| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ۱۹۳: از بہرائچ درگاہ شریف مسئولہ عظیم الدین مدرس افسر مدرسہ مسعودیہ بروز پنجشنبہ۲۲ صفر ۱۳۳۴ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو کو کچھ روپیہ مختلف شرع سود پر بدفعات قرض دیا اور اس روپیہ میں کوئی جائداد مرہون نہیں تھی اس کے بعد خالد پسر زید نے عمرو کی جائداد بخیال اپنے وارث ہونے کے خرید کیا ، کل زر قرض اصل معہ سود زر ثمن جائداد میں مجرا لیا ،پس سوال یہ ہے کہ خالد وعمرو جو دونوں سنی المذہب ہیں اور حدود شرعیہ سے نکلنا نہیں چاہتے ، ایسی صورت میں خالد کو رقم سود حلال ومباح ہے یا حرام وناجائز ہے اور خالد خیرات وصدقہ کر دینے کے عذر سے یا عمرو کے مبتلائے اسراف ہو جانے کے احتمال سے رقم سود واپس نہیں کرنا چاہتا، یہ عذر اس کا کیسا ہے ؟ جواب مع دلائل ، مہربانی فرما کر تحریر فرما ئیے فقط ۔
الجواب : اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
یٰایھاالذین اٰمنوااتقوااﷲ وذروامابقی من الربوٰ، فان لم تفعلوافاذنوابحرب من اﷲ ورسولہ۱؎۔
اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو سود باقی رہا چھوڑ دو پھر اگر ایسا نہ کرو تو اﷲ ورسول سے لڑائی کا اعلان کردو یعنی اﷲ ورسول سے لڑنے کو تیار ہوجاؤ اگر سود نہیں چھوڑتے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۷۹۔۲۷۸)
خالد پر ایک حبہ سود کا لینا حرام ہے ، حدیث میں فرمایا:''جس نے دانستہ ایک درہم سودکا لیا اس نے گویا چھتیس بار اپنی ماں سے زنا کیا''۔ بکثرت احادیث صحیحہ میں ہےکہ سود تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے
ایسرھا مثل ان ینکح الرجل امہ ۲؎
ان سب میں ہلکا یہ ہےکہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے ۔
(۲؎ المستدرک للحاکم کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲/ ۳۷)
صحیح حدیث میں ہے :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربوٰ ومؤکلہ وکاتبہ و شاہدیہ وقال ھم سواء ۳؎۔
لعنت فرمائی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سود لینے والے اور کاغذلکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنےوالوں پر ، اور فرمایا وہ سب برابر ہیں ۔
(۳؎ صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب الربوٰ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷)
اور یہ عذر کہ خیرات کرے گا یا عمرو مسرف ہے محض اغوائے شیطانی ہے ، اسراف اگر وہ کرے تو گناہ اس پر ہوگا اس کا مال ضائع ہوگا دوسرے کو گناہ سے بچانے کےلئے خود اﷲ و رسول سے لڑائی مول لینا اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی لعنت قبول کرنا عقل و دین سے کیا علاقہ رکھتا ہے اور خیرا ت کا عذر تو اور بھی بدتر ہے ، خیرات کرنے کے لئے حرام مال لینا اس عورت کے مثل ہے جو تصدق کے لئے اجرت پر زنا کرائے کہ خیرات کرے گی
