فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
78 - 180
محیط وعالمگیریہ و جامع الفصولین وغیرہا میں ہے :
تصدق علی الفقیر شیئا من المال الحرام ویرجو الثواب کفر ولو علم بہ الفقیر ودعالہ وامن المعطی کفرا۲؎۔
کسی نے مال حرام میں سے کچھ فقیر پر صدقہ کیا اس حال میں کہ وہ اس سے ثواب کی امید کرتا ہے تو کافر ہوگیا اور اگر فقیر کو معلوم ہو کہ یہ مال حرام ہے اس کے باوجود اس نے دینے والے کو دعا دی اور دینے والے نے اس پرآمین کہی تو دونوں کافر ہوگئے۔(ت)
(۲؎ جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۰۸)
زر حرام والے کو یہ حکم ہوتا ہے کہ جس سے لیا اسے واپس دے وہ نہ رہا اس کے وارثوں کو دے پتہ نہ چلے تو فقراء پر تصدق کرے یہ تصدق بطور تبرع واحسان و خیرات نہیں بلکہ اس لئے کہ مال خبیث میں اسے تصرف حرام ہے اور اس کا پتہ نہیں جسے واپس دیا جاتا لہٰذا دفع خبث وتکمیل توبہ کے کئے فقراء کودینا ضرور ہوا اس غرض کے لئے جومال دفع کیا جائے وہ مساجد وغیرہ امور خیر میں صرف کہ خبیث ہے اور یہ مواضع خبیث کا مصرف نہیں ، ہاں فقیر اگر لے کر بعد قبول و قبضہ اپنی طرف سے مسجد میں دے دے تو مضائقہ نہیں ۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھو لہا صدقۃ ولنا ھدیۃ ۳؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس (حضرت بریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ) کیلئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الفرائض باب الولاء لمن اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۹)
مسئلہ ۱۸۸: ازورو ڈاکخانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ عبداﷲ صاحب ۶شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ کے سترہ آنے یا ساڑے سولہ آنے ٹھہرا کر دو چار روز میں لینا کیسا ہے ؟
الجواب
روپیہ قرض دیا اور یہ ٹھہرالیا کہ سواسولہ آنے لیں گے، یہ سود و حرام قطعی ہے اور اگر روپیہ سترہ آنے یا سولہ آنے کا برضائے مشتری بیچا ور قیمت چار دن یا دو دن یا دس برس بعد دینی ٹھہری تو یہ جائز ہے جبکہ روپیہ اسی جلسہ میں دے دیا گیا ورنہ بیع باطل ہوجائے گی، لکونہ افتراقا عن دین بدین ویکفی قبض احدالجانبین کما حققناہ فی کفل الفقیہ۔
کیونکہ افتراق ہے دین سے دین کے بدلے میں اور ایک جانب سے قبضہ کا پایا جانا کافی ہے جیساکہ اس کی تحقیق ہم نے کفل الفقیہ میں کردی ہے۔(ت)
اور اگر روپے کے سترہ آنے یا سولہ آنے خریدے اور پیسے چار دن بعد دینے ٹھہرے تو یہ ناجائز ہے کہ یہ بیع سلم ہوئی اور بیع سلم میں ایک مہینے سے کم مدت مقرر کرنی جائز نہیں بہ یفتی زیلعی ودر وھو المعتمد بحر وھو المذہب نھر(اسی پر زیلعی اور در فتوی دیتے ہیں اور یہی معتمد ہے ( بحر ) اور یہی مذہب ہے (نہر) ۔ت) ہاں ایک مہنے یا زیادہ کی مدت مقررکریں اور روپیہ اسی جلسہ میں دے دیں اور باقی سب شرائط بیع سلم کے پائے جائیں تو جائز ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ محمد حسن خان صاحب ۲۳/ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
