Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
73 - 180
مسئلہ ۱۶۳ : از شہر بریلی محلہ ملوک پور مسئولہ عبدالغنی صاحب تاجر ۱۳ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ محبوب اﷲ کی دکان ایک بقال کے پاس چار سور وپیہ میں  رہن ہے اور محبوب اللہ فی صدی ایک روپیہ ماہوار سود کا ادا کرتے ہیں  اب ایک شخص محبوب اﷲ کی دوسری دکان میں  مبلغ دس روپیہ کرایہ پر بیٹھتا ہے محبوب اﷲ اس کرایہ دار سے کہتا ہے کہ مجھ کو تم چار سو روپیہ دے دو میں  بقال کو ادا کردوں  گا اور تم چار سو روپیہ کی دستاویز تحریر کرالو میں  تم کو کرایہ میں کمی کردوں  گا اس صورت میں  جائز ہے یانہیں ؟
الجواب :اگر ہمیشہ کےلئے کمی کردے اور صاف صاف قرض میں  تحریر کردیں  کہ کچھ نفع اس پر لیا دیا نہ جائیگایہ کمی صرف اس احسان کے بدلے میں  احسان ہو قرض کا منافع نہ ہو تو حرج نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۴: از ریودر براہ آبو مرسلہ ٹھیکیدار آنول موسی منشی صاحب ۱۴/رجب ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں  کہ اناج کا بدلنا بھی دوسرے اناج سے جائز ہے یانہیں ؟ مثلاً مکی ایک من دوماہ پہلے دی بعد میں  دوماہ کے ایک من گندم لیتے ہیں  ، اس شرط سے لین دین یہاں  کے مسلمان کرتے ہیں  ، یہ بدلنا بھی جائز ہے یانہیں ؟
الجواب:ایک ناج دوسرے ناج سے نقد بدلنے میں  کوئی حرج نہیں اور جب جنس بدلی ہوئی ہے تو کمی بیشی جائز ہے اور ایک طرف سے اب دیا گیا اور دوسری طرف سے ایک مدت کے بعد دینا ٹھہرا تو یہ بیع سلم کے شرائط کا محتاج ہے ، واﷲ تعالٰی، اعلم
مسئلہ۱۶۵:ازجوہر کوٹ بارکھان ملک بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
چہ میفرمایند علمائے دین دریں  مسئلہ کہ نرخ بازار سہ پوئٹہ فی روپیہ است اکنوں  شخصے بمیعاد تا۳ سہ ماہ یا زیادہ کم از نرخ بازار دو پوئٹہ فی روپیہ فروخت میکند آیا جائز است یا مکروہ ؟
علمائے دین اس مسئلہ میں  کیافرماتے ہیں  کہ بازار کا بھاؤ تین پوئٹہ فی روپیہ ہے، اب ایک شخص تین ماہ یا زیادہ کی میعاد پر بازار کے بھاؤ سے کم دو پوئٹہ فی روپیہ کے حساب سے فروخت کرتا ہے ، کیا شرعاً جائز ہے یا مکروہ ؟(ت)
الجواب  		جائز است ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔		جائز ہے ۔ اور اﷲ تعالٰی بہتر جانتا ہے (ت)
مسئلہ ۱۶۶: ازسید پور ڈاکخانہ وزیر گنج   ضلع بدایوں  مرسلہ آغا علی خاں  صاحب   مورخہ ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ

اگر ساہو کار اپنے مسلمان روز گاری سے سود نہ لے بلکہ کچھ اضافہ لفظ سود سے بدلنے اور مسلمان کو اس سے محفوظ کرنے کی غرض سے آڑھت پر کرلے تو مسلمان اس مسئلہ سود سے بچ سکتا ہے یانہیں ؟
الجواب : سود کا لفظ فقط حرام نہیں  بلکہ سود کی حقیقت حرام ہے اسے اضافہ کے لفظ سے تعبیر کرنانہ اسے سود ہونے سے بچالے گا ، نہ حرمت میں  فرق آئے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۶۷تا۱۷۰: عبدالحکیم خان دکاندار محلہ کٹکور ریاست رامپور

(۱) زید نے بکر کے ہاتھ ۲۴روپیہ کی اشرفی فروخت کی ۱۲ روپیہ تو بکر نے اسی وقت دے دئے ۱۲ کا وعدہ کیا چنانچہ دوچار روز کے بعد وہ بھی دے دئے ۔

(۲) زید نے بکر سے ایک روپیہ کے دام مانگےاور روپیہ دیا بکر نے آٹھ آنے پیسے اسی وقت دے دئے اور دو یوم کے بعد دو چونیاں  دے دیں ۔

(۳) زید نے بکر سے ایک روپیہ دے کر پیسے مانگے ، بکر نے ایک اٹھنی اس وقت دے دی باقی کے بابت دو یوم کا وعدہ کیا چنانچہ تین یوم کے بعد ۸/ کے پیسے دے دئے۔

(۴) زید نے ایک آنہ کا سودابکر سے لیا ، بکر نے کہا کہ اسوقت باقی روپیہ کے پیسے نہیں  ہیں  پھر لے لینا ، بکر کو زید نے روپیہ دے دیا اور دو روز کے بعد باقی کے پیسے لے لئے، ان سب صورتوں  میں  کوئی صورت ربا  کی ہے یانہیں ہے؟
الجواب

(۱) یہ حرام ہے کہ سونے چاندی کے مبادلہ میں  دست بدست ہونا شرط ہے۔

(۲) اگر زید نے روپے کے پیسے مانگے اور روپیہ دے دیا اس نے آٹھ آنے پیسے اب دے دئے اور باقی پیسوں  کے بدلے دو دن کے بعد چونیاں  اٹھنی دی تو جائز ہے کہ روپے اور پیسوں  کے مبادلہ میں ایک طرف سے قبضہ کافی ہے کما حققناہ فی کفل الفقیہ الفاہم (جیسا کہ ہم نے کفل الفقیہ الفاہم میں  اس کی تحقیق کی ہے ۔ت) اور اگر زید ہی نے روپے کے ۸/ پیسے اور دو چونیاں  مانگیں  جو اس نے دوسرے وقت دیں  یہ حرام ہے لاشتراط الصرف یدابید (کیونکہ بیع صرف میں  ہاتھوں  ہاتھ لینا شرط ہے ۔ت)

(۳ ) یہ صورت جائز ہے کہ پیسوں  میں  ایک طرف کاقبضہ ہوگیا اور اٹھنی میں  دونوں  طرف کا۔ 

(۴) یہ بھی بدلیل مذکور جائز ہے جبکہ باقی کے پیسے لینے ٹھہرے جیساکہ سوال میں  ہے۔
مسئلہ ۱۷۱: ازصید پور ضلع رنگپور بنگال     مرسلہ محمود خان صاحب پسنجر سپرنٹنڈنٹ۹جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

فدوی ریلوے میں  بعہدہ پسنجر سپرنٹنڈنٹ ملازم ہے اور ہر ماہ مشاہرہ سے کچھ روپیہ ریلوے کاٹ لیتی ہے اور وہ روپیہ بعد ترک ملازمت مع کچھ سود کے دیا جاتا ہے جو ریلوے کا سرکلر ہے لہٰذا یہ روپیہ اپنے صرف میں  یاکسی کارخیر میں  لاسکتا ہے یانہیں ؟ مدرسہ دیوبند سے لاعلمی سے میں  نے دریافت کیا تھا وہاں  سے جائز قرار دیا گیا ہے بعدمیں معلوم ہوا کہ وہاں  کا فتوٰی ہم لوگوں کے واسطے قابل وثوق نہیں ہے لہٰذا حضور کی خدمت میں  التماس ہے کہ جواب سے سرفراز فرمایا جاؤں ۔
الجواب : اﷲ عزوجل نے سود کو حرام فرمایا اور اس میں  کوئی تخصیص مسلم وکافر کی نہیں رکھی، مطلق ارشاد ہوا ہے
وحرم الربٰو۱؎
 (اور اﷲ تعالی نے سود کوحرام کردیا۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم    ۲ /۲۷۵)
تو اسے سود قرار دے کرلینا جائز نہیں ا ور اگر کسی کمپنی میں  کوئی مسلمان بھی حصہ دار ہو تو مطلقاً اس زیادہ روپیہ کا لینا حرام ہے  اور اگر کوئی مسلمان حصہ دار نہیں  تو سود کی نیت کرنا ناجائز ہے بلکہ یوں  سمجھے کہ ایک مال مباح بلا غدر مالکوں  کی خوشی سے ملتا ہے یوں  اس کے لینے میں  فی نفسہ کوئی حرج نہیں  اوراسے چاہے اپنے صرف میں  لائے چاہے کارخیر میں  لگائے کما حققناہ فی فتاوٰنا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں  اس کی تحقیق کی ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter