو دیں گے ور وہ کون سے پچاس ہوں گے جن کو محروم رکھیں گے ۔ فرض کیجئے دو ہزار نفع کے ہوئے تو دس دس بانٹ کر ہزار بچیں گے یہ کسی راہ چلتے کو دئے جائیں گے یا اسی تجارت میں لگادئے جائیں گے ، اگر اسی میں لگائیں گے تو سب کی طرف سے یا بعض کی طرف سے ثانی میں وہ بعض کون ہوں گے اور ان کو کیوں زیادہ ملا اور اول پر سب کو بیس بیس ملے اور ٹھہرے تھے دس دس خلاف قرار داد عقد کیونکر ہوا۔ لاجرم عقل ہو تو یہی ماننا پڑے گا کہ جس سال ہزار نفع کے ہوں گے سب دس دس پائیں اور پانسو تو سب پانچ پانچ اور دو ہزار تو سب بیس بیس ، اور کچھ نہ ہو تو کوئی کچھ نہیں ، اور نقصان ہو تو سب پر حصہ رسد۔ یہی عدل ہے اور یہی مقتضائے شرکت ، اور یہی شرکت شرعیہ ، اور وہ نفع منقح رجماً بالغیب ٹھہرالینا محض جہل و حماقت تھا، بالجملہ شرع مطہر سے آنکھ بند کرنا شر ہی لاتا ہے ، خیرہمہ تن خیر وہی ہے جو شرع مصطفی ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
مسئلہ ۱۹۹: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب ۲۰/ شوال ۴ ۱۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں، ایک شخص کو سرکاری بنک گھر سے اس کے روپوں کا سود آتا ہے آیا یہ شخص سرکار سے سود لے لے اور آپ نہ کھائے اور محتاج اور غریبوں کو تقسیم کردیا کرے یا کسی مفلس تنگدست کے گھر جس کو پانی کی قلت ہوکنواں لگوادے آیا وہ شخص ازروئے شرع شریف سود خوروں اور گناہگاروں میں شمار تو نہ ہوگا، اور ان مفلسوں اور محتاج گھر والوں کے واسطے نقد وغیرہ اس سود سے لینی اور اس کو کنوئیں کا پانی پینا درست ہے یانہیں؟ بحوالہ کتب معتبرہ بیان فرمائیں۔
الجواب : سود لینا مطلقاً حرام ہے ،
قال اﷲ تعالٰی وحرم الربٰو، ۱؎وقال تعالٰی وذرو اما بقی من الربوٰ ۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ چھوڑ دو جو باقی رہا ہے سود سے (ت)
(۱؎ القرآن الکریم         ۲ /۲۷۵)   ( ۲؎ القرآن الکریم       ۲/ ۲۷۸)
تو یہ شخص جس نے سود کی نیت سے لیا اپنی نیت فاسدہ پر گنہگار ہوا، ہاں جبکہ وہ روپیہ برضا مندی گورنمنٹ حاصل کیا اور گورنمنٹ کی طرف سے یا اس سے لینے والوں کو کسی ضرر کے پہنچنے کا اندیشہ نہیں۔

تو فقراء و غرباء اسے نہ یہ سمجھ کر کہ سود کا روپیہ ہے بلکہ یہ جان کر کہ از خزانہ برضائے حاکم وقت حاصل ہوا ہے لے سکتے ہیں ان کے لئے طیب و حلال ہے یونہی اس سے بنوایا ہوا کنواں،
کما فصلناہ فی فتاوٰنا المسألۃ مسألۃ الظفر المنصوص علیہ من الدر وغیرہ من الاسفار الغر۔
جیسا کہ اس کو ہم نے اپنے فتاوٰی میں مفصل بیان کیا ہے ، یہ مسئلہ اپنے حق کو کسی طریقے سے حاصل کرلینے میں کامیابی کا مسئلہ ہے جس پر در وغیرہ کتابوں میں اس پر نص کی گئی ہے(ت)

واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم حکمہ احکم۔
Flag Counter