Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
70 - 180
مسئلہ۱۵۷: ازشاہجہاں پور محلہ خلیل مرسلہ حاجی محمد اعزاز حسین خان صاحب ۱۶/ ربیع الاول ۱۳۲۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ ایک شخص نے اشتہار دیا ہے کہ میں  ایک روپیہ میں  تیس روپیہ کی گھڑی دیتا ہوں  لیکن اس شرط سے کہ جو شخص میر اٹکٹ ایک روپیہ کو خریدے اس کے نام پانچ ٹکٹ میں  بھیجوں  گا جب وہ پانچ ٹکٹ پانچ روپیہ کو فروخت کرکے وہ پانچ روپیہ مع ان کے پانچ خریداروں  کے 

ناموں  کے میرے پاس بھیج دے پھر میں  ان پانچوں  خریداروں  کے پاس پانچ پانچ ٹکٹ بھیجوں  گا جبکہ ان میں  سے ہر ایک شخص اپنے اپنے ٹکٹ فروخت کرکے مبلغ پچیس روپیہ میرے پاس بھیج دیں  گے تو میں  تیس روپیہ کی گھڑی اس مقدم الذکر شخص کے  پاس بھیج دوں گا اور پھر وہ شخص اشتہار دینے والا ان پچھلے پچیس خریداروں میں سے ہر ایک کے نام پانچ پانچ ٹکٹ بھیج دے گا جبکہ یہ اپنے اپنے ٹکٹ فروخت کرکے روپیہ اس کے پاس بھیج دیں  گے جب وہ ان پانچ شخصوں  کے پاس تیس تیس روپیہ کی گھڑی بھیجے گا جنہوں  نے مقدم الذکر شخص سے ٹکٹ خریدے تھے غرضکہ اسی سلسلہ میں  جبکہ اس کے پاس تیس روپیہ پہنچتے جائیں  گے تو وہ حسب ترتیب ایک شخص کو گھڑی بھیجتا رہے گا، تو ہر شخص کو گھڑی ایک روپیہ میں  ملے گی مگر بایں  شرط کہ اس کے ذریعہ سے تیس روپیہ کے ٹکٹ اس شخص کے فروخت ہوجائیں  اور وہ ٹکٹ دراصل بطور ایک سند و وثیقہ خریداری کے ہیں  کیونکہ اس ٹکٹ پر لفظ کوپن اس نے لکھاہے جس کا ترجمہ سودی اقرار نامہ لکھا ہے جس سے ظاہر ہے کہ یہ ٹکٹ مبیعہ نہیں  بلکہ اقرار نامہ ہے اس بات کا کہ بعوض ایک روپیہ تیس روپیہ کی شے اشیاء مبیعہ سے جس کی وہ خریداردرخواست کرے بلحاظ شرائط مذکورہ و مندرجہ اشتہار ملے گی، پس اس معاملہ مذکورہ سے کسی شے کا لینا شرعاً جائزہے یانہیں ، اگر جائز ہے تو یہ عقد عقد بیع ہے یا کیا؟اور اگر بیع ہے تو اس میں  کوئی دوسر ا عقد مثل توکیل و دلالی واخذ اجرت وغیرہ مندرج ہے یانہیں ، اور ثمن وہ ایک روپیہ ہے یا مع اس زیادتی مذکورہ کے، اگر مع زیادتی ہے تو یہ بیع بطریق بیع چھٹی مروجہ ممنوعہ شرعیہ کے معنی میں  ہوگی گوایک لخت سب چھٹی نہ ہوں  متفرقا متفرقا ہوں  یا اس معنی میں  نہیں ، پھر یہ بیع باندراج شرائط مذکورہ بالاجائز ہوگی یا نہیں  بحوالہ شرعیہ دلائل معتبرہ جواب مرحمت فرمایا جائے اور نقل اشتہار بغرض ملاحظہ ہمرشتہ سوال ہذاہے بینواﷲ توجروا عنداﷲ۔

نقل اشتہار بغرض ملاحظہ ذیل میں  تحریر کی جاتی ہے: قیمتی تیس روپیہ صرف ایک روپیہ کو لندن واچ کمپنی کمر شیل بلڈنگ لکھنؤ سونے چاندی  یا دھات کی جیبی گھڑیاں  کلاک اور زیور وغیرہ تم کویہ سند ملے گی جس کے واسطے تم نے صرف ایک روپیہ خرچ کیا ہے اور ان ٹکٹوں  کو جو کہ ان میں  شامل ہیں  ایمان کے ساتھ فی ٹکٹ ایک روپیہ فروخت کرو اپنے دوستوں  اور ملاقاتیوں  میں  ان میں  سے ٹکٹ فروخت کرو جس قدرکہ تم سے ہو سکے، اور پھر جب تم اس سند کو مع اس روپیہ کے جو تم نے فروخت کرکے وصول کیا ہے ہمارے پاس بھیجو گے ہم وعدہ کرتے ہیں  کہ ہم تم کو ایک چیز ان چیزوں  میں  سے جو کہ اوپر بیان کی گئیں  جس کے تم مستحق ہوگے(ہماری فہرست نمونہ کی دیکھ لو) جبکہ شرائط مفصلہ ذیل پوری ہوں  گی ہم بھیجیں  گے، شرط اول تم ہمارے پاس نام اور پتہ صاف قلم سے ان شخصوں  کے جسکے ہاتھ تم نے ٹکٹ فروخت کئے ہیں  بھیجوگے۔ شرط دوسری ان میں  سے ہر ایک شخص سے ہم بذریعہ تحریر کے دریافت کریں  گے اپنے اطمینان کے واسطے کہ آیا تم نے ان شخصوں  کے ہاتھ فروخت کیا ہے یانہیں ۔ تیسری شرط وہ شخص ہمارے پاس اپنی سند مع اس روپیہ کے جو کہ انہوں  نے اپنے ٹکٹ فروخت کرکے وصول کیا ہے ہمارے پاس بھیجیں  گے، اگر تم یا تمہارے دوست پانچوں  ٹکٹ نہ فروخت کرسکیں  تاہم تم ہماری ایک چیز کےعمدہ چیزوں  میں  سے مستحق ہوگے اگرچہ چار یا تین یا دو یاصرف ایک ہی ٹکٹ بموجب شرائط بالاکے فروخت ہوا ہو خوب غور کرلو کہ تم صرف ایک روپیہ اپنی جیب سے خرچ کرکے اس کے عوض میں  بموجب شرائط بالا کے اپنے آپ کو مستحق کرتے ہوخالص سونے کی جیبی گھڑی کا یا کلاک کا جس کی قیمت تیس روپیہ ہوگی ہم تمہارے ساتھ ایمانداری سے کام کرتے ہیں  اور ہم کو یقین ہے کہ تم بھی ہمارے ساتھ ایمانداری کروگے ہم تم پر اعتبار کرتے ہیں  ہمارے مال میں  سے جس چیز کو جی چاہے بموجب نمونہ کی فہرست کے ہندوستان،برما، سیلون میں  جانچ کراکے اطمینان کرالو۔

ترجمہ اس ٹکٹ کا جو ایک روپیہ کو فروخت ہوتا ہے: تیس روپیہ کی قیمت کا مال صرف ایک روپیہ کو خریدنے والے کو اس ٹکٹ کے ایک سند مع پانچ ٹکٹوں  کے ملے گی جن کو کہ فی ٹکٹ اس کو ایک روپیہ میں  فروخت کرنا چاہئے بعدہ ہمارے پاس اس کی قیمت یعنی پانچ روپیہ وصول شدہ بذریعہ منی آرڈر یا چک کے بھیجنا چاہئے اور تقسیم کرنا چاہئے جیسا کہ سندپر لکھا ہے ٹکٹ کے لفظ کو کوپن لکھا ہے جس کا ترجمہ ڈکشنری میں سودی اقرارنامہ لکھا ہے، فقط،
الجواب : معاملہ مذکورہ محض حرام و قمار، ہزاراں  ہزار محرمات بے شمار کا تودہ وانبار، بلکہ حراموں  کا سلسلہ ناپیداکنار، طرفہ اختراع ابلیس مکار ہے،
قال اﷲ تعالٰی وکذٰلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن یوحی بعضھم الٰی بعض زخرف القول غروراو لوشاء ربک مافعلوہ فذرھم وما یفترونoولتصغٰی الیہ افئدۃ الذین لایؤمنون بالاٰخرۃ ولیرضوہ ولیقترفواماھم مقترفونo۱؎
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اسی طرح ہم نے ہر نبی کیلئے کچھ دشمن بنائے شیطان آدمی اور جن کہ ایک دوسرے کے دل میں  جھوٹی بات ملمع کی ہوئی ڈالتے ہیں  ایک تو فریب دینے کو (اور تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو تو چھوڑدے انہیں  اور ان کے باندھنے جھوٹ کو) دوسرے اس لئے کہ جھک آئیں  اس باطل کی طرف ان کے دل جنہیں  آخرت پر ایمان نہیں  اور اسے پسند کریں  اور اس کے ذریعہ سے کمالیں  جو انہیں  کمانا ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم    ۶/ ۱۳۔۱۱۲  )
آخرت میں  وبال وعذاب اور دنیا میں ، مثلاً صورت مسئولہ میں  کوئی روپے اور کوئی گھڑی یا گہنا وغیرہ اور کوئی
خسر الدنیا والاٰخرۃ۲؎
 (دنیا وآخرت میں  اس نے گھاٹا پایا۔ت) کہ روپیہ گیا اور کچھ نہ ملا،
 (۲؎ القرآن الکریم    ۲۲/ ۱۱)
قل اٰﷲ اذن لکم ام علی اﷲتفترون ۳؎۔
اے نبی! تو ان لوگوں  سے فرما کیا اﷲ نے تمہیں  اس کی پروانگی دی ہے  یا خدا پر بہتان اٹھاتے ہو۔
(۳؎القرآن الکریم    ۱۰ /۵۹ )
Flag Counter