Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
79 - 180
تم جو خرید وفروخت کو حلال اور سود کو حرام کرتے ہو ان میں  کیا فرق ہے بیع میں  بھی تو نفع لینا ہوتا ہے، اس کا جواب ارشاد فرمایا:
واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو۵؎۔
اﷲ نے حلال کی بیع اور حرام کیا سود۔
 (۵؎القرآن الکریم      ۲/ ۲۷۵)
تم ہوتے ہو کون ، بندے ہو سربندگی خم کرو، حکم سب کو دئے جاتے ہیں  ، حکمتیں  بتانے کے لئے سب نہیں ہوتے ، آج دنیا بھر کے ممالک میں  کسی کی مجال ہے کہ قانون ملکی کسی دفعہ پر حرف گیری کرے کہ یہ بیجا ہے یہ کیوں ہے، یوں  نہ چاہئے، یوں  ہونا چاہئے تھا، جب جھوٹی فانی مجازی سلطنتوں  کے سامنے چون و چرا کی مجال نہیں  ہوتی تو اس ملک الملوک بادشاہ حقیقی ازلی ابدی کے حضور کیوں ، اور کس لئے کا دم بھرنا کیسی سخت نادانی ہے، والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ سود لینا مطلقاً عموماً قطعاً سخت کبیرہ ہے اور سود دینا اگر بضرورت شرعی و مجبوری ہوتو جائز ہے ،
درمختار میں  ہے :
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربٰو۶؎۔
محتاج سود پر قرض لے سکتا ہے۔(ت)
 (۶؎ الاشباہ والنظائر بحوالہ القنیہ     الفن الاول ، القاعدۃ الخامسۃ     ادارۃ القرآن کراچی     ۱/ ۱۲۶)
ہاں بلا ضرورت جیسے بیٹی بیٹے کی شادی یا تجارت بڑھانا یا پکا مکان بنانے کے لئے سودی روپیہ لینا حرام ہے ، سود خور کے یہاں  کھانا نہ چاہئے مگر حرام و ناجائزنہیں ، جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمارے سامنے کھانے کو آئی بعینہٖ سود ہے مثلاً ان گیہوں  کی روٹی جو اس نے سود میں  لئے تھے یا سود کے روپے سے اس طرح خریدی گئی ہے کہ اس پر عقد و نقد جمع ہوگئے یعنی سود کا روپیہ دکھا کر اس کے عوض خریدی اور وہی روپیہ اسے دے دیا، جب تک یہ صورتیں  تحقیق نہ ہوں  وہ کھانا حرام ہے نہ ممنوع۔
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۱؎۔
فتاوٰی ہندیہ میں  بحوالہ ذخیرہ امام محمد سے منقول ہے کہ ہم اسی (قول جواز) کو لیتے ہیں  جب تک بعینہٖ کسی شے کا حرام ہونا معلوم نہ ہوجائے (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ  کتاب الکراہیۃ   الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور  ۵ /۳۴۲)
تو نہ خلق پر تنگی ہے نہ علماء پر اعتراض ، ہاں  تجارت حرام کے دردوازے آج کل بکثرت کھلے ہیں ان کی بندش کو اگر تنگی سمجھا جائے تو مجبوری ہے وہ تو بیشک شرع مطہر نے ہمیشہ کیلئے بندکئے ہیں  جو آج بے قیدی چاہے کل نہایت سخت شدید قید میں  گرفتار ہوگا اور جو آج احکام کا مقید رہے کل بڑے چین کی آزادی پائے گا۔ دنیا مسلمان کےلئے قید خانہ ہے اور کافر کےلئے جنت ۔ مسلمانوں  سے کس نے کہا کہ کافروں کی اموال کی وسعت اور طریق تحصیل آزادی اور کثرت کی طرف نگاہ پھاڑ کر دیکھے ، اے مسکین !تجھے تو کل کا دن سنوارنا ہے،
یوم لاینفع مال ولا بنون الا من اتی اﷲ بقلب سلیم ۲؎۔
جس دن نہ مال نفع دے گا نہ اولاد ، مگر جو اﷲ کے حضور سلامت والے دل کے ساتھ حاضر ہوا۔
 (۲؎ القرآن الکریم    ۲۶ /۸۸ و۸۹)
اے مسکین ! تیرے رب نے پہلے ہی تجھے فرمادیا ہے:
ولاتمدن عینیک الٰی مامتعنا بہ ازواجا منھم زھرۃ الحٰیوۃ الدنیا لنفتنھم فیہ ورزق ربک خیر وابقی۳؎۔
اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ اس دنیوی زندگی کی آرائش کی طرف جو ہم نے کافروں  کے کچھ مردوں  و عورتوں  کے برتنے کو دی تاکہ وہ اس کے فتنہ میں  پڑ ے رہیں  اور ہماری یاد سے غافل ہوں  اور تیرے رب کا رزق بہتر ہے اور باقی رہنے والا۔
 (۳؎القرآن الکریم    ۲۰/ ۱۳۱)
چندہ کا جواب اوپر آگیا کہ اگر ہم کو تحقیق سے معلوم ہو کہ یہ روپیہ جو دے رہا ہے بعینہ سود کا ہے تو لینا حرام ورنہ جائز ۔ ربا اس صور ت میں  متحقق ہوتا ہےکہ عقد میں  مشروط ہو اگرچہ شرط نصاً نہ ہو یا عرفاًہو ورنہ احسا ناً قرار داد سے زائد دینا نہ ربا ہے نہ جرم ۔ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک پاجامہ خریدا اور قیمت کی چاندی وزن کرنیوالے سے ارشاد فرمایا : زن وارجح ۱؎تول اور زیادہ دے۔ یہ احسان ہے ،