۔ ردالمحتار میں ہے :
کمطعمۃ الایتام من کدفرجھا لک الویل لاتزنی ولا تتصدقی۴؎۔
جیسے وہ عورت کہ اپنی فرج کی کمائی سے یتیموں کو کھانا دے، تیری خرابی ہو نہ زناکرنہ خیرات دے۔
(۴؎ ردالمحتار)
بلکہ خالد کی سعادت یہ ہے کہ اس کے باپ نے جس قدر سود لیا ہے وہ بھی واپس دے اگر اﷲ تعالٰی سے ڈرتا اور حدود شرع میں رہنا چاہتا ہے تو راہ یہ ہے اور ہدایت اﷲ تعالٰی کے ہاتھ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: از مقام بمبئی سیتارام بلڈنگ کوٹھی صاحب عبدا ﷲ علی رضا صاحب مسئولہ سرور خان ۱۳ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ مصدر فیض وحسنات مکرم و معظم بندہ اعلٰیحضرت مولانا قبلہ دام ظلکم ، السلام علیکم ! برادر م محمد عبدالعزیز نےکلکتہ سے آنجناب سے جان کے بیمہ کی نسبت دریافت کیا تھا، آنجناب نے ناجائز کا فتوٰی دیا، مذکور فتوٰی کو انہوں نے میرے پاس بھیج دیا دیکھنے سے معلوم ہوا کہ سوال ان کا ناقص ہےدوبارہ بغرض تحقیق مسئلہ مذکورہ مفصلاً پیش ہوتا ہے ،امیدو ارجواب باصواب ہوں ۔ایک بیمہ کمپنی میں جس کے مالک و مختار سب کےسب نصرانی المذہب ہیں علاوہ دریا و آگ کے بیمہ کے،جان کا بیمہ بھی ہوتا ہے ،صورتیں اس کی متفرق ہیں: پہلی صورت میں تمام عمر ایک مقررہ فی بیمہ اتارنے والا کمپنی مذکورہ کو تمام عمر ہرسال دیتا رہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو بیمہ کی رقم دی جاتی ہے مثلاً تیس سال کی عمر کے شخص نے ہزار روپیہ کی رقم کے لئے اپنا بیمہ اتارا تو سالانہ فیس اس کو اٹھائیس روپیہ دینا پڑے گا اور اس کے مرنے کے بعد کمپنی اس کے وارثوں کو پورا ایک ہزار دے دے گی مثلاً آج کسی شخص نے بیمہ کمپنی سے معاہدہ کیا اور پہلے سال کی فیس دی اس کے بعد دو مہینہ یا دو سال یا چار سال کے بعد مرگیا تو بیمہ کی پوری رقم ایک ہزار روپیہ اس کے وارثوں کو مل جائے گی ۔ دوسری صورت یہ ہےکہ معدودفی فقط چند سال تک ہر سال کمپنی مذکور کو دیتا رہا اور اس کے مرنے پر اس کے وارثوں کو بیمہ کی رقم پوری ایک ہزار روپیہ دی جائیگی ، یہ پہلی صورت سے اچھی ہے، چند سال فی بھرنے کے بعد بھرنا نہیں ہوتاہے، مثلاً ایک شخص کی عمر تیس سال ہے اور ساٹھ سال کی عمر تک کمپنی کو سالانہ ساڑھے تیس روپیہ فیس دیتار ہے اور پھر نہ دے تو اس کے وارثوں کو بعد موت بیمہ کی رقم دی جائے گی ، اگر بیمہ اتارنے والا قبل مدت کے مر گیا تو بیمے کی طرف سے اسکے وارثوں کو پوری رقم بیمہ کی ایک ہزار روپیہ دی جائے گی ۔ تیسری صورت کوئی شخص جو بیمہ اتارتا ہے وہ آئندہ اپنے بڑھاپے میں مثلاً پچیس سال یا ساٹھ سال یاباسٹھ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد بیمہ کی ہوئی رقم خود وصول کرنا چاہتا ہے اس عمر تک بیمہ اتارنے والا زندہ رہا تو رقم مذکور اسی کو ملے گی ہر بڑھاپے عمر کی فیس جدا ہے مثلاً تیس سال کی عمر کا شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد ایک ہزار چاہتا ہے تو سالانہ اس کی فیس ساڑھے چونتیس روپے ہے ، اگر وہ زندہ رہا تو سالانہ اس کو فیس مذکورہ دینا ہوگا، اور اس کو ساٹھ سال کی عمر میں بیمہ کی رقم ایک ہزار ملے گی اس درمیان میں بیمہ اتارنے والا مرگیاتو پوری رقم بیمہ کی ایک ہزار وپیہ اس کے وارثوں کو مل جائے گی ۔ چوتھی صورت یہ صورت تیسری صورت سے ملتی جلتی ہے ، فرق یہ ہے کہ اس صورت میں بیمہ اتارنے والے کو فقط بیس سال تک فیس دینی پڑتی ہے اس کے بعد پھر دینا نہیں پڑتا اس کی فیس تیسری صورت سے ذرا زیادہ ہے مثلاً تیس سال کی عمر کا شخص ساٹھ سال میں ایک ہزار روپیہ چاہتا ہے تو اس کو سالانہ بیالیس روپیہ دینا ہوگا بیس سال کے بعد پھر دینا نہ ہوگا، جب وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچے گا تو کمپنی اس کو بیمہ کی رقم دے دیگی یعنی مبلغ ایک ہزار روپیہ ، اس اثناء میں وہ مرگیا تو اس کے وارثوں کو پورا ایک ہزار روپیہ مل جائے گا۔ کوئی شخص مذکورہ بالا صورتوں کا بیمہ لینے کے بعد چند سال بیمہ کی فیس دیتا رہا اس کے بعد دینا نہ چاہے یا دے نہ سکا اور کمپنی سے روپیہ جو بھرا ہے واپس چاہتا ہے تو فقط نصف رقم فیس ادا کردہ اس کو ملے گی، مثلاً دس سال تک دیتا رہا اندازاً جملہ چار سو ہوا زیادہ ہوا یا کم ہوا اب وہ کمپنی سے اپنا معاہدہ منسوخ کراکر جو روپیہ بھرا ہے واپس چاہتا ہے ، تو فقط نصف رقم چار سو کی دو سو ملے گی اگر واپس نہ چاہا تو مدت مقررہ گزرنے پر جس کو وہ انتخاب کیا ہو بوقت معاہدہ بیمہ کی رقم بالمناسبۃ ملے گی مثلاً چوتھی صورت کا بیمہ کسی نے لیا پانچ سال تک فی دیتا رہا ، اس کے بعد دے نہ سکا یا دینا نہ چاہا تو اس کو پاؤ رقم کی دئے کی رسید ملے گی یعنی ۲۵۰ روپیہ اس کو یا تو بشرط حیات ساٹھ سال کی عمر میں مذکور روپیہ ۲۵۰ ملے گا یا بعد موت اس کے وارثوں کو ملے گا ، بیمہ کی فیس جدا جدا ہے جتنی عمر کم ہوگی اتنی فیس کم ہوگی بڑی عمر کےلئے زیادہ فیس ہے ، یہ حساب بیمی اتارنے کے وقت کیا جاتا ہے اور بیمہ اتارنے کے وقت جو عمر رہتی ہے اس کی فیس تمام عمر یا بڑھاپے کی عمر تک بھرنا ہوگا جس کو وہ پسند کرے۔ بالا مذکور صورتوں سے روپیہ جمع کرنا اور بیمہ کمپنی سے معاہدہ کرنا اور کمپنی مذکورہ سے وصول کرنا شرعاً جائز ہے یانہیں ؟ سائل حنفی المذہب ہے لہٰذا فتوٰی بھی اسی مذہب پر ہو۔ والسلام
الجواب : یہ بالکل قمار ہے اور محض باطل کہ کسی عقد شرعی کے تحت میں داخل نہیں ، ایسی جگہ عقود فاسدہ بغیر عذر کے جو اجازت دی گئی وہ اس صورت سے مقید ہے کہ ہر طرح ہی اپنانفع ہو اور یہ ایسی کمپنیوں میں کسی طرح متوقع نہیں لہٰذا اجازت نہیں کما حقق المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر (جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم ۔