Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
81 - 180
مسئلہ۱۹۵: ازموضع درؤضلع پیلی بھیت مرسلہ عبدالعزیز خان صاحب ۳/رجب ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ فروخت غلہ نسیہ ساتھ نقصسان نرخ کے بشرط ادائیگی وقت خرمن گاہ جس طرح فی زمانہ زمیندار کیا کرتے ہیں  مثلاً اسامی نے تخم واسطے کاشتکاری زمیندار سے طلب کیا اس نے نرخ سے دو تین سیر کم کرکے دے دیا اور اس کی قیمت اس کے ذمہ واجب الادا کرکے وقت بٹائی کے وصول کرلیا خواہ روپیہ لے لیا یا اناج جس کو ہندی میں  بیج کھادکہتے ہیں  آیا اس قسم کی بیع جائز ہے یاناجائز ؟بینواتوجروا۔
الجوابك قرضوں  نرخ موجود سے کم بیچنے میں مضائقہ نہیں  جبکہ باہم تراضی ہومگر یہ ضرور ہے کہ نرخ و قیمت و وعدہ ادائے قیمت سب وقت بیع معین کردئے جائیں اورغلے کے بدلے غلہ نہ بیچے ، مثلاً بارہ سیر کا بک رہا ہے اس نے دس من غلہ دس سیر کے حساب سے دو مہینے کے وعدے پر چالیس روپے کو بیچا کوئی حرج نہیں  ، اور اگر یہ ٹھہرا کہ غلہ اتنے غلے کے عوض بیچا جوآج کے بھاؤ سے اتنے روپوں  کا فصل پر ہو تو حرام اور سود ہے یونہی وقت خرمن گاہ کا وعدہ بیع میں  جائز نہیں  ہے اگر عقد بیع میں  یہ میعاد مذکور ہوگی بیع فاسد و گناہ ہوگی ، ہاں  اگر نفس عقد میں قرضو ں کا ذکر نہ تھا پھر قرار پایا کہ یہ روپے جو مشتری پر لازم آئے وقت خرمن ادا کئے جائیں  گے تو جائز ہے ۔
فی الدر المختار لایصح البیع بثمن مؤجل الی قدوم الحاج والحصاد للزرع والدیا س للحب والقطاف للعنب لانہاتتقدم وتتأخر ولو باع مطلقا عن ھذہ الاٰجال ثم اجل الثمن الدین الیہا صح التاجیل کما لو کفل الی ھذہ الاوقات لان الجہالۃ الیسیرۃ متحملۃ فی الدین والکفالۃ اھ ۱؎ مختصراً۔
درمختار میں  ہے کہ بیع اس ثمن کے بدلے صحیح نہیں  جس کی میعاد حاجیوں  کے آنے یا کھیت کاٹنے یا غلہ گاہنے یا انگور توڑنے کے ساتھ مقرر کی گئی ہو کیونکہ یہ اوقات مقدم و مؤخر ہوتے رہتے ہیں  ہاں  اگر ان اوقات کا ذکر کئے بغیر بیع کی پھر ثمن دین کوان اوقات کے ساتھ مؤجل کردیا تو مدت مقرر کرنا صحیح ہے جیسا کہ کوئی شخص اوقات مذکورہ تک ضامن بنے کیونکہ تھوڑی سی جہالت دین اور ضمانت میں  قابل برداشت ہے اھ مختصراً (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب البیوع     باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۷)
پھر بہر حال یہ اس سے انہیں قرار یافتہ روپوں  کے لینے کا مستحق ہوگا وقت خرمن جبر نہیں  کرسکتا کہ اب اس وقت کے بھاؤ سے اتنے روپوں  کا جو غلہ ہو اوہ دے یہاں  تک کہ اگر عقد میں یہ شرط کرلی تھی کہ چالیس روپے زر ثمن کے عوض فصل پر جو بھاؤ ہوگا اس کے حساب سے غلہ لیا جائیگا تو بیع فاسد وحرام ہوجائے گی ۔لفساد الشرط وصفقتین فی صفقۃ والافتراق عن دین بدین فی ماشرط من معاوضۃ الثمن بالحب مع جھالۃ قدرالمبیع فی ھذہ المعاوضۃ

کیوں کہ اس میں  فساد شرط ، ایک سودے میں  دو سودوں  کا اجتماع اور جدا ہونا ہے دین سے دین کے بدلے میں  اس چیز میں  جو اس نے وقت خرمن پر معاوضہ ثمن کی شرط لگائی باوجودیکہ اس معاوضہ میں  مبیع کی مقدار مجہول ہے(ت)

ہاں  اگر فصل پر مشتری کہے میرے پاس روپیہ نہیں  آج کے نرخ بازار سے کہ فریقین کو معلوم ہے ان روپوں  کے بدلے غلہ لے لو تو جائز ہے کما نص علیہ العلماء و بیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ اس پر علماء نے نص فرمائی ہے اور ہم نے اس کو اپنے فتاوٰی میں  بیان کیا۔ت)
مسئلہ ۱۹۶: مرسلہ وحید الدین صاحب محلہ اردو بازار بھاگلپور سٹی 

کیافرماتے ہیں  علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں  کہ ہندوستان دارالاسلام ہے یا دارالحرب اور دونوں  کی تعریفیں کیا ہیں  ، ہندوستان میں غیر اقوام سے سو د لینا جائز ہے یانہیں ؟ جو شخص سود لیتا ہے یاسود تمسکات کی تحریر کی اجرت سے اپنی اوقات گزاری کرتا ہو ایسے شخص کے یہاں  کا کھانا جائز ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب :ہندوستان دارالاسلام ہے دارالاسلام وہ ملک ہے کہ فی الحال اس میں  اسلامی سلطنت ہو، یا اب نہیں  تو پہلے تھی، اور غیر مسلم بادشاہ نے اس میں  شعائر اسلام مثل جمعہ و عیدین و اذان و اقامت وجماعت باقی رکھے اور اگر شعائر کفر جاری کئے اور شعائر اسلام یک لخت اٹھادئے اور اس میں  کوئی شخص امان اول پر باقی نہ رہا ، اور وہ جگہ چاروں  طرف سےدارالاسلام سے گھری ہوئی نہیں  تو دارالحرب ہوجائے گا، جب تک یہ تینوں  شرطیں  جمع نہ ہوں  کوئی دارالاسلام دارالحرب نہیں  ہوسکتا۔ سود لینا نہ مسلمان سے حلال ہے نہ کافر سے۔ سود خور اور تمسک لکھنے والا اور اس پر گواہی کرنیوالے سب ایک حکم میں  ہیں ۱؎
(۱؎ صحیح مسلم   کتاب المساقات باب الربوٰ  قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷)
جو کھانا سامنے لایا اگر معلوم ہو کہ یہ بعینہ سود کا ہے تو اس کا کھانا حرام اور اگر سود کا روپیہ دکھا کر یا پہلے دے کر اسکے عوض کھانے کی چیز خریدی جب ناجائز ہے ورنہ ناجائزنہیں  مگر ایسے لوگوں  سے اختلاط نا مناسب ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۹۷: از گودنا ڈاکخانہ یولگنج ضلع سارن مدرسہ حمیدیہ مرسلہ منشی عبدالحمید صاحب ناظم مدرسہ مذکورہ ۱۸/شوال ۱۳۳۱ھ
مایقول السادۃ الفضلاء ھل یجوز اخذ الربا عن اھل الحرب فی الھند سواء کانواھنوداام نصرانیین او غیرہم ممن لاذمۃ لھم علینا۔
کیا فرماتے ہیں  بزرگ فضلاء کہ کیا ہندوستان میں  اہل حرب سے سودلینا جائز ہے ؟چاہے وہ ہندو ہوں  یا نصرانی ہوں  یا ان کے علاوہ جن کاذ مہ ہم پر لازم نہیں  (یعنی ذمی نہیں )۔(ت)
الجواب : الھند بحمدہ تعالٰی دارالاسلام لبقاء کثیر من شعائر الاسلام ومابقی علقۃ منھا تبقی دارالاسلام دارالاسلام لان الاسلام یعلو ولا یعلی ۱؎ اما اخذ الربا فانہ لایجوز مطلقا لاطلاق نصوص التحریم وماذکروامن جواز اخذ الفضل فی دارالحرب فلیس من باب الربا فی شیئ ، لان الربا انما یکون فی مال معصوم ومال اھل دارالحرب غیر معصوم حتی من اسلم منھم ثمہ ولم یھاجر الینا فاخذ ذٰلک اخذ مال مباح لااخذ ربا، ولذا یقول المحققون لاربا فی دارالحرب لا انہ یجوز اخذ الربا فیہا کما یقولون لاربا بین السید وعبدہ لاانہ یجوز للسید اخذ الربا من عبدہ ، فانما اطلق علیہ اسم الربا نظر االی الصورۃ ، وانما الاحکام للحقائق وھذاالحکم یعم کل حربی غیر مستامن ولو فی دار الاسلام لان المناط عدم العصمۃ وھو یشملھم جمیعا، فلا یحرم علینا معھم الاالغدر ،فاذا جاوزتہ واخذت منھم مااخذت باسم ای عقد اردت فقد اخذت مالا مباحا لاتبعۃ علیک فیہ کما راھن الصدیق الاکبر علیہ الرضوان الاکبر کفار مکۃ فی غلبۃ الروم واخذ مالھم باذنہ علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والسلام ، فانما جاز لعدم العصمۃ والالکان قمارامحرما، فہذا ھوالاصل المطرد فی ھذا الباب ومن اتقنہ تیسر علیہ استخراج الجزئیات وقد فصلنا القول فیہ فی فتاوٰنا،
ہندوستان الحمد ﷲ دارالاسلام ہے کیونکہ اس میں  بہت سے شعائر اسلامی باقی ہیں  اور جب تک ان شعائر اسلامیہ کا تعلق  باقی رہے دارالاسلام دارالاسلام ہی رہتا ہے اس لئے کہ اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں  ہوتا۔ رہا سود کا لینا تو وہ نصوص تحریم کے اطلاق کی وجہ سے مطلقاً حرام ہے اور فقہاء کرام نے جودارالحرب میں  زیادہ لینے کے جواز کا ذکر کیا ہے وہ سود کے قبیلہ سے نہیں  ہے کیونکہ سود مال معصوم میں ہوتا ہے اور اہل حرب کا مال معصوم نہیں یہاں  تک کہ اگر اہل حرب میں  سے کوئی شخص وہاں  ہی مسلمان ہوااور ہجرت کرکے ہماری طرف دارالاسلام میں  نہیں آیا تو اس کا مال لینا مال مباح کا لینا ہے نہ کہ سود کا لینا ۔ اسی لئے محققین فرماتے ہیں  کہ دارالحرب میں کوئی سود نہیں ، یوں نہیں  فرماتے کہ وہاں  سودلیناجائز ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں  کہ مالک اور اس کے غلام کے درمیان کوئی سود نہیں ، نہ یہ کہ مالک کا غلام سے سود لینا جائز ہے ، اس پر سود کا اطلاق محض صورت کے اعتبار سے ہے اور احکام تو حقائق کے لئے ہوتے ہیں ( نہ کہ صورت کےلئے ) اور یہ حکم مذکور ہر حربی غیر مستامن کو شامل ہے اگر چہ وہ دارالاسلام میں  ہو کیونکہ اس حکم کا دارومدار مال کے معصوم نہ ہونے پر ہے اور وہ (عدم عصمت ) تمام غیر مستامن حربیوں  کو شامل ہے چنانچہ ہم پر ان کے ساتھ سوائے دھوکا بازی کے کچھ حرام نہیں ، اور جب تو دھوکا بازی سے اعراض کرتے ہوئے ان کا مال جس عقد کے نام سے چاہے لے تو بیشک تو نے مال مباح لیا اس میں  تجھ پر کوئی مواخذہ نہیں  جیسا کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے غلبہ روم کے بارے میں  کفار مکہ سے شرط لگائی اور نبی اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کی اجازت سے اس شرط پر کفار مکہ کا مال لے لیا کیونکہ ان کا مال معصوم نہیں  ورنہ تو یہ جوا ہے جو کہ حرام ہے ۔ اس باب میں  یہ قاعدہ کلیہ ہے جس نے اس کو مستحکم کرلیا اس پر جزئیات کا استخراج آسان ہوگیا اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں  اس پر مفصل گفتگو کی ہے
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الجنائز       باب اذا اسلم الصبی     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۸۰)
 نعم ھنا دقیقتان یجب التنبہ لھما الاولی ینبغی التحرز عن مواقف التھم ممن جاھر باخذ الفضل منھم بالنیۃ الصحیحۃ المذکورۃ انما یاخذ حلالا ولکن یتھمہ العوام باکل الربا فینبغی التحرز عنہ لذوی الھیأت فی الدین والثانیۃ ان من الصور المباحۃ مایکون جرمافی القانون ففی اقتحامہ تعریض النفس للاذی والاذلال وھو لایجوز فیجب التحرز عن مثلہ وما عداذٰلک مباح سائغ لاحجر فیہ، نعم من اخذ منھم الفضل ونوی اخذ الربا فھو الذی قصد المعصیۃ ، وانما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوی۱؎ ، کما نصوا علیہ فی من تعمد النظر من بعید الی ثوب موضوع فی الطاق ظنامنہ انھا امرأۃ اجنبیۃ حیث یا ثم بما قصد و ان کان النظر الی الثوب مباحافی نفسہ وھوسبحانہ وتعالٰی اعلم۔
ہاں  یہاں  دوباریک باتیں  ہیں جن پر متنبہ ہونا ضروری ہے ، پہلی بات یہ ہے کہ تہمت کی جگہوں  سے بچنا چاہئے۔ جس شخص نے اعلانیہ طور پر حربیوں  سے زیادتی مال وصول کی اور نیت اس کی صحیح ہے جس کا ذکر ہوا تو بیشک وہ حلال مال لیتا ہے لیکن عوام اس پر سود کھانے کی تہمت لگائیں  گے لہٰذا دینی اعتبار سے صاحب حیثیت لوگوں  کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے دوسری بات یہ ہے کہ مباح صورتوں  میں  سے بعض قانونی طور پر جرم ہوتی ہیں  ان میں  ملوث ہونا اپنی ذات کو اذیت و ذلت کےلئے پیش کرنا ہے اور وہ ناجائز ہے ، اس طرح کی صورتوں  سے بچنا ضروری ہے اور اس کا ماسوا مباح و جائز ہے اس میں  کوئی ممانعت نہیں ، ہاں  جس نے حربیوں  سے زیادہ مال بنیت سود لیا تواس نے گناہ کا قصد کیا اور اعمال کا دار و مدار نیتوں  پر ہے ہر شخص کےلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی ، جیسا کہ فقہاء کرام نے اس شخص کے بارے میں اس پر نص کی ہے جس نے طاق میں  رکھے ہوئے کپڑے کو دور سے غیر محرم عورت سمجھتے ہوئے قصداً اس کی طرف نظر کی کیونکہ اس نے اپنے قصد میں  گناہ کیا اگرچہ کپڑے کو دیکھنا فی نفسہٖ مباح ہے ۔(ت) وھو سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
(۱؎ صحیح البخاری     باب کیف کان بدأ الوحی     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲)
Flag Counter