وما علی المحسنین من سبیل۲؎۔
 (احسان کرنے والوں  پر کوئی راہ نہیں ۔ت)
 (۱؎ سنن ابوداؤد   کتاب البیوع  باب فی الرجحان فی الوزن   آفتاب عالم پریس لاہور۲/ ۱۱۸)

(۲؎ القرآن الکریم     ۲ /۹۱)
پھر امام رازی پر کیا اعتراض ہے ، سود لینا شرع نے مطلقاً حرام فرمایا ہے مسلم سے ہو یا کافرسے،
قال تعالٰی وحرم الربوٰ۳؎
 (اﷲتعالٰی نے ارشادفرمایا: اﷲ تعالی نے سود کو حرام کیا۔ت)
 (۳؎القرآن الکریم    ۲ /۲۷۵)
اس میں  کوئی تخصیص نہیں  مگر مدار اعمال نیت پرہے اگر کسی کافر کا مال کہ نہ ذمی ہو نہ مستامن ، بلاغدر و بدعہدی اور بغیر کسی نیت ناجائز کے حاصل ہو تو بہ نیت شے مباح اسے لینا ممنوع نہیں اگرچہ وہ دینے والا اپنے ذہن میں سود ہی سمجھ کر دے یہ مال مساجد و مدارس و مصارف یتامٰی میں  بھی صرف ہوسکتا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۹۲: از مقام کٹھور ضلع سورت حاجی محمد سلیمان کٹروا بروز یکشنبہ ۲۹ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں  کہ فی زماننا ٹراموے و ریلوے کمپنی ودیگر کارخانہ جات کے حصص جسے یہاں  کی اصطلاح میں  شیئر کہتے ہیں  خریدے جاتے ہیں  اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک کمپنی ٹراموے یا ریلوے یا کارخانہ پارچہ بافی یاآہن سازی یا کسی تجارت کے لئے قائم کی جاتی ہے اور اس کا سر مایہ مقرر کرکے اس کے حصص فروخت کئے جاتے ہیں  اور اس کے کارکنان بھی تنخواہ دار مقررکئے جاتے ہیں  جو حسب منصب کام کرتے ہیں  اور ششماہی یا سالانہ اس کے نفع نقصان کا حساب شائع کرتے ہیں  اور نفع بھی حصہ رسد تقسیم کرتے ہیں  اور کچھ روپیہ نفع میں  سے جمع بھی رہتا ہے جو سود پر بھی دیا جاتا ہے اور اس کا سود بھی نفع میں شامل کر کے حصہ داروں کو تقسیم کیا جاتا ہے اور ضرورت کے وقت سودی روپیہ بھی لیا جاتا ہے اس کا سود اصل رقم یا نفع میں  سے دیا جاتا ہے اور ان حصص کی قیمت کمپنی کے نفع نقصان کے اعتبار سے بڑھتی گھٹتی رہتی ہے حصہ داران اپنے حصہ کو اسی بھاؤ سے فروخت کردیتے ہیں  لیکن فروخت کی یہ صورت ہوتی ہے کہ بائع دلال سے کہتا ہے کہ میں  اپنی فلاں کمپنی کا حصہ فروخت کرنا چاہتا ہوں  تو دلال کہتا ہے کہ آج یہ بھاؤ ہے پھر اگر بائع کو اس بھاؤ سے فروخت کرنا ہوتا ہے تو دلال کہہ دیتا ہے کہ بیچ دو ، تو وہ کسی کو بیچ دیتا ہے ، یہاں  مشتری کسی چیز پر قبضہ نہیں  کرتا ہے بلکہ صرف کمپنی والوں  سے دلال بائع کے نام کی جگہ مشتری کا نام لکھواکر دے دیتا ہے، یہاں  قابل غور یہ امر بھی ہے کہ اگر مشتری کمپنی والوں  سے اپنے حصص کے عوض کمپنی کے اسباب تجارت میں  سے کوئی شے طلب کرے تو کمپنی والے وہ شیئ اسے نہیں  دیتے اور نہ اسے اس کے دام واپس کرتے ہیں  البتہ وہ جس وقت حصہ فروخت کرنا چاہے تو بازاری بھاؤ سے اسی وقت مذکورہ بالا طریق سے فروخت ہوجاتا ہے ، اور اسے اسی وقت روپیہ مل بھی جاتا ہے ، اب دریافت طلب یہ امر ہے حصص خرید نے عندالشرع جائزہیں  یانہیں ؟ اور اگر جائز ہے تو یہ کس بیع میں  داخل ہے اور اس میں  زکوٰۃ حصص کی قیمت پر لازم آتی ہے یامنافع پر؟بینواتوجروا۔
الجواب الملفوظ

ظاہر ہے کہ حصہ روپوں کا ہے اور وہ اتنے ہی روپوں کو بیچاجائے گا جتنے کا حصہ ہے یا کم زائد کو بیچاگیا تو ربا اور حرام قطعی ہے ،اور اگر مساوی ہی کو بیچاگیا تو صرف ہے جس میں تقابض بدلین نہ ہوا یوں حرام ہے، پھر حصہ داروں کو جو منافع کا سود دیا جاتا ہے وہ بھی حرام ہے ،غرض یہ معاملہ حرام درحرام محض حرام ہے حصص کی قیمت شرعا کوئی چیز نہیں بلکہ اصل کے روپے جتنے اس کے کمپنی میں جمع ہیں ، یا مال میں اس کا جتنا حصہ ہے ، یا منفعت جائزہ غیر ربا میں اس کا جتنا حصہ ہے اس پر زکوۃ لازم آئیگی ۔واللہ تعالی اعلم
Flag Counter