عمرو تجارت پارچہ کی کرتا ہے ، اس کا پارچہ کا روپیہ زید کے ذمہ چاہئے تھا، عرصہ جس کو دو ڈھائی برس کا ہوگیا تھا بلاسودی ، عمرو سود نہیں کھاتا ہے ، عمرو کو بے حد ضرورت لاحق ہوئی، عمرو نے زید سے طلب کیا، زید نے انکار کیا اور وعدہ چار ماہ کاکیا، عمرو نے کہا کہ اگر آپ اب مجھے نہ دو گے تو میری ذات رسوائی ہوگی تب کیانتیجہ ہوگا۔ زید کا بڑابھائی خالد تھا اس سے سفارش کرائی تب زید نے کہا کہ بکر جو میرا عزیز ہے اس سے میں نے ابھی تھوڑا زمانہ ہوا ۴۲سو روپیہ دستاویز لکھ کر قرض لئے تھے وہ روپیہ میں نے ادا کردیا حسب معاہدہ بلا سود رسیدات آگئی ہیں دستاویزات انہی کے پاس ہیں ، اگر وہ دے دیں تو رسیدیں واپس دے دوں دستاویز وہی پھر برقرار رہے گی وہ تم کو روپیہ دے دیں عمرو خالد کو ہمراہ لے کر بکر کے پاس گیا بکر سے کہا وہ راضی نہ ہوا تب عمرو نے کہا
آپ دو سو مجھے کم دے دیں میری عزت جاتی رہے گی بغیر روپیہ کے ملنے کے، میں ۲۶ سولے کر ۲۸ سو کی رسید لکھنے کو تیار ہوں ، یہ آپ کو فائدہ ہوجائیگا ، بکر نے کہا تم کہیں ا ور اسے لے لو میں ضمانت کردوں گا۔ عمرو نے ایک کافر سے کہا کہ تین ماہ کے واسطے ۲۶ سوروپے دے دے وہ سو روپیہ سود کے طلب کر تا تھا، عمرو نے بکر سے کہا کہ یہ سو بھی آپ لے لیں آپ ہی دے دیں ۲۵ سو روپے اوررسید ۲۸ سو کی لیں میری ضرورت بہت شدید ہے اور خوشامد در آمد کی، خالد نے کہا سنا بکر راضی ہوگیا مگر یہ کہا کہ زید ایک خط لکھ دے کہ یہ روپیہ تین ماہ میں واپس کروں گا اگر نہ دوں تو مع سود کے چار ماہ میں دوں گا، اور ایک رقعہ پانچ سو کا لکھ دیں کہ اگر چار ماہ میں بھی نہ ادا ہو تو پانچویں ماہ مجھ کو اس رقعہ کا مطالبہ وصول کرنے کا حق حاصل ہوگا اور سود دستاویز کا بھی۔ چنانچہ زید نے رقعہ تاوانی باضابطہ لکھ دیا بکر کو، اور خط معاہدہ کا بھی، اور رسیدات واپس دے دیں، بکر نے عمرو کو ۲۵ سو دیا ۲۸ سو کی رسید لی، دو سو کمی کے کاٹے اور سودسوروپے ، جملہ تین سو اور چودہ سو نقد زید کو دے دئے یا کسی سے دلادئیے ، اس نے پورے چودہ سو نقددئے بلا کسی کاٹ چھانٹ کے ۲۸ سو کی رسید ۱۴ سو نقد، یوں ۴۲ سو ہوگئے ۔ عمرو نے رسید لکھتے وقت یہ کہا بکر سے کہ میں بہت غریب ہوں یہ سو روپے تو سود کے میں نے کاٹ دئیے مگر یہ دو سو روپے کمی والے محض ان کی وجہ سے کہ انہوں نے (زید نے) نہ دئیے اور میری۔۔ بغیر اس کے ذلت ہے بمبوری کمی کرکے لئے ہیں کہ حضور بغیر اس کے نہ دیتے اگر زید تین ماہ میں نہ دیں اور چوتھے ماہ میں دیں تو حضور یہ سود دستاویز جو حضور کو وصول ہوگا یہ معاوضہ ان کمی والے دو سو روپے کے میرا حق ہوگا وہ مجھ کو ملے، جو دو سو سے زائد ہوگا وہ حضور لیں کیونکہ میں تو انہیں کے بالعوض دے رہاہوں وہ حضور مجھ کو دیں ، تین ماہ میں واپس ہو روپیہ تو حسب معاہدہ بلاسود ہے میری تقدیر سے وہ چار ماہ میں دیں تو سود کی رقم ضرور لے کر مجھے دیں سود کہ میرا حق ہے مجھ کو جائز ہے زید نے وہ روپیہ حسب معاہدہ ادا نہ کیا بلکہ پانچ ماہ بعد ادا کیا بکر نے سود تو دستاویز کا نہ لیا جو دو سو ڈھائی روپیہ ہوتا تھا زید کو چھوڑدیا مگر رقعہ تاوانی پانسوکا وصول کرلیا یعنی ۴۲سو کے ۴۷ سو وصول کرلئے بعد وصول کے عمرو طالب ہے بکر سے کہ مجھے ان پانچ سو میں سے دو سو دیجئے کیونکہ حضور نہ چھوڑتے تو وہ مجھے ملتے آپ نے چھوٹی رقم نہ لی بڑی لی لہٰذا مجھ کو دو سو دیجئے گا، بکر نے کہا کہ مجھ کو یاد نہیں یہ معاہدہ ہوا تھا، تب خالدنے یاد دلایا کہ ہوا تھا اب بکر نے عمرو سے کہا کہ اگر شرع شریف حکم خدا ورسول سے مجھ کو وہ رقم دو سو کی تمہاری اور بلکہ سو روپے سود کے جو میں نے تم سے لئے ہیں جائزہیں تو میں نہ دوں گا اور اگر مجھ کو وہ حرام ہیں تو میں تین سو کے تین سو دینے کو تیارہوں ، بکر کبھی سود نہیں کھاتا ہے اور ہزاروں روپے اپنے عزیزوں کو ، دوستوں کو قرض بلا سود دیتا ہے ۔ اس سبب سے بکر دریافت کرتا ہے مرقومہ بالا صورتوں میں کون سی رقم مجھ کو جائز ہے یا کل ناجائزہے ؟ عنداﷲ مواخذہ کس رقم کا ہوگا اور کس کا نہ ہوگا؟ اور کونسی رقم سود ہوگی اور کونسی سود نہ ہوگی یا کل سود ہوگی؟ اور عنداﷲ میں گنہگار ہوں گا؟ عمرو شریعت کے حکم کے موافق تین سو یا دو سو یا ایک سو کس رقم کے واپس لینے کا مستحق ہے یا کسی رقم کے واپس پانے کا مستحق نہیں ہے یا کل واپس پانے کا مستحق نہیں ہے ؟
الجواب : اﷲ کے بندو ! اﷲسے ڈرو، اﷲعزوجل فرماتا ہے :
یایھاالذین اٰمنو الاتاکلو ااموالکم بینکم بالباطل الاان تکون تجارۃ عن تراض منکم ولاتقتلو اانفسکم ان اﷲ کان بکم رحیما۱؎۔
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال بلا وجہ شرعی نہ کھاؤ ہاں تجارت میں آپس کی رضا سے نفع اٹھانے کی ممانعت نہیں اور اپنی جانیں ہلاکت میں نہ ڈالو بیشک اﷲ تم پر مہربان ہے(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۲۹)
بکر نےجو وہ پانسو زید سے لئے حرام اور قطعی سود ہیں اوریہ جو عمرو کو ۲۵ سودئیے اور عمرو نے ۲۸ سو کی رسید لکھ دی یہ تین سو بھی سود اور حرام قطعی ہیں ، حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کل قرض جر منفعۃ فھو ربٰو۲؎۔
جو قرض نفع کھنچے وہ سود ہے ۔(ت)
(۲؎ کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸)
قرض پر جو کچھ زیادہ لیا جائے سود ہے ، بکر پر فرض ہے کہ زید کے پانچسو واپس کرے اور عمرو سے صرف پچیس سولے ایک پیسہ زیادہ حرام ہے اور اگر لیا ہے تو اسے بھی واپس دے ، عمرو کا ان پانسو میں سے دو سو مانگنا بھی حرام ہے کہ وہ مال حرام ہے اس کا کہنا کہ سود کی رقم اسے دومیرا حق ہے مجھے جائز ہے ، بہت سخت اشدکلمہ ہے، عمرو پر لازم ہے کہ توبہ تجدید اسلام وتجدید نکاح کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۰: ازقصبہ چتوڑگڑہ میواڑمرسلہ ڈاکٹر شیخ فضیلت حسین صاحب ۱۷جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ می کہ زید کی عمر ساٹھ سال کی ہے مدۃ العمر میں بوقت افلاس جب نقد روپیہ کی ضرورت پڑتی تو سودپر قرض لے کر کام چلاتا رہا اگرچہ سود کا دینا بھی شرعاًممنوع ہے مگر
قرض ملنے کی بجز اس کے دوسری صورت نہ تھی اب اس وقت زید کے پاس ایک ہزار روپیہ نقد ہے جس کی زکوٰۃ کے (ص عہ) سالانہ فرض ہوتے ہیں اگر تجارت وغیرہ کرکے صورت ترقی پیدا نہ کرے تو چند ہی سال میں ۲۵ روپیہ سالانہ ادا کرتے کرتے اصل رقم ہی ختم ہوتی ہے ، بباعث ضعیفی بذات خود تجارت وغیرہ کر نہیں سکتا زمانہ کی وہ حالت کہ نہ نوکر قابل اعتبار ، نہ شریک امانت دار ، بلکہ جو ملاد غا باز یا مکار ،تو زید چاہتا ہے کہ کافروں مشرکوں کے زیوارات طلائی و نقرئی بطور رہن رکھ کر روپیہ دے کر ماہانہ یا سالانہ بطور منافع ٹھہرالے تو شرعاً کیا قباحت ہے ، بعض علماء نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا ہے جیساکہ مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب اپنے فتاوٰی میں ارشاد فرماتے ہیں یا بعض علماء دارالحرب تو قرارنہیں دیتے مگر یہاں کے کافروں کو حربی سمجھ کر ان کے مال غیر محفوظ فرماتے ہیں ، بہر دو صورت اگر کافروں سے ایسے معاملات کئے جائیں یا ہنڈو ی لکھواکر روپیہ دے کر فائدہ اٹھالے مثلا (لع لعہ۹۹) یا ساڑھے ننانوے روپیہ دے کر سو روپیہ کی ہنڈوی اس سے لکھوالے میعاد مقرر شدہ پر سو روپیہ لے کر اس کی تحریر کردہ ہنڈوی اسے واپس کردے کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا بھی نہایت ہی ضروری فرض ہے ، قرآن شریف میں جو اﷲ عزوجل جلالہ نے ربا حرام فرمایا ہے اس میں ربا کی کیا تعریف ہے، زمانہ نزول آیہ شریفہ میں عربستان میں ربا کس قسم کے سود کو کہتے تھے، اسی طرح یہاں کے کافر و مشرک سوداگر غلہ وغیرہ ارزانی میں خرید کر بند رکھتے ہیں اور گرانی کے منتظر رہتے ہیں اور بحالت مجبوری مسلمانوں کو بھی انہیں سے خریدنا پڑتا ہے ، تو اگر زید بھی ایسا ہی کیا کرے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب : قدرتی طور پر ہے کہ غلہ فصل پر ارزاں اور بیج پر گراں ہوتا ہے اس سے فائدہ اٹھانا منع نہیں ، غلہ بند رکھنا وہ منع ہے جس سے شہر پر تنگی ہوجائے۔ ہندوستان بلا شبہہ دارالاسلام ہے اسے دارالحرب کہنا صحیح نہیں ، جو کافر مطیع اسلام نہ ہو نہ سلطنت اسلام میں مستامن ہو بلا غدر و بدعہدی اس سے کوئی نفع حاصل کرنا ممنوع نہیں مگر گروی اور ہنڈوی کا طریقہ صورت سود ہے اور اسے سود ہی کہتے ہیں اور حتی الوسع برے نام سے بھی بچنا چاہئے اس سے بہتر نوٹ کی بیع ہے دس کا نوٹ بارہ یا پندرہ یا جتنے پر باہم رضامندی ہو بیچنا جائز ہے تو دس کا نوٹ قرض دے اور پیسہ اوپر دس ٹھہرائے یہ سود ہے اور دس کا نوٹ سوکو بیچے یہ جائز ہے ، اور اگر کوئی فرق پوچھے تو اس کا جواب قرآن عظیم نے دیا ہے:
واحل البیع وحرم الربوٰ۱؎
اﷲنے حلال کی بیع اور حرام کیا سود۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵ )
سودکا یہی طریقہ عرب میں جاری تھا جسے حرام فرمایاگیا :
الربا فضل خال عن العوض مستحق بالعقد۔۱؎
ربا اس زیادتی کو کہتے ہیں جو عوض سے خالی ہو اور اس کا استحقاق عقد سے ہو اہو۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب الربوٰ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۷۶)
(الہدایۃ باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۰)
(ملتقی الابحر باب الربوٰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۲ /۳۷)
یعنی عقدمیں کسی ایسی زیادت کے لے جانے کی شرط کی جائے جس کے مقابلہ میں شرعاً کوئی عوض نہ ہو، یہ زیادت جنس متحد میں ظاہر ہوتی ہے بحالت نسیہ اتحاد وقدر میں بھی جس کی تفصیل فقہ میں ہے اور جو زیادہ مفصل بیان چاہئے ہماری کتاب کفل الفقیہ الفاہم دیکھئے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱: مسئولہ عبداﷲ احمد سود اگر امراؤ تی برار شنبہ ۲۲/شعبان ۱۳۳۴ھ
اﷲ جل شانہ نے اپنے کلام پاک قرآن مجید میں سود خوری کی سختی سے وعید فرمائی ہے اور بیشک قرآن حکیم کے اوامر و نواہی انسان کے لئے دارین میں سود مندہیں اس کے ہر فرمان پر ہمار ا سر تسلیم خم ہے مگر مزید اطمینان کے لئے استفتا کرنے کی ضرورت پڑی کہ سود دینا اور سود لینا دونوں قطعی حرام ہیں ، میرے ناقص خیال میں ہزار میں سے ایک شخص بھی ایسا مشکل سے نکلے گا جو مقدم الذکر دو بلاؤں میں سے کسی ایک میں مبتلا نہ ہوا، تجارت کے کاروبار شاید ہی بغیر سود کے انجام پائیں ، یہ ایک قابل غور بات ہے کہ فی زمانہ شرح سود اس قدر کم ہے کہ دینے والا خوشی سے اداکرتا ہے اس پر کسی طرح کابار نہیں پڑتا ہے کیونکہ اس کو فی صدی آٹھ آنے دیناپڑتا ہے تو ان روپوں سے تجارت کرکے سیکڑے دس پیدا کرتا ہے اسلئے لینے والا اور دینے والا دونوں فائدہ اٹھاتے ہیں ، تو معروض یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول کیا ہے ، ربا کے جواز وعدم جواز میں کیا راز مضمر ہے ، اور اتنی سختی کے ساتھ ممانعت کی کیا باعث ہے ، مفصل تحریر فرماکر کمترین کو مطمئن فرمائیں ، بغیر سود کے آجکل بیوپار کرنا مشکل نہیں تو محال ضرور ہے ، خاص کرکے ولایت کی تجارت کا دار و مدار ہی سود پر ہے مثلاً بمبئی میں ولایت کی ہنڈوی کا بھاؤ آج پندرہ روپے ہے تو کل پونے پندرہ تو پرسوں ساڑھے پندرہ، تو پھر ایسی حالت میں سود سے بچنا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ لاکھوں کا لین دین ہوتا ہے چونکہ آج کل تجارت زیادہ تر غیر قوموں کے ہاتھ میں ہے تو ان کے ساتھ باہم خرید و فروخت میں بغیر لئے دئے کے چل نہیں سکتا ، تو اس آیت کا یہ مفہو م ہے کہ مسلمان اعلٰی پیمانہ پر تجارت نہ کریں صرف قوت بسری کے لئے کچھ تھوڑا بہت کرلیا کریں جس طرح بنی اسرائیل پر اونٹ کا گوشت اور چربی وغیرہ حرام کردی گئی تھی، آج کل تجارت میں بڑا نقص یہ بھی ہے کہ مال زیادہ تر ادھار بکتا ہے ، تو ایسی حالت میں اگر خریدار کے ذمہ سود نہ لگایا جائے تو شائد وہ مہینے میں دینے والا برس بھر میں مشکل سے ادا کرے، کافروں کے ذمہ جو سو د عائد ہوتا وہ ان سے وصول کرکے غریب مسلمان کو جو تعلیمی اخراجات کے بار کے متحمل نہیں ہوسکتے اور بے علمی کی وجہ سے اکثر مسلمانوں کے لڑکے آوارہ ہو جاتے ہیں اور رذیل پیشہ اختیار کرکے بے عزتی کی زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ نان شبینہ کے محتاج ہوجاتے ہیں ایسے محتاج مسلمانوں کے تعلیمی امدادی فنڈ میں دیا جائے تو کیا قباحت ہے کیونکہ تین دن کے فاقہ پر حرام بھی کھانا حلال ہوجاتا ہے ۔ سود خور اور سوددینے والے کے لئے اس قدر عتاب انگیز کلمات لکھے گئے ہیں کہ اس کے یہاں کھاناتو درکنار اس کے سایہ میں بیٹھنا بھی ایک سخت گناہ ہے ، پھر ایسی حالت میں جبکہ دنیا بھر میں ہزار میں سے ایک بھی اس دقت سے بری نہیں کیا حال ہوگا یہ ممالک اسلامیہ میں بھی بنک کھولے گئے ہیں اور برابر لین دین ہوتا ہے البتہ طبقہ علماء و مشائخ اس سے محترز ہے مگر جب وعط نصیحت کے لئے نکلتے ہیں تو ان بیچاروں کو بھی سفر میں جن کے یہاں کھانے پینے کا اتفاق ہوتا ہے اکثر سود لینے یا دینے والے ہوتے ہیں پھر مجبوری سے کہو یا خوشی سے مگر میں نے کسی عالم یا مشائخ کو اس بارے میں کسی طرح کا اعتراض نکالتے نہیں دیکھا ہے ماسوا اس کے کہ مدرسوں اور دینی امورات کیلئے جو چندے وصول کئے جاتے ہیں ان میں سے شاید ہی کسی ایسے کا چندہ ہو جو اس بلا سے بچا ہوا ہو، مورخ خلکان نے امام فخر الدین رازی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے حالات کے ضمن میں ایک حکایت لکھی ہے کہ امام صاحب سے شہاب الدین غوری نے ایک کثیر رقم قرض لی تھی جب اس کو ادا کیا تو صلہ کے طورپر بہت بڑی رقم اضافہ کرکے دی تھی تو اس زیادہ کی رقم کو کیا کہنا چاہئے اور اس طرح لینا بھی جائز ہے کیا؟فقط
الجواب الملفوظ
سود حرام قطعی ہے اور اس پر سخت شدیدوعیدیں قرآن واحادیث صحیحہ متواترہ میں وارد اور یہ کہ وہ کیوں حرام ہوا اور اس قدر اس پرسختی کیوں ہے اس کے جواب قرآن عظیم نے دو جواب عطا فرمائے، ایک عام اور ایک خاص عام تو یہ کہ :
لایسئل عما یفعل وھم یسئلون ۱؎۔ ان الحکم الااﷲ ۱؎، لہ الحکم والیہ ترجعون۲؎، وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اﷲ ورسولہ امراان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اﷲ و رسولہ فقد ضل ضلا لا مبینا۳؎۔
اﷲ جو کچھ کرے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں اورسب سے سوال ہوگا ، حکم نہیں مگر اﷲ کو اسی کی حکومت ہے، اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا ، کسی مسلمان مرد یا عورت کویہ گنجائش نہیں کچھ کہ جب اللہ اور رسول کسی بات میں کچھ حکم کریں تو انھیں کچھ اپنا اختیار باقی رہے اور جو اﷲ ورسول کے حکم پر نہ چلے بیشک وہ صریح گمراہی میں بھٹکا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۲۳) (۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۵۷ )( ۲؎ القرآن الکریم ۲۸/ ۸۸)(۳؎القرآن الکریم۳۳/ ۳۶)