فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
72 - 180
مسئلہ ۱۵۸ تا ۱۵۹: ازبدایوں سوتنہہ محلہ مرسلہ مولوی حامد ب خش صاحب خان بہادر ۷ رمضان المبارک ۱۳۲۲ھ
جناب مولٰنا و مقتدانا حامی سنت دامت برکاتہم ، بعد تمنائے حصول قد مبوسی مدعا نگار ہوں کہ سوالات مندرجہ ذیل کا جواب باصواب جو مطابق احکام شریعت ہو مرحمت فرمائیے تا کہ گمراہان کی رہبری ہووے:
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر دو شخصوں نے اپنالعہ/ کا مملوکہ مال واسباب اتنے ہی حصص میں تقسیم کیا جس قدر کی مالیت کا وہ کل مال تھا ور فروخت کا یہ طریقہ رکھا کہ ہر شخص جو اس کی خریداری کے واسطے حصہ دار ہوچکا اس کو ایک چٹھی دے دی گئی او سب چٹھیاں جمع ہوجانے پر بروئے قرعہ اندازی سب سے اول چٹھی لکھنے والے کو عہ/ کا مال ایک روپیہ کے چٹھی پر ملا اور دوسرے شخص کو دس کا اور تیسرے کو صہ / روپیہ اور چوتھے شخص کودو روپیہ کا اور باقی ۶۶چٹھی والے خریداروں کو آخر نمبر تک ۸/ کا مال فی ٹکٹ دیا گیا آیا یہ طریقہ بیع موافق احکام شریعت ہے یانہیں ؟
(۲) ڈاک خانہ سرکاری کے سیونگ بنک میں یا دوسرے انگریزی تجارتی بنکوں میں زید نے کچھ روپیہ داخل کیا جس پر بہ شرح معینہ اس کو گورنمنٹ نے یا تاجر انگریز نے منافع ادا کیا تو جمع کرنے والا شخص مطابق احکام شریعت اس منافع کو لینے کا مستحق ہے یانہیں ؟
الجواب
(۱) یہ صورت قطعی حرام ہے اور نرا قمار اور بائع و مشتری سب کے لئے استقاق عذاب نار۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲) سود مطلقاً حرام ہے
قال اﷲ تعالٰی وحرم الربٰو۱؎
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
مگر جس کے یہاں روپیہ جمع کیا اگر اس پر کوئی مطالبہ شرعاً آتا تھا اور وہ اور طور پر نہ مل سکتا تھا اس نام سے وصول ہوجائیگا تو اپنے اس حق کی نیت سے قدر حق تک لے لینے کا استحقاق ہے اور اگر کچھ نہ آتا تھا مگر کوئی مال مباح بلا غدر و بلا ارتکاب جرم برضا مندی ہاتھ آتا ہو تو بہ نیت مباح اسے لے لینے والے کو مباح ہے اگرچہ دینے والا کسی نام سے تعبیر کرے اس مسئلہ کی تحقیق کامل بھی فتاوٰی فقیر میں ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰ : از بریلی محلہ کنگھی ٹولہ مرسلہ محمد رضاعلی ۵ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو کو روپیہ اس شرط پر دیا کہ چار ماہ کے بعد تم سے روپیہ مذکور کے پچیس ما/ گندم لیں گے ، یہ جائز ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب : اگر روپیہ قرض دیا اور یہ شرط کرلی کہ چار مہینے کے بعد ایک روپے کے پچیس( ما/) گیہوں لیں گے اور نرخ بازار پچیس سیر سے بہت کم ہے تو یہ محض سود اور سخت حرام ہے حدیث میں ہے :
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربٰو۲؎۔
جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے۔(ت)
(۲؎ کنز العمال بحوالہ الحارث عن علی حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸)
اور اگر گیہوں خریدے اور قیمت پیشگی دی ہے تو بیع سلم ہے اگر سب شرائط بیع سلم کے ادا کرلی ہیں تو جائز ہے اگرچہ روپے کے دس من گیہوں ٹھہر جائیں ورنہ حرام ہے ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۱ : مرسلہ احمد شاہ خاں از موضع نگریا سادات
زید نے کچھ روپے قرض واسطے تجارت کے عمرو کو دئے اور آپس میں یہ ٹھہرالیا کہ علاوہ قرض کے روپوں کے جس قدر منافع تجارت میں ہو اس میں سے نصف ہمارا اور نصف تمہارا ،تو یہ سود ہوا یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب
یہ سود اور حرام قطعی ہے ، ہاں اگر روپیہ اسے قرض نہ دے بلکہ تجارت کےلئے دے کہ روپیہ میرا اور محنت تیری اور منافع نصفا نصف، تو یہ جائز ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۶۲: از پٹیالہ مارواڑ محمد عبدالرحمٰن سوداگر چرم ۲۱/ ذی القعدہ ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیا سر زمین ہندوستان میں بحالت موجودہ مسلمانوں کو اپنی دینی اور قومی حالت سنوار نے کی غرض سے سود کالین دین غیر مسلم سے شرعاً جائز ہے یانہیں ؟
الجواب
سود لینا دینا مطلقاً حرام ہیں ،
قال اﷲ تعالٰی و حرم الربوٰ۱؎
(اﷲتعالٰی نے فرمایا: اور اﷲ تعالٰی نے سود کوحرام کیا۔ت)
(۱؎القرآن الکریم ۲ /۲۷۵)
حدیث صحیح میں ہے :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اکل الربوٰ ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدہ وقال ھم سواء۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والوں پر۔ اور فرمایا وہ سب برابر ہیں ۔
(۲؎ صحیح مسلم باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷)
اﷲکی لعنت کے ساتھے دینی حالت سنورے گی یا اور بدتر ہوگی ، اور قومی دنیوی حالت سنبھلنا بھی معلوم ، اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
یمحق اﷲ الربٰو ویربی الصدقٰت۳؎۔
اﷲ مٹاتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے زکوٰۃ کو۔
(۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۶)
جسے اﷲ تباہ و برباد کرے وہ کیونکر بڑھ سکتا ہے ، اور بالفرض کچھ دن کوظاہری نگاہ میں بڑھے بھی تو جتنا بڑھے گا اﷲ کی لعنت بڑھے گی ؎
مبادا دل آن فرومایہ شاد کہ از بہر دنیا دہد دین بباد
( اس کمینے کا دل خوش نہ ہو جس نے دنیا کی خاطر دین کو برباد کیا۔ت)
اگر قرآن عظیم پر ایمان ہے تو سود کا انجام یقینا تباہی و خسران ہے۔ سائل لین دین پوچھتا ہے، مسلمانوں کے پاس مال کہاں اور کفار بڑے بڑے مالدار، انہیں آپ سے سودی قرض لینے کی کیا ضرورت ہوگی ، اوراگر ہو بھی تو ان کی قوم کے ہزاروں لینے دینے کو موجود ہیں اور سود دینے میں قوم کا نفع ہے یا کفار کا، سوددینے سے قومی حالت سنورتی تو لاکھوں مسلمان بنیوں کو سود دیتے اور اپنی جائدادوں کو تباہ کرتے ہیں ہزار کا مال دو ڈھائی سو میں بہ جاتا ہے کیا اسی کو حالت سنورنا کہتے ہیں ، نفع لینے کی بعض جائز صورتیں نکل سکتی ہیں جن میں کچھ کا ذکر ہمارے فتاوٰی اور بہت کا ہمارے رسالہ نوٹ میں ہے کہ مع ترجمہ چھپ رہا ہے ، مگر کسی کوٹھی کاکام فقط نفع لینے سے نہیں چلتا اسے دینا بھی ضرور پڑتا ہے ، اور معاملہ جب کفار سے ہو تو ان تینوں صورتوں کی پابندی دشوار ہے جن پر جواز کا مدار ہے اور یوں سود دینا اگرچہ کافر کو ہو قطعاً حرام و استحقاق نار ہے ، ہاں اگر نوٹ کاطریقہ جو ہم نے اس رسالہ میں لکھا تجار میں رائج ہوجائے تو بلا شبہہ سود لینے دینے کی آفت اٹھ جائے اور لین دین کا عام بازار شرعی جواز کے ساتھ کھل جائے ، وباﷲ التوفیق ، واﷲ تعالٰی اعلم۔