Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
76 - 180
مسئلہ۱۷۹: مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب مدرس مدرسہ اہل سنت بریلی ۲۷جمادی الآخر ۱۳۳۳ھ

حضور ! ایک مسلمان زمیندار کے روپے سے اگر کوئی ہندو مثلاً پٹواری یا کٹوار یا تہنیت اسامیوں  سے سود لے کر اپنے صرف میں کرے مگر زمیندار نہ اس سے اس پر کچھ کہے اور نہ خود اس میں  سے کوئی پیسہ لے اور یہ لوگ زمیندار کے روپے سے اسامیوں  سے یہ کہہ کر سود لیں  کہ اگر تم زمیندار کا روپیہ بر فصل ادا نہ کیا کروگے تو تم سے اس کا سود لیا جائے گا ، تو اس صورت میں  زمیندار شرعاً کسی گناہ کا مستحق ہوگا یانہیں ، اور زمیندار کو اس حالت میں  اپنے ملازم ہنود کو منع کرنا لازم ہوگا یانہیں  کہ اس زمیندار کا بھی اتنا نفع ہے کہ اس کا روپیہ ہر فصل پر وصول ہوجاتا ہے اور کوئی دقت اسے پیش نہیں  آتی، سود کے خوف سے اسامی فوراً روپیہ وصول کردیتے ہیں  ورنہ کئی کئی سال تک بقایا نہیں  وصول کرتے حالانکہ ان کے پاس روپیہ ہوتا ہے مگر بعض سرکش زمیندار کے دق کرنے کو نہیں دیتے اور جب وہ نالش کرتا ہے تو فوراً کچہری میں  روپیہ  اسی روز داخل کردیتے ہیں اور زمیندار کا نقصان کرواتے ہیں  ، ان پریشانیوں  سے بچنے کی کوئی صورت حضور عطا فرمائیں  ورنہ ان سے بچنے کے واسطے اکثر مسلمان ظاہر ظہور میں مرتکب حرام ہوتے ہیں ۔
الجواب 

اسامیان مسلمان ہیں تو یہ عمل قطعاً حرام  ہے اور جبکہ زمیندار کو اس پر اطلاع ہے تو اسے سکوت حرام ہے ازالہ منکر فرض ہے خصوصاً جب اپنے نفع کےلئے خاموش ہو تو یوں  راضی ہے اور رضا بالکبیرہ خود ہی کبیرہ ہے بلکہ کبھی اس سے بھی سخت تر، اور اگر اسامیان یہاں  کے مشرکین ہیں  کہ ذمی نہیں  ، نہ سلطنت اسلام سے مستامن، تو زمیندار خواہ ان سے یہ قاعدہ جاری کرے کہ جس پر بقایا ٹوٹے گی، اس پر ہر مہینہ اتنا حرجہ لیا جائیگا وتحقیق الکلام فی فتاوٰنا(تحقیق کلام ہمارے فتاوٰی میں  ہے۔ت) اسے بھی سود سمجھ کر لینا جائز نہیں
لقولہ تعالٰی وحرم الربو۱؎
(اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ: اﷲ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ت) بلکہ ان کی ایذارسانی کے معاوضہ میں  ایک مال مباح سمجھ کرلے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
مسئلہ ۱۸۰: مسئولہ ولایت حسین صاحب جامع مسجد بریلی ۷/جمادی الاخری ۱۳۳۴ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین وحامیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ نے انتقال کیا زید بعد فراغت خرچ تجہیز و تکفین کے ، خرچ فاتحہ و سویم نہیں رکھتا ہے یا زید اپنی لڑکی کی شادی کرنا فرض سمجھتا ہے اور فرض ہے مگر اتنا خرچ نہیں ہے کہ فرض ادا کرے تو مجبور ہوکر زید نے اپنے دوست عمرو سے اس معاملہ کاتذکرہ کیا، عمرو نے کچھ زیور زید کو دیا اور یہ کہا کہ اس کو رہن کرکے تم اس فرض یا فاتحہ وغیرہ سے فارغ ہوجاؤ، زید زیور لے کر برائے رہن چلااور عمرو وہیں  رہا، ایک دوست راستہ میں  جو خالد تھا زید نے اس سے تمام معاملہ کی کیفیت بیان کی خالد سن کر خاموش ہورہا، زید نے خالد سے کہا کہ جلد چلو اور یہ زیور رہن کرکے روپیہ لائیں ، خالد زید کے ہمراہ چلا ، زید کو ایک شخص اور ملا جس کا نام محمود ہے اور وہ اس معاملہ سے واقفیت رکھتا ہے اور محمود کو یہ نہیں معلوم کہ خالد اور زید کہاں  جارہے ہیں  ، محمود بھی ہمراہ ہولیا، یہ تینوں  شخص دکان مرتہن پر پہنچے اور زید نے وہ زیور رہن کرکے بشرح سود روپیہ لے کر واپس ہمراہ آئے اور اس روپیہ سے کاربرآری کی، کرسکتے تھے یا نہیں ؟ میت کو ثواب پہنچا یانہیں ؟ یا اس لڑکی کی شادی میں کوئی نقص ہوایانہیں ؟ اور ان چار اشخاص میں  کون کون مرتکب عذاب کا ہوا؟
الجواب : فاتحہ سوم یا لڑکی کی شادی کے لئے سودی قرض لینا حرام ہے ، زید ضرور مرتکب گناہ کبیرہ و مستحق عذاب ہوا، یونہی عمرو بھی جس نے اس حرام کے لئے زیور دیا، یونہی خالد بھی جسے اس نے رہن رکھنے کے لئے کہہ کر اپنے ساتھ لیا، رہا محمود جبکہ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ کہاں  جارہے ہیں ساتھ جانے میں  اس پر گناہ نہ ہوا مگر وہاں  جاکر معلوم ہونے پر اگر اس نے کسی طرح اس میں  مدددی یا تائید کی تو وہ بھی ویسا ہی مرتکب گناہ ہوا مگر اصل نکاح میں  اس سے خلل نہیں  آتا اور مال حرام لے کر فاتحہ کا ثواب پہنچنا مشکل ہے ، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱ تا۱۸۲ : ازجلالپور دھئی ڈاکخانہ خاص ضلع رائے بریلی مرسلہ منشی علی حسین خان پوسٹ ماسٹر ۲۸صفر ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ:

(۱) تبادلہ گیہوں  یا دھان یا جو یا چنا وغیرہ شکر قند یا آلو یا میوہ سے زیادتی یا کمی کے ساتھ جائز ہے یاناجائز ؟ رواج اعتبار ہند شکر قند وآلو ومیوہ من حیث قدر وزنی ہے ، اعتبار عند الفقہاء کیا ہے، گیہوں  وغیرہ باعتبار فقہاء من حیث قدر کیلی ہے تغایر جنس ظاہر ہے تغایر قدر میں  نہیں  معلوم کیا ہے؟

(۲) گیہوں  کو گیہوں  سے یا جو سے یا جو کو جو سے اور گیہوں  سے مساوی یا کم زائد بدلنا اس طرح پر کہ خریف میں  دے دے اور ربیع میں  وصول کرے ،کیسا ہے ؟
الجواب

(۱) گیہوں  جو، چنے سے آلو شکر قند، میووں  کی خرید و فروخت کم بیش کو بلا شبہہ جائز ہے کہ جنس مختلف ہے اور گیہوں اور جو سے قدر بھی یقینا مختلف ، اور جو میوے مثلاً آم یا شکر قند جہاں  عددی ہوں  وہاں چنے سے بھی ، اور قدر مختلف نہ بھی ہو تو فقط اختلاف جنس کمی بیشی کو مباح کر تا ہے،
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعو اکیف شئتم ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب ''بدلین'' دو مختلف نوعوں  کے ہوں  تو جیسے چاہے فروخت کرو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایہ     کتاب البیوع     مکتبہ اسلامیہ ریاض    ۴ /۴)
 (۲) گیہوں  کی گیہوں  یا جو کی جو سے تبدیل کمی بیشی کے ساتھ ہو تو حرام ، اور ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار ہو تو حرام، اور گیہوں  کی جو سے تبدیل نقدوں  کمی سے حلال اور ادھار مطلقاً حرام،
فان احدی العلتین من القدر والجنس تحرم النسئۃ واجتماعھما والتفاضل۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
کیونکہ دو علتوں  یعنی قدر و جنس میں  سے ایک علت کا وجود ادھار کو اور دونوں  کا پایاجانا زیادتی کو حرام کرتا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
Flag Counter