Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
75 - 180
مسئلہ ۱۷۵ تا۱۷۶: از فتح آباد ضلع امر تسر تحصیل ترنتارن مسئولہ مولوی محمد عنایت اﷲ صابری و محمد اسمعیل چشتی صابری قادری ۴ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :

(۱) ایک بنک سودی مسلمانان نے ان شرائط پر قائم کیا ہے کہ جو کوئی اس میں داخل ہو اور ممبر بنے اول ایک روپیہ داخلہ اور مبلغ (عہ /) پہلی قسط بعدہ دس روپے سالانہ داخل کرتا جائے بعد دس سال کے اپنا اصلی روپیہ مع سود فی صدی فی ماہ (۱۲/) کے حساب سے مل جائے گا اور ہر ایک ممبر کو جب ضرورت ہو اپنی حیثیت موجب (۱۲/) سیکڑہ سود پر روپیہ لے سکتا ہے پھر قسطوں  سے اداکرتا جائے، کہتے ہیں  کہ یہ بنک غریب مسلمانوں  کے لئے بنایاگیا ہے مگر ممبرکے سوا جو کہ داخلہ نہ دے روپیہ نہیں  ملتا یعنی عام مسلمانوں  کو نہیں  ملتا ہماری مسجد کا امام بھی اس میں  شامل و داخل ہے وہ کہتا ہے کہ میں  اپنے روپے کا سود نہ لوں  گا مجھ پر حرام ہے ضرورت کے وقت سود دیا گیا چنانچہ ضرورت کے وقت ہم لوگ آگے بھی تو اہل ہنود کو دیتے ہیں  جیساکہ لینا حرام ہے ایسا دینا بھی تو حرام ہے جب ہم لوگ دیتے ہیں تو لینے میں کیا قباحت لینا دینا برابر ہے ، میں  اب داخل ہوچکا ہوں  چھوڑ نہیں سکتا۔

(۲) کہتا ہے جو مسلمان ڈاکخانہ سرکاری میں  روپیہ جمع کراکر سود لیتے ہیں  وہ کیوں  کھاتے ہیں  وہ جائز ہے ، ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں ؟بینواتوجروا
الجواب

وہ بنک حرام قطعی ہے ، اور یہ قواعد سب شیطانی ہیں اوراس کا ممبر بننا حرام ہے ، اور سود دینا اور لینا ضرور برابرہیں،

صحیح مسلم میں  امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے ہے :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ  وسلم  اٰکل الربٰو وموکلہ وکاتبہ و شاہدیہ وقال ھم سواء ۱؎۔
  رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے ا ور سود کھلانے والے اور اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں  پر ، اور فرمایا وہ سب برابر ہیں ۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم   کتاب المساقات والمزارعۃ     باب الربوٰ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۷)
تو امام مذکور کا اس بنک کی ممبری قبول کرنا گناہ وحرام ہوا،
قال اﷲ تعالٰی ولا تعاونو اعلی الاثم والعدوان۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا : گناہ اور ظلم میں  ایک دوسرے سے تعاون مت کرو۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم    ۵ /۲)
حدیث میں  ہے :
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام۳؎۔
جو دانستہ ظلم پر اعانت کرے اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی(ت)
 (۳؎ المعجم الکبیر     حدیث ۶۱۹    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱ /۲۲۷)

(شعب الایمان حدیث۷۶۷۵    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۶/ ۱۲۲)
اور شک نہیں کہ سود لینا ظلم شدید ہے اور اس کا ممبر بننا اور اسکے ان سود خوروں کو روپیہ دینا اس ظلم شدید پر اعانت ہےاور معین مثل فاعل ہے ولہٰذاکاتب پر بھی لعنت فرمائی ،تو اس کارکن بننے والا اور اس کےلئے روپیہ دینے والا ضرور کاتب سے بدرجہا زائد لعنت کا مستحق ہوگا اور امام مذکور کا اس پر اصرار حرام پر اصرار اور اعلانیہ فسق واستکبار ہے ، اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اسے امام بنانا گناہ ور اسے معزول کرنا واجب اور جتنی اس کے پیچھے پڑھی ہوں  ان کا پھیرنا لازم، پھر اگر بلا ضرورت شرعیہ محض جاہلانہ ضرورتوں  کے لئے سودی قرض لے گا تو ضرور وہ بھی سود کھانے کے مثل ہوگا۔اور یہ لعنت کا دوسرا حصہ ملے گا اور عوام کے فعل سے سندلانا اور حکم الٰہی کے مقابل اسے سنانا محض جہالت و ضلالت ہے ہاں  اگر محض مجبوری شرعی کےلئےسودی روپیہ بقدر ضرورت قرض لے تو وہ اس سے مستثنٰی ہے کہ مواضع ضرورت شرع نے خود استثنا فرمادئے ہیں ،
قال اﷲ تعالٰی واتقو اﷲ مااستطعتم۱؎، وقال تعالٰی لایکلف اﷲ نفسا الاوسعھا۲؎۔
اﷲ نے فرمایا: اور ڈرو اﷲ تعالٰی سے جس قدر تم استطاعت رکھتے ہو۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ تعالٰی کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۶۴ /۱۶)   ( ۲؎ القرآن الکریم      ۲/ ۲۸۶)
درمختار میں  ہے :
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح۳؎۔
محتاج کےلئے سودی قرض لینا جائز ہے ۔(ت)
 (۳؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول     القاعدۃ الخامسۃ     ادارۃ القرآن کراچی     ۱ /۱۲۶)
مگر اس کو سند بنا کر سود خوروں  کی اعانت اور سودی کمپنی کی رکنیت نہ حرام ہونے سے بچ سکتی ہے نہ لعنت الٰہی سے بچا سکتی ہے لہٰذا امام مذکور کی نسبت حکم وہی ہے جو اوپر گزرا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۷: ازقصبہ بیلپور محلہ درگاہ پر شاد از مکان فخر الدین صاحب رئیس وممبر چنگی مرسلہ حافظ شمس الدین ۲۳/ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ

سود لینا کسی قوم سے مسلمان کو جائز ہے یانہیں ؟ اور سود کس کس قسم سے ہوتا ہے ؟ مشرح بیان فرمایاجائے، کسی بنک میں روپیہ جمع کرکے ان سے سود وصول کرنا  موجب اس کی شرح کے جائز ہے یانہیں ، یا کسی انجمن کا روپیہ ڈاکخانہ میں  جمع کرکے ان سے سود لے سکتا ہے یانہیں، یا کوئی تجارت اس طرح کی کرے کہ جو اس قدر روپیہ جمع کرے اس کو اتنے سیکڑہ کا سود دینگے نقصان کا وہ شریک نہیں اور اس کو نقصان سے کچھ مطلب نہیں  اور روپیہ جمع کرنے والا سود جان کر نہ لے اور نقصان بھی نہ دےت تو وہ حلال ہے یاحرام یا کسی دکاندارکو کچھ روپیہ بموجب نفع کے دے نقصان کا شریک نہ ہوں  وہ نفع حلال ہے یانہیں ؟
الجواب

سو د لینا مطلقاً حرام ہے مسلمان سے ہو یا کافر سے ، بنک سے ہویا تاجر سے جتنی صورتیں  سوال میں  بیان کیں  سب ناجائز ہیں  قرض دے کر اس پر کچھ نفع بڑھالینا سود ہے یا ایک چیز کو اس کی جنس کے بدلے ادھار بیچنا یا دو چیزیں کہ دونوں  تول سے بکتی ہوں  یا دونوں  ناپ سے ، ان میں  ایک کو دوسرے سےادھار بدلنا یا ناپ خواہ تول کے چیز کو اس کی جنس سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنا مثلاً سیر بھر کھرے گیہوں  سواسیر ناقص گیہوں  کے عوض بیچنا یہ صورتیں  سود کی ہیں  اور جو شرعاًسود ہے ، اس میں یہ نیت کرلینا کہ سود نہیں  لیتا ہوں  کچھ اور لیتا ہوں  محض جہالت ہے ، ہاں  وہاں  یہ نیت کام دے سکتی ہے جو واقع میں  سود نہ ہو اگرچہ دینے والا اسے سود ہی سمجھ کردے مثلاً یہاں  کسی کافر کے پاس اس کی دکان یاکوٹھی یا بنک میں  بشرطیکہ اس میں  کوئی مسلمان شریک نہ ہو روپیہ جمع کردیا اور ا س پر جو نفع کافر نے اپنے دستو ر کے موافق دیا اسے اپنے روپیہ کا نفع اور سود خیال کرکے نہ لیا بلکہ یہ سمجھ کر لیا کہ ایک مال مباح برضائے مالک ملتا ہے تو اسمیں  حرج نہیں  ، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۸: ولو اشتری مکیلا کیلا حرم بیعہ واکلہ حتی یکیلہ (اگر کسی نے کیلی شے کیل کے طور پر خریدی تو جب تک کیل نہ کرے اس کی بیع اور اس کا کھانا حرام ہے ۔ت) اس سے سمجھ میں  یہ آتا ہے جو چیز مکیل خریدی جائے پھر گھر میں  اگر اسے ناپ لے پھر صرف کرے اس بنا پر دودھ خرید کر پھر اپنے گھر میں  اس کو ناپ کرلینا چاہئے یانہیں ؟
الجواب

یہ اس صورت میں  ہے کہ چیز تول یا ناپ سے خریدی اور بائع نے اس کے یا اس کے وکیل کے سامنے نہ تولی تو اسے تولنا لازم ہے اس کا تصرف ناجائز ہے اور اگر اس کے یا اس کے وکیل کے سامنے تولی تو دوبارہ تولنے کی حاجت نہیں  ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter