Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
67 - 180
مسئلہ ۱۴۱: ازشہرکہنہ ۲۹ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید نے کچھ روپے بکر سے مدت معینہ پر قرض لئے اور وقت روپیہ لینے کے کچھ ذکر سود وغیرہ کا نہ ہوا بلکہ زید نے صاف کہہ دیا کہ بلا سود ی لیتا ہوں  اور وقت دینے روپے کے کچھ اور روپے بدلے اس کے احسان کے زیادہ کردئیے، تو یہ روپے جو زیادہ دئیے یہ سود میں  داخل ہیں  یا طریقہ سنت کا ہے یا مستحب ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب: جبکہ زیادہ دینا نہ لفظاً موعود نہ عادۃً معہود، تو معنی ربا یقیناً مفقود خصوصاً جبکہ خود لفظوں  میں  نفی ربا کا ذکر موجود، بلکہ یہ صرف ایک نوع احسان و کرم و مروت ہے اور بیشک مستحب وثابت بہ سنت
لحدیث صحیح البخاری وصحیح مسلم وعن جابر بن عبداﷲانصاری رضی اﷲتعالٰی عنہما قال اتیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکان لی علیہ دین فقضانی وزادنی ۱؎(ملخصا) ولحدیثہما عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کان لرجل علی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سن من الابل فجاءہ یتقاضاہ فقال اعطوہ فطلبوا سنہ فلم یجد وا لہ الاسنا فوقھافقال اعطوہ فقال او فیتنی او فاک اﷲ فقال النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ان خیارکم احسنکم قضاء۱؎ ولحدیث قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لوزان  زن  وارجح۲؎رواہ احمد والاربعۃ وابن حبان والحاکم عن سویدبن قیس العبدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال الترمذی حسن صحیح وقال الحاکم صحیح وھذا الوزان فی مکۃ و رواہ الطبرانی فی الاوسط۳؎وابویعلی فی المسند وابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وھذالوزان فی المدینۃ۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث کی وجہ سے کہ سیدنا حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اللہ تعالٰی  عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں  کہ میں  حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں  حاضر ہوا میراآپ پر کچھ قرض تھا آپ نے وہ ادا فرمادیا اور کچھ زیادہ بھی مجھے عنایت فرمایا۔ اور ان دونوں  کی اس حدیث کی وجہ سے کہ سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے مروی ہے انہوں  نے فرمایا کہ ایک شخص کا نبی اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم پر ایک عمر کا اونٹ قرض تھا وہ شخص خدمت اقدس میں  آیا اور قرض کا تقاضا کرنے لگا، حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس کو اونٹ دے دو، تلاش کرنے پر اس کے اونٹ جیسا اونٹ نہ ملا مگر اس سے بہترعمر کا اونٹ ملا، تو آپ نے فرمایا کہ یہی اونٹ اس شخص کو دے دو، اس شخص نے کہا آپ نے مجھے بھر پور عطا فرمایا اﷲ تعالٰی  آپ کو بھر پور عطا فرمائے۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں  سے بہتر وہ ہے جو فرض کی ادائیگی میں  تم سے بہترہے۔ اور اس حدیث کی وجہ سے جس میں  نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے وزن کرنیوالے سے فرمایا کہ وزن کر اور ترازو کو جھکا(یعنی قدرے زیادہ دے) اس کو امام احمد، سنن اربعہ، ابن حبان اور حاکم نے سویدبن قیس عبدی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا، امام ترمذی نے کہا یہ حسن صحیح ہے۔ امام حاکم نے کہا یہ صحیح ہے اور یہ وزن کرنے والا مکہ مکرمہ میں  تھا، اور اس کو طبرانی نے معجم اوسط میں ، ابویعلٰی  نے مسند میں  اور ابن عساکر نے حضر ت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا اور یہ وزن کرنے والا مدینہ منور ہ میں  تھا۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب الاستقراض     باب حسن القضاء     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۲۲)

(۱؎ صحیح البخاری     کتاب الاستقراض     باب حسن القضاء    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۲۲)

(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل     حدیث سوید بن قیس رضی اﷲ عنہ     دارالفکر بیروت    ۴ /۳۵۲)

(جامع الترمذی ابواب البیوع    ۱/ ۱۵۶    والمستدرک کتاب البیوع    ۲ /۳۰)

(۳؎ المعجم الاوسط    حدیث۶۵۹۰    المکتبۃ المعارف الریاض    ۷ /۳۰۷)
مگر محل اس کا وہاں  ہے کہ یا تو وہ زیادت قابل تقسیم نہ ہو مثلاً ساڑھے نوروپے آتے تھے دس پورے دئیے کہ اب بقدر نصف روپے کی زیادتی ہے اور ایک روپیہ دو پارہ کرنے کے لائق نہیں یا قابل تقسیم ہو تو جدا کرکے دے، مثلاً دس آتے تھے وہ دے کر ایک روپیہ احساناً الگ دیا ان صورتوں  میں  وہ زیادتی بکر کے لئے حلال ہوجائے گی، اور اگر قابل تقسیم تھی اور یوں ہی مخلوط و مشاع دی مثلاً دس آتے تھے گیارہ یکمشت دئیے دس آتے میں  اور ایک احساناً تو نہ ہبہ صحیح ہوگا نہ بکر اس زیادت کامالک۔
عالمگیری میں  ہے :
رجل دفع الی رجل تسعۃ دراہم وقال ثلثۃ قضاء من حقک وثلثۃ ہبۃ لک وثلثۃ صدقۃ فضاع الکل یضمن ثلثۃ الہبۃ لانھا ہبۃ فاسدۃ ولایضمن ثلثۃ الصدقۃ لان صدقۃ المشاع جائزۃ الا فی روایۃ کذا فی محیط السرخسی۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
ایک مرد نے دوسرے کو نودرہم دئیے اور کہا تین تیرے حق کی ادائیگی ہیں  تین تیرے لئے ہبہ اور تین صدقہ ہیں ، پھر سب ضائع ہوگئے تو ہبہ کے تین درہموں  کا وہ ضامن ہوگا کیونکہ یہ فاسد ہبہ ہے اور صدقہ کے تین درہموں  کا ضامن نہیں ہوگا کیونکہ صدقہ مشاع جائز ہے سوائے ایک روایت کے، محیط سرخسی میں  یونہی ہے واﷲتعالٰی  اعلم(ت)
 (۱؎ فتاوٰی  ہندیۃ    کتاب الہبۃ     الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۳۷۹)
مسئلہ۱۴۲ تا۱۴۴: ازموضع دیورنیاں : کیافرماتے ہیں  علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) سود دینا مسلمان کو درست ہے یانہیں ؟

(۲) ہنود سے سود لینا درست ہے یانہیں ؟

(۳) دستاویز میں  سود تحریر کرانا اگرچہ اس کے لئے نیت نہ ہو جائز ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب

(۱) ہر گزدرست نہیں  مگر جب کوئی خاص ضرورت شدیدہ ہو جسے شرع بھی ضرورت مانے اور بغیر سود دئیے چارہ نہ ہو۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔

(۲) ہندو مسلمان کسی سے درست نہیں ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم

(۳) نادرست کہ جھوٹی تہمت گناہ اپنے اوپر لگانی ہے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔
مسئلہ۱۴۵: از شہر کہنہ ۲۹جمادی اولٰی  ۱۳۱۴ھ

ایک موضع کے اسامیان کو کچھ غلہ بغرض تخم ریزی کے دیا گیا اور اس غلہ کا بہ نرخ بازار روپیہ اسامی کے ذمہ قائم کردیا گیا مگر اس وقت میں اسامی سے یہ امر طے نہ کیا گیا کہ کس نرخ سے بحساب فی روپیہ غلہ جو آئندہ پیدا ہوگا وہ اس اسامی سے لیا جائیگا، فصل پر وہ غلہ یعنی ساٹھی سترہ سیر کی فروخت ہوئی اور اب تیرہ سیر کی فروخت ہوتی ہے اور اسامی سے فصل پر بحساب ۲۵سیر فی روپیہ ساٹھی لی گئی، آیا یہ کارروائی جائز ہوئی یا ناجائز؟ اگر ناجائز ہے تو کیا طریقہ برتا جائے اور کس نرخ سے غلہ لیا جائے کہ وہ جائز ہو؟ بینواتوجروا۔
الجواب: اگر اس وقت کوئی ناجائز عقد نہ ہوا تھا، نہ بعد کوکسی جبر وتعدی سے آسامی نے دیا بلکہ بخوشی سترہ سیر کے حساب سے غلہ ان روپوں کا دے دیا تو لینا جائز ہے ورنہ حرام۔ واﷲتعالٰی  اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
Flag Counter