فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
77 - 180
مسئلہ ۱۸۳تا۱۸۴: از او دے پورمیواڑ راجپوتانہ مسئولہ قاضی یعقوب محمد سب انسپکٹر پولیس ۸/ شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام رحمہم اﷲ مسائل ذیل میں کہ:
(۱) رافضی بوہرے کافر ہیں یا مرتد؟ بہر دو صورت اگر مسلمان ان کے ساتھ یا ہندو کافر کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرے مثلاً ہزار یا پانچ سو روپیہ تجارت کےلئے رافضی کو دے اس شر ط پر کہ گڑ اور شکر میں نقصان کی صورت نہیں ہوا کرتی ہے الا شاذ ونادر تو میں تجھ سے ڈیڑھ یا دو روپیہ فیصد ماہوار کے حساب سے نفع نقصان کا اوسط نکال کرتیری دکان سے خواہ نقد یا سامان خوردنی لیتا رہوں گا، اور یہ مضمون بطور شرط کاغذ پر لکھواکر اور عرصہ تک اسی طرح باہمی معاملہ آپس میں جاری رہے اور رأ س المال محفوظ سمجھ کر بعوض نفع حسب قرار داد و شرط باہمی اشیائے خوردنی و پوشیدنی لیتا رہے اور مابقی نفع کا حساب کرکے نقد لے تو جائز ہے یاناجائز ؟ اور ناجائز ہوگا تو سود ہوگا یا کیا؟
(۲) اسی طرح کافر کو اگر مال دو مہینہ کا وعدہ پر قرض فروخت کرے اور اس کے ہاتھ سے اپنے بھی کھاتے میں لکھوالے کہ دو مہینہ میں روپیہ نہ ادا کروں تو بوقت ادائے روپیہ فی صد( ۸/ یا عہ / ) ماہوار اس مال کے نفع کا زائد ادا کروں گا، یہ جائز ہے یاناجائز ؟ بینوابسند الکتاب وتوجرواعند اﷲ یوم الحساب (کتاب کے حوالہ سے بیان کرو اﷲ تعالٰی کی طرف سے یوم حساب کو اجر دئے جاؤ گے۔ت)
الجواب
بوہرے رافضی مرتد ہیں اور ہر مرتدکافر ہے بلکہ کافروں کی بدتر قسم، یہاں کے ہندو وغیرہ جتنے کفار ہیں ان میں نہ کوئی ذمی ہے کہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام وجزیہ گزار ہوکر رہے ، نہ مستامن ہیں کہ بادشاہ اسلام سے کچھ دنوں کےلئے امان لے کر دارالاسلام میں آئے، اور جو کافرنہ ذمی ہو نہ مستامن سواغدر و بدعہدی کے کہ مطلقاً ہر کافر سے بھی حرام ہے باقی اس کی رضاسے اس کا مال جس طرح ملے جس عقد کے نام سے ہو مسلمان کے لئے حلال ہے ،وقد فصلناہ فی فتوٰنا بمالامزید علیہ (ہم اس کو اپنے فتاوٰی میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں جس پر مزید اضافہ کی گنجائش نہیں ۔ت)
ہدایہ وفتح القدیر وغیرہما میں ہے :
ان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذما لامباحا اذالم یکن فیہ غدر۱؎۔
کفار کا مال دارالحرب میں مباح ہے لہٰذا ان کا سوائے دھوکا کے جس طریقے سے بھی مسلمان نے لیا اس نے مال مباح لیا(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۷)
دوسری صورت بھی جائز ہے جس کا جواز جواب اول سے واضح ہے البتہ ان سب صورتوں میں یہ لحاظ رہے کہ ذی عزت متقی آدمی جسے جاہل عوام اپنی نافہمی کے سبب ایسی صورتوں میں معاذاﷲ سود خور مشہور کریں اسے احتراز مناسب ہے کہ جیسے برے کام سے بچنا ہے یونہی برے نام سے بچنا چاہئے ۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۱۸۵ تا ۱۸۶: ازاودے پور میواڑ بڑا بازار مسئولہ چھیپا بخشاجی محمود ۸/رمضان ۱۳۳۹ھ
بعالی خدمت فیضد رجت ،غوث دوران ، قطب زمان، مجدد ہذاالاوان، حضرت مولٰنا الحاج مولوی مفتی احمد رضاخان صاحب مدظلہ العالی! ماقولکم ایھا العلماء الکرام رحمکم اﷲ تعالٰی (اے علماء کرام، اﷲ آ پر رحم فرمائے، آپ کیا فرماتے ہیں ۔ت)
(۱) کفار ہنود کو ہزار دو ہزار یا کم زیادہ کا دو مہینہ کے وعدہ پر قرض کپڑا فروخت کیا، کپڑا دیتے وقت اس سے یہ ظاہر کردیا گیا کہ اگر دو مہینہ کے وعدہ پر روپیہ نہ ادا کیا تو میں تجھ سے فی صد ایک روپیہ نفع زیادہ لوں گا یا یوں کہہ دیا جائے کہ مثلاً دو مہینے کے وعدہ پراس کپڑے کی قیمت سوروپے اور اگر اس وعدہ پر نہ آئے تو ایک سوایک روپے ہوں گے یہ اسلئے کہ کفار مسلمانوں کے روپوں کا وعدہ پر ادا کرنے کی فکر نہیں رکھتے، جائز ہوگا ناجائز؟
(۲) نوٹ سو سو روپیہ کے مثلاً یا بارہ آنہ زیادتی پر یعنی ایک سو ایک یا ایک سو بارہ آنے پر ایک مہینہ کے بعد واپس روپیہ لینا کرکے دئے گئے ، وہ نوٹ تو اس کے کام میں آگئے مگر مہینہ ہونے پر وہ بدلے میں روپیہ نہ دے اور نوٹ دے تو لینا جائز ہے یا روپیہ ہی لیا جائے؟بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) یہاں کے کفار سے ایسی شرط جائز ہے لانھم غیر اھل ذمۃ ولامستامن (کیونکہ نہ تو وہ ذمی ہیں نہ مستامن۔ت) مگر یہ زیادت جو ملے اسے سود سمجھ کر نہ لے بلکہ مال مباح ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) یہاں کے کفار سے جس طور ہو جائز ہے،
لان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذما لامباحا اذالم یکن فیہ غدر کما فی الھدایۃ ۱؎وغیرہا۔
اس لئے کہ کفا رکا مال دارالحرب میں مباح ہے لہٰذا جس طریقے سے بھی مسلمان نے اس کو لیا تو اس نے مباح مال لیا بشرطیکہ دھوکا بازی نہ ہو، جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب البیوع باب الربٰو مطبع یوسفی
لکھنؤ ۳/ ۸۷)
اور مسلمان کو اگر سو روپیہ کانوٹ قرض دیا اور شرط کرلی کہ مہینہ بھر بعد بارہ آنے یا ایک پیسہ زائد لوں گا تو حرام اور سود ہے، لان کل قرض جرمنفعۃ فھو ربٰو۲؎۔ کیونکہ جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے (ت)
(۲؎ کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸)
اور اگر سو روپیہ کا نوٹ مسلمان کے ہاتھ اس کی مرضی سے ایک سوایک یا ایک سودس روپیہ کو مہینہ بھر کے وعدہ پر بیچا تو حلال ہے،
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذااختلف النوعان فبیعواکیف شئتم۳؎۔
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب نوعیں مختلف ہوں تو جیسے چاہوفروخت کرو(ت)
(۳؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایۃ کتاب البیوع مکتبہ اسلامیہ ریاض ۴ /۴)
پھر اگر وعدہ کے وقت اس کے پاس روپیہ نہیں اور وہ نوٹ اور ایک روپیہ یا دس روپے یا ایک نوٹ سو کا اور ایک ایک روپیہ یا دس روپیہ کا دے تو لینا جائز ہے بشرطیکہ یہ نوٹ وہی نہ ہو جو اس نے بیچا تھا لان شراء ماباع باقل مما باع قبل نقد الثمن لایجوز (کیونکہ اپنی ہی فروخت کی ہوئی شے کو ثمن کی ادائیگی سے قبل اس ثمن سے کم پر خریدنا جس پر پہلے فروخت کی ناجا ئز ہے ۔ت) ہاں اگر مشتری نے اس کو خرچ کردیا تھا اور پھر جدید سبب سے مشتری کے پاس واپس آیا اور اب وہی نوٹ بائع کودیتا ہے لینا جائز۔
ردالمحتار میں ہے :
ولو خرج عن ملک المشتری ثم عاد الیہ بحکم ملک جدید کا قالۃ او شراء او ھبۃ او ارث فشراء البائع منہ بالاقل جائز لاان عاد الیہ بما ھو فسخ بخیار رؤیۃ او شرط قبل القبض او بعدہ بحر عن السراج ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر مبیع مشتر ی کی ملک سے خارج ہوگیا پھر جدید سبب سے مشتری کے پاس لوٹاجیسے اقالہ ، خریداری ، ہبہ یا میراث کے طور پر ۔ اب بائع کا اس سے پہلے ثمن سے کم پر خریدنا جائز ہے ، اور اگر مبیع دوبارہ مشتری کی ملک میں خیار شرط یا خیار رؤیت کی وجہ سے بیع کے فسخ ہونے پر واپس آیا چاہے قبضہ سے پہلے یا بعد، تواب بائع کے لئے جائز نہیں کہ پہلے ثمن سے کم پر ا س سے خریدے ۔ بحر نے سراج سے روایت کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۱۴)
مسئلہ۱۸۷: ازریاست فرید کوٹ ضلع فیروز پور مطبع سرکاری مرسلہ محمد علی ۲۷صفر۱۳۳۸ھ
شریعت عزاکاحکم ہے اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کے پاس خالص بیاج کی آمدنی ہے اور ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ بیاج کے حرام ہونے کا عقیدہ رکھتے ہوئے اگر کوئی شخص سود لیتا رہے تو اس کی اس خالص بیاج کی آمدنی کوصدقات خیرات بالخصوص تعمیر مساجد میں لگانا حلال وجائز ہے اور اس کے اس آمدنی کے ایسے مصارف میں لگانے کے لئے اس کا عقیدہ ہی بس ہے بیاج علانیہ لیا جارہا ہے آمدنی جس کا مسئلہ دریافت ہے خالص بیاج ہے ۔
الجواب
سود حرام قطعی ہے اور اس کی آمدنی حرام قطعی اور خبیث محض ہے ۔ اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ طیب لایقبل الاطیبا۲؎۔
بیشک اﷲ پاک ہے ، پاک ہی کو قبول کرتا ہے۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب ان اسم الصدقۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۶)
حرام کے لئے فقط اس کی حرمت کا اعتقاد کافی نہیں ورنہ حرام خوری وحرام کاری میں کیا فرق ہے وہاں بھی صرف اعتقاد حرمت کافی ہو بلکہ ربوٰ تو زنا سے بھی بدرجہابدتر ہے ، بکثرت صحیح حدیثوں میں ارشاد ہوا:
الربٰو ثلٰثۃ وسبعون بابا ایسرھامثل ان ینکح الرجل امہ ۱؎۔رواہ الحاکم فی المستدرک بسند صحیح عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ربٰو تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے جس میں سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ آدمی ماں سے زنا کرے۔(اس کو امام حاکم نے مستدرک میں سند صحیح کے ساتھ سیدنا حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۱؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲ /۳۷)
بلکہ علماء نے یہاں تک فرمایا کہ مال حرام فقیر کو دے کر ثواب کی امید رکھنا کفر ہے ، اور اگر فقیر کو معلوم ہو کہ اس نے مال حرام دیا ہے اور اس کےلئے دعا کرے اور وہ آمین کہے تو دونوں نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اور تجدید نکاح کریں ۔