| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۱۵۱: ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ محمد شیر علی خان مورخہ ۷ ذوالحجہ ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین بدیں امر کہ ہر دو فریق کہ باہمی رضامندی پر سود (بیاج) کہاں تک جائزہے یانہیں ، اور اگر نہیں تو کس صورت میں اور کیوں ؟مفصل تحریر فرمائیے۔
الجواب : اگر باہمی رضامندی سے سود جائز ہوسکے گا تو زنا بھی جائز ہوسکے گا اور سور بھی جائز ہوسکے گا جبکہ سور کا مالک اس کے کھانے پر راضی ہو، اﷲ ورسول کے غضب میں کسی کی رضامندی کو کیادخل، صحیح حدیث میں ہے فرمایا کہ سودکھانا تہتر بار اپنی ماں سے زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔ کیا باہمی رضامندی سے ماں کے ساتھ ۷۳ باز زنا جائز ہوسکتا ہے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۵۲: ازشہر بانس منڈی مسئولہ محمد صدیق بیگ صاحب ۲۵محرم ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سود کیا چیز ہے اور کس کس صور ت میں سود ہوجاتا ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب: وہ زیادت کہ عوض سے خالی ہو اور معاہدہ میں اس کا استحقاق قرار پایا ہو سود ہے مثلاً سو روپے قرض دئے اور یہ ٹھہرالیا کہ پیسہ اوپر سولے گا تویہ پیسہ عوض شرعی سے خالی ہے لہٰذا سود حرام ہے واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۵۳: ازمدرسہ منظر الاسلام بریلی مسئولہ اختر حسین طالبعلم ۵/صفر ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی پنواڑی یاسرمہ فروش کو دس یاپانچ روپے کوئی شخص دے اور اس سے کہے کہ جب تک میر اروپیہ تمہارے ذمہ رہے مجھے پان بقدر خرچ روزانہ کے دیا کرو اور جب روپیہ واپس کردو گے تو مت دینا یہ صورت جائز ہے یانہیں ؟اور نہیں تو جواز کی کون سی صورت ہے؟
الجواب :یہ صورت خاص سود اور حرام ہے، سود کے جواز کی کوئی شکل نہیں ۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴ تا۱۵۵: ازبریلی مسئولہ عزیز الدین خاں سوداگر ۲۷/شوال ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ: (۱) ایک مسلمان اور ایک ہندو کو دس روپیہ کا نوٹ دیا آیا ہندو مسلمان دونوں سے اس کا نفع جو قرار پایا ہے لیاجائےگا یانہیں ؟ (۲) ہندو سے نقد قرض سودی لینا مسلمان کو جائز ہے یانہیں ؟ یا کچھ زیور رکھ کر روپیہ سودی لینا مسلمان کو ہندو سے جائز ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب : (۱) دس کا نوٹ اگر زیادہ کو بیچا تو ہندو مسلمان دونوں سے لینا جائز اور اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز جبکہ اسے سود سمجھ کر نہ لے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ (۲) سود جس طرح لینا حرام ہے یونہی دینا بھی حرام جب تک سچی حقیقی مجبوری نہ ہو، زیور اگر اپنا ہے تو اسے رہن رکھ کر سودی روپیہ نکلوانا حرام کہ یہ مجبوری نہ ہوئی، زیور بیچ کیوں نہیں ڈالتا،اوراگردوسرے سے رہن رکھنے کے لے مانگ کرلیا ہے اور پاس کوئی ایسی چیز نہیں جسے بیچ کر کام نکال سکے اور قرض لینے کی سچی ضرورت و مجبوری ہے تو جائز ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۵۶: ازشہر بریلی مرسلہ شوکت علی صاحب ۵/شعبان ۱۳۳۷ھ کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر سے دس روپیہ اس شرط پر مانگے کہ میں فصل پر گندم ۱۵ما/ دوں گا اور خالدنے بکر سے دس روپیہ اس شرط پر مانگے کہ جو نرخ بازار فصل پر ہوگا اس نرخ سے دس روپیہ کے گندم دوں گا، بکر نے کہا میرے پاس اس وقت روپیہ نہیں ہے تم دونوں شخص دس دس روپیہ کے گندم جو اس وقت( ۱۰ ما/ )کا نرخ لے جاؤ۔ دونوں شخص رضامندی سے گندم حسب شرائط بالا لے گئے اور فروخت کرکے دس دس روپے اپنے صرف میں لائے، اب زید کو فصل پر فی روپیہ( ۱۵ ما/) گندم حسب وعدہ اور خالد کو فی روپیہ( ۱۲ما/)گندم نرخ بازار دیتے ہوئے یہ بیع جائز ہوئی یانہیں؟ اور اگر بکر خالد کو روپیہ حسب شرائط بالا یعنی جو فصل پر نرخ ہو گا دوں گا دیتا تو جائز ہو تا یا نہیں ؟
الجواب: یہ صورت حرام قطعی اور خالص سود ہے، ڈھائی من گیہوں جو اس نے دئیے ان سے زیادہ لینا حرام حرام حرام۔ اور اگر روپیہ دیتا تو اس میں دو صورتیں تھیں ، روپیہ قرض دیتا اور یہ شرط ٹھہرالیتا کہ ادا کے وقت گیہوں دیں تو یہ شرط باطل تھی، زید وخالد پر صرف اتنا روپیہ ادا کرنا تھا اور اگر گیہوں کی خریداری کرتا اور روپیہ پیشگی دیتا تو یہ صورت بیع سلم کی تھی اگر اس کے شرائط پائے جاتے جائز ہوتی ورنہ حرام۔ واﷲتعالٰی اعلم۔