Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
68 - 180
مسئلہ۱۴۶: ۸ رمضان المعظم ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو روپیہ کفار کے خزانہ میں جمع کیاجائے اس کا سود لینا جائز ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب: سود لینا قطعاً حرام ہے، اﷲ عزوجل نے مطلقاً فرمایا:
  واحل اﷲالبیع وحرم الربٰو۱؎۔
اﷲ نے حلال کی بیع اور حرام کیا سود۔
(۱؎ القرآن الکریم      ۲/ ۲۷۵)
اس میں  رب العزت جل جلالہ نے کوئی تخصیص نہ فرمائی کہ فلاں  سے سود لینا حرام اور فلاں  سے حلال ہے بلکہ مطلقاً حرام فرمایا، اور وہ مطلقاً ہی حرام ہے کافر سے ہو خواہ مسلم سے۔ ہاں  اپنا کسی پر آتا ہوا یا اور کوئی مال جائزشرعی کسی حیلہ شرعیہ سے حاصل کرنا دوسری بات ہے والتفصیل فی فتاوٰنا(اور تفصیل ہمارے فتاوٰی  میں  ہے ۔ ت) واﷲ سبحانہ و تعالٰی  اعلم۔
مسئلہ۱۴۷: ازمارہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ حضرت سید ارتضا حسین صاحب ۱۴رجب ۱۳۱۶ھ

بنک سے سود لینا جائز یا ناجائز؟ زیادہ نیاز
الجواب

سود لینا مطلقاً حرام ہے،
قال اﷲ تعالٰی وحرم الربٰو۲؎
 (اﷲ تعالٰی  نے ارشاد فرمایا: اور اﷲ تعالٰی  نے سود کو حرام کیا۔ت) واﷲ تعالٰی  اعلم۔
 ( ۲؎ القرآن الکریم     ۲/ ۲۷۵)
مسئلہ۱۴۸: ۸/جمادی الاولٰی  ۱۳۱۹ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید نے عہ ۱۰ روپے کا مال اپنے روپیہ سے عمرو کو دلوادیا اور کہا کہ میں  تم سے لہ عہ۱۱/ لوں  گا اس میں  نفع جائز ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب 	نراسود اور حرام ہے، واﷲ سبحٰنہ  وتعالٰی  اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹: ازاوجین مرسلہ حاجی محمد یعقوب علی خان صاحب ۲۴/شعبان ۱۳۱۵ھ

جب جنس و قدر دونوں  پائے جائیں  تو امام اعظم کے نزدیک نسیہ و فضل دونوں  حرام ہیں تو اگر کوئی ایک من گیہوں  ایک من گیہوں  سے دست بدست بیچے تو اس تجارت میں بائع و مشتری کو کیا فائدہ ہوا اور اس سے یہ بھی پایا گیا کہ کسی کو گیہوں  یا جو یا جوار یا چنا وغیرہ کی ضرورت پڑی اور ا س نے اس سے کہا کہ مجھ کو ایک من گیہوں  وغیرہ بطریق ادھار دے دے میں  تجھ کو چند روز میں  دے دوں  گا تو یہ بھی سود میں  داخل ہوگیا اور یہ ضرورت ہر کس و ناکس کو پیش آتی ہے اس مسئلہ میں  جو حکم تحقیق ہو بیان فرمائیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب

قرض تو ایک دوسرا عقد ہے بیع کے سوا جسے شرع مطہر نے حاجات ناس کے لئے جائز فرمایا غلہ کیا، بڑا قرض تو روپے کا ہوتا ہے روپیہ خود اموال ربویہ سے ہے کہ روپے کے عوض روپیہ یا چاندی ہو تو قدر و جنس دونوں  موجود اور فضل و نسیہ دونوں  حرام مگر روپیہ قرض لینا جائز ہی ہے اور خود غلہ قرض لینا صحیح حدیث میں  حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے ثابت ہے اور رب العزت جل وعلا فرماتا ہے :
یٰایھاالذین اٰمنوااذاتداینتم بدین الی اجل مسمی فاکتبوہ ۱؎
الآیۃ۔ اے ایمان والو! جب تم ایک مقررہ مدت تک کسی دین کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۲ /۲۸۲)
اور اموال ربویہ میں  شرع مطہر نے وصف کا اعتبار ساقط فرمایا ہے ولہٰذا ان کا جید و ردی یکساں  ہے اور اختلاف اوصاف اختلاف اغراض وحاجات ناس کا باعث ہوسکتا ہے مثلاً ایک قسم کی چیز زید کو مطلوب ہے اس کے پاس اس قسم کی نہیں دوسری قسم کی ہے اور اس قسم کی شیئ عمرو کے پاس ہے اسے اس قسم کی مطلوب ہے جو زید کے پاس ہے تو باہم دست بدست یکساں  برابر مبادلہ کرکے ہر ایک اپنے مطلوب کو پہنچ سکتا ہے معہذا یہ صورت بھی ہے کہ مثلاً زید کے منہ سے قسم نکل گئی کہ یہ گیہوں  جو اپنے پاس ہیں  نہ کھائے گا اب اگر وہ ان گیہوں  کو عمرو کے گندم سے دست بدست برابر بدل لے تو قسم بھی پوری ہوگی اور کوئی حرج بھی لازم نہ آئے گا۔ علاوہ بریں  شرع نے دست بدست برابر بیع کرنا واجب تو نہ کیا یہ فرمایا ہے کہ اگر ان چیزوں  کی باہم بیع کرنی ہو تو یوں  کرو جسے نہ کرنی ہو نہ کرے کوئی شرعی ایجاب تو نہیں ۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم
مسئلہ ۱۵۰: ازلاہورمسجد بیگم شاہی مرسلہ مولوی احمد الدین صاحب یکم ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں  علمائے دین اس بارہ میں  کہ اس ملک میں  اہل ہنود سے بیاج لیناجائز ہے یانہیں ؟ بعض کہتے ہیں  کہ نصارٰی سے بوجہ اہل کتاب ہونے کے بیاج لینا نادرست ہے، ایسے خیال والوں کے پیچھے نماز پڑھنی درست ہے یا نہیں؟
الجواب: سود مطلقطاً حرام ہے،
قال اﷲ تعالٰی وحرم الربٰو۱؎۔
اﷲ تعالٰی  نے فرمایا: اور اﷲ تعالٰی  نے سود کو حرام کیا۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۲ /۲۷۵)
ہاں  جو مال غیر مسلم سےکہ نہ ذمی ہو نہ مستامن بغیر اپنی طرف سے کسی غدر اور بدعہدی کے ملے اگرچہ عقود فاسدہ کے نام سے اسے اسی نیت سے نہ بہ نیت ربا وغیرہ محرمات سے لینا جائز ہے اگرچہ وہ دینے والا کچھ کہے یا سمجھے کہ ا سکے لئے اس کی نیت بہتر ہے نہ کہ دوسرے کی، لکل امرئ ما نوی ۲؎(ہرشخص کےلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الایمان باب ماجاء ان الاعمال بالنیۃ والحسبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۳)
پھر بھی جس طرح برے کام سے بچنا ضرور ہے برے نام سے بچنا بھی مناسب ہے ایاک وبالسوء الظن (بدگمانی سے بچ۔ت) ان تمام احکام میں  مشرک ومجوسی و کتابی سب برابر ہیں  جبکہ نہ ذمی و مستامن ہوں  نہ غدر کیا جائے بلکہ یہی شرط کافی ہے کہ ان دونوں  کو بھی حاوی ہے، واﷲ تعالٰی  اعلم۔
Flag Counter