فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
71 - 180
یعنی پروانگی تو ہے نہیں ضرور افتراء ہی ہے،
ام لھم شرکاء شرعوالھم من الدین مالم یأذن بہ اﷲ ۴؎۔
کیاان کے لئے کچھ ساختہ خدا ہیں جنہوں نے ان کو وہ دین گھڑ دیا جس کی اجازت اﷲ نے نہ دی۔
( ۴؎ القرآن الکریم ۴۲/ ۲۱)
اﷲ عزوجل مسلمانوں کو شیطان کے فریب سے بچائے، آمین! اس اجمال کی تفصیل مجمل یہ ہے کہ حقیقت دیکھئے تو معاملہ مذکورہ بنظر مقاصد ٹکٹ فروش و ٹکٹ خراں ہر گز بیع و شراوغیرہ کوئی عقد شرعی نہیں بلکہ صرف طمع کے جال میں لوگوں کو پھانسنا اور ایک امید موہوم پر پانسا ڈالنا ہے اور یہی قمار ہے، پرظاہرکہ اس طمع دلائی ہوئی گھڑی یا گہنے وغیرہ کی خرید و فروخت کا تو اصلاً نہ ذکر نہ اس شیئ کی جنس ہی متعین، بلکہ تاجر کہتاہے جب ایسا ہوگا تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تم کو ایک چیز ان چیزوں سے بھیجیں گے، یہ وعدہ ہے اور بیع عقد، اور وعدہ وعقدمیں زمین وآسمان کا بعد۔ اب رہی سند اور ٹکٹ، سند تو خود مع قیمت واپس مانگتا ہے اور بیع میں مبیع مع قیمت واپس ہونے کے کوئی معنی نہیں علماء نے صبی لایعقل البیع والشراء (وہ بچہ جو بیع و شراء کی سمجھ نہیں رکھتا۔ت) کی پہچان لکھی کہ چیز لے کر پیسہ بھی واپس مانگنے لگےفیعلم انک لایعرف معنی المبادلۃ وما البیع الا المبادلۃ (پس معلوم ہوگیا کہ وہ مبادلہ کا معنی نہیں جانتا اور بیع تو ہے ہی مبادلہ۔ت) ہاں ٹکٹ کی بیع کانام لیا مگر اس پر وہ عبارت چھاپی جس نے صاف بتادیا کہ یہ مبیع نہیں ایک اقراری سند ہے جس کے ذریعہ سے ایک روپے والا بعد موجود شرائط تیس روپے کا مال تاجر سے لے سکے گا اگر ٹکٹ ہی بکتا تو خریدار کیاایسے احمق تھے کہ روپیہ دے کر دو انگل کا محض بیکار پرچہ کاغذ مول لیتے جسے کوئی دو کوڑی کو بھی نہ پوچھے گا، لاجرم بیع وغیرہ سب بالائے طاق ہے بلکہ تاجر تویہ سمجھا کہ مفت گھر بیٹھے میرے مال کی نکاسی میں جان لڑاکر سعی کرنیوالے ملک بھر میں پھیل جائیں گے اور محض بے وقت منہ مانگے دام پے درپے آیا کرینگے نوکر دام لے کر کام کرتے ہیں اور غلام بے دام، مگر یہ ایسے پھنسیں گے کہ آپ دام دیں گے اور میرا کام کرینگے انسان کسی امر میں دو ہی وجہ سے سعی کرتا ہے خوف یا طمع، یہاں دونوں مجتمع ہوں گے، ایک کے تیس ملنے کی طمع میں جس نے ایک ٹکٹ لے لیا اس پر خواہی نخواہی لازم ہوگا کہ جہاں سے جانے پانچ احمق اور پھانسے چھ تو یہ نقد بلا معاوضہ آئے اب وہ نوگرفتار پانچ میں ہر ایک اسی تیس کی طمع اور اپنا رویہ مفت مارے جانے کے خوف سے اور پانچ پانچ پر ڈورے ڈالے گا یونہی یہ سلسلہ بڑھتا رہے گا اور ملک بھر کے بے عقل میرا مال نکلنے میں بجان ساعی ہوجائیں گے پھر جب تک سلسلہ چلا فبہا، گھر بیٹھے بے محنت دونے ڈیوڑھے چھنا چھن آرہے ہیں اور جہاں تھکا تو اپنا کیا گیا، ان ٹکٹ خروں کا گیا جنہوں نے روپے کو ہوا خریدی، ہمیں یوں بھی صدہا مفت بچ رہے، بہرحال اپنا احمق کہیں نہیں گیا تاجر کے تو یہ منصوبے تھے ادھر مشتری سمجھا کہ گیا توایک اور ملے تو تیس لاؤ قسمت آزما دیکھیں یہاں تک نری طمع تھی اب کہ روپیہ بھیج چکے مارے جانے کا خوف بھی عارض ہوگیا اور ہر طرح لازم ہواکہ اوروں پر جال ڈالیں اپنا روپیہ ہرا ہو، دوسرے سوکھے گھاٹ اتریں تو اتریں ، یونہی یہ امیدوبیم کا سلسلہ قمار ترقی پکڑے گا، اول کے دوچار کچھ حرام مال کی جیت میں رہیں گے آخر میں بگڑے گا جس جس کا بگڑے گا یہی اکل مال بالباطل ہے جسے قرآن عظیم نے حرام فرمایا کہ:
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور مت کھاؤ۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۲۹)
یہی غرر وخطر وضراروضرر میں پڑنا اور ڈالنا ہے جس سے صحاح احادیث میں نہی ہے، یہ معاملہ چھٹی سے بدرجہا بدترہے وہاں ہر ایک بطور خود اس قمار وگناہ میں پڑتا ہے اور یہاں ہر پہلا اپنے نفع کیلئے دوسرے پانچ کا گلاپھانسے گا تو وہاں صرف خطر تھا یہاں خطر وضرر وضرار وغش سب کچھ ہے،
اور رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منا من غشنا ۔ ۱؎ رواہ مسلم، احمد وابوداؤد وابن ماجۃ والحاکم عن ابی ہریرۃ والطبرانی فی الکبیر عن ضمیرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جومسلمانوں کے خلاف خیر خواہی معاملہ کرے وہ ہمارے گروہ میں سے نہیں (اس کوامام مسلم، احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ اور امام حاکم نے سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا حضرت ضمیرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
(۱؎ صحیح مسلج کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰)
(مسند امام احمد بن حنبل مسند ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲ /۴۱۷)
(سنن ابو داؤد کتاب البیوع آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۳۳)
ایک حدیث میں ہے :
لیس منا من غش مسلما اوضرہ او ماکرہ۲؎ رواہ الامام الرافعی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ ۔
ہم میں سے نہیں جو کسی مسلمان کی بدخواہی کرے یا اسے ضرر پہنچائے( اس کو امام رافعی نے سیدنا امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے روایت کیا ہے۔ت)
(۲؎ کنز العمال بحوالہ الرافعی عن علی حدیث ۹۵۰۲ موسسۃ الرسالہ بروت ۴/ ۶۰ )
احادیث اس باب میں حد تواتر پر ہیں اور خود ان امور کی حرمت ضروریات دین سے ہے کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ت) حقیقت امر تو یہ تھی اور صورت الفاط پر نظر کیجئے تو ٹکٹ کی خرید وفروخت ہے ۔ اول تو اس کے مال ہونے میں کلام ہے کہ وہ جس کی طرف طبائع میل کریں اور وقت حاجت کےلئے ذخیرہ رکھا جائے ، یہ ٹکٹ دونوں وصف سے خالی ہے ،
تو عقد بوجوہ فاسد ہوا اور ہر فساد جداگانہ حرام ہے پھر یہ سلسلہ غش و فساد وحرام ،تو ادھر ٹکٹ خروں میں یکے بعد دیگر مستمر چلا، ادھر ایسے جو تیس کی شے ملی اس کی جنس تک معین نہ تھی نہ صرف اس کے عمل پر ملی کہ اس کاکام تو پانچ ٹکٹ بکنے پر منتہی ہوگیا اور اس وعدہ طمع میں چیز کا مستوجب اس وقت ہوگا کہ پھر وہ بکیں اور پانچ ان کے اور پانچ پانچ ان پانچ کے وصول ہوں ، یہ ہر گز اسی اول کا عمل نہیں تو اگر اجارہ ہوتا بوجوہ خود فاسدہ اور اپنی مشروط بیع کا مفسدہ ہوتا مگر حقیقۃً وہ صرف طمع دہی اور از قبیل رشوت ہے، غرض اس معاملہ حرام در حرام کے مفاسد بکثرت ہیں ا ور ان سب سے سخت تر وہ لفظ ہے کہ ہم تمہارے ساتھ ایمانداری سے کام کرتے ہیں ، ایسے شدیدی گناہوں اختراعی راہوں کو ایمانداری کا کام بتانا ان اصل گناہوں سے کتنے درجے زائد ہے جبکہ یہ اشتہار دینے والا کوئی مسلمان ہوکہ اب یہ تحصیل حرام بلکہ تحسین حرام ہے والعیاذ باﷲ رب العٰلمین ہذا واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