| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۱۷۲: سائل حافظ محمد نور الحق مجلہ پنجا بیاں پیلی بھیت ۲۵صفر ۱۳۳۱ھ مخدومی و مکرمی جناب مولانا احمد رضاخان صاحب دام مجدہ بعد سلام مسنون التماس یہ ہے کہ ایک شخص مسمی وزیر نے انتقال کیا منجملہ اور وارثوں کے دو لڑکیاں نابالغ اس نے چھوڑیں ، اس کے مال میں چار سو روپیہ نقد ان لڑکیوں کے حصہ میں ملا وہ کل روپیہ ایک شخص دیگر نے امانتاً ا س سے اس وعدہ پر لیاکہ ہم تم کو پانچ روپیہ ماہوار اس روپیہ کا منا فع دیتے رہیں گے، اور اس روپیہ کے اطمینان کی غرض سے اس شخص روپیہ لینے والے نے اپنا مکان اس روپیہ کے بالعوض رہن کردیا اور اس کا رہن نامہ لکھا گیا مگر رہن نامے میں مضمون یہ ہے کہ مبلغ چار سو روپے معرفت مسماۃ بنے بیگم ہمارے پاس امانتاً یا فتنہ ہر دو نابالغہ کے جمع ہوئے ہیں جو تابلوغ ہر دو نابالغہ کے ہمارے پاس جمع رہیں گے چونکہ زر امانت کی کوئی تحریر باضابطہ بغرض اطمینان کے منجانب ہمارے کہ مسماۃ کے پاس نہیں ہیں ، لہٰذا ہم بموجب تحریر ہذا کے اقرار کرتے ہیں کہ زر مذکورہ تابلوغ ہر دو مذکور نابالغان کے جمع رہیں گے اور اس کا سود بشرح فیصدی( ۴ عہ /) ماہوار ی کے حساب سے نابالغان کو ماہ بماہ بلا عذر وحیلہ کے ادا کرتے رہیں گے اور واسطے اطمینان زر مذکور کے ایک مکان مستغرق ومکفول دستاویز ہذا کرتے ہیں تا بیباق زر مذکور کے بجائے دیگرمنتقل نہیں کریں گے، اگر کریں تو ناجائز ہو، لہٰذا یہ رہن نامہ سودی بحق نابالغان دختر ان وزیر کے لکھ دیں کہ سند ہو۔ تو اب امر دریافت طلب یہ ہےکہ شخص مذکور جس نے روپیہ لیا تھا اس نے انتقال کیا اور ماہوار ی جو مقرر کیا تھا وہ نہیں دیا اب وہ نابالغان اپناروپیہ اس مکان سے لیں گی مگر اصل کے چار سو روپیہ سے جوایک سو روپیہ زائد اس وقت تک ہوگیا ہے وہ بھی لے سکتی ہیں یانہیں کیونکہ ان نابالغان کو یا اس کے اور کسی وارث کو یہ معلوم نہ تھا کہ دستاویز کے اندر وہ پانچ روپیہ ماہوار سود دیا گیا ہے وہ بھی سمجھی ہوئی تھیں کہ ہم کو پانچ روپیہ ماہوار کرایہ مکان یا اس روپیہ کے منافع میں سے دیا جائے گا اگر وہ سو روپیہ جو اصل سے زائد ہے لے لیں تو کوئی مواخذہ تو ان کے ذمہ میں نہ ہوگا اور وہ عنداﷲ گنہگار تو نہ ہوں گی، اور یہ بھی امر قابل تحریر ہے کہ وہ نہایت ہی غریب ہیں اور کوئی معاش بھی ان کے پاس نہیں ہے اگر کوئی صورت ایسی ہو کہ وہ اسے لے سکتی ہیں اور ان کے ذمہ کوئی مواخذہ اخروی نہ ہو تو نہایت ہی بہتر ہوگا کیونکہ ان کے بہت سے کام نکلیں گے۔
الجواب وہ روپیہ ہر طرح سود اور حرام ہے اس کا لینا کسی حال میں جائز نہیں ہوسکتا ہے ، سود لکھا گیا تو حرام ہے، منافع سمجھا تو سود ہے ۔ مکان کا کرایہ جانا تو باطل ہے ، مالک مکان غیر مالک سے کرایہ پر لے اس کے کوئی معنی نہیں بہر حال وہ سود ہے ، ہاں اگر وہ جس شخص نے یہ روپیہ امانتاً لیا اور اس پر پانچ روپے ماہوار دینا مقرر کیا ہندو وغیراقوام سے ہو تو یہ سو روپیہ زائد اس کے قرار داد سے ملتے ہیں ایک مال مباح سمجھ کر لینا جائز ہے سود سمجھ کرلینا حرام ۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۱۷۳: از کتھیل ضلع کرنال مرسلہ فضل قدیر صاحب طالب علم مدرسہ اسلامیہ ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ گورنمنٹ کی نگرانی میں پنجاپ و مدراس کے دیہات میں زرعی بنک کھولے جاتے ہیں زراعتی بنک کی غرض سے سود خوری نہیں ہوتی بلکہ سود خور مہاجنوں سے قطع متعلق ہوتا ہے سرکاری نام اس بنک کا انجمن امداد قرضہ ہے ( ہیئت اس کی یہ ہے ) کہ گاؤں کے لوگ بطو رحصہ داری کے دس روپیہ سالانہ فی آدمی دس سال تک اس اپنی انجمن میں جمع کرتے رہتے ہیں اور اسی انجمن سے حسب ضرورت سودی قرض بھی لیتے رہتے ہیں مگر قرض لینے کا حق محض حصہ داروں کو ہے غیر حصہ دار کو ہر گز ہرگز نہیں دیا جاتا مقروض جو کچھ رقم سود اس بنک کو دے گا وہ رقم بحصہ رسد اس مقروض کے حصہ میں بھی آئے گی گویا سود دہندہ سود گیرندہ بھی ہے اس انجمن کے پاس دس سال کے بعد کافی سرمایہ جمع ہوجاتا ہے تو سود بہت کم یا بالکل موقوف کردیا جاتا ہے ، یہ بنک زراعتی ہے یہ بنک جائز ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب : حرام، حرام،حرام قطعی یقینی حرام، دس برس تو بہت ہوتے ہیں سود ایک لمحہ ایک آن کو حلال نہیں ہوسکتا، احکام الٰہیہ کسی کی ترمیم سے بدل نہیں سکتے ، اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو۱؎۔
اوراﷲنے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
صحیح حدیث میں ہے :
لعن رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اکل الربٰو ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ھم سواء ۱؎۔
رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سودکھانےوالے اور سود کھلا نیوالے اور سود کا کاغذلکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنیوالوں پر ، اور فرمایا وہ سب برابر ہیں (ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب الربوٰ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷)
یہاں تک کہ سود دہندہ ہی سود گیرندہ بھی ہے معنی یہ کہ ڈبل ملعون ہے جو براہ شامت نفس اس کا ارتکاب کریں اور حرام جانیں وہ فاسق فاجر ہیں اور جو حلال سمجھیں وہ مرتد کافر، والعیاذ باﷲ تعالٰی ، ہاں اگر اس میں بھی اسی طریقہ بیع نوٹ کا اجراء کریں جو ہم نے تحریر سابق میں ذکر کیا تو بلادقت اس حرام قطعی سے بچ جائیں مگر حلال حرام کی آج فکر کسے ہے
الامارحم ربی ان ربی لغفور رحیم۲؎
(مگر وہی جس پر میرا رب رحم فرمائے ، بیشک میرا رب بخشنے والا مہر بان ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ القرآن الکریم ۱۲/ ۵۳)
مسئلہ ۱۷۴: ازنجیب آباد ضلع بجنور بازار چوک مرسلہ عبدالرزاق وعبدالغفور خیاطان۱۷/ جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسلمان اہل السنۃ والجماعت پکا حنفی اگر یہ شخص مذکور کفار مثل نصارٰی وہنود و رافضی وخارجی سے سود لے اور کفار مذکور کی رضا سے لے بطور تجارت روپیہ کمانے کو اور نیز اس مسلمان سود گیرندہ کی یہ نیت ہو کہ کسی وقت میں کسی مسلمان سے سود نہ لیا جائے تو اس صورت میں اس مسلمان کو کفار مذکورہ سے سود لینا جائز ہے یا ناجائز جو حکم شرع شریف ہوبلاتاویل بلا خوف ملامت علمائے خاص وعام ارسال فرمایا جائے ، فقط،بینواتوجروا۔
الجواب : اﷲ عزوجل نے مطلق فرمایا:
وحرم الربٰو۳؎
اﷲنے سود حرام کیا۔
(۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
اس میں تخصیص مسلم ، کافر، سنی ، بدمذہب کسی کی نہیں ۔ سود لینا کسی سے حلال نہیں ، جو حلال ہے وہ سود نہیں ، اور جو سود ہے وہ حلال نہیں ، کافر غیر ذمی کا مال بلا غدر جو حاصل ہو وہ مال مباح سمجھ کرلینا حلال ہے سود جان کرلینا حرام، قصد معصیت خود معصیت ہے ، مثلاً کافرسے کوئی مال سو روپیہ کو خریدااور قیمت دبالی یا دھوکادے کر کھوٹے دام دئےیہ ناجائز ہے کہ خلاف معاہدہ ہوا،
قال اﷲ تعالٰی یایھاالذین اٰمنو ااوفوابالعقود۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو! اپنے قول پورے کرو(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵ /۱)
اور اگر چاندی کا دو سو روپیہ بھر مال سو روپیہ کو مول لیا اور یہ سمجھا کہ سو روپیہ ہی کے بدلے سوروپے ہوگئے باقی کافر کا مال بلاغدر اس کی مرضی سے ملتا ہے تو جائز جبکہ وہ کافر ذمی مستامن نہ ہو، اس کی تفصیل ہمارے فتوٰی ۱۳۱۱ھ میں ہے جو آپ کے خوف ملامت سے بیس سال پہلے لکھا گیا، واﷲتعالٰی اعلم۔