فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
66 - 180
ان تقریروں سے خوب روشن ہوگیا کہ حاش ﷲ ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم نے ہر گز کسی صورت ربا کو حلال نہ ٹھہرایا یہ غیرمقلدوں کا محض افتراء ہے بلکہ ان مواقع میں کہ حکم جواز ہے وجہ یہ کہ وہ ربا ہی نہیں اپنا حق یا کوئی مال مباح ایک ذریعہ جائزہ سے حاصل کرنا ہے اگرچہ بضرورت و مصلحت اس شخص نے اسے کسی لفظ سے تعبیر کیا ہو، ولہٰذا علماء ان مسائل میں لاربا(کوئی سود نہیں ۔ت) فرماتے ہیں نہ لا یحل الربا(سود حلال ہے۔ت) والعیاذ باﷲتعالٰی ۔
تنبیہ: اگرچہ ہمارے کلام سابق سے متبین ہوا کہ مسلم و حربی میں دارالحرب میں نفی ربا بربنائے انتفائے عصمت ووجود اباحت ہے نہ بربنائے انتفائے شرف دار مگر ہم تتمیم فائدہ کو ا س مطلب کی مزید تو ضیح کرتے ہیں فاقول: وباﷲ التوفیق (پس میں کہتا ہوں اوراﷲتعالٰی ہی سے توفیق ہے۔ت) اگر اس سے یہ مقصود کہ تحریم محرمات بوجہ شرف دار تھی دارالحرب میں کہ یہ شرف مفقودحرمت مفقود، ولہٰذا وہاں غصب وربا حلال وموجب ملک ہے تو بداہۃً باطل، احکام الٰہیہ دارٍ دون دارٍ (ایک ملک سوائے دوسرے ملک کے۔ت) پر موقوف نہیں ، نہ اختلاف زمین کسی حرام شیئ کو حلال کرسکتا ہے،
فان العباد ﷲ والبلاد ﷲ والحکم ﷲ والملک ﷲ، تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعٰلمین نذیرا۲؎، وقال اﷲ تعالٰی وحیثما کنتم فولواوجوھکم شطر المسجد الحرام ۱؎، وقال اﷲ تعالٰی فاقتلوھم حیث ثقفتموھم ۲؎،
کیونکہ تمام بندے اور شہر اﷲتعالٰی کے ہیں ، حکم اور بادشاہی اﷲ تعالٰی کی ہے، برکت والا وہ ہے جس نے حق و باطل میں فرق کرنیوالی کتاب اپنے بندے پر نازل فرمائی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرسنانے والا ہوجائے، اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیرلو۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ان کو قتل کرو جہاں کہیں ان کو پاؤ۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۱) (۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۴۴) ( ۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۹۱ و ۴ /۹۱)
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجد او طہور افایمارجل من امتی ادرکتہ الصلاۃ فلیصل۳؎۔
اور رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لئے زمین کو مسجد اور پاک کرنیوالی بنادیا گیا ہے چنانچہ میری امت کے کسی شخص پر جب نماز کاوقت ہوجائے تو نماز پڑھے(جہاں بھی ہو ) ۔ (ت)
(۳؎ السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الصلوٰۃ باب اینما ادرکتک الصلوٰۃ دارصادر بیروت ۲/ ۴۳۳)
یہاں تک کہ مذہب معتمد میں کفار خود بھی مخاطب بالفروع ہیں
حتی العبادات اداء واعتقادا فیعذبون علی ترک الاداء ایضا، لقولہ تعالٰی قالوالم نک من المصلین الی قولہ تعالٰی وکنا نکذب بیوم الدین ۴؎۔
یہاں تک کہ عبادات کی ادائیگی اور اعتقاد کے اعتبار سے چنانچہ ادائیگی چھوڑنے پر بھی ان کو عذاب دیا جائے گا بدلیل اﷲتعالٰی کے اس ارشاد کے کہ وہ کفار کہیں گے ہم نمازی نہیں تھے (اس لئے عذاب میں مبتلا ہیں ) اﷲتعالٰی کے ارشاد ''اور ہم قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے'' تک(ت)۔
(۴؎ القرآن الکریم ۷۴/ ۴۳ تا ۴۶)
آخر دارالحرب میں غدر بالاجماع حرام یونہی زنا لعدم جریان الاباحۃ فی الابضاع (کیونکہ شرمگاہوں میں اباحت جاری نہیں ہوتی۔ت)
فتح میں مبسوط سے بعد عبارت مذکورہ منقول
، وبخلاف الزنا ان قیس علی الربا لان البضع لایستباح بالاباحۃ بل بالطریق الخاص اما المال فیباح بطیب النفس بہ واباحتہ ۵؎۔
بخلاف زنا کے اگر اس کو سود پر قیاس کیا جائے کیونکہ فرج (شرمگاہ) اباحت سے مباح نہیں ہوتی بلکہ خاص طریقے (نکاح) سے، رہا مال تو وہ خوشدلی سے دینے کے سبب سے اور اباحت سے مباح ہوجاتا ہے(ت)
(۵؎ فتح القدیر باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸)
ولہٰذا مسلم مستامن سے عقد ربا قطعاً حرام اگرچہ شرف دار منتفی ہے لوجود العصمۃ (عصمت کے پائے جانے کی وجہ سے۔ت) اور مسلم غیر مہاجر سے حلال لانعدام العصمۃ (عصمت کے معدوم ہونے کی وجہ سے۔ت)
درمختار میں ہے :
وحکم من اسلم فی دار الحرب ولم یھاجر کحربی فللمسلم الربٰو معہ خلافا لھما لان مالہ غیر معصوم فلو ھا جرالینا ثم عاد الیہم فلا ربا اتفاقا، جوھرۃ ۱؎۔
جو شخض دارالحرب میں اسلام لایا اور ہجرت نہ کی اس کا حکم حربی والا ہے یعنی مسلمان اس سے سود لے سکتا ہے بخلاف صاحبین کے، کیونکہ اس کا مال معصوم نہیں ، اگر وہ ہجرت کرکے ہماری طرف یعنی دارالاسلام میں آگیا پھر ان کی طرف یعنی دارالحرب میں لوٹ گیا تو اب بالاتفاق سودنہیں (یعنی سود جائزنہیں ) جوہرہ(ت)
(۱؎ درمختار باب الربا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۳)
تو ہر زمین و بقعہ بالیقین محل جریان احکام الٰہیہ جل وعلا ہے ہاں احکام قضا دارالحرب بلکہ دار البغی میں بھی بسبب انقطاع ولایت نافذ نہیں ان کے عدم سے حلت وحرمت فی نفسہا مختلف نہیں ہوسکتی، و لہٰذا علماء نے جہاں حکم قضا کی نفی فرمائی اس کے ساتھ ہی حکم دیانت کا اثبات فرمایا،
فی الدر ادانہ حربی او بعکسہ او غصب احدھما صاحبہ و خرجا الینا لم نقض لاحد بشیئ ویفتی المسلم برد المغصوب دیانۃ لاقضاء لانہ غدر ، وکذاالحکم فی حربیین فعلا ذٰلک ثم استامنا لما بینا اھ ۲؎ملخصا۔
درمختار میں ہے: حربی نے مستامن کو مدیون کیا یا اس کے برعکس یعنی مسلمان مستامن نے حربی کو مدیون کیا یا ان میں سے ایک نے دوسرے کا مال غصب کیا اور دونوں ہماری طرف یعنی دارالاسلام میں نکل آئے تو ہم ان میں سے کسی کیلئے کسی شے کا حکم نہیں کرینگے اور مسلمان کو رد مغصوب کا فتوٰی دیا جائیگا دیانت کے اعتبار سے نہ کہ قضا ء کے اعتبار سے، کیونکہ دین کی عدم ادائیگی دھوکہ ہے، اور یہی حکم ان دو حربیوں کا ہے جنہوں نے فعل مذکور کیا پھر (دارالاسلام میں داخل ہوکر) مستامن ہوگئے اسی دلیل کی وجہ سے جس کو ہم نے بیان کیا اھ تلخیص(ت)
(۲؎درمختار باب المستامن مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۴۶)
تبیین الحقائق میں ہے :
لان القضاء یستدعی الولایۃ ویعتمدھاولاولایۃ وقت الادانۃ اصلا اذ لا قدرۃ للقاضی فیہ علی من ھو فی دارالحرب۱؎
الخ۔کیونکہ قضاء ولایت کا تقاضا کرتی ہے اوراس پر اعتماد کرتی ہے جبکہ ادانت (مدیون بناتے) وقت کی ولایت تو یہاں بالکل نہیں کیونکہ اس میں قاضی کو اس شخص پر قدرت نہیں جو دارالحرب میں ہے الخ(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق باب المستامن المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۳/ ۲۶۶)
پس ثابت ہوا کہ کوئی حرام بوجہ انتفائے شرف دار حلال نہیں ہوسکتا اور دارالحرب میں کسی شے کی حلت فی نفسہ اس کی حلت ہے کہ باختلاف دارمختلف نہ ہوگی، رہا وہاں امور مذکورہ کا حلال ہونا وہ ہر گز اس بناء پر نہیں کہ یہ محرمات وہاں حلال ہیں بلکہ وجہ یہ کہ ان محرمات کی حقیقت عصمت و محظوریت پر مبنی کما نص علیہ فی المبسوط کما تقدم (جیسا کہ اس پر مبسوط میں نص کی گئی ہے جیسے گزر چکا ہے۔ت) اور وہ وہاں معدوم تو حقیقۃً ان کی حقیقت ہی ان صورتوں میں منتفی اگرچہ مجرد صورت و اسم باقی ہو اور حکم حقیقت پر ہے نہ کہ اسم و صورت پر کما لایخفی (جیساکہ پوشیدہ نہیں ۔ت) اور اگر یہ مقصود کہ امور مذکورہ اگرچہ حقیقۃً محرمات نہیں مگر دارالاسلام میں بوجہ شرف دار ان کا صرف نام و صورت ہی حرام، تاہم بالیقین باطل کہ بداہۃً مدار احکام حقائق ہیں نہ کہ اسم بے مسمی، ورنہ معاملہ مولی وعبدوشرکاء مفاوضہ وشرکاء عنان کہ اسم مجردوہاں بھی موجود، ہر گز جائز نہ ہوتا، نہ مسئلہ ظفر بالحق میں اخذ بالجبر و اخذ خفیۃ کی اجات ہوتی کہ صورت غصب و سرقہ یقینا ہے گو حقیقت بوجہ عدم محظوریت منتفی صورت سرقہ کا جواز تو عبارات سابقہ میں گزرا اور صورت غصب کی حلت یہ ہے:
قال فی الدر وحیلۃ الجوازان یعطی مدیونہ الفقیر زکاتہ ثم یاخذھا عن دینہ ولو امتنع المدیون مدیدہ واخذھالکونہ ظفر بجنس حقہ۲؎۔
درمیں کہا جواز کا حیلہ یہ ہے کہ دائن اپنے فقیر مدیون کو اپنی زکوٰۃ دے پھر دین کے عوض اس سے وہی دی ہوئی زکوٰۃ لے لے اگر مدیون رکاوٹ ڈالے تو اسکا ہاتھ پکڑے اور جبراً لے لے کیونکہ یہ اپنے حق کی جنس وصول کرنے پر کامیابی ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۰)
وبالجملہ یہ دونوں مقدمے کہ دار الحرب حرام کوحلال نہیں کرتی اور دارالاسلام کسی ایسے اسم بے مسمی کو حرام نہیں فرماتی، تصریحات بے شمار سے واضح آشکار، تو مانحن فیہ میں تفرقہ بین دار ودار کی طرف کوئی سبیل نہیں ۔ یونہی صورت غصب و سرقہ و نام عقد فاسد سے فرق ناممکن کہ اگرمجرد العلم و صورت محرم ہو توغصب و سرقہ کیوں محرم نہ ہوئے اور نہ ہو تو نام عقد فاسد کیوں حرام کرنے لگا بلکہ غصب وسرقہ تو عقد فاسد سے اشد و اخبث ہیں کہ یہ بعدقبض مفید ملک ہوجاتے ہیں اگرچہ بروجہ خبیث، اور وہ اصلاً مورث ملک نہیں ، ھذاماعندی والعلم بالحق عند ربی (یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